Piya Baawari by Sidra Sheikh readelle50037 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
۔
“بھروسہ ٹوٹ جانے پر تکلیف سب کو ہوتی ہے مگر کوئی رکتا نہیں ہے چلنےسے۔۔
کوئی جھکتا نہیں ہے ڈھلنے سے۔۔ تمہیں دھوکے ملیں ہیں ان سب سے جن پر تم نے جان واری اپنا یقین وارا اپنا آُپ وارا۔۔ تمہاری تکلیف کا اندازہ تم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔۔
مگر میں اتنا جانتی ہوں بیٹا۔۔ ان لوگوں کی جہنم سے نکلو اور اپنے وہ سارے ادھورے کام سرانجام دو بہت لاچار بہت مجبور لوگوں کی تم آخری امید ہو۔۔”
“مسز سائمن۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے چلاتے ہوئے اٹھی۔۔کمرہ اندھیرے سے بھرا ہوا تھا سوائے بیڈ سائیڈ لمپ کے۔۔۔جو دونوں اطراف پر ہی آن تھا۔۔۔
کھلی کھڑی سے آتی ہوئی ٹھنڈی ہوا اسکے جسم کو جیسے چھو کر گزری تو اس نے حیرانگی سے اپنی حالت دیکھی۔۔۔سلک شیٹ پر چھپا ہوا بنا کپڑوں کے اسکا وہ وجود جہاں ابھی بھی ماضی کے نشان واضح تھے۔۔۔وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔
اور ٹانگیں بستر سے نیچے کرکے کمفرٹ کواپنے سینے تک لاکر کور کرگئی تھی خود کو
“وہ جو لمبی مسافت کے مسافر ہوں وہ جو تھک کر رک جائیں تو شکست ان کا مقدر بن جاتی ہے وہ پیا باوری ایک فانی محبت کے پیچھے خود کو برباد نہیں ہونے دے گی۔
وہ پھر سے اٹھے گی لڑے گی انصاف دلائے گی۔۔۔وہ۔۔”
اپنے لکھے الفاظ اپنی کہی باتیں۔۔ وہ کتاب ‘پیا باوری’ کے صفحات اسکے سامنے گردش کرنے لگے تھے۔۔۔
جب جب وہ آنکھیں بند کرتی تھی۔۔۔اور جب آنکھیں کھولتی تو سامنے یہ بنا کپڑے کے اسکا وجود اس دنیا کی سب سے بدصورت چیز لگ رہا تھا اور پیچھے سورہا شخص جس سے ایک لمحے میں اتنی نفرت ہوگئی تھی کہ وہ دونوں ہاتھوں بھینچ چکی تھی غصے میں۔۔۔
“پریہان۔۔۔”جزیل اٹھا تو سر میں درد شروع ہوا۔۔۔اور پریہان کو خاموش بیٹھے دیکھ اس نے پیچھے سے جونہی کندھے پر ہاتھ رکھا تھا پریہان نے جو مظبوطی سے شیٹ کو سینے سے لگایا ہوا تھا اس لوز کردیا تھا اور وہ بیڈ پر گر گئی تھی شیٹ۔۔۔ جزیل کی آنکھیں شاکڈ سے بڑی ہوگئی تھی اسکی بیر بیک دیکھ کر۔۔۔اور پھر اس نے پورے کمرے کو دیکھا تھا جہاں کپڑے بکھرے پڑے تھے۔۔اور پھر خود کودیکھا تھا۔۔۔
“پریہان۔۔”
“تم کیسے سوچ سکتے ہو کہ میں نے ماضی میں تم جیسے شخص سے محبت کی ہوگی۔۔؟؟ میرے جسم پر لگے یہ زخموں کے نشان۔۔۔ تمہاری بدولت ہیں۔۔۔”
اور پھر وہ شیٹ اوڑھے کھڑی ہوگئی تھی بستر سے۔۔۔لڑکھڑا کر پیچھے گرنے کو تھی جب جزیل اسکی طرف بڑھا تھا۔۔
“ڈونٹ۔۔۔ڈونٹ ٹچ میں۔۔۔”
آج اتنے سال بعد وہ ایسے چلائی تھی۔۔۔ وہ پریہان جو اس جیل میں بند رہ کر گم ہوگئی تھی۔۔
جو حنین کے جانے کے بعد خود بھی کھو گئی تھی آج وہ چلائی اور ہاتھ اٹھا دیا تھا جزیل پر
“میرے جسم پر تو تم نے جو زخم دئیے سو دئیے۔۔۔ میرے نام کو پہچان کو دنیا کے سامنے گندا کیا سو کیا۔۔۔ مگر آج میری روح کو بھی داغ دار کردیا اپنی اس حرکت سے۔۔ میرا جسم پانے کے لیے کیا کیا تم نے۔۔۔؟؟”
اس نے ایک اور تھپڑ مارا تھا اور جزیل خاموشی سے سرجھکائے سب سن رہا تھا برداشت کررہا تھا اسے آج وہ لڑکی دیکھنے کو ملی تھی جس کے بارے میں وہ اس کتاب میں پڑھتا تھا تو حیران ہوتا تھا کہ جو اسکے سامنے ہے وہ تو اتنی خاموش ہے۔۔
وہ پیا باوری کو دیکھنا چاہتا تھا۔۔
“گناہ ہوگیا کیا۔۔؟؟ ہماری شادی مکمل کی ہے۔۔”
جزیل نے اپنی کنفیوژن تو بتائی ہی نہیں تھی اسے کہ وہ خود انجان تھا۔۔وہ اب بھی انجان تھا اسکی طرح وہ بھی اس سب کو ایڈجسٹ نہیں کرپا رہا تھا۔۔
مگر جزیل کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا وہ دیکھنا چاہتا تھا اس پرانی لڑکی کو۔۔۔
جس کو مار دیا تھا اسکے بھائی کی بےاعتباری نے۔۔ اور اسکے ظلم نے۔۔
“گناہ ہی ہے میرے لیے۔۔ تم نے میرا جسم۔۔۔”
“میرے ساتھ رات گزارنے پر تکلیف ہورہی ہے یا حنین بھائی کے ری ایکشن کا سوچ کر درد ہو۔۔”
اسکی بات نہیں مکمل ہوپائی تھی جب پریہان نے پھر سے ہاتھ اٹھا دیا تھا اس پر۔۔۔
“یو نو وٹ مسٹر جزیل۔۔۔؟؟ تم مجھ سے شادی کرچکے ہو۔۔۔ میرے وجود کو حاصل کرچکے ہو۔۔ مگر میں من دھن تن سے صرف اسی کی ہوں۔۔۔ حنین میرے ساتھ نہ بھی ہو میں اسکی۔۔۔”
بالوں سے کھینچ کر جزیل نے پریہان کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے مگر وہ بوسہ سب کچھ تھا مگر محبت نہیں تھا۔۔۔
وہ سزا دے رہا تھا اسے۔۔۔ اور جب خود کو اس نے جدا کیا تو پریہان کا ہاتھ اٹھ گیا تھا
پر اس بار جزیل نے مظبوط گرفت میں اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“مسز جزیل۔۔۔ کل رات جو حالت تمہاری تھی وہی میری تھی۔۔ میں قسم کھا کر اعتراف کرتا ہوں۔۔مگر اب میں اپنے وہ حقوق اپنے اور تمہارے ہوش و ہواس میں تم سے لوں گا۔۔۔”
یہ کہتے ہی پریہان کو بیڈ پر دھکا دہ دیا تھا اس نے اور خود بھی اس پر جھکا تھا۔۔۔اسکے دونوں ہاتھ سر کے ساتھ پن کئیے وہ مسلسل اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تم زبردستی ہی کرسکتے ہو۔۔ میں جیتے جی تو کبھی تمہیں کچھ تسلیم نہیں کروں گی۔۔۔”
“تو میں انتظار کروں گا اپنی موت کا۔۔ “پریہان کے ماتھے پر بوسہ دئیے وہ ایک دم سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
“تم شاید نہیں جانتی۔۔۔ مگر میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی تمہیں ماضی میں ٹھکرا دینا۔۔۔ آج تم جتنی تکالیف سے گزر رہی ہو آج حالات کچھ اور ہوتے۔۔۔
ہم دونوں خوش ہوتے۔۔۔ اور بچے بھی ہوتے ہمارے۔۔۔”
جزیل کی آنکھیں بھر گئی تھی مگر اس نے پریہان کی طرف دیکھا تک نہیں تھا بات کرتے ہوئے۔۔۔
۔
“میں مرجاؤں گا مگر تمہیں خود سے جدا نہیں کروں گا۔۔۔ طلاق نہیں دوں گا
تمہیں میرے بھائی کے پاس جانا ہے۔۔ تم جاؤ مگر جب میرا جسم سات فٹھ زمین میں دفن ہوجائے تب جانا۔۔۔ میرا کفن میلا پڑ جائے تب جانا۔۔۔۔
اب نہیں۔۔۔۔ تب جانا۔۔۔”
کپبرڈ سے کپڑے نکالے وہ باتھروم میں چلا گیا تھا۔۔۔
تکئیے میں منہ چھپائے وہ رو رہی تھی کس پر اسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ روتے روتے کب وہ نیند کی پرسکون دنیا میں چلی گئی اسے پتہ نہیں چلا۔۔۔
اور جب اسکی آنکھیں کھلی تو کمرہ بالکل صاف تھا مگر جزیل کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔۔۔
۔
کچھ دیر بعد فریش ہونے کے بعد ملازمہ جیسے ہی ناشتہ لیکر آئی تھی پریہان نے کچھ چیزوں کی لسٹ دے کر اس سے کچھ منگوایا تھا
اور دھیمے قدموں سے وہ واپس اس کمرے میں گئی تھی جو اسکا تھا اس شخص کے ساتھ جو کل کائنات تھا اسکی۔۔
اور وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تھی وہاں تو سب پہلے سے تباہ برباد پڑا تھا بالکل اسکی زندگی کی طرح۔۔۔
فرق اتنا تھا اسکی خوشیوں میں لگی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی۔۔۔
اور اس کمرے میں پڑی راکھ بھی خاک بن چکی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میم صاحب یہ چیزیں آپ نے منگوائی تھی۔۔۔”
“آپ کا نام کیا ہے۔۔؟؟”
پریہان نے وہ گلاسز نکال کر پیکنگ سے پہن لی تھی اور ملازمہ کو عزت کی نظروں سے دیکھا تھا
“نغمہ۔۔۔میڈم آپ۔۔۔”
“یہ رکھیں آپ پیسے۔۔۔ اور پلیز مجھے آپ کے کپڑے مل سکتے ہیں۔۔ ایسے جیسے آپ نے پہنے ہیں سادہ سے سلوار قمیض۔۔۔”
“پر میڈم۔۔۔میرے کپڑے۔۔۔”
“پلیزززز۔۔۔”
کچھ دیر بعد ملازمہ اپنا نیا سوٹ لیکر آئی تھی
“آپ یہ پہن لیجئے یہ نیا ہے۔۔۔”
“آپ کو میں ایسے اور سوٹ لے دوں گی۔۔بس کچھ ضروری کام کے لیے جانا ہے۔۔۔”
ملازمہ کے گلے لگ کر پریہان نے اس غریب لڑکی کو حیران کردیا تھا جو اسی کی عمر کی تھی
“میڈم۔۔۔”
“آپ مجھے باجی کہہ سکتی ہیں اور بہت بہت شکریہ نغمہ آپ کا۔۔۔”
پریہان وہاں سے باتھروم میں چینج کرنے کے لیے چلی گئی تھی اور جب وہ کپڑے پہن کر شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی آنکھوں میں عینک لگائے تو اسے وہی لڑکی نظر آئی تھی جو پہلی بار اس ملک میں قدم رکھتی ہے۔۔۔
وہ اس کمرے میں کپبرڈ کھولے کچھ ڈھونڈنے للگ گئی تھی اور ہاتھوں میں آتے ہی اس نے اپنی اس کتاب کو جلا کر روم کے سینٹر میں پھینک دیا تھا اور وہاں سے چلی گئی تھی اس گھر کے اس کونے پر جہاں صرف حنین کی رسائی تھی۔۔۔
سٹڈی میں جانے کے بعد ٹیبل پر رکھی اس نامکمل کہانی کی کتاب کے ساتھ بھی اس نے وہی کیا تھا اسے بھی جلا کرراکھ کردیا تھا۔۔۔
اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔ وہ جیسے ڈائننگ ٹیبل کے پاس سے گرز رہی تھی ناہید بیگم اور آفاق صاحب اپنی اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
“بہو۔۔۔ پریہان۔۔۔بیٹا۔۔۔”
ناہید بیگم نے پریہان کے کندھے پر جیسے ہی ہاتھ رکھنا چاہتا وہ کچھ قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔
“میں کسی ضروری کام سے باہر جارہی ہوں۔۔۔”
اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی ۔۔۔
“اسے کیا ہوا۔۔۔؟؟ آفاق کل رات کے بعد تو یہ وہی بن گئی ہے۔۔؟؟ راتوں رات اسکا پاگل پن کہاں گیا۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کا شک سہی تھا سر۔۔۔ یہ پانچ لاشیں ان لوگوں سے میچ نہیں کررہی جن کی انفارمیشن ہمارے پاس ہے۔۔۔ ان میں سے صرف تین لوگ ہی میچ ہوئے ہیں باقی دو لاپتہ ہیں۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
حنین نے سب کے چہروں سے کپڑے ہٹائے تھے
“حنین اتنا حیران کیوں ہورہے ہو تم نے ہی نشاندہی کروائی تھی۔۔”
“وہ بات ٹھیک ہے شاہد مگر اگر یہ سچ ہے تو موت سے زیادہ بھیانک حالت ہوگی بچنے والوں کی۔۔۔
شائنہ اور سائرہ۔۔۔ہم۔۔۔ پوری ٹیم لگا دیں ان دونوں لڑکیوں کی مسنگ رپورٹ لکھوائیں اور ہر جگہ ناکہ لگوائیں یہ اگر مری نہیں تو زندہ ہیں۔۔۔”
۔
حنین سب کو آرڈر دئیے مارگ سے باہر آگیا تھا۔۔۔
۔
وہ اندر سے باہر آیا تو دیوار کے ساتھ سر لگا کر کھڑا ہوا تھا کچھ پل وہ گھر میں نہیں جانا چاہتا تھا وہ اس لڑکی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا جس کو ناچاہتے ہوئے بھی ایک اور دھوکا دہ دیا تھا اس نے۔۔
ابھی وہ اس کشمشک میں مبتلا تھا کہ اسکا موبائل بجا اور ایک ویڈیو جو اسے ریسیو ہوئی۔۔۔ اسے دیکھتے ہیں موبائل ہاتھوں سے گرکر ٹوٹ گیا تھا۔۔۔
اسکے دل کی طرح۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پریہان۔۔؟”
“آپ جانتی ہیں۔۔ آپ کی بیٹی کو دنیا کی بدنامی سے بچانے کے لیے میں اس رات اس ہوٹل میں گئی تھی اس شخص سے ملنے جس کے پاس ثبوت تھے آپ کے گھر کی عزت کو بدنام کرنے کے لیے۔۔۔”
“پریہان میری بچی۔۔۔”
مگر پریہان پیچھے ہوئی تھی
“آپ کو ماں کا درجہ دیا تھا۔۔ آپ کو ابو کو۔۔ مگر آپ نے کیا کیا۔۔؟؟ وہ خط لکھ دیا ثبوت کے طور پر میرے خلاف۔۔؟؟ سب کو یہ بتایا کہ آپ پاکستان چلی گئی ہیں۔۔؟؟
مگر آپ تو۔۔۔”
پریہان نے اپنی فائل سے وہ ڈاکومنٹ نکال کر دئیے تھے جو وہ کاپیز جزیل کی الماری سے نکال کر لائی تھی۔۔۔
“میری بچی مجھے معاف کردو۔۔۔ وہ لوگ کنول کو اغوا کرچکے تھے انہوں نے میرے سامنے یہ شرط رکھی تھی تمہارے ابو۔۔۔ وہ سگے باپ نہ تھے مگر آخری سانسوں پر وہ تمہارا نام لیتے رہے۔۔۔
ہم مجبور تھے پریہان معاف کردو۔۔۔”
“
“آپ جانتی ہیں آج میں نے خود سے کیا وعدہ کیا ہے۔۔؟؟ اب میں کسی کو معاف نہیں کروں گی کبھی نہیں۔۔۔”
۔
“بس دعا کیجئے گا میرے سامنے مت آئیے گا میں آپ کو زبان سے بددعا نہیں دوں گی۔۔
اور نہ ہی میں چاہتی ہوں آپ کو دیکھ کر میرے دل سے کوئی آہ نکلے۔۔۔”
۔
پریہان وہ دو کاغذ وہیں چھوڑے وہاں سے سر اٹھائے چلی گئی تھی۔۔
اپنی اگلی منزل کی جانب۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مسز سائمن۔۔۔”
۔
کرسی پر خون میں لت پت وہ لاش دیکھ کر وہ چلاتے ہوئے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔
“پیا۔۔۔پریہان۔۔۔”
اس سے پہلے پریہان بھاگتے ہوئے مسز سائمن کے پاس آتی حنین نے اسے پکڑ لیا تھا
“پریہان نہیں۔۔۔شئ از ڈیڈ۔۔۔ جسم پر اتنے نشان اور زخم ہیں کہ تم تاب نہ لا پاؤ گی دیکھنے کے بعد۔۔۔۔”
“یہ سب۔۔۔ میری وجہ سے ہوا۔۔ میں نے دیر کردی۔۔۔ وہ کتنی دیر سے انتظار میں تھی میرے۔۔۔”وہ روتے ہوئے جیسے ہی نیچے بیٹھی تھی حنین نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا تھا
“پریہان۔۔ہمیں ایک لیڈ ملی ہے۔۔۔ اے جے۔۔۔”
“غزلان چوہدری۔۔۔”
وٹ۔۔۔؟؟”
پریہان نے روتے ہوئے چہرے کو اٹھایا تھا اور حنین کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“وہ کون ہے۔۔؟؟ تم کیسے جانتی ہو۔۔۔”
“مجھے کچھ کرنا ہوگا۔۔۔ ابھی دیر نہیں ہوئی۔۔ ہم ابھی بھی سب برباد کرکے مسز سائمن کی موت۔۔۔”
“پریہان۔۔۔ اس آگ میں اور بہت لوگ جل گئے ہیں۔۔۔ شائنہ۔۔۔ سائرہ۔۔”
“نو۔۔۔”
وہ ہاتھوں میں منہ چھپائے بےساختہ روئی تھی۔۔۔
وہاں کرائم سین سے ایویڈینس کلیکٹ کرتے ہوئے آفیسرز بھی رک گئے تھے
“پلیز سر آپ میڈم کو باہر لے جائیں۔۔”
“نوو۔۔۔ میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔ یہاں اس گھر میں میرا لیپ ٹاپ۔۔۔ اور کچھ فائلز ہیں۔۔۔ مجھے وہ لینے دیں۔۔۔”
اور حنین کی گرفت سے ہاتھ چھڑائے وہ اوپر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
“پریہان۔۔۔”
“حنین۔۔۔اسکے پیچھے جاؤ۔۔۔ یہ مسئلہ تمہارے قتل سے بھی آگے کا مسئلہ لگ رہا ہے میں خود اس گھر کا چپہ چپہ چھان مارتا ہوں بےفکر رہو۔۔۔”
۔
حنین جب اوپر گیا تو پریہان پورے روم کو اوپر نیچے کرچکی تھی مگر کچھ بھی نہیں تھا وہاں۔۔۔”
“شائنہ کو پتہ ہوگا۔۔۔ سائرہ۔۔۔کسی کو۔۔۔”
“پریہان۔۔۔پریہان۔۔۔ پلیز رک جاؤ۔۔۔ہم مجرم کو پکڑ لیں گےہم۔۔۔”
“غزلان چوہدری کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا وہ جیب میں لئیے گھومتے ہیں پاور کو۔۔ ہمیں وہ ثبوت میڈیا کے سامنے لانے ہوں گے۔۔۔ہمیں وہ سب کچھ۔۔”
“وہ کہتے کہتے بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔”
“پریہان۔۔۔۔”
۔
“یا اللہ یہ سب ہوکیا رہا ہے۔۔۔”
حنین پریہان کو اٹھائے وہاں سے باہر لے گیا تھا اور گاڑی میں آہستہ سے بٹھا کر گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر یہ شپ ہماری مرضی سے روانہ ہونے والی تھی۔۔۔”
“مگر اب میں ہی اسے روک رہا ہوں۔۔ تم نے اس شپ کے کنٹریکٹ کی پرمیشن مجھ سے کب لی تھی۔۔؟؟ آفس میں آؤ میرے۔۔مسٹر کریم آپ اسکی کیسلیشن کیجئے میری مرضی کے بغیر کوئی شپ یہاں سے نہیں جائے گی۔۔۔”
“پر سر۔۔۔”
“آج اچانک آگیا ہوں تو مجھے پتہ چلا تم اس کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ چلا رہے جنکے فراڈ کے بعد میں نے بلیک لسٹ کیا تھا۔۔۔”
جزیل طیش میں آگیا تھا۔۔۔اور کوٹ سیدھا کئیے وہ سائٹ کو ایک نظر دیکھے واپس گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا جب اسے کچھ غیر ضروری محسوس ہوا تھا۔۔
“یہاں یہ کس طرح کا کچڑا پڑا ہوا ہے۔۔؟؟ یہ کپڑوں کے کٹے ہوئے پیس۔۔۔ یہ جوتیاں۔۔؟؟”
اور وہ کچھ قدم واپس آیا تھا پیچھے کھڑے تینوں لوگ گھبرا کر اور پیچھے ہوگئے تھے
“کیا ایکسپورٹ کرنے جارہے تھے دیکھاؤ مجھے۔۔۔”
اور مینیجرکے گریبان سے پکڑ کر اس شپ پر کھینچتا ہوا لے گیا تھا۔۔۔
“یہ کیا مصیبت ہے جزیل صاحب کو بھی ابھی آنا تھا یہاں کچھ منٹ بعد آجاتے یہ شپ جانے والی ہی تھی۔۔۔”
پیچھے رہ جانے والے ورکرز نے ایک دوسرے کو گھبراتے ہوئے دیکھا تھا
“اس سے پہلے کہ وہ سچائی جان جائیں گن نکالو اور ختم کردو۔۔۔”
“دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔؟؟ آفاق عباسی کا بیٹا ہے وہ۔۔”
“بیٹے کو نہیں مارا تو باپ کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔۔۔ ہم لوگوں کو ابھی اسے زخمی کرنا ہوگا۔۔۔
اسکے بےہوش ہونے پر شپ کو نکال دیں گے اور سب مینیجر پر ڈال دیں گے۔۔؟؟
اس شپ کے راز کو چھپانے کے لیے یہی کرنا ہوگا۔۔”
وہ دونوں اپنی اپنی گن لئیے جیسے ہی شپ میں داخل ہوئے ہوئے کنٹرول روم کا دروازہ کھولتے ہی انکی نظر نیچے گرے زخمی مینیجر پر پڑی اور وہ جیسے ہی اور آگے بڑھے ان پر کسی نے پیچھے سے حملہ کردیا تھا
“میں چاہتا تو تم دونوں کو مار بھی سکتا تھا۔۔۔مگر ابھی تم دونوں نے سب سچ نہ بتایا تو پھر یہ گولی۔۔۔”
“پلیز سر ہمیں کچھ نہیں پتہ۔۔۔”
“آفیسر۔۔۔لوڈ ہوئے سب کنٹینرز ابھی واپس وہیں ڈراپ کرو۔۔۔اور تم دونوں اسے اٹھاؤ اور باہر دفعہ ہو۔۔”
ان دونوں کو ایک ایک تھپڑ مار کر وہ باہر چلا گیا تھا۔۔
اسکا اسسٹنٹ اور گارڈ جو وہاں آگئے تھے اسکی کال پر۔۔۔اور جب ان کنٹینرز کے تالے توڑنے کا کہا جزیل نے
اور جب تالے کھلے تو جزیل کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔”
پیچھے کھڑے اسسٹنٹ نے کہا تھا۔۔
“ان سب کو باحفاظت باہر نکالو۔۔۔انکا علاج کرواؤ۔۔۔”
وہاں کچھ ایمبولینس آگئی تھی۔۔۔جو پرائیویٹ تھی سب۔۔۔ ایک لڑکی جو شدید زخمی تھی جس کا ہاتھ سٹریچر سے باہر نکلا تھا جو جزیل کی طرف اشارہ کررہی تھی
“جز۔۔۔”
“سر۔۔۔ وہ لڑکی آپ کا نام لے رہی ہے۔۔۔”
جزیل فون ملاتے ہوئے پیچھے مڑا اور اس لڑکی کے پاس پہنچا تھا۔۔۔
“جزیل۔۔۔ پریہان۔۔۔”
“وہ آنکھیں بند کرچکی تھی۔۔۔”
“اسے میری گاڑی میں شفٹ کرو۔۔۔ یہ جانتی ہے مجھے۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
