Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26
برف لا کر نگی نے اپنے لیے اسکاچ اور اس کے لیے وہسکی کا جام تیار کیا ۔
”کیا سوچ رہے ہو وہ اپنا جام اٹھا کر اس کے قریب کھسک آئی ۔اسی وقت کبیردادا نے تناوش کے لرزتے ہونٹوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔اس کے دماغ میں ایک ترکیب ابھری ۔”نہیں اسے یوں اذیت دینا ٹھیک نہیں ہو گا ،پہلے اسے پیار سے سمجھا دوں اپنے ساتھ رہنے کی قباحتیں اور نقصانات گنوادوں ، جب وہ یہ مان کر گھر جانے پر راضی ہو جائے گی پھر پاشا کو بھی اطمینان ہو جائے گا اور مجھے بھی ۔اب تو وہ رو رو کر خودکو بے حال کر دے گی ۔“ایک میٹھی کسک اس کی دل میں جاگی اور نگی کو دور دھکیلتے ہوئے وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔
”تم دور بیٹھ کربھی تو بات کر سکتی ہو ۔“
اس نے بے باکی سے پوچھا ۔”کیا مطلب ،مجھے باتوں کے لیے بلایاہے ۔“
”تمھیں پاشا نے میرے پاس بھیجنے کا کیا معاوضا دیا ہے ۔یا پہلے کی طرح تمھارا اٹکا ہوا کوئی کام نکالا ہے ۔“اسے دور نہ ہوتا دیکھ کر وہ خود اٹھ کر فوم کی کرسی پرجا بیٹھاتھا ۔
نگی کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”گویا پاشا کا اندازہ ٹھیک تھا ۔“
”اس مسئلے میں نہ پڑو تو بہتر ہو گا ۔جو پوچھا ہے اس کا جواب دو ۔“
اس نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔”سیٹھ مسکین میرے پیسے دینے میں اڑی کر رہا تھا اور فیروز ملک بھی وعدہ خلافی پر آمادہ تھا ،دونوں کام ہو گئے ہیں ۔“
”مجھ سے کوئی توقع ؟“
وہ بے شرمی سے بولی ۔”ہاں ،مجھے ڈھیر سارا پیار کرو ۔“
وہ بیزاری سے بولا ۔”اس موضوع کو رہنے دو کچھ اور مانگو ۔“
”کیا دے سکتے ہو ۔“وہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے تھی ۔کبیردادا کا انداز اسے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھا کہ یہاں اس کی دال گلنے والی نہیں ہے ۔اور پھر تناوش کی خوب صورتی اور کم عمری نے بھی اس پر واضح کر دیا تھا کہ اس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔
”فیروز ملک نے کیا وعدہ خلافی کی ہے ۔“
”ایک ڈراما سیریل میں مرکزی کردار دینے کا وعدہ کیا ،دو راتوں کا منھ مانگا معاوضا وصول کیا اور اب ٹرخانے پر آمادہ ہو گیا تھا ۔“اس نے کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”نادر حبیب خاکوانی کو جانتی ہو ۔“
”ہائے اللہ جی ،کس کٹھور کا نام لے دیا ۔ہم جیسو ںکو تو گھاس ہی نہیں ڈالتا ۔“
”موبائل فون ادھر کرو ۔“کبیردادا نے میز پر رکھا اپنا سیل فون مانگا ۔
”یہ لیں ۔“نگی نے موبائل فون اٹھا کر اس کی جا نب بڑھایا۔اور خود اس کی کرسی کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی ۔
کبیردادا ،نادر حبیب کا نمبر ڈھونڈ کر رابطہ کرنے لگا ۔گھنٹی جاتے ہی اس نے سپیکر آن کر کے میز پر رکھ دیا تھا ۔دوسری ہی گھنٹی پر کال وصول کر لی گئی ۔
”اسلام علیکم کبیر صاحب ۔“خوشی سے چہکتی ایک آواز رسیور سے برآمد ہوئی ۔جو ظاہر کر رہی تھی کہ اس کے پاس کبیر دادا کا موبائل فون نمبر محفوظ ہے۔
کبیردادا نے خوش گوار لہجے میں پوچھا ۔”خاکوانی صاحب کیسے مزاج ہیں ۔“
”آپ کی کال کی خوشی ہضم نہیں ہو پا رہی ۔“
”محبت ہے آپ کی لیکن میں نے ایک کام کے سلسلے میں زحمت دینا تھی ۔“
وہ پر خلوص لہجے میںبولا ۔”دعا ہی کر سکتا ہوں کہ آپ کو روزانہ مجھ سے کام درپیش آتا رہے ۔“
”لیکن میں نے تو سنا ہے آپ کسی کی سفارش وغیرہ قبول نہیں کرتے ۔“
”آپ شرمندہ کر رہے ہیں ۔“خاکوانی خفیف ہونے لگا ۔
”آج کل کس ڈراما سیریل پر کام ہو رہا ہے ۔“
”دو ڈراما سیریل اکٹھی چل رہی ہیں کبیر صاحب!اپنا تو کاروبار ہی یہی ہے آہستہ ، تیز لگے رہتے ہیں ۔“
”نگی کو جانتے ہو ۔“کبیردادا مطلب کی بات پر آگیا تھا ۔
”نگی ….“وہ پر سوچ لہجے میں بولا ۔”شاید نگینہ یاسمین نام ہے ۔“
کبیردادانے سوالیہ نظریں نگی کی جانب اٹھائیں ۔ اوپر نیچے سر ہلاکر اس نے خاکوانی کی تصدیق کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”ہاں وہی۔“اور پوچھا ۔”کیسی اداکارہ ہے ؟“
وہ جلدی سے بولا ۔”بہت اچھی ….بہترین ادکارہ ہے ۔“
کبیردادا ہنسا ۔”اتنی تعریف کس لیے ۔اگر اتنی اچھی ہوتی تو آپ پہلے کسی ڈرامے میں کاسٹ نہ کر لیتے ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا ۔”پھر آپ کی سفارش کی خوشی کیسے ملتی ۔“
”اچھا مذاق کے علاوہ ،میری سفارش پر اسے کتنے ڈراموں میں مرکزی کردار مل سکتا ہے ۔“
”تین ڈراموں میں اسے مرکزی کردار مل جائے گا اور اگر کارکردگی بہتر پائی تو اس کے بعد بھی محروم نہیں رہے گی ۔“
”شکریہ خاکوانی صاحب۔وہ کل آپ کے پاس پہنچ جائے گی ۔“
”یہ شکریے کا تھپڑ مارنا ضروری تھا ۔“وہ شکوہ کناں ہوا ۔
”اب اس بات پر معذرت کر کے آپ کو مزید خفا نہیں کر سکتا ،اس لیے اجازت ۔“
خاکوانی نے ہنستے ہوئے ”خداحافظ۔“کہا اور کبیردادا نے رابطہ نے منقطع کر دیا ۔
”یو آر سو سوئیٹ ،آئی لو یو ….“نگی نے رابطہ منقطع ہوتے ہی اس سے لپٹنے کی کوشش کی ۔
کبیردادا اسے دور ہٹاتے ہوئے بولا ۔”تم چاہتی ہو کہ میں خاکوانی کو منع کر دوں ۔“
”سوری سوری سوری ۔“وہ پیچھے ہٹ کر صوفے پر جا بیٹھی ۔
”اب تم پھوٹنے کی کرو ،پاشا پوچھتا ہے تو بتا دینا ساری رات میرے ساتھ ہی تھیں۔“
دروازے پر دستک ہوئی اور کبیردادا کے ۔”آجاﺅ ۔“کہنے پر راحت خالہ بڑی سی ٹرے میں تین چار ڈونگے سجائے اندر داخل ہوئی۔
”کھانا تو کھا لوں نا ۔“اس نے راحت خالہ کو دیکھتے ہی پوچھا ۔
کبیردادا بے رخی سے بولا ۔”گھر کھالینا ۔“یہ کہتے ہی اس نے اٹھتے ہوئے الوداعی مصافحے کے لیے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا ۔اس کے دل میں صبر ختم ہو گیا تھا ۔وہ جلد از جلد تناوش کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا تھا ۔
”اتنا کٹھور بھی کوئی نہ ہو ۔“وہ منھ بناتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔لیکن اس کے چہرے پر چھائے تاثرات یہ بتانے کے لیے کافی تھے کہ وہ بے حد خوش تھی ۔اس کی بلا سے کبیردادا کا تناوش سے کیا دلی تعلق تھا اور پاشا کی کیا پریشانیاں تھیں ۔اسے ایک ہی دن میں اتنے فوائد حاصل ہو گئے تھے ۔اور یہ کافی سے بھی کچھ زیادہ تھا ۔وہ کبیردادا سے الوداعی مصافحہ کر کے چل دی ۔شیشے کی میز پر کھانے کے برتن سجاتی راحت خالہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔نگی کے باہر نکلتے ہی کبیردادا نے راحت خالہ سے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔
”راحت خالہ ،وہ رو تو نہیں رہی تھی۔“
وہ آہستہ سے بولی ۔”جی صاحب ۔“
”کیا جی صاحب ۔“کبیردادا کی سمجھ میں اس کا جی صاحب کرنا نہیں آیا تھا ۔
”روتے روتے آدھی ہو چکی ہے ،دروازے کے باہر ہی بیٹھی تھی بڑی مشکل اٹھا کر ساتھ والے کمرے لے جاکر بٹھایا ،کافی دیر سمجھاتی رہی ہوں لیکن آنسو نہیں تھم رہے پگلی کے۔“
کبیر دادا کا دل عجیب قسم کے دکھ اور سرشاری کی ملی جلی کیفیت سے بھر گیا تھا ۔جہاں اس کا رونا تکلیف دینے والا تھا وہیں یہ سوچ کہ کسی کے لیے آپ اتنے اہم بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ پیٹھ پیچھے آپ کے لیے رو رہا ہے خوش کرنے والی تھی ۔
”اچھا جاﺅ اس کو لے آﺅ کہ کھانا کھا لے اور ساتھ یہ بھی بتادینا کہ دوسری لڑکی اپنے کسی کام کی غرض سے آئی تھی اورکام ہوتے ہی چلی گئی ۔“راحت خالہ سے زندگی میں پہلی بار کبیر دادا نے اتنی لمبی اور تفصیلی بات کی تھی ورنہ اس کی گفتگو ہلکا سا سر ہلانے پر ہی مشتمل ہوتی تھی ،یا زیادہ سے زیادہ چند الفاظ۔اور وہ اس طرح کسی بات کی صفائی دے ،ایسا تو راحت خالہ نے خواب میں بھی نہیں سوچاتھا ۔
”جی صاحب !“وہ خوشی سے چہکتے ہوئے باہر نکل آئی ۔تناوش تک وہ قریباََ دوڑتے ہوئے پہنچی تھی ۔وہ گھٹنوں پر سر رکھے خاموش بیٹھی جانے کن سوچوں میں گم تھی ۔اس کے آنسو خشک ہو چکے تھے مگر چہرے پر اسی طرح بارہ بج رہے تھے ۔
”کتنے نصیبوں والی ہے میری بیٹی ۔“اندر جاتے ہی راحت خالہ اس سے لپٹ گئی ۔
”طنز کر رہی ہیں خالہ ۔“وہ مزید دکھی ہونے لگی ۔
”طنز کیوں کروں گی اور آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ نے سچ کہا تھا کہ آپ واپس جانے کے لیے نہیں آئیں ۔“
”خالہ میرا مذاق اڑانا ضروری ہے کیا ۔“
”مذاق نہیں اڑا رہی خالہ کی جان حقیقت بیان کر رہی ہوں ۔“
”کون سی حقیقت خالہ ،یہی کہ میرا شوہر ایک دوسری لڑکی کے ساتھ خواب گاہ میں بند ہے اور مجھے اس نے شادی کی پانچویں رات ہی ٹھوکر لگا کر خواب گاہ سے باہر نکال دیا ہے ۔“
”ہے نا پگلی ،وہ ڈائن کب کی جا چکی ہے ،اسے تو گھاس بھی نہیں ڈالی صاحب نے ۔ اپنا کوئی کام کروانے آئی تھی ،کام کرتے ہی صاحب نے کہا کہ وہ جا سکتی ہے ۔کہہ رہی تھی کہ کھانا کھا کر چلی جاﺅں گی ۔صاحب جی نے کہا پھوٹنے والی کرو یہ کھانا وہ اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر کھائے گا ۔“
وہ بے یقینی سے بولی ۔”خالہ جی ،کتنے جھوٹ بولیں گی مجھے تسلی دینے کے لیے ۔“
”جھوٹ کیسا ،صاحب جی آپ کو بلا ر ہے ہیں اور جانتی ہو کیا پوچھ رہے تھے۔“
”کیا ؟“تناوش کے لہجے میں ابھی تک بے یقینی ہلکورے لے رہی تھی ۔
”پوچھ رہے تھے آپ رو تو نہیں رہیں ،میں نے بھی کہہ دیا رورو کر آدھی ہو گئی ہے میری بچی ۔“
”اگر یہ سچ ہے تو آپ کو میرے رونے کی بات تو نہیں بتانا چاہیے تھی ۔“
”کیوں نہ بتاتی ،انھیں بھی تو تھوڑی تکلیف پہنچے ۔“
وہ پوچھنے لگی ۔”تکلیف کیسی خالہ جی ۔“
”جس سے محبت ہوتی ہے نا بیٹی ،اس کو روتے دیکھنا جتنا تکلیف دیتا ہے اتنی تکلیف اور کسی چیز سے نہیں ملتی ۔“
”خالہ جان ،سچ کہیں وہ مجھے بلا رہے ہیں نا ،آپ مجھے بہلا تو نہیں رہیں ۔“ خوشی اور دکھ کے امتزاج سے اس کا چہرہ عجیب سا منظر پیش کرنے لگاتھا ۔
”اللہ پاک کی قسم بیٹی بالکل سچ کہہ رہی ہوں ۔“راحت خالہ نے اسے یقین دلانے کے لیے قسم کھائی ۔وہ خوشی سے لرزتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی مگرپھر واپس مڑتے ہوئے بیٹھ گئی ۔
”میں نہیں جاتی ،کم از کم آج تو نہیں جاﺅں گی ان کے پاس ۔“
”پاگل تو نہیں ہوئی ہو ۔“راحت خالہ نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھامتے ہوئے ماتھے پر بوسا دیا۔”خالہ کی جان ایسا نہیں کرتے ،نخرے کرنے کا ،لاڈ اٹھوانے کا اور اپنی ہر بات منوانے کا بہت وقت پڑا ہے ۔فی الحال صاحب جی پر اپنی گرفت مضبوط کرو اور دیکھنا ایک دن صاحب جی خواب گاہ میں لڑکی بلانا تو کجا کسی غیرلڑکی کونگاہ بھر کر دیکھنے سے پہلے آپ کی غیر موجودی کا یقین کرے گا ۔“
”جاﺅں ۔“یہ پوچھتے ہوئے وہ کھل پڑی تھی ۔کبیردادا کے متعلق اس کے اندازے غلط ثابت نہیں ہوئے تھے ۔
”جاﺅ نا پاگل ،وہ بے چینی سے آپ کا منتظر ہے ۔“
راحت خالہ کی طرف شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ ایک دم اٹھ کر بھاگ پڑی ، خواب گاہ کے دروازے پر لمحہ بھررک کر اس نے گہرا سانس لیا اور دروازے کو دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوگئی ۔وہ تکیے کو گود میں لیے بیڈ پر بیٹھا دروازے کی طرف متوجہ تھا ۔ایک دم اس کی جانب پیٹھ کرتے ہوئے وہ دروازے کی طرف متوجہ ہوئی ۔دروازہ بند کر کے بھی وہ دو تین لمحے اسی طرح کھڑی رہی ۔پھر اسے زور کا رونا آیا اور وہ اسی طرح کبیردادا سے رخ پھیرے نیچے بیٹھ کر رونے لگی ۔
اسے روتے دیکھ کر وہ بے اختیار تکیے کو ایک جانب پھینکتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔ ”رو کیوں رہی ہو ۔“قریب آتے ہی اس نے بے تابی سے پوچھا تھا ۔
ایک دم اس سے لپٹتے ہوئے وہ چیخ پڑ ی ۔”آپ آئندہ ایسا نہیں کریں گے …. آپ کسی لڑکی سے بات نہیں کریں ….آپ بے شک مجھے دھتکارتے رہنا ،میری کوئی بات نہ ماننا ، ہر بات پر میری بے عزتی کرنا مگر ….مگر کسی لڑکی کی طرف متوجہ نہ ہونا ورنہ مجھے کچھ ہو جائے گا …. میں مر جاﺅں گی …. میں ،میں بچ نہیں سکوں گی ….ہاں میں کہے دیتی ہوں میں زہر کھالوں گی ….سن رہے ہیں نا آپ ….آپ کو سمجھ آرہی ہیں میری باتیں ۔“اس کے منھ سے بے ربط باتیں نکل رہی تھیں ۔
کبیردادا کے ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوا ۔”اچھا ٹھیک ہے ،چپ کر جاﺅ،کوئی بھی لڑکی نہیں آئے گی ،لیکن تم بھی وعدہ کرو کہ ہر وقت رومانس نہیں جھاڑو گی ۔“
”نہیں کرتی وعدہ ….پیغام بھی بھیجوں گی ، اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کھلانا پڑے گا ، گندا مشرو ب بھی نہیں پینے دوں گی ،آپ کو جلدی گھر لوٹ کر بھی آنا پڑے گااور کبیر بھی کہوں گی ، کبیر…. کبیر…. کبیر ۔“وہ اس سے چمٹی سسکیاں بھرتے ہوئے کہتی رہی ۔
”اچھا جھگڑا ختم کرو ،چلیں کھانا کھاتے ہیں ۔“کبیردادا نے صلح کی پیش کش کی ۔
پیچھے ہٹتے ہوئے اس نے آنسو صاف کیے ،مسکراتی آنکھوں کے آنسوﺅں کی بھی اپنی کشش ہے ۔اشکوں سے دھلی کالی سیاہ آنکھوں نے کبیردادا کو مسحور کردیا تھا ۔تناوش کے لبوں پر ویسا ہی ملکوتی تبسم رقصاں تھا جیسا اس نے تصور کی آنکھ سے دیکھا تھا ۔
وہ میز کی طرف مڑی کھانے کے برتنوں کے ساتھ پڑی بوتلوں کو دیکھتے ہی وہ سرعت سے ان کی طرف بڑھی ۔اور تینوں بوتلوں کو اٹھا کر الماری کی طرف بڑھ گئی تھی ۔کبیردادا کے لیے نگی نے جو گلاس بھرا تھا وہ ابھی تک ویسے ہی رکھا تھا ۔وہ گلاس بھی تناوش نے اٹھا لیا تھا ۔اس کی تیزی دیکھتے ہوئے کبیردادا اپنی ہنسی نہیں روک پایا تھا ۔الماری کی چابی اس نے دھاگے میں پرو کر گلے میں ڈالی ہوئی تھی ۔تینوں بوتلوں کو تالا کر کے اس نے گلاس کا مشرو ب غسل خانے میں گرایا اورگلاس دھو کر اس کے پاس لوٹ آئی ۔
اس نے فوراََ پوچھا ۔”میری آج کی بوتل کہاں گئی ۔“
وہ معصومیت سے بولی ۔”پتا نہیں میری غیر موجودی میں کتنی بوتلیں پی لی ہوں گی ۔“
”غضب خدا کا ایک گلاس بھرا تھا اس سے بھی گھونٹ نہیں لے پایا تھا جو محترمہ نے گرا دیا۔“
”ایک بوتل آدھی خالی تھی ۔“
”وہ تو مہمان نے پی ہے ۔“
”اتنا زیادہ کھانا کیوں منگوایا ۔“یقینا وہ اس لڑکی کے بارے کوئی بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی ۔
”میں نے سوچا بھوکا ہونے کی وجہ سے اتنا رور ہی تھیں تو چلو کھلا پلا کے دکھ دور کر دیتا ہوں ۔“
گہری نظروں سے اسے گھور کر وہ کھانے کی طرف متوجہ ہو گئی اور یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ کبیردادا کو ہاتھ سے کھلانے کا موقع جانے دیتی یوں بھی اس وقت کبیردادا اس کی دل جوئی میں لگا ہوا تھا ۔
کھانا کھا کر وہ برتن سمیٹنے لگی ۔
کبیردادا سنجیدگی سے بولا ۔” میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے ایک گھونٹ بھی نہیں بھرا تھا اس لیے میری آج کی بوتل لے آﺅ ۔“
”اچھا میں یہ برتن دھو کر آتی ہوں ،پھر اپنے ہاتھوں سے پلاﺅں گی ۔“
”رہنے دو ،میں پی لوں گا ۔بس بوتل دیتی جاﺅ ۔“کبیردادا اس کی چالاکیوں سے اچھی طرح واقف تھا ۔اور جانتا تھا کہ وہ ہزار بہانوں سے اسے شراب پینے سے روکنے کی کوشش کرے گی ۔
”آرہی ہوں نا ،اتنے بے صبرے کیوں ہو جاتے ہیں آ پ۔خود کہہ رہے تھے کہ لڑکے نہیں رہے ،حرکتیں دیکھو بالکل بچوں والی ہیں۔“
”ٹھیک ہے جاﺅ ۔“غیر متوقع طور پر کبیردادانے ضد چھوڑ دی ۔اور وہ خوشی سے سر ہلاتی باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔
اس کے خواب گاہ سے نکلتے ہی اس نے عظیم کا نمبر ملایا۔
”جی دادا!“اس نے فوراََ کال وصول کی تھی ۔
اس نے پوچھا ۔”تمھارے پاس وہسکی کی کوئی بوتل رکھی ہے ۔“
”جی دادا!….“
”فوراََ میرے پاس لے آﺅ ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
دو منٹ بعد ہی عظٰم دروازے کو کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا اس کے ہاتھ میں وہسکی کی سر بمہر بوتل تھی ۔بوتل اس کے سامنے میز پر رکھ کر وہ واپس مڑ گیا ۔
کبیردادانے فرج سے برف کے ٹکڑے نکالے اور اطمینان سے شغل میں لگ گیا ۔ تناوش کے لوٹنے تک وہ آدھی سے زیادہ بوتل خالی کر چکا تھا ۔
”یہ کہاں سے آئی ہے ۔“واپس آتے ہی اس نے تالہ کی ہوئی الماری کو مشکوک نظروں سے دیکھا۔
پتا نہیں ۔“اس نے چوتھا گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیا ۔
دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی وہ میز کے قریب آئی اور پھر ایک دم جھپٹ کر بوتل اٹھاتے ہوئے بولی ۔”پوری بوتل تو نہیں پینے دوں گی ۔“
”تناوش ،بوتل مجھے دو ۔“گلاس نیچے رکھتے ہوئے وہ جارحانہ انداز میں کھڑا ہو گیا ۔
”نہیں دوں گی ۔“وہ غسل خانے کی طرف بھاگی ۔کبیردادا بھی جست لگا کر اس کے پیچھے دوڑ پڑا ۔وہ غسل خانے میں داخل ہونے ہی والی تھی کہ کبیردادا نے اس کے بازو کو پکڑ لیا ۔
تناوش نے فوراََ ہاتھ میں پکڑی بوتل غسل خانے کے فرش پر اچھالی شیشے کی بوتل کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی تھی ۔
”یہ کیا بے ہودگی ہے ۔“کبیردادا کو سچ مچ غصہ آگیا تھا۔اس کا تلخ لہجہ سنتے ہی وہ کانپ گئی تھی ۔
”بے ہودہ لڑکی ۔“اسے آہستہ سے دور جھٹکتا ہوا وہ بیڈ کی طرف مڑ گیا ۔تناوش وہیں کھڑی مسکین نظروں سے اسے دیکھتی رہی ۔
بیڈ پر لیٹ کر اس نے تناوش کی جانب پیٹھ موڑ لی تھی ۔
چند لمحے اسے گھورنے کے بعد وہ غسل خانے میں گھس گئی ۔شیشے کی کرچیاں اٹھا کر اس نے ٹوکری میں ڈالیں اور فرش کی صفائی کر کے باہر نکل آئی ۔کبیردادا اسی طرح کروٹ بدلے لیٹا تھا ۔اسے اپنا رویہ غلط محسوس ہوا ۔الماری کے پاس جا کر اس نے ایک کھلی ہوئی بوتل اٹھائی اور بیڈ کی طرف بڑھ گئی ۔تپائی پر بوتل اور گلاس رکھ کروہ کبیردادا کے ساتھ بیٹھ گئی ۔
وہ آنکھیں بند کیے خاموش لیٹا تھا ۔تناوش نے اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھایا،اس کی انگلیاں کبیردادا کے بالوں میں پوری گھسی نہیں تھیں کہ کبیردادا نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔وہ بھرپور ناراضی کا اظہار کر رہا تھا ۔
وہ منمنائی ۔”سوری ،غلطی ہو گئی ہے ۔“
وہ خاموش لیٹا رہا ۔
”اچھا خفا تو نہ ہوں نا ،آپ کے لیے نئی بوتل نکال کے لے آئی ہوں ۔مجھے تو بس اس لیے غصہ آگیا تھا کہ میں نے کہا تھا آج اپنے ہاتھوں سے آپ کو گلاس بھر بھر کے دوں گی ۔“
”بکواس بند کرو اور سونے دو ۔“
”پلیز ۔“اس نے دوبارہ کبیردادا کے بالوں میں انگلیاں گھسیڑنا چاہیں ۔پہلے کی طرح اس کے ہاتھ کو دور جھٹکتے ہوئے اس نے ہلکا سا دھکا دے کر اسے نیچے قالین پر پھینک دیا ۔
وہ فوراََ بیڈ پر چڑھ کراپنی جگہ پر لیٹتے ہوئے اس سے لپٹ گئی ۔”ناراض تو سونے نہیں دوں گی ۔“
”دماغ خراب مت کرو سمجھیں ۔“کبیردادا نے دھاڑتے ہوئے اسے پھر دور کردیا ۔
وہ روہانسی ہوتے ہوئے چلائی ۔”معافی مانگ تو رہی ہوں ،بوتل بھی لے آئی ہوں ۔ اب بس کریں نا کتنی سزا دیں گے ۔“
”مجھے ،تمھاری بکواس نہیں سننا۔دور رہو مجھ سے بے ہودہ لڑکی ۔“یہ کہتے ہی اس نے تپائی پر رکھی بوتل اٹھا کر غسل خانے کے دروازے کی طرف اچھا ل دی ،جو لکڑی کے دروازے سے ٹکرا کر نیچے گری مگر دبیز قالین کی وجہ سے ٹوٹنے سے بچ گئی تھی ۔
تناوش پھر آہستہ آہستہ اس کے قریب ہوئی مگر کبیر دادا نے دوبارہ دور دھکیلتے ہوئے کہا۔”اب اگر تم قریب آئیں تو میں کال کر کے دوبارہ نگی کو بلا لوں گا ۔“
”میں اس کی جان لے لوں گی ۔“وہ اس کی دھمکی کی پروا نہ کرتے ہوئے دوبارہ قریب ہو گئی اور پھر کبیردادا کے بار بار دور کرنے کے باوجود اس کی جان نہ چھوڑی ،یہاں تک کہ اس نے ہتھیار ڈال دیے ۔تھوڑی دیر بعد وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں کہہ رہی تھی ۔
”لگتا ہے آپ مجھ سے جان چھڑانے کی کوششوں میں ہیں ۔سچ کہتی ہوں اپنی جان دے دوں گی مگر ایسا نہیں ہونے دوں گی ۔“
”تم بس ایک پاگل ،احمق اور بے وقوف لڑکی ہو ۔“
وہ فوراََ بولی ۔”جب جانتے ہیں کہ پاگل اور احمق ہوں تو میری غلطیوں پر ڈانتے کیوں ہیں ،چپ کر کے میری مان کیوں نہیں لیتے ۔“
”مان کیوں نہیں لیتے ۔“کبیردادا نے منھ بگاڑ کر اس کا فقرہ دہرایا اور وہ کھل کھلا کر ہنس دی ۔سنجیدہ ،متین اور رعب داب والے کبیردادا کو اپنا رکھ رکھاﺅ اور طنطنہ بھول گیا تھا ۔ایک کم عمر لڑکی اس کے اعصاب پر پوری طرح حاوی ہو چکی تھی ۔کبیردادا آنکھیں بند کر کے کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگا جس سے تناوش کو خفا کیے بغیر واپس بھیجا جا سکتا ہو،کوئی ایسی تجویز جس سے وہ چھوٹی سی لڑکی اس کی سوچوں اور دماغ سے بھی نکل جاتی ،مگر یہ کام اسے بہت مشکل لگ رہا تھا ۔ دل ،دماغ کے خلاف مکمل طور پر میدان میں آگیا تھا اور دل تو ایسا ہٹ دھرم ،ضدی اور بااثر ہے کہ اپنی منوا کر ہی رہتا ہے ۔
تناوش کی میٹھی گنگناہٹ اسے سپنوں کی دنیا میں دھکیل لے گئی ۔ایک ایسے جہان میں جہاں دنیا کے سارے جھگڑوں ،فساد ،خساروں ،دکھوں ،الجھنوں اور خوف وغیرہ کا دور دور تک نشان نہیں تھا بس وہ اور تناوش تھے ،خوشیاں اور راحتیں تھیں ،سکون اور اطمینان تھا ۔
٭٭٭
جاری ہے
