Rakhail by Riaz Aqib Kohler

”ہائے ہائے ........“بشریٰ خاتون اپنی چھاتی پیٹتے ہوئے بیٹے کی لاش سے لپٹ گئی۔”آگ لگے تیری صورت کو ....تو پیدا ہوتے ہی کیوں نہ مر گئی ڈائن۔کھا گئی ہے اپنے اکلوتے بھائی کو،ہائے او ربّا! مجھے پتا ہوتا تو پیدا ہوتے ہی تمھارا گلاگھونٹ دیتی۔تمھیں زندہ درگور کر دیتی ۔ہائے میرا بھولا بھولا شہزادہ ....ہائے ہائے ....“اس کی سینہ کوبی اور آہ وزاری جاری رہی ۔
وہ بھی گھر کے ایک کونے میں گھٹنوں میں سر دئےے بیٹھی خاموشی سے روتی رہی ۔ماں تو اسے کوس کر ،برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال رہی تھی ۔وہ کسے کوستی کس کو برا بھلا کہتی ۔اگر ماں کا اکلوتا بیٹاقتل ہوا تھا تووہ اس کابھی تو اکلوتا بھائی تھا۔اور اس نے کون سا کسی سے محبت کی پینگیں بڑھائی تھیں یا کسی سے ناجائز تعلقات رکھے تھے جو وہ شرمندہ ہوتی ۔وہ تو خود ایک عذاب میں پھنسی ہوئی تھی ۔اس دور میں بھی کراچی جیسے شہر میں جنگل کا قانون رائج تھا ۔ایک غنڈے کو پورا حق حاصل تھا کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر کسی لڑکی کی زندگی اجیرن کر دے ،اسے ہر وقت چھیڑتا رہے اور احتجاج کرنے پر اس کے بھائی کو بھی قتل کر دے ۔دلاور شیخ نے یہی تو کیا ہوا تھا ان کے ساتھ ۔سربازار اسے روک کروہ ببانگ دہل کہتا تھا ۔
” بی اے کر لے بے بی پھر تمھیں میری بیوی بننا ہے ۔اور اگر اس سے پہلے کوئی رشتا لے کر تمھارے گھر آگیا تو خود تو جان سے جائے گا ہی تمھارے بی اے کرنے میں بھی رکاوٹ ڈال دے گا ۔“
وہ اس کا کچھ بھی تو نہیں بگاڑ سکتی تھی ۔بس خوف سے لرزتی کانپتی ماں کی گود میں پناہ لینے گھر کودوڑ پڑتی ۔بارہویں کلاس کی لڑکی کی عمر ہی کتنی ہوتی ہے ،پھر باپ کا سایا سر پر نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو اور بھی غیر محفوظ محسوس کرتی ۔دلاور شیخ کا تو نام ہی خوف کی علامت تھا ۔دکان دار باقاعدگی سے اسے بھتّا دیا کرتے ۔چوں چراں کرنے واے کی بوری میں بند لاش سڑک کے کنارے پڑی ملتی ،کسی گندے نالے میںڈوبی ملتی یا ساحل سمندر پر اپنی تقدیر پر نوحہ خواں نظر آتی۔ پولیس والوں کو بھی اپنے گھر والے اور نوکری عزیز تھی ۔اسی لیے تو جب وہ ماں کو لے کر تھانیدار کے پاس گئی تو اس نے پوری توجہ سے اس کی بات سن کر کہا تھا ۔”فکر نہ کرو مائی ہم اس سے بات کر لیتے ہیں ۔مگر بہتر یہی ہو گا کہ تم لوگ یہ علاقہ چھوڑ کر کہیں چلے جاﺅ، وہ ایک طاقت ور شخص ہے اور اس کی پشت پرایک بااثر شخص موجود ہے جس کا وہ کافی لاڈلا ہے ۔“
قانون کا محافظ انھیں ایسا مشورہ دے کر گویا باور کرا رہا تھا کہ وہ اس معاملے میں بے بس تھا ۔ورنہ پولیس والے مجرموں سے بات چیت نہیں کیا کرتے ان کی سرکوبی کرتے ہیں ۔ یہاں تھانے دار کہہ رہا تھا کہ وہ اس سے بات کر لے گا ،گویا اس کی منت سماجت کرے گا ۔اور ایسے لوگ منت سماجت سے نرم نہیں پڑا کرتے ۔جس کے ہاتھ میں اختیار آجائے وہ خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے ۔اسی اختیار نے فرعون و نمرود سے خدائی کا دعویٰ کروایا ،اسی اختیار نے شداد کو اللہ پاک کے مقابل لا کھڑا کیا ،اسی اختیار نے ابوجہل کو اپنی جہالت پر ثابت قدم رکھا اور یہی وہ اختیار ہے جس کی وجہ سے آج امریکہ نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔جس درجے کا اختیا ر ہو اس درجے کی من مانی کی جاتی ہے ۔کہاوت ہے کہ موچی کو اختیار ملا اور اس نے چمڑے کا سکہ جاری کر دیاتھا ۔دلاور شیخ کے پاس بھی ایک بااثر شخصیت کی چمچہ گیری کے باعث اتنا اختیا ر آگیا تھا وہ ایک غریب لڑکی کی زندگی اجیرن کرسکتا۔جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ خوب صورت تھی ....یہی خوب صورتی اگر صاحب اختیار اور امراءکے گھر جنم لے تو باعث ِ رعب بن جاتی ہے اور اگر غریب کے گھر جنم لے تو تماشا اور دیکھنے کی چیز ۔بہ قول شاعر ....
اچھی صورت بھی کیا بری شیے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
اگر وہ معمولی شکل یا قبول صورت ہوتی تو اسے ان حالات کا سامنا تو نہ کرنا پڑتا ۔محلے کے آوارہ لڑکوں کو اس سے عشق کا شوق چرایا تو اسکول کے لڑکے بھی آہیں بھرتے نظر آئے اور جب دلاور شیخ جیسے غنڈے کی نظر پڑی تو تمام اپنا سا منھ لے کر رہ گئے ۔وہ ایک با حیا ،باعزت اورخودارلڑکی تھی ۔اسے نہ تو محلے کے آوارہ لڑکوں کی پروا تھی اور نہ اسکول میں موجود عشّاق کی ۔
بے نیازی ، بے دھیانی اور خاموشی سے کام لے کر ایک شریف لڑکی ایسے بے غیرتوں کو اپنے کام سے کام رکھنے پر مجبور کر سکتی ہے ....یوں بھی بھونکنے والا کاٹا نہیں کرتے ۔اور شریف لڑکیوں کو چھیڑنے والے آوارہ سگ ہی کی طرح تو ہوتے ہیں جن کاکام ہی بھونکنا ہوتا ہے ۔لیکن اس کی بد قسمتی کہ اسے کاٹنے والا کتا ٹکرا گیا تھا ....دلاور شیخ اس محلے ،بلکہ آس پاس کے دو تین محلّوں کا بے تاج بادشاہ تھا ۔وہاں کے لوگ اس کے منھ لگنے سے گریز کیا کرتے۔کیوں کہ ایسے غنڈوں کے خلاف نہ تو پولیس میں کوئی شنوائی ہوتی ہے اور نہ کوئی عدالت ہی انصاف مہیا کر سکتی ہے ۔ کرائے کے وکیل ،کرائے کے گواہ اور خریدے ہوئے جج بھلا غریبوں کی کیا مدد کریں گے ۔
اس کی ماں بھی یہ بات اچھی طرح جانتی تھی وہ دلاور شیخ کے اختیار سے بھی واقف تھی۔ رہی سہی کسر تھانے دار کی باتوں نے پوری کر دی تھی ۔اس لیے اس نے حتی الوسع یہ بات اپنے جوان بیٹے سے چھپائے رکھی ....مگر کب تک ایک دن جب وہ روتی لرزتی کانپتی گھر میں داخل ہوئی تو بڑا بھائی مزدوری نہ ملنے کے باعث پہلے سے گھر میں موجود نظر آیا ۔وہ گھروں میں رنگ و روغن کاکام کرتا تھا ۔چھوٹی اور لاڈلی بہن کی حالت دیکھتے ہی وہ تڑپ اٹھا ۔
وہ بھی ایک غیر مرد کی بے ہودہ گفتگو سن کر غصے اور خوف سے کھولتی ہوئی گھر پہنچی تھی ۔ ماں کی آنکھوں کے اشارے سمجھے بغیر اس نے روتے ہوئے ساری بات بھائی کے سامنے اگل دی ....
”بھیا!.... وہ کمینہ مجھے روزانہ تنگ کرتا ہے ۔کبھی کالج کے دروازے پر روک لیتا ہے ،کبھی گلی کی نکڑ پر اور کبھی بازار میں ....بے ہودہ اور گندی گندی باتیں کرتا ہے ....فلمی ہیرو کی طرح بڑھکیں مار کر محبت کا اظہار کرتا ہے ۔کہتا ہے میرے بی اے کرتے ہی زبردستی مجھ سے شادی کرلے گا ،اور اگر اس سے پہلے میرا رشتا لے کر کوئی آیا تو اسے جان سے مار کر اسی وقت مجھے بیوی بنا لے گا ۔“
”کون ہے وہ بدبخت ۔“اس کا بھائی شاہ نواز غصے میں کانپتا ہوا چارپائی سے کھڑا ہو ا اور آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا ....”جب تک میں زندہ ہوں میری گڑیا کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو وہ آنکھ جسم کا حصہ نہیں رہے گی ۔“
”دلاور شیخ ....“اس نے سسکیاں لیتے ہوئے اس غنڈے کا نام لیا ۔
شاہ نواز فوراََ گھر سے باہر نکل گیا ۔ماں نے اسے روکنے کی بڑی کوشش کی مگر بیٹیوں کی طرح لاڈلی بہن کی آنکھوں میں نظر آنے والے آنسو دیکھ کر وہ اپنے حواس کھو بیٹھا تھا ۔ وہاں سے وہ بھاگتے ہوئے دلاور شیخ کے اڈے پر پہنچا تھا ۔مگر واپسی پر اسے ایک ہمدرد رکشے والا لے کر آیا تھا ۔دلاور شیخ کے اڈے کے سامنے اس کی بے یارو مددگار پڑی لاش کو اس ڈرائیور نے اس لیے رکشے میں ڈالنے کی ہمت کی تھی وہ ان کا دور پار کا رشتا دار تھا ۔
دو تین گھنٹے پہلے بہن کو چھیڑنے والے عبرت کا نمونہ بنانے کا دعوے دار ۔دلاور شیخ کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا البتہ اپنی جان دے کر کم از کم بے غیرتی کی زندگی جینے سے بچ گیا تھا ۔
اکلوتے بیٹے کی لاش دیکھ کر اس کی ماں پاگلوں کی طرح بس اسے ہی کوستی رہی ۔ اس کے علاوہ اس بے چاری کے بس میں تھا ہی کیا ....”تناوش تو پیدا ہی کیوں ہوئی ....میں نے تیرے منھ پر تیزاب کیوں نہ پھینکا ....ارے تیرے چہرے پر چیچک ہی نکل آتی تو میرا گبھرو بیٹا تو مجھے چھوڑ کر نہ جاتا ....“اس کی ماں کا مجذوبانہ واویلا جاری رہا ۔محلّے کی دو تین بوڑھی عورتیں اسے سنبھالنے کی کوشش کرنے لگیں ،مگر جوان بیٹے کی موت کوئی معمولی صدمہ نہیں تھا کہ وہ کسی کی بات سمجھنے کے قابل ہوتی ،روتی سینہ کوبی کرتی وہ کسی بات نہیں سن رہی تھی ۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *