Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11
خاور شیخ نے اس کے گریبان کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ کمرے سے باہر کھٹ پٹ کی آواز سنائی دی ۔وہ رک کر دروازے کی جانب دیکھنے لگا ۔اور پھر اس کے کچھ سوچنے سمجھنے سے پہلے ہی دروازے کے پٹ ایک دھماکے سے کھلے اور کبیردادا ہاتھ میں پستول لیے اندر داخل ہوا ۔ اس کے چہرے پر چھائی وحشت دیکھ کر خاور شیخ لرز کر رہ گیا تھا ۔ایک دم اسے لگا کہ وہ بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھا ہے ۔اس کی ساری شوخی اور مستی ایک منٹ میں ہوا ہو گئی تھی۔
”کک….کبیردادا !….ایک منٹ میں وضاحت کر سکتا ہوں ۔“دفاعی انداز میں ہاتھ بلند کرتے ہوئے وہ ہکلایا۔
”کر و۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے کبیر دادا نے پستول جیب میں رکھ لیا تھا ۔تناوش کو با خیریت دیکھ کر اس کے دل میں جلتی آگ پر جیسے پانی پڑ گیا تھا ۔اس کے تنے ہوئے اعصاب فوراََ ہی پرسکون ہو گئے تھے ۔
”مجھے شاہ جی نے ایسا کرنے کو کہا تھا ۔“خاور شیخ نے یوں کہا جیسے اخلاق حسین کا نام ہی وضاحت کے لیے کافی ہو ۔
”کیا تمھیں معلوم تھا کہ اس لڑکی کے جملہ حقوق میرے نا م محفوظ ہو چکے ہیں ۔“ کبیردادا کا ٹھنڈا ٹھار لہجہ بھی خاور شیخ کے دل کی دھڑکن کو بڑھائے جا رہا تھا ۔یوں بھی کبیردادا کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی ۔زیر زمین دنیا میں اس کا نام ہیبت و دہشت کی علامت تھا ۔ جس کام میں اس کے ملوث ہونے کا شبہ بھی ہوتا باقی لوگ اس کام سے یوں دور بھاگتے جیسے موت سے بھاگا جاتا ہے ۔
”جج….جی ….مم….مگر….“کبیردادا کے بھرپور تھپڑ نے اس کی ہکلاتی ہوئی زبان کو لگام دے دی تھی ۔وہ پہلو کے بل زمین پر گر گیا ۔البتہ فرش پر بچھے دبیز قالین کی وجہ سے وہ چوٹ لگنے سے محفوظ رہا تھا ۔
اٹھتے ہوئے اس نے ہونٹوں سے رستا خون ایک جانب تھوکا اور محتاط لہجے میں بولا ۔ ”کبیر دادا !….آپ زیادتی کر رہے ہیں ۔“
”ہاں ….مگر یہ زیادتی کی ابتداءہے اور گلے شکوے اختتام پر کرنا اگر کچھ بولنے کے قابل رہے تو ….“پرسکون انداز میں کہتے ہوئے کبیردادا اس کی جانب بڑھا ۔خاور شیخ کو معلوم تھا کہ وہ کبیردادا کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔اور پھر کبیردادا کے چار مسلح محافظ سونے پر سہاگا تھے ۔اس نے فوراََ جان بچانے کی تجویز سوچی اور اٹھ کر دیوار کے ساتھ کھڑی تناوش کو پکڑ کرایک ہاتھ اس کے گلے میں ڈالتے ہوئے اسے اپنے سامنے تھام لیا ۔اس کے ساتھ ہی وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا ۔
”کبیر دادا !….اگر کوئی میرے قریب آیا تو یہ جان سے جائے گی ۔“
”یہ تو ویسے بھی اپنے سانس پورے کروا چکی ہے ،تمھارا کیا خیال ہے اتنی دیر تمھارے ساتھ ایک کمرے میں بند رہنے کے بعد یہ میرے کسی کام کی رہ گئی ہے ۔“
”قق….قس….قسم کھاتا ہوں ،میں نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا ۔“خاور شیخ ہکلا کر صفائیاں دینے لگا ۔
”مجھے تمھاری گواہی کی ضرورت نہیں ۔اور تمھاری زندگی ختم کرنے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ تم نے میری چیز کو چھونے کی کوشش کی ہے ۔“یہ کہتے ہوئے بھی کبیر دادا کے قدم رکے نہیں تھے ۔
خاور شیخ بھی مسلسل الٹے قدم لیتے ہوئے پیچھے کو ہٹ رہا تھا ۔تناوش کا خوفزدہ چہرہ اب پر سکون ہو گیا تھا ۔کبیردادا کی موجودی میں ہر خوف اور ڈر اس کے دل سے رخصت ہو جایا کرتا تھا ۔اپنے متعلق کبیردادا کی تلخ باتیں بھی اسے خفا نہیں کر سکی تھیں ۔کمرے میں داخل ہوتے وقت کبیردادا کے چہرے پر چھائے وحشت بھرے اثرات اسے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھے کہ وہ کتنا پریشان تھا ۔اور پھر تناوش کو خیریت سے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر جھلکنے والا سکون بھی اس بات کا مظہر تھا کہ وہ اسے کتنی اہمیت دیتا ہے ۔اس کا بیزاری اور بے توجہی ظاہر کرنا یقینا خود کو تسلی دینے کے لیے تھا ۔
جونھی خاور شیخ کی پیٹھ عقبی دیوار سے ٹکرائی وہ دھمکی امیز لہجے میں بولا ۔ ”کبیردادا!…. میں سچ کہہ رہا ہوں اگر آپ نہ رکے تو میں اس لڑکی کی گردن توڑ دوں گا ۔اگر مجھے مرنا ہے تو زندہ یہ بھی نہیں رہے گی ۔“
کبیردادا ڈیڑھ دو گز دور رکتے ہوئے بولا ۔”خاور شیخ !….اگر اس لڑکی کو کچھ بھی ہوا تو اس کی جگہ رات گزارنے کے لیے عبداللہ شیخ کی یونیورسٹی میں پڑھنے والی بیٹی کو لینا پڑے گی ۔ اب یہ نہ کہنا کہ تم اس لڑکی کو نہیں جانتے ۔آخربہن ہے وہ تمھاری ۔“
”تت….تم ….تم ….میں تمھیں جان سے مار دوں گا ۔“ہذیانی انداز میں کہتے ہوئے اس نے تناوش کو ایک جانب دھکیلااور چیختے ہوئے کبیردادا پر حملہ کر دیا ۔
اپنے سر کو چند انچ حرکت دے کر کبیردادا نے اس کا مکا خطا کیا اور اس سے پہلے کہ خاور شیخ کا ہاتھ واپس پہنچتا کبیردادا نے دائیں ہاتھ سے اس کی کلائی تھام لی تھی ۔اس نے بایاں ہاتھ خاور شیخ کی کہنی پر اس انداز میں رسید کیا کہ بے ساختہ وہ الٹا گھوم گیا تھا ۔اپنا بایاں ہاتھ بھی اس کی کلائی پر منتقل کرتے ہوئے کبیردادا نے ایک پاﺅں اٹھا کر خاور شیخ کی کمر پر رکھا ۔اپنے پاﺅں سے اسے آگے دھکیلتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کے مروڑے ہوئے بازو کو پیچھے کھینچا ۔”کٹاک کی آواز سے خاور شیخ کی کہنی کا جوڑ ٹوٹ گیا تھا ۔اس کے ہونٹوں سے دلخراش چیخ بلند ہوئی وہ گھٹنوں کے بل نیچے گرا اس کا جسم رعشے کے مریض کی طرح کانپنے لگ گیا تھا ۔
کبیردادا اس کی طرف بڑھا ۔وہ خوفزدہ اور سہمی ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے گڑگڑایا۔
”مم….مجھے معا ف کر دو کبیردادا !….آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔“
اس کی گڑگڑانے اور تڑپنے سے بے پروا کبیردادا نے قریب پہنچ کر ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھتے ہوئے کہا ۔
”میں غلطی دہرانے کا موقع نہیں دیا کرتا ۔“اس کے ساتھ ہی اس نے مخصوص انداز میں جھٹکا دیا ۔”کٹاک ۔“کی ایک دوسری آواز بلند ہوئی تھی لیکن اس مرتبہ خاور شیخ چیخ نہیں پایا تھا ۔اوندھے منھ دبیز قالین پر گرتے ہوئے وہ ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا ۔وہ ایک معصوم اور بے بس لڑکی کی چیخیں سننے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھا، حوا کی بیٹی کو اذیت دے کر وہ خود محظوظ کرنے کا سوچے ہوئے تھا اور تقدیر اس ظالم پر خندہ زن تھی ۔
کبیردادا تناوش کی طرف مڑا ۔وہ بھاگ کر اس کے قریب آئی اور یوں وارفتگی سے لپٹی گویا برسوں کی شناسا ہی تو ہو ۔”اتنی دیر لگا دی ۔“اس نے لاڈ بھرے انداز میں شکوہ کیا تھا۔
کبیردادا کے چاروں محافظ یہ منظر دیکھتے ہی فوراََ کمرے سے باہر نکل گئے تھے ۔
اس کے یوں بے ساختگی سے لپٹنے پر کبیردادا ششدر رہ گیا تھا ۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تناوش اس بے باکی کا مظاہرہ کرے گی۔اس نے تناوش کی جسارت پر غصہ کرنے کا سوچا اسے جھڑکنے کا ارادہ کیا ،مگر وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر پایا تھا ۔تناوش کے ملائم اور نرم و نازک وجود نے اسے سن کر دیا تھا ۔تناوش کے بدن کی خوشبو اس کے حواس کو مختل کرنے لگی تھی ۔ کافی کوشش کر کے اس نے اپنی زبان کو بولنے پر آمادہ کیا ۔
”تمھیں یوں کسی کے ساتھ نہیں چلے جانا چاہیے تھا ۔“
”مجھے اگر ذرا بھی امید ہوتی کہ آپ خود مجھے لینے آئیں گے تو شاید قیامت تک انتظار میں بیٹھی رہتی ۔اور پھر مجھے یہ بھی گمان تھا کہ آپ کی بیوی کی طرف کوئی غلیظ ہاتھ نہیں بڑھاپائے گا ۔“
اس کے موخّر الذکر فقرے پر کبیردادا کو سبکی کا احساس ہوا ۔اسے بہ مشکل خود سے علاحدہ کرتے ہوئے وہ دھیرئے سے بولا ۔”میرا بھی یہی گمان ہے ،مگر کچھ لوگوں کو سمجھ میں یہ بات اتنی جلدی نہیں آتی اور میرا سمجھانے کا طریقہ ایسا ہے کہ وہ سمجھ تو جاتے ہیں مگر مستقبل میں اس پر عمل کرنے کے قابل نہیں رہتے ۔“
تناوش کھل کھلا کر ہنسی ۔”اب مجھے بھی اس طریقے سے سمجھانا نہ شروع کر دینا ۔“
کبیردادا نے بے ساختہ امڈ پڑنے والی مسکراہٹ کو ہونٹ بھینچ کر روکا اور سنجیدہ لہجے میں بولا ۔”چلنا چاہیے ۔“
”ہاں چلیں ،مگر یادر رہے اتفاق سے آپ نے میرا چہرہ تودیکھ لیا ہے ۔منھ دکھائی معاف نہیں کروں گی ۔“
”نکاح پڑھوانے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ میں تمھارے چونچلے اٹھانا شروع کر دوں ۔ اپنی حیثیت پہچان کر بات کیا کرو ۔“خشک لہجے میں کہتے ہوئے وہ باہر کی طرف چل دیا ۔
تناوش کے ہونٹوں سے خوشی بھری مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی ۔وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑی ۔اپنی حیثیت اسے یاد تھی ۔اس نے خود کبیردادا کو یہی دعوت دی تھی کہ وہ صرف نکاح پڑھوا لے اس بعد وہ بے شک اسے رکھیل سمجھ کر رکھے اور رکھیل ہی سا سلوک کرے۔ اس وقت کبیردادا نے اس سے یہ بھی پوچھا تھا کہ وہ اپنی باتوں سے پھرے گی تو نہیں ؟ اور اس نے اعتماد بھرے لہجے میں کہا تھا کہ وہ اپنے کہے سے ایک انچ بھی نہیں ہٹے گی ۔
اس وعدے وعید کے بعد تناوش کا ایک بیوی کے حقوق کے لیے اصرار کرنا کسی طرح بھی نہیں جچتا تھا ۔یوں بھی کبیردادا کے چہرے پر اپنے لیے پریشانی دیکھ کر اس نے امید کا دامن دراز کیا تھا ۔لیکن کبیردادا نے اسے یہ باورکرانے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں تھی کہ اس کا پریشانی ظاہر کرنا اس کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی عیاشی کی وجہ سے تھا ۔وہ تناوش کو اپنی ملکیت سمجھ رہا تھا اور عورت چاہے بیوی ہویا رکھیل اس میں حصہ دار بنانا مرد کی فطرت میں شامل نہیں ۔ تناوش اس کی ملکیت تھی اور اپنی ملکیت پروہ کیسے کسی دوسرے کا تصرف کا برداشت کر سکتا تھا ۔
ایک محافظ نے کبیردادا کے لیے عقبی دروازہ کھولاہوا تھا ۔اس کے بیٹھنے تک تناوش دوسری جانب سے گھوم کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔
راستے میں کبیردادا سنجیدہ چہرہ لیے بیٹھا رہا ۔تناوش نے بھی کچھ بولنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔کبیردادا کی تلخ بات اسے ابھی تک ہضم نہیں ہو پارہی تھی ۔لیکن گھر پہنچنے تک وہ خود کو سنبھال چکی تھی ۔فی الحال کبیردادا کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔لیکن کوشش سے وہ اس کے دل جگہ بنا سکتی تھی ۔نہ جانے کیوں اس کا دل کبیردادا کے دل میں جگہ بنانے کا خواہاں تھا ۔وہ اس سے علاحدہ ہونے پر خود کو آمادہ نہیں کر پارہی تھی۔
گھر پہنچتے ہی کبیردادا نیچے اتر کر تیز قدموں سے اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا ۔ تناوش ایک مرتبہ پہلے وہاں آچکی تھی ۔اسے خواب گاہ کا رستا معلوم تھا ۔اور کسی سے رہنمائی لیے بغیر وہ آسانی سے وہاں پہنچ سکتی تھی ۔اس کے باوجود کبیردادا کی حرکت پر وہ دل مسوس کرکے رہ گئی تھی ۔نئی نویلی دلھن کا اتنا تو حق بنتا تھا کہ اسے اپنے ساتھ چلا کر لے جایا جاتا ۔
فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے عظیم کو دیکھ کر بھی وہ مسکرا نہیں سکی تھی ۔حالانکہ گزشتا روز اسے دیکھتے ہوئے وہ ہنسی نہیں روک پا رہی تھی ۔کہ تناوش کی وجہ سے اسے کبیردادا کے بھرپور تھپڑ کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔اب شاید عظیم کے ہنسنے کی باری تھی ۔بجھے دل سے کار سے اتر کر وہ بوجھل قدموں سے خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی ۔
خواب گاہ میں گھستے ہی اسے کبیردادا منقش دروازے والی ایک الماری کے سامنے کھڑا نظر آیا ۔الماری سے کوئی چیز نکال کر وہ پیچھے مڑا ۔اس کے ہاتھ میں سنہری سیال والی دو بوتلیں دیکھتے ہی تناوش سمجھ گئی تھی وہ کس غلیظ مشروب سے شغل شروع کرنے والا ہے ۔لیکن وہ جیسا بھی تھا اب اس کا شوہر تھا ۔اور وہ جن حالات میں وہاں پہنچی تھی اس کے بعد اپنے شوہر کی کسی بات پر ناک بھوں چڑھانا مناسب نہیں تھا ۔وہ خود ہی تمام کشتیاں جلانے پر آمادہ ہوئی تھی ۔ نکاح سے پہلے ہی اس نے اپنے تمام حقوق کبیردادا کو معاف کر دیے تھے تو اب کوئی واویلا کرنا اسے جچتا نہیں تھا ۔اس کے ساتھ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ کبیردادا کے نزدیک اس کی اہمیت ایک لذیز پکوان جتنی ہی تھی کہ پیٹ بھرنے کے بعد جسے نظر بھر دیکھا بھی نہیں جاتا ۔
کبیردادا نے صوفے پر بیٹھ کر شیشے کا نفیس گلاس بھر ااور ایک ہی سانس میں پورا گلاس خالی کر دیا ۔اس پر سے نظریں ہٹا کر وہ سبک قدموں سے چلتی ہوئی جہازی سائز بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی ۔اس کے ساتھ ہی وہ پرتعیش خواب گاہ کا جائزہ لینے لگی ۔فرش پر گہرے بھورے رنگ کا دبیز قالین بچھا تھا ۔جہازی سائز بیڈ کے پاﺅں کی طرف کی دیوار پر ایک بڑی ایل ای ڈی لگی ہوئی تھی۔اس کے ساتھ والی دیوار میں ڈریسنگ روم اور آگے غسل خانے کا دروازہ تھا۔دوسری دو دیواروں پر جنگل کے بادشاہ کی دو بڑی بڑی پینٹنگز آیزاں تھیں ۔چھت میں خوب صورت سیلنگ کی گئی تھی اور ایک ترتیب سے دس بارہ انرجی سیور نصب تھے ۔ان کے جلنے سے خوب تیز روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔بیڈ کے دائیں جانب فائیو سیٹر صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا ۔صوفہ سیٹ کے سامنے شیشے کی خوب صورت میز رکھی تھی جبکہ جوانب میں شیشے کی تپائیاں پڑی تھیں ۔ چھت سے پنکھے لٹکے ہوئے نظر نہیں آرہے تھے ۔اس کے بجائے ایک دیوار میں لگا ہوا اے سی اعلان کر رہا تھا کہ مکین کو پنکھوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ایک کونے میں درمیانہ سا فریج بھی رکھا ہوا تھا ۔ کمرے کو ایک نظر دیکھنے والا بھی آسانی سے اندازہ کر سکتا تھا کہ گھر کا مالک کتنا دولت مند ہے ۔ اس خواب گاہ کو دیکھتے ہوئے تناوش کی نگاہوں میں اپنے گھر کے کمرے کا منظر ابھرا ۔بان کی چارپائی پر بچھی منقش چادر جو زیادہ دھلائی سے اپنے اصل رنگ گم کر چکی تھی ۔لکڑی کی ایک پرانی سی میز جس کا نہ ہونا ،ہونے سے کئی گنا بہتر تھا ۔چھت سے لٹکتا ہوا پرانا پنکھا جو ہوا سے زیادہ آوازیں دیتا تھا ۔ اور واپڈا کی مہربانی سے انھیں وہ آوازیں کم ہی سننے کو ملاکرتی تھیں۔گرد ختم کرنے کے لیے ہر دوسرے دن کچے فرش پر پوچا پھیرنا پڑتا ۔
امارت اور غربت کا تضاد دکھانے کے لیے دو تصویریں کھینچی جاتیں تو اس کے لیے کبیر دادا کی خواب گاہ کے مقابل ان کا کمرہ غربت کی مکمل تصویر پیش کرتا تھا ۔
”تمھیں اپنا وعدہ یاد ہے نا ۔“یکے بعد دیگرے تین گلاس حلق میں انڈیل کر وہ چوتھے گلاس سے ہلکی ہلکی چسکیاں لیتے ہوئے تناوش کو مخاطب ہوا ۔اس کے ایک دم پکارنے پر وہ ہڑ بڑا گئی تھی ۔”جی کون سا وعدہ ؟“
”یہی کہ میں نکاح پڑھوا لوں اور اس کے بعد تم کوئی مطالبہ پیش نہیں کرو گی ۔بلکہ رکھیل کی طرح میرے پاس رہو گی ۔“
کبیردادا کی طرف زخمی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی ۔”بیوی اور رکھیل میں کیا فرق ہوتا ہے ۔“
”میں نہیں جانتا کہ کیا فرق ہوتا ہے اور نہ جاننے کی خواہش ہے ۔البتہ تم یہ جان لو کہ یہاں جتنے دن رہنا ہے اپنی حیثیت اور جگہ پہچان کر رہنا ہوگا ۔آج میرے محافظوں کے سامنے تم پر رومانس کا جو بھوت سوار ہوا تھا آئندہ ایسی کوئی حرکت نہ دیکھوں ۔“
تناوش کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔اور اس نے شوخ لہجے میں پوچھا۔ ”یہ رومانس والی شرط کمرے سے باہر تک ہی محدود رہے گی یا کمرے میں بھی یہی قانون لاگو رہے گا ۔“
کبیردادا نے اسے غصے بھری نظروں سے گھورا ،مگر وہ نگاہیں چرائے بغیر اس کی جانب متوجہ رہی ۔
”یقینا تم یہاں پر اپنا قیام مختصر کرنا چاہتی ہو ۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”بات طویل اور مختصر قیام کی نہیں ہے ۔بس یہ یاد رہے کہ جتنے دن یہاں رکھو گے اپنے کسی کام سے منع کرنے کی کوشش نہ کرنا ۔خواب سے باہر آپ مجھے رکھیل کا نام دیتے ہیں ، داشتہ کہہ کرمیرا تعارف کراتے ہیں یا اس سے بھی زیادہ کسی غلیظ لقب سے پکارتے ہیں۔اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں اس خواب گاہ میں اپنا تصرف چاہتی ہوں اور یہاں مجھے بیوی کے حقوق میسر رہنے چاہئیں اور بس ۔“
”تم اس قسم کی کوئی شرط منوانے کی مجاز نہیں ہو ۔“
”یہ شرط نہیں میرا حق ہے ۔یقینا ایک رکھیل اتنا حق تو رکھتی ہے کہ ایک کمرہ اس کے تصرف میں رہے ۔“یہ کہتے ہوئے وہ اس کی طرف بڑھی ۔”اب رات کافی ہو گئی ہے میرا خیال ہے آرام کرنا چاہیے ۔“اس کے سامنے قالین پر بیٹھ کر وہ اس کے بوٹوں کے تسمے کھولنے لگی ۔
”یہ کیا کر رہی ہو ۔“اس نے اپنے پاﺅں پیچھے سمیٹنا چاہے ۔
اس کے دونوں پاﺅں پر اپنی گرفت سخت کرتے ہوئے وہ بولی ۔”کہا ہے نا ،مجھے اپنے کسی کام سے روکنے کی کوشش مت کرنا ،یہاں جتنے دن رہوں گی آپ کو یہ سب برداشت کرنا پڑے گا یوں بھی یہاں پر آپ کا کوئی محافظ نہیں دیکھ رہا ۔“
کبیردادا صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتا ہوابولا۔ ”بے وقوف لڑکی !….ایسی کوششوں سے تمھیں کچھ نہیں ملنے والا ۔“
”میرانام تناوش کبیر ہے ،اگر آپ پیار سے چندا ،گڑیا ،جانو وغیرہ کہہ کر بلانا چاہیں تومجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ،مگر یہ لڑکی وغیرہ بالکل نہیں چلے گا ۔“شوخی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس کے بوٹ اتارنے لگی ۔کبیر دادا افسوس بھر ے انداز میں سر ہلا کر رہ گیا تھا ۔وہ الٹی کھوپڑی کی لڑکی نہ تو اس کے غصے کو خاطر میں لا رہی تھی اور نہ اس کے سمجھانے کا کوئی اثر ہو رہا تھا۔ اب اس کا ایک ہی حل کبیردادا کی سمجھ میں آرہا تھا کہ جلد از جلد اسے طلاق دے کر رخصت کر دیتا ۔
اس کی جرابیں اتار تے ہوئے تناوش نے منھ بنایا ۔”شاید ہفتہ بھر سے یہ جرابیں پہنی ہوئی ہیں ۔“
”اگر پسینے کی بو اتنی ہی بری لگ رہی ہے تو میری جرابوں کو ہاتھ نہ لگاتیں ،کسی نے منت تو نہیں کی تھی ۔“کبیر کا لہجہ خفگی کا عنصر لیے ہوئے تھا ۔
وہ وارفتگی سے بولی ۔”ایسا میں نے کب کہا کہ آپ کے پسینے کی بو مجھے بری لگتی ہے ۔ میں نے تو فقط جرابوں کے میلا ہونے کی نشان دہی کی ہے ۔بات کو غلط سمت موڑ نے کی کوشش نہ کریں سمجھے ۔“یہ کہہ کر وہ اس کے بوٹ اور جرابیں اٹھا کر ریک کی طرف بڑھ گئی ۔جوتوں کو ریک میں رکھ کر اس نے بیڈ کے ساتھ پڑی ہوائی چپل اٹھائی اور اس کے پاﺅں کے پاس لا کر رکھ دی ۔ اس کے ساتھ ہی وہ صوفے پر بیٹھ کر اس کی ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرنے لگی ۔کبیر دادا کو اس قسم کی خدمتیں لینے کی عادت نہیں تھی لیکن وہ خاموش بیٹھا رہا ۔ٹائی اس کے گلے سے نکال کر تناوش اس کی قمیص کے بٹن کھولنے لگی ۔
کبیر نے منھ بنایا ۔”یہ بٹن میں ڈریسنگ روم میں جاکر بھی کھول سکتا ہوں ۔“
وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔”ہاں ،مگر اس پر وقت صرف ہوگا ۔اور جب میرے جیسی پیاری بیوی موجود ہو تو آپ کو یہ سب کرنے کیا ضرورت ہے ۔“
اس کی قمیص کے بٹن کھول کر تناوش نے اس کے ہاتھ سے گلاس لینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔”بس کریں اتنا اچھا مشروب بھی نہیں ہے کہ آپ دو بوتلیں معدے میں انڈیل لیں ۔“
اس مرتبہ کبیر دادا اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکا تھا ۔ایک ہاتھ سے تناوش کا بازو پکڑ کر اسے دھکا دے کر دور پھینکتے ہوئے وہ بولا۔”تم حد سے بڑھ رہی ہو ۔“
دبیزقالین کی وجہ سے تناوش کو چوٹ تو نہیں لگی ،البتہ توہین کے احساس سے اس کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی تھی ۔لیکن جب وہ بولی تو اس کے لہجے میں خفت یا شرمندگی کا کوئی عنصر موجود نہیں تھا ۔”اچھا آپ جلدی جلدی یہ گلاس خالی کریں میں سلپنگ سوٹ لے کر آتی ہوں ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی ۔
کبیردادا اسے حیرانی بھری نظروں سے گھورتا رہ گیا تھا ۔اپنے رویے پر اس کے دل میں ہلکی سی ندامت ابھری تھی مگر وہ ندامت دل ہی دل میں مقید رہی اس کا اثر اس نے چہرے پر نہیں آنے دیا تھا ۔
وہ ڈھونڈ کر اس کا سلپنگ سوٹ لے آئی ۔
”اب میں یہیں لباس تبدیل کرنا شروع کر دوں ۔“کبیر دادا نے بہ ظاہر طنزیہ لہجے میں پوچھا تھا ۔
وہ بے باکی سے بولی ۔”تو یہاں میرے علاوہ اور کون موجود ہے جس سے آپ کو شرمانے کی ضرورت پڑے اور میں تو آپ کی بیوی ہوں نا ،میرا مطلب جب تک یہاں ہوں ۔“
”تمھاری کوئی کل سیدھی نہیں ہے ۔“ اس کے ہاتھ سے سلپنگ سوٹ جھپٹ کر وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔اس کے لڑکھڑاتے قدم اعلان کر رہے تھے کہ وہ دو بوتلیں شراب کی اپنے معدے میں انڈیل چکا ہے ۔
اس کے باہر نکلنے پر تناوش اندر گھس گئی ۔اپنا اتارا ہوا سوٹ اس نے نیچے قالین ہی پر پھینک دیا تھا ۔شاید ایسا اس نے تناوش کے خدمت پر بہ ضد ہونے کی وجہ سے کیا تھا یا اس کی عادت ہی یہی تھی ۔
سوٹ کو ہینگر میں ڈال کر اس نے الماری میں لٹکایااور باہر نکل آئی ۔شراب کی دونوں خالی بوتلیں اٹھا کر اس نے کچرہ دان میں ڈالیں اور گلاس اٹھا کر دھونے کے لیے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی ۔معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا کہ وہ پہلی رات کی دلھن ہے ۔
کبیردادا بیڈ پر لیٹ گیا تھا ۔گلاس کو میز پر رکھ کر وہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔”صبح کس وقت جاگتے ہیں ؟“
”تمھیں فکر کی ضرورت نہیں ملازمہ کو میرے سونے جاگنے کے اوقات معلوم ہیں ۔“
”صبح چھے بجے جگا دوں ؟“اس کی بیزاری کو نظر انداز کرتے ہوئے تناوش نے معصومیت سے پوچھا ۔
وہ زچ ہوتے ہوئے بولا ۔”دس بجے سے ایک منٹ پہلے مجھے ہلایا تو گردن دبا دوں گا ۔“
تناوش کھل کھلا کر ہنسی ۔”یہی بات آپ شرافت سے پہلے ہی بتا دیتے ۔خیر ناشتے میں کیا لیں گے ۔“
اس کی مترنم ہنسی کبیردادا کو بہت بھلی محسوس ہوئی تھی ۔مگر وہ اپنی دلی کیفیات پر بیزاری کا پردہ ڈالتے ہوئے کہنے لگا ۔”جو ناشتا بناتا ہے اسے سب معلوم ہے ۔تمھیں باورچن بننے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“
”کہہ دیا ہے نا ،جب تک میں یہاں ہوں اپنے سارے خدمت گاروں کو بھول جائیں ، آپ کے سبھی کام کرنے کا حق صرف اور صرف مجھے ہے ۔البتہ آپ کو بتانے میں ہرج ہو رہا ہے تو کوئی بات نہیں صبح ملازمہ سے پوچھ لوں گی ۔“یہ کہتے ہوئے وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔
وہ اسے منع کیے بغیر خشک لہجے میں گویا ہوا ۔”جانتی ہو تمھاری ساری کوششیں بے کار اور بے فائدہ ہیں ۔ فضول میں اپنی توانائیاں ضائع کر رہی ہو ۔تمھاری یہاں آمد کا مقصد مجھے بھی معلوم ہے ، تمھیں بھی بھولا نہیں ہو گا ۔اور اگر یاد نہیں ہے تو یادہانی کرادیتا ہوں کہ تم خوب صورت ،پرکشش اور جاذب نظر جسم کی مالک ہو اس لیے کبیردادا کی خواب گاہ میں نظر آرہی ہو ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہ لینا کہ کبیر دادا کو خوب صورت لڑکیوں کی کمی ہے ۔ تم نے خود آفر کی اور ترس کھاتے ہوئے میں نے منظور کر لی ۔اس لیے جو تین دن یہاں گزارنے ہیں آرام سے گزارو۔اس کے بعد تمھیں آزاد کر دوں گا ۔“
تناوش کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کا عمل جاری رکھتے ہوئے وہ آہستہ سے بولی ۔”یہ ساری باتیں میں اچھی طرح جانتی ہوں ۔لیکن آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کی وجہ سے مجھے کس عذاب سے چھٹکارا نصیب ہوا ۔اور پھر میرے غریب خانے پر آپ نے بذات خود آکر جو میرا مان بڑھایا ہے اس احسان کا بدلہ تو میں کبھی نہیں چکا سکتی ۔باقی رہا آپ کی خدمت کرنے کا مسئلہ تو یہ آپ کو متاثر کرنے کے لیے نہیں ہے ہر مشرقی بیوی اپنے شوہر کی خدمت خوش دلی سے کرتی ہے ۔اس لیے میں جب تک یہاں ہوں آپ کے چاہنے ،نہ چاہنے کے باوجود خدمت کرتی رہوں گی ۔اور جب علاحدہ کریں گے تو خاموشی سے گھر چلی جاﺅں گی ۔یہ سوچ کر کہ بس اب آپ کو میری ضرورت نہیں رہی ۔“
”تمھیں سمجھانا ہی فضول ہے ۔“ کبیردادا نے بیڈ سائیڈ پر لگا تیز روشنی کا بٹن بند کر کے زیرو بلب جلا دیا ۔
جاری ہے
