Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41
اٹھیں نا ۔“کبیردادا کو اپنے گالوں پر تناوش کے ٹھنڈے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا۔ وہ نماز پڑھ کر بستر پر لوٹی تھی ۔
”تھوڑی دیر تو سونے دو نا ۔“وہ انکھیں بند کیے ہوئے نیند سے بوجھل آواز میں بولا ۔
تناوش اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”صبح دم دو گھنٹے کی گپ شپ کرنے کے وعدے کی تکمیل کا وقت آن پہنچا ہے سرتاج۔“
”گڑیا ،آٹھ بجے اٹھ کر دس بجے تک باتیں کر لیں گے نا ۔“کبیردادا اٹھنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔
تناوش کی ملائم انگلیاں اس کے بالوں میں گھسیں اس کے ساتھ ہی وہ گنگنائی ۔ ”اچھا ٹھیک ہے میں آپ کو آٹھ بجے جگاﺅں گی ۔“
”تمھیں نیند نہیں آرہی ۔“کبیر دادا نے آنکھیں کھولتے ہوئے اس کے روشن چہرے پر نگاہ دوڑائی ۔
”سو گئی تو شاید دیر سے آنکھ کھلے ، پھر آپ کو جانے کی جلدی ہو گی اور آپ اطمینان سے گپیں نہیں ہانک سکیں گے ،کیوں کہ اب آپ نے سارے کام دن ہی دن میں نمٹانے کا وعدہ کیا ہوا ہے ۔“
”تم اتنا گہرائی میں سوچتی رہتی ہو ۔“ سونے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے کبیر دادا نے اسے قریب کھینچا۔
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی ۔” خود بہ خود ہی ایسی سوچیں آتی ہیں ،نہ جانے کیسے کیسے الٹے سیدھے خیال دماغ میں پلتے رہتے ہیں ۔اپنی بے بضاعتی اور کمتری کا احساس کسی پل چین نہیں لینے دیتا ۔آپ سے بچھڑنے ،دور ہونے اور دھتکارے جانے کا خوف ہر وقت دل دھڑکاتا رہتا ہے ۔“
”پاگل ہو تم ۔“کبیردادا نے اس کے سر پر لپٹا ہوا دوپٹا اتارتے ہوئے اس کے ریشمی بالوں کو بکھیرا۔”تم نہیں جانتیں ،تم میرے لیے کیا ہو ،وہ شاعر کہتا ہے نا ….
تیرے خیال سے دامن بچا کے دیکھا ہے
دل و نظر کو بہت آزما کے دیکھا ہے
نشاطِ جاں کی قسم تو نہیں تو کچھ بھی نہیں
بہت دنوں تجھے ہم نے بھلا کے دیکھا ہے
”حقیقت یہی ہے کہ تم اس وقت میرے دل پر قابض ہو گئی تھیں جب پہلی بار تم پر نظر پڑی ۔اور اس کے بعد دل و دماغ کا جھگڑا شروع رہا یہاں تک کہ حسب روایت دل جیت گیا ۔ اور دماغ کو مانتے ہی بنی کہ میری زندگی کے لیے میری گڑیا ،میری چندا ،میری تناوش اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینا ۔“
وہ ناز سے مسکرائی ۔”شاعری اور جھوٹ بولنا ،ایک ساتھ شروع کر دیا ہے ۔“
”کیامیری محبت جھوٹ ہے ۔“کبیر دادا نے اس کی جھیل ایسی آنکھوں میں غوطہ لگایا۔
”جانتے ہیں آپ کی آمد سے پہلے میں اس جسٹس سے مدد مانگنے جا رہی تھی ۔اور پھر آپ وہاں آئے ،میری دنیا ہی بدل گئی ۔زندگی میں اتنا اچھا کبھی کوئی نہیں لگا تھا جتنے آپ لگ رہے تھے ۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون سی ایسی کشش تھی جس نے مجھے لپیٹ میں لے لیا تھا۔ پھر آپ چلے گئے ۔میں بھی چاند کو چھونے کی حسرت دل میں لیے آگے بڑھ گئی ۔لیکن شاید اللہ پاک نے میرے دل میں اٹھنے والی خواہش کو دعا سمجھتے ہوئے قبول فرما لیا تھا ۔ایک دم آپ کی کار میری نظروں کے سامنے سے گزرکر کوٹھی میں داخل ہوئی اور میں بھی ہمت و جرّات کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوکیدار کے پاس پہنچ گئی ۔“یہ کہتے ہو تناوش کی آنکھوں میں عظیم کو تھپڑ لگنے کا منظر ابھرا اور وہ ہنستی چلی گئی ۔”یاد ہے عظیم کو میری وجہ سے کیسے تھپڑ پڑا تھا ۔بے چارہ آخر وقت تک مجھ پر شک کرتا رہا اور جب میں یہ کہہ کر چل پڑی کہ ٹھیک ہے آپ جانیں اور آپ کا دادا ….تب اس نے جھجکتے ہوئے دروازے پر دستک دی تھی ۔اور اس کی دستک سے میری قسمت کا دروازہ توکھل گیا، لیکن اس بچارے کو مار پڑ گئی ۔“وہ پھر ہنسنے لگی ۔کبیر دادا محویت سے اسے دیکھنے لگا۔
”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ۔“یہ کبیر دادا کی آنکھوں سے پھوٹتی چاہت ہی تھی جس نے تناوش کو شرمانے پر مجبور کر دیا تھا ۔
”سچ کہو ،تم ہو اتنی پیاری یا مجھے لگ رہی ہو ۔“
وہ وارفتگی سے بولی ۔”بس آپ کو لگتی رہوں اتنا میرے لیے کافی ہے ۔“
”آج شاپنگ کے لیے چلو گی ۔“
اس کے چہرے پر بے پایاں خوشی ابھری ۔”ڈھیر سارا میک اپ کا سامان لوں گی ، چوڑیاں،کنگن اور منہدی بھی ۔غرارہ ،لہنگا اور ساڑھی بھی خریدوں گی ۔دو انگوٹھیاں ،ایک لاکٹ جس میں آپ کی تصویر ڈال کر گلے میں لٹکاﺅں گی،ایک پرس ،شولڈر بیگ ،سینڈل ، جوتے اور ….اور….باقی جانے سے پہلے لسٹ بنا لوں گی ۔“
کبیر دادا نے دل میں اٹھنے والی درد کی لہر کو بڑی مشکل سے سہا تھا ۔اس کی معصوم خواہشات سن کر وہ خود کو اس کا مجرم سمجھنے لگا تھا ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کتنے غریب گھرانے کی ہے کبیر دادا نے کبھی اس کی خواہشات کو جاننے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اسے دوران تقریب اخلاق حسین کی بیٹی فرحانہ اور شہاب قصوری کی بیٹی رخسانہ کی باتیں یاد آ گئیں ۔اس کے سامنے انھوں نے تناوش کے لباس اور موبائل فون وغیرہ کا خو ب مذاق اڑایا تھا ۔مگر اس وقت کبیر دادا کے سر پر اپنے مقام اور حیثیت کا بھوت سوار تھا ۔
”آپ خاموش کیوں ہو گئے ،مجھے یہ سب لے دیں گے نا ؟“جانے وہ کبیر دادا کی خاموشی کو کیا سمجھ رہی تھی ۔
”اگر اتنی تھوڑی سی چیزیں لیناہیں تب تو میں ساتھ نہیں جاﺅں گا ۔کچھ اور چیزیں بھی اس لسٹ میں ڈالو نا ۔“
”آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں ۔“اس نے منھ بسورا۔
”بالکل بھی نہیں ۔“اس نے تناوش کی ناک کی پھننگ کو پکڑ کر ہولے سے مروڑا ۔
”کتنی دفعہ کہا ہے میری ناک سے پکڑ کر نہ مروڑا کریں ۔“روہانسی ہو کر وہ اس کی چھاتی پر مکے مارنے لگی ۔
وہ مصنوعی سنجیدگی سے بولا ۔”ٹھیک ہے ناک نہیں مروڑنے دینی تو شاپنگ پر نہیں جاتا ،چلی جاناعظیٰم کو ساتھ لے کر ۔“
”اچھا آہستہ آہستہ مروڑ لو ۔“اس کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے وہ فوراََ راضی ہو گئی تھی ۔
کبیر دادا نے زوردار قہقہہ بلند کیا ۔اور وہ جھینپ کر نیچے دیکھنے لگی ۔اسی گپ شپ کے دوران کبیر دادا کی نگاہ گھڑی پر پڑی جس کی سوئیاں دس بجے سے آگے بڑھ گئی تھیں ۔تناوش کے ساتھ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا تھا ۔
”اچھا دس بج گئے ہیں چلو ناشتا تیار کرو ۔“کبیر دادا نے اسے گھڑی کی طرف متوجہ کیا۔
وہ سرہلاتے ہوئے وہ اٹھ گئی اس کا رخ ڈریسنگ روم کی طرف تھا ۔کبیردادا کے پہننے کا لباس ہینگر میں لٹکا کروہ باوررچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔راحت خالہ اسے باورچی خانے میں مصروف نظر آئیں ۔اسے تناوش کی واپسی کا معلوم نہیں تھا ۔تناوش کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسرت بھری مسکراہٹ ابھری اوراس نے بھاگ کر اسے پر شفقت آغوش میں سمیٹ لیا ۔ ”میری پیاری بیٹی کس وقت آئی ہے۔“
”خالہ جان ،میں رات کو لوٹی ہوں ۔“
”میرا خیال ہے پاشا صاحب کی پٹائی کرنے کے بعد صاحب جی آپ کو لینے چلے گئے تھے ۔“
”کیا ….؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”انھوں نے بھیا کی پٹائی کی ہے ۔“
”مار مار کر بے ہوش کر دیا ہے ۔یہ تو میں وہاں موجود تھی ۔صاحب کے قدموں سے لپٹ گئی تب وہ پیچھے ہٹے ۔“
”اتنا غصہ کرتے ہیں نا ۔“تناوش دکھی ہو گئی تھی ۔
راحت خالہ نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا ۔” صاحب جی !آپ کی وجہ سے غصہ تھے۔“
”جانتی ہوں خالہ جان ۔“تناوش کے ہونٹوں پر خفیف تبسمابھرا ۔
”جب آپ یہاں سے چلی گئی تھیں ،صاحب جی تو بالکل ہی بستر کے ہو گئے تھے ۔نہ کھانا ،نہ ناشتا اور نہ کہیں جانا ۔میں کہتی تھی نا میری شہزادی بیٹی صاحب کو اپنا بنا لے گی ۔“
”خالہ جان ،آپ بھی امی جان کی طرح باتیں کرنے لگی ہیں ۔“تناوش شرما کر ناشتا بنانے لگی ۔جبکہ راحت خالہ ہنستے ہوئے اسے کبیر دادا کی حالت کے بارے بتانے لگی ۔ تناوش سرشاری کی کیفیت میں راحت خالہ کی باتیں سننے لگی ۔دل ہی دل میں وہ کہہ رہی تھی ۔”خالہ جان اگر مجھے پتا ہوتا میرے کبیر پر کیا گزر رہی ہے تو اڑ کر یہاں نہ پہنچ جاتی ۔“
ناشتا تیار کر کے اس نے ٹرے میں ڈالا اور خوا ب گاہ کی طرف بڑھ گئی ۔کبیر دادا بھی تیار ہو چکا تھا ۔ناشتا کر کے وہ کہنے لگا ۔
”میں سہ پہر کو لوٹوں گا تیار رہنا پھر شاپنگ پر چلیں گے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“وہ سر ہلاتے ہوئے اس کی ٹائی باندھنے لگی ۔ٹائی باندھ کر اس نے دعا پڑھ کر پھونکی اور کہنے لگی ۔”جلدی آنا ۔“
کبیر دادا سرہلاتا ہوا چل پڑا ۔وہ اس سے ایک قدم پیچھے ہی تھی ۔
خواب گاہ سے نکلتے ہی کبیرداداکی نظر صوفے پر بیٹھے پاشا پر پڑی ۔اس کے سر پر سفید پٹی بندھی ہوئی تھی ۔
”تمھیں کہا تھا نا اپنی منحوس شکل دوبارہ نہ دکھانا ۔“وہ غصے سے بپھرتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔پاشا نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔تناوش نے بھی پاشا کو دیکھ لیا تھا ۔اس سے پہلے کہ کبیر دادا اس کے قریب پہنچتا وہ بھاگ کر پاشا اور اس کے درمیان میں آگئی ۔
”کیا کر رہے ہیں آپ ۔“اس نے دونوں ہاتھ کبیر دادا کی چھاتی پر رکھ کر اسے روکا ۔
”تم ہٹو درمیان سے ،یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے ۔“کبیر دادا نے اسے ڈانٹ کر ہٹانا چاہا ۔
”آپ میرے بھائی کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے ۔“وہ بھی ڈٹ گئی تھی ۔
”تناوش ،مجھ سے تھپڑ کھاﺅ گی ۔“
”مارو ،روکا کس نے ہے ۔“وہ ڈرنے پر تیار نہیں تھی ۔
کبیردادا غصے میں چلایا ۔”تمھیں کہا ہے نا میرے معاملات میں دخل نہ دیا کرو ۔“
”یہ آپ کا نہیں میرا بھی معاملہ ہے ۔“
”یہ شخص یہاں نہیں رہ سکتا ۔“
”ٹھیک ہے میرا بھائی نہیں رہ سکتا تو مجھے بھی یہاں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ تناوش ضد پر اڑ گئی تھی ۔
”دماغ خراب ہوا ہے تمھارا ۔“کبیر دادا نے اسے بازو سے پکڑ کر صوفے پر دھکیلااور لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا ۔وہ بھاگ کر دروازے تک پہنچی اور اسے گھر سے نکلتا ہوا دیکھنے لگی ۔کبیردادا نے گیٹ کے قریب جا کر ایک دفعہ مڑ کر دیکھا تھا اور اس پر نظر پڑتے ہی جلدی سے سامنے دیکھنے لگا ۔اس کے چہرے چھائی ناراضی تناوش کی نظر سے اوجھل نہیں تھی ۔کبیر دادا کے غائب ہوتے ہی وہ پیچھے مڑی ۔پاشا اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر خاموش بیٹھا تھا ۔وہ دھیمے قدم رکھتے ہوئے اس کے قریب پہنچی ۔اور ندامت بھرے لہجے میں بولی ۔
”بھیا ،معذرت خواہ ہوںمیری وجہ سے انھوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی ۔اگر میں کل رات یہاں ہوتی تو انھیں کبھی بھی ایسا نہ کرنے دیتی ۔“
پاشا نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔
وہ دوبارہ بولی ۔”بھیا ،قسم لے لو ،میں نے انھیں کچھ بھی نہیں بتایا ،اصل میں کل مجھے دو آدمی پکڑ کر لے گئے تھے ۔مجھے ہوش آیا تو ایک کمرے میں تھی اور ایک مرد مجھ سے بے ہودہ انداز میں پیش آرہا تھا ۔پھر نہ جانے کیسے وہ وہاں پہنچ گئے اور انھوں نے اس آدمی کو قتل کر دیا اور مجھے میرے گھر لے گئے ۔وہاں امی جان نے کچھ گلے شکوے کیے تب انھوں نے کہا کہ میں نے ان کی تجوری سے پیسے نکالے ہیں ۔میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ بے شک آپ سے پوچھ لیں کہ میں نے پیسے نہیں نکالے ۔وہ کوئی جواب دیے بغیر چلے گئے ۔اور گھنٹے ڈیڑھ بعد آکر مجھے واپس لے آئے ۔“
پاشا کے ہونٹوں پر ندامت بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”تم سچ مچ اتنی بھولی ہو؟“
”میں سمجھی نہیں بھیا ۔“
”پاگل ،وہ پیسے میں نے نکالے تھے تاکہ تمھیں دادا کی نظروں سے گرا سکوں ۔ میں نے انھیں یہ بھی کہا تھاکہ تم طلاق لینا چاہتی ہو ،یہ بھی کہ تم ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہو ،ان کے موبائل فون سے تمھارا نمبر بھی میں نے ڈیلیٹ کیا ۔پرسوں رات کو وہ تمھاری طرف جانا چاہتے تھے تب بھی انھیں میں نے وہاں جانے سے روکا ….“
”سب جانتی ہوں ۔“وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔
”پھر بھی میرے لیے انھیں ناراض کر دیا ۔“
”تو کیا ،اپنے بھیا کی توہین ہوتے دیکھتی رہتی ۔“
پاشا کی آنکھوں میں نمی ابھری ۔”میری نیت بری نہیں تھی گڑیا ۔“
”یہ بھی معلوم ہے ۔“تناوش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیا ۔
”مجھے معاف کر دینا گڑیا ،میری وجہ سے تمھیں بہت تکلیف اٹھانا پڑی ۔اور کبیر دادا نے بہت اچھا کیا جو میرے ساتھ یہ سلوک کیا۔ مجھے اتنی غفلت نہیں برتنا چاہیے تھی ۔“
”اگر دوبارہ معافی تلافی کی بات کی تو پکی پکی خفا ہو جاﺅں گی ۔بڑے بھائی ایسا کہتے ہوئے اچھے نہیں لگتے ۔اور معافی تو مجھے مانگنا چاہیے جو بڑے بھائی کے فیصلے سے انحراف کرنے والی بنی ۔“
”میں تمھیں جادوگرنی سمجھتا تھا اور سچ کہوں تو بالکل ٹھیک سمجھتا تھا ۔مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا کہ تم مجھے اتنی عزیز ،اتنی پیاری اور اتنی اپنی اپنی لگو گی ۔“
”اب بھیا مجھے مسکہ لگانے لگے ہیں ۔“حیا آلود لہجے میں کہتے ہوئے وہ راحت خالہ کو آواز دینے لگی ۔”خالہ جان ،بھیا کے لیے ناشتا تو لے آئیں ۔“
اور پاشا عقیدت بھری نظروں سے اسے گھورتا رہ گیا ۔وہ دل ہی دل میں کہہ رہا تھا ۔ ”بھیا کی جان ،بلا شہ تم اس قابل ہو کہ تمھارے لیے بڑے رتبے، اعلا حیثیت اور اونچے مقام کو ٹھوکر مار دی جائے ۔“
٭٭٭
گھر سے نکلے ہوئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ اسے شہاب قصوری کی کال موصول ہوئی وہ ایک بجے خصوصی بیٹھک کا بتا رہا تھا ۔
کبیر دادا نے کہا ۔”میں خود یہی کہنے والا تھا بہتر ہے تم نے خود کال کر لی ۔“
”ملتے ہیں پھر ۔“شہا ب قصوری نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
خفیہ ٹھکانے پر پہنچتے ہی اس کا موبائل ایک بار پھر بجنے لگا تھا ۔تناوش کی کال آرہی تھی۔کال کاٹ کر وہ ضروری کھاتے دیکھنے لگا ۔
پیغام کی گھنٹی بجی ۔”کبیر ….“صرف اس کا نام لکھا ہوا تھا ۔
اگلا پیغام ۔”یہ بھلا کیا بات ہوئی ،کوئی ایسے خفا ہو کر جاتا ہے کیا ۔“
”اچھا بات تو سنو نا ….صرف ایک بات سن لو ۔“اس پیغام کے ساتھ ہی دوبارہ کال آنے لگی ۔اس مرتبہ کال کاٹ کر اس نے موبائل فون ہی بندکر دیا تھا ۔
ساڑھے بارہ بجے وہ شہاب قصوری کے ٹھکانے کی طرف چل پڑا ۔کار سے اترتے وقت اس کی نظر اپنی جانب بڑھتے ہوئے پاشا پر پڑی ۔چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے وہ اس سے اعراض کرنے لگا ۔پاشا اس کے بالکل قریب پہنچ کر آہستگی سے بولا ۔”معذرت خواہ ہوں دادا!….مگر ایک چھوٹا سا پیغام دینا تھا کہ وہ روررہی ہے ۔“یہ کہتے ہی وہ واپس مڑ گیا ۔
خصوصی بیٹھک شروع ہونے والی تھی ،مگر تناوش کے رونے کا سن کر اس سے رہا نہیں گیا تھا ۔فوراََ موبائل آن کر کے وہ اسے کال کر نے لگا ۔کال وصول ہوتے ہی اس کی سماعتوں میں تناوش کی ہلکی ہلکی سسکیاں گونجیں اور وہ مسکرا پڑا ۔
”رونا بند کرو ،میں تھوڑا مصروف ہوں ،فارغ ہوتے ہی کال کرتا ہوں ۔“
وہ روتے ہوئے بولی ۔”آپ کے لہجے سے اب بھی ناراضی جھلک رہی ہے ۔“
”خفا نہیں ہوں ،تھوڑا غصہ آیا ہوا تھا اب وہ بھی نہیں رہا ۔“
”پھر پیار سے بات کریں نا ،یوں سنجیدہ لہجے میں کیوں بول رہے ہیں ۔“
”گڑیا تنگ نہ کرو نا ….تمام میرے لیے بیٹھے ہیں ۔“
”اب موڈکچھ بہتر لگ رہا ہے ،ٹھیک ہے میں انتظا کر رہی ہوں ….یااللہ پاک جلدی سے میرے کبیر کو فرصت دے دے ۔“
”بے وقوف۔“اس کی دعا سن کر کبیر داداسے ہنسی نہ روکی گئی ۔
تمام گروپوں کے بڑے پہنچ چکے تھے ۔فصیح الدین کی کرسی پر تیمور علی نروس سا بیٹھا تھا۔چونکہ بیٹھک کا مقصد ہی کبیردادا کی زیادتی کو اجاگر کر کے اس سے جواب مانگنا تھا ،اس لیے شہاب قصوری کی تمہید سے پہلے ہی اس نے بات شروع کر دی ۔
”فصیح الدین کو میں نے قتل کیا ہے ۔اس کی وجہ اگر آپ لوگوں کو معلوم نہیں تو میں بتا دیتا ہوں ۔اس نے میری بیوی کو اغواءکرکے اسے بے عزت کرنے کی کوشش کی ،یقینا اس کے بعد وہ ایسی ہی موت کا حق دار تھا ۔اور اس کے بعد اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو وہ صرف قتل نہیں ہو گا، بلکہ میں ایسے شخص کے پیچھے کسی رونے والے کو باقی نہیں رہنے دوں گا ۔میری بات ختم ہوئی۔“
شہا ب قصوری گلا کھنکارتے ہوئے بولا ۔”اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ آپ کی بیوی اغواءہوئی تھی اور اسے اغوا ءکرنے والا فصیح الدین ہی تھا ۔“
کبیر دادا نے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔”یہ بات مجھے اس بے غیرت کے خاص آدمی شکیل احمد نے بتائی تھی۔اس سے پوچھ لو۔“
شہاب قصوری کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری ۔”وہی شکیل احمد جسے آپ قتل کر کے وہیں پھینک آئے ۔“
کبیردادا چونکتے ہوئے بولا ۔”سوائے اس کے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ۔اور شکیل احمد تو وہاں موجود ہی نہیں تھا ۔“
شہاب قصوری نے سوالیہ نظروں سے ایس پی کی طرف دیکھا ۔وہ خفیف سا سرہلاتے ہوئے گویا ہوا ۔”مجھے جب اس حادثے کی اطلاع ملی اس وقت پولیس وہاں پہنچی ہوئی تھی ۔میں نے فوراََ جا کر کیس اپنے ہاتھ میں لیا ۔موقع واردات پر فصیح الدین صاحب کے دو محافظ اور چوکیدار بے ہوش پڑے ملے تھے جبکہ ایک ملازمہ ،شکیل احمد اور خود فصیح الدین صاحب زندہ نہیں تھے ،ملازمہ اور شکیل کو گولی ماری گئی جبکہ فصیح الدین صاحب کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا ۔ویسے تو آپ لوگوں نے بھی موقع واردات کا جائزہ لے لیاتھا ۔اس کے محافظوں اور چوکیدار سے معلوم ہوا کہ یہ سب کبیردادا کا کام ہے ۔اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ فصیح الدین کے ساتھ جو لڑکی تھی وہ اپنی مرضی سے وہاں پہنچی تھی ۔اگر اغواءکا معاملہ ہوتا تو اس کے محافظ اور تیمور علی صاحب اس بات سے بے خبر نہ ہوتے ۔اس کا صاف مطلب یہ نکلا کہ وہ لڑکی خود غلط کردار کی ہے ایسی فاحشائیں ….“یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پر تھے اس کی چھاتی پر پاشا کی زبردست ٹھوکر لگی ۔وہ کرسی سمیت پیچھے کو الٹ گیا تھا ۔
پاشا اچھل کر اس کے پاس پہنچا اور اس کے گریبان سے پکڑتے ہوئے چلایا۔”گھٹیا انسان ،اگر دوبارہ میری بہن کے بارے ایسے غلیظ الفاظ منھ سے نکالے تو تیرے گندے ہونٹوں سے نکلنے والے وہ آخری الفاظ ہوں گے ۔“
تمام ہکا بکا رہ گئے تھے ۔کاشف راجپوت نے فوراََ اٹھ کر پاشا کو پکڑ کر ایس پی کا گریبان چھڑایا ….”پاشا ،پاگل تو نہیں ہوگئے ۔“
”پاگل میں نہیں ہوں یہ سٹھیا گیا ہے ،اسے تمیز ہی نہیں ہے کسی عزت دار خاتون کا ذکر کرنے کی ۔اب اگر اس نے ایسا کچھ کہا تو اس کی ہانیہ کو کوٹھے پر بٹھا دوں گا ۔“پاشا نے اس کی بیٹی کا نام لیا ۔
”بہرام پاشا ،تم حد سے بڑھ رہے ہو ۔“ایس پی دھاڑا ۔
”میں یا تم ۔“پاشا کی آواز اس سے کم بلند نہیں تھی ۔”گھر کی عزت پر بات آئی تو تمھیں تکلیف پہنچ گئی ،ہماری کوئی عزت نہیں ہے ۔“
”کاشف اسے باہر لے جاﺅ ۔“کبیردادا، کاشف کو مخاطب ہوا ۔
وہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا پاشا کو کھینچ کر باہر لے گیا ۔
”شہاب صاحب ، آپ نے دیکھ لیا ۔“ایس پی نے بیٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اتنے بڑے بڑے عہدہ دار ہو کر آپ لوگوں سڑک چھاپ غنڈوں جیسی حرکتیں کر رہے ہو ۔“
ایس پی چیخا ۔”جس کی غلطی ہے وہ اجاگر کرو ۔“
”مسٹر اوڈھو !….شکر کرو ابھی تک زندہ ہو ۔تمھارا کام رپورٹ پیش کرنا تھا،نہ کہ میری بیوی کی کردار کشی یا اس کے بارے گھٹیا الفاظ بکنا ۔جب اپنی بات تم غلاظت اگلے بغیر بھی بیان کر سکتے تھے تو یوں واہیات طرز گفتگو کا مطلب کیاہے ۔“
”میں فقط نے حقیقت کا اظہار کیا ہے اور یہ بتا رہا تھا کہ لڑکی کا کردار کیسا ہے ۔“
”کسی کے گھر والوں کے کردار کے بارے بولنے کی اجازت تمھیں کس نے دی ہے۔ اور جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے تو مس ہانیہ ضمیر اوڈھودرجنوں بار انسپکٹر صداقت خان کے ساتھ ایک فلیٹ میں کئی کئی گھنٹے تک بند رہی ہے ۔اس بات سے یہاں بیٹھے ہوئے تمام ممبران واقف ہیں کبھی تمھارے سامنے یہ بات چھیڑی گئی ۔
”کبیر دادا ،تم میری بیٹی پر کیچڑ اچھال رہے ہو ۔“
”تمھیں آئینہ دکھا رہا ہوں اور میں قسم کھاتا ہوں تم خود بھی اس بات سے واقف ہو ۔“
”وہ شادی کرنا چاہتے ہیں مسٹر کبیر ….“
”واہ ….یہ صداقت ہی ہے جو ہونے والی بیوی کے ساتھ اکیلا نہیں ہوتا بلکہ اپنے دو تین دوست بھی ہمراہ رکھتا ہے ۔“
”کبیردادا پلیز ….“شہاب قصوری ملتجی ہوا ۔
”شہاب صاحب ،مجھے کبیر دادا اور بہرام پاشا کے فعل کا جواب چاہیے ۔فصیح الدین کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش ہے ،وہ لڑکی وہاں مرضی سے آئی تھی ،اگر کبیردادا کے پاس اغواءکا کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے ۔باقی میری بیٹی پر اس نے جو کیچڑ اچھالا ہے اس کا جواب اسے جلد ہی مل جائے گا ۔مجھے اجازت ….“یہ کہتے ہی ایس پی وہاں سے باہر نکل گیا ۔
نوشاد بولا ۔”کبیر دادا اور پاشا نے زیادتی کی ہے ۔“
”بالکل ۔“نقیب اللہ اور اسد نے اس کی تائید میں سر ہلادیا۔
اخلاق حسین نے کہا ۔”پاشا نے غلطی کی ہے ،مگر ایس پی صاحب کا طرز گفتگو بھی ٹھیک نہیں تھا۔کم از کم اسے اتنا سوچنا چاہیے تھا کہ اس لڑکی کا شوہر یہاں بیٹھا ہے ۔“
تیمور علی ،بابر حیات اور شیر خان خاموش بیٹھے رہے تھے ۔
دو تین منٹ خاموشی چھائی رہی جسے شہاب قصوری کی آواز نے توڑا ۔ ”بابر حیات صاحب ، اور شیر خان صاحب اس کیس کی تحقیق کریں گے ۔دو دن بعد دوبارہ تمام کو بلا کر آپ کی رپورٹ کو مدنظر رکھ کر اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے گا ۔“
تمام سر ہلاتے ہوئے اٹھ کر ایک ایک کر کے وہاں سے نکلنے لگے ۔سب سے آخر میں نوشاد آفریدی اور اخلاق حسین رہ گئے تھے ۔دونوں پہلو بہ پہلو بیٹھے تھے ۔
”تو کیا خیال ہے ۔“اخلاق حسین نوشاد کی طرف متوجہ ہوا ۔
نوشاد نے پوچھا ۔”کس بارے ؟“
”میرا خیال ہے اس سے مناسب موقع نہیں ملے گا ۔“
نوشاد آفریدی چڑ کر بولا ۔”وضاحت تو کرویار ۔“
”میرا مطلب ،کبیردادا کو انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا ۔اب یہ کیا کہ اتنی سی بات پر ایس پی کا قتل کر دیا ۔“
”کیا ….؟“نوشاد آفریدی حیرانی سے چیخا ۔
اخلاق حسین ہنسا ۔”میرا کام ہوتا ہے سوچنا اور اسے انجام تک پہنچانا خان صاحب کا۔“
”مگر ….“نوشاد آفریدی مخمصے میں پھنسا نظر آرہا تھا ۔
”اگر ،مگر میں ایسا موقع ہاتھ سے گنوا دو گے ۔یقین مانو ایس پی کی موت بغیر کسی ثبوت کے کبیر دادا کے کھاتے میں جائے گی ۔اس کی موت کے ساتھ شمشیر دادا کو کال کردیں گے۔ایک دو دن میں کبیردادا کا کانٹا بھی نکل جائے گا ،بلکہ پاشا بھی کبیر دادا کو مرتے نہیں دیکھ سکے گا اور شمشیر دادا سے ٹکراکر ہمارا کام مزید آسان کر دے گا ،یوں بھی اس نے ہماری جان من کو بہن بنا لیا ہے اور محبوبہ کے وہ بھائی جو اس سے ملن کی راہ میں روڑے اٹکائیں سچ مانو تو مجھے بہت برے لگتے ہیں ۔اوراس کے بعد دونوں بھائی مل کر تمام کو اپنی انگلیوں پر نچائیں گے ۔“
نوشاد آفریدی نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔”شاہ جی ،تم اتنی دور تک کیسے سوچ لیتے ہو ۔“
”یہ حکمرانی کے گر ہیں خان صاحب ،تم ایک اچھے سپہ سالار تو بن سکتے ہو حکمرانی کے قابل نہیں ہو ۔اور جب میرا دماغ اور تمھارا جسم اکٹھا ہو جائے گا تو کراچی پر کس کا راج ہو گا….؟“
”ہمارا ….“پاشا کے ہونٹوں پر معنی خیز ہنسی ابھری ۔”ویسے تم نے کبیر دادا کی طرف داری کیوں کی ۔“
اخلاق حسین نے کہا ۔”اس سوال کا جواب کل دوں گا ۔اور ا ب میں پہلا سوال دہراﺅں گا ….تو کیا خیال ہے ۔“
اور پاشا اس کے سوال کا جواب دیے بغیر موبائل فون نکال کر کسی کو کال کرنے لگا ۔ وہ کال اخلاق حسین کے سوال کا عملی جواب تھا
________
جاری ہے
