121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

“انکی کنڈیشن ایسی ہی رہے گی جب تک وہ خود خود کو ٹھیک نہیں کرنا چاہیں گی۔۔”
“آپ کا کہنے کا مطلب ہے وہ خود ٹھیک ہونا نہیں چاہتی۔۔؟؟؟”
جزیل کے اکڑے ہوئے کندھے جیسے جھک گئے ہو ڈاکٹر کی بات سن کر۔۔ وہ صبح سے یہاں آیا ہوا تھا ساتھ ساتھ وہ پریہان پر نظر رکھے ہوئےتھا اور پھر یہاں کے ڈاکٹرز سے اسکی حالت پر بھی تفصیلی بات کررہا تھا۔۔
“میں اس سے پہلے بھی جانتی ہوں انہیں۔۔ بہت عزت کرتی ہوں مس پریہان کی۔۔۔ انکا لکھا ہوا تقریبا سب کچھ ہی پڑھا ہے میں نے۔۔۔”
“بس کچھ دن کی بات ہے میں اسے یہاں سے لے جاؤں گا۔۔۔ تب تک آپ نے اسکا خیال رکھنا ہے بس۔۔۔”
“اوکے۔۔جانے سے پہلے یہ بتا دیں آپ کا رشتہ کیا ہے انکے ساتھ۔۔۔؟؟”
“میں۔۔۔ بیوی ہے وہ میری۔۔۔۔”
“تو مسٹر حنین۔۔۔ وہ بھی تو ملنے آئے ہوئے ہیں۔۔”
جزیل نے غصے سے ڈاکٹر کو دیکھا تھا اور پھر خاموش ہوگیا تھا وہ۔۔۔۔
“وہ بھائی ہے میرے۔۔۔”
“اور سابقہ شوہر بھی۔۔۔ مسٹر جزیل میں آپ کو یہی مشورہ دوں گی آپ مس پریہان کو ابھی اٹیچ ہونے دیں کیونکہ ان دونوں کی بونڈنگ سے زیادہ جلدی ٹھیک ہوجائیں گی وہ۔۔”
“اپنی حد پار مت کریں مجھے مت بتائیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔۔۔”
وہ اٹھ کر چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم بہت پیار کرتی ہو مجھ سے پیا۔۔ پیا تمہارا پیار ہی تھا جو مجھے موت کے منہ سے نکال لایا۔۔”
“پر آپ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی جانے سے پہلے میری زندگی کو موت سے بدتر بنا گئے۔۔۔”
وہ آج چپ نہیں ہورہی تھی۔۔ بات بہ بات جواب دے رہی تھی۔۔۔
“پیا۔۔۔۔”
“کبھی زندگی میں بنا موت کے مرتے دیکھا ہے خود کو۔۔؟؟”
اس نے آہستہ آواز میں پوچھا تھا
“ہاں دیکھا ہے پیا۔۔۔ زندگی میں بنا موت کے مررہا ہوں۔۔ تمہیں اپنے بھائی کے نکاح میں دیکھ کر۔۔۔”
“ابھی آپ نے پل پل مرنا ہے۔۔ دیکھئیے گا۔۔۔ آپ اپنے زندہ ہونے پر پچھتائیں گے۔۔۔ آپ نے تین زندگیوں کا تماشا بنا دیا تھا۔۔۔ اپنی میری ہمارے بچے کی
اب زندگی تماشا لگائے گی تو پل پل مریں گے آپ دیکھئیے گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ان لوگوں کے آنے سے پہلے کلئیر کردو سب ڈسٹروئے کردو سب ہر ایک کونہ اس گھر کا۔۔”
نمرہ سائرہ کے گھر سے باہر جیسے ہی آئی تھی وہاں پر موجود وہ پالتو کتے جو اسے دیکھ کر اسکی طرف لپکے تھے۔۔ اس پر حملہ کررہے تھے بھونک رہے تھے
“ہاہاہا کیا فائدہ اتنی وفاداری کا جب تمہاری مالکن کو موت بھی کتوں والی ملنی تھی۔۔۔”
اسکے ساتھ آئے لوگ ان دونوں کتوں کو پکڑ کر پیچھے لے گئے تھے۔۔۔
“میم آپ کے ہاتھ پر ناخن لگ گئے ہیں آپ ڈاکٹر کے جائیں ہم دیکھ لیں گے۔۔۔”
نمرہ نے اپنے ہاتھ پر لگے اس خون کو دیکھا تھا اور پھر ان کتوں کو۔۔۔
“چھوڑ دو۔۔ان دونوں کو۔۔۔”
اور وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔ ان دونوں کتوں کو جیسے ہی چھوڑا گیا وہ غصے سے نمرہ پر حملہ کرنے کے لیے بڑھے تھے۔۔۔
جب دو فائر چلنے کی آواز آئی اور وہ بےزبان جانور خون میں نیچے گرے ہوئے دیکھے سب نے۔۔۔
“شور مت کرو۔۔۔ تمہاری مالکن سائرہ کو بھی شور کی عادت تھی دیکھ لو کیا ہوا اسکا۔۔۔
ٹھیک یہی حال ہوا۔۔۔”
اس نے دو فائر اور چلائی تھی اور وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“جلدی جلدی کام ختم کرو۔۔۔ آگ لگا دو گھر کو۔۔۔ اگر یہ واپس آگئی تو ہمیں بھی نہیں بخشے گی۔۔۔”
کچھ دیر میں ہی وہ سب ڈر گئے تھے نمرہ سے۔۔۔
وہ سب اندر چلے گئے تھے اور باہر کتنی گاڑیاں آکر رکی تھی۔۔۔
۔
“سب جگہ کور کرلو۔۔۔یہاں ایک بھی چیز ادھر سے ادھر نہ ہو سکے۔۔۔”
جزیل نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا تھا۔۔۔وہ لوگ اندر داخل ہوتے پہلے ہی ان سب پر فائر کھول دئیے تھے اندر گئے وہ لوگ اندھا دھند فائرنگ کررہے تھے۔۔۔
ایک گولی جزیل کے کندھے پر بھی لگ گئی تھی۔۔۔
۔
“ا ن میں سے ایک بھی بچ کے نہ جانے پائے۔۔۔”
بازو پر رومال باندھے جزیل اپنی گن نکالے پیچھے کی طرف سے اندر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
کچھ لوگ مارے جا چکے تھے تو کچھ زخمی ہوگئے تھے۔۔۔
“سر یہ سب لوگ نام نہیں بتا رہے کس کے کہنے پر یہ لوگ یہ گھر کو آگ لگانے والے تھے
“یہ لوگ نہیں بتائیں گے ایسے انہیں وہیں لے جاؤ،،، کسی کو خبر نہیں ہونی چاہیے۔۔۔”
“سر آپ کو گولی لگی ہے آپ ہسپتال چلئے۔۔۔”
“ابھی تم لوگ جاؤ۔۔۔۔پولیس کو انفارم کردینا۔۔ باقی میں ہینڈل کرلوں گا۔۔۔”
جزیل باہر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ان دو جانوروں کو دیکھ کر وہاں بکھرے خون کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ جو لوگ ثبوت مٹانے آئے تھے وہ معمولی لوگ نہیں تھے وہ ٹرینڈ لوگ ہیں خطر ناک لوگ ہیں۔۔
وہ چاہتا تو خود بھی یہ جگہ چھان سکتا تھا مگر وہ اپنے بھائی کو اس سب میں شامل کرکے اس معاملے کو جلدی حل کرنا چاہتا تھا۔۔۔
ابھی وہ اپنی سوچ میں گم تھا جب اسکے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھ کر اسکی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی
“جزیل۔۔۔”
“پریہان کی زندگی کو خطرہ ہے۔۔۔ وہ لوگ یہاں ثبوت مٹانے آئے تھے جس میں وہ ناکام رہے آپ لوگ یہاں سے بہت کچھ لے سکتے ہیں۔۔۔”
وہ کہتے ہی اٹھ گیا تھا وہاں سے جانے کے لیے۔۔۔
“تم کہاں جارہے ہو۔۔۔؟؟ چوٹ لگی ہے تمہیں زخم آئے ہیں۔۔”
حنین نے نا چاہتے ہوئے چھوٹے بھائی کو روک لیا تھا
“اپنی بیوی کی حفاظت کرنے جارہا ہوں۔۔۔ میری بیوی کے دشمنوں نے مجھے مہرہ بنا کر میری بیوی کو بہت نقصان پہنچا دیا۔۔۔ اب وقت آگیا ہے میں مرد بنو اپنی بیوی کا محافظ بنو۔۔۔ “
حنین کی آنکھوں میں دیکھ کر اس نے جب بیوی لفظ بولا تھا حنین کی مٹھی بند ہوگئی تھی وہ باقی آفیسرز کے سامنے جزیل پر ہاتھ اٹھا کر تماشہ نہیں بننا چاہتا تھا۔۔۔
۔
جزیل وہاں سے چلا گیا تھا زخمی بازو کے ساتھ حنین۔۔۔ اسکی کیفیت وہی جانتا تھا اسکے قدم اسے مجبور کررہے تھے جزیل کو روک کر خود پریہان کے پاس جانے کے لیے مگر وہ مجبور تھا۔۔۔ وہ سب کچھ اپنے ہاتھوں سے پہلے ہی ختم کرچکا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ان دونوں کو مار دو۔۔۔۔اپنا کام ہوگیا ۔۔۔”
“باس۔۔۔ اگر آپ اجازت دو تو مارنے سے پہلے ہم کچھ کام پورے کرلیں۔۔۔؟؟”
ان دونوں زخمی لڑکیوں کو دیکھ کر وہاں ان غنڈوں نے پوچھا تھا
“نہیں۔۔ اپنے بھی اصول ہیں۔۔۔اس کا منہ سیدھا کرو میں خود ہی کام ختم کرجاؤں۔۔۔”
اس نے اپنی گن نکال کر سائرہ کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔ مگر اسکا چہرہ دیکھ کر اسے کچھ یاد آگیا تھا۔۔۔
میرا موبائل لے کر آ جلدی۔۔۔”
اپنی آدمی کو کہہ کر اس نے وہاں سے بھیج دیا تھا اور پانی کی پوری بوتل سائرہ کے چہرے پر ڈال دی تھی
“یہی وہ لڑکی ہے جسے غزالان صاحب ڈھونڈ رہے۔۔۔؟؟”
اور موبائل پر دیکھنے کے بعد اسکے ہاتھ ڈر کے مارے کانپنے لگے تھے۔۔۔
“مر گئے۔۔۔شٹ۔۔۔ ان دونوں کے ہاتھ کھولو۔۔۔ انکو ابھی لیکر چلنا ہے۔۔۔”
وہ لوگ ان دونوں بےہوش زخموں سے چور لڑکیوں کو گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے نہ معلوم مقام پر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہر ایک کو پکڑ لو کسی کو بھی نہیں چھوڑنا مجھے میری بیٹی میرے سامنے چاہیے ہر حال میں۔۔۔”
بڑے سے ہال میں وہ لوگ جیسے ہی ان لڑکیوں کے ساتھ داخل ہوئے تو انکی نظر وہاں موجود گن پکڑے گارڈز پر پڑی تھی
“صاحب۔۔۔۔”
ان لوگوں پر سب نے ہی گن پوائنٹ کردی تھی۔۔۔
“ہم یہاں کوئی نقصان پہنچانے نہیں آئے۔۔۔سر۔۔۔ آپ کو جن کی تلاش ہے وہ یہی تو نہیں۔۔۔؟؟”
سائرہ کو کھینچتے ہوئے سامنے پھینک دیا تھا۔۔۔
اور جب غزلان صاحب نے سائری کے چہرے کو غور سے دیکھا تو انہوں نے اسکی زخمی حالت دیکھ کر لانے والے اس شخص کی دونوں ٹانگوں پر گولی مار کر گھٹنوں کے بل گرنے پر مجبور کردیا تھا
“میری بیٹی کی دوست ہے یہ جسے تو نے ہاتھ لگانے کی جرات کی بےغیرت۔۔۔۔”
۔
“سر اگر یہ تفشالہ میڈم کی دوست ہے تو پھر۔۔۔ ہم غلط نام سے تلاش کررہے تھے۔۔؟؟
کیونکہ ہم نے ہر جگہ تلاش کیا مگر ہم نے ایک جگہ چھوڑ دی۔۔۔”
سائرہ کی ہسٹری فائل جیسے ہی غزلان صاحب کے سامنے رکھی گئی تھی وہ حیران رہ گئے تھے۔۔۔
“سر۔۔۔ ایم سوری۔۔۔ مگر۔۔۔ آپ کی بیٹی کسی اور نام سے۔۔۔۔ جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں۔۔۔ اور اب۔۔۔ مینٹل اسائیلم میں ہیں۔۔۔”
“ایک لفظ نہ بولنا میری بیٹی تفشالہ غزلان۔۔۔ہے۔۔۔”
“سر یہی ہیں آپ کی بیٹی۔۔۔۔”
ان فوٹوز کو دیکھنے کے بعد انکا غذب سب پر اترا تھا وہاں موجود ہر شخص پر۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پریہان۔۔۔ دیکھیں کیا لایا ہوں آپ کے لیے۔۔۔”
جزیل نے بریانی کی پلیٹ کے ساتھ کھیر کی پلیٹ بھی اٹھا کر سامنے رکھ دی تھی
“آپ کو پسند ہے نہ۔۔؟؟”
وہ مسکرا رہا تھا جب بات کررہا تھا۔۔۔ لہجے میں اتنی عزت اور اپنائیت تھی جیسے پہلی بار پریہان سے مل رہا ہو بات کررہا ہو۔۔۔
اور یہی قسم کھائی تھی اس نے یہاں آنے سے پہلے وہ ایسے ہی شروعات کرے گا ایک نئی زندگی کی اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔ وہ ڈاکٹرز کی باتوں کو بھی اگنور نہیں کرنا چاہتا تھا
“پئشنٹ کے ساتھ بہت نرمی والا برتاؤ کرنا ہوگا۔۔ آنے والا ہر دن نیا دن ہے انکا ذہن ضدی بھی ہے اور بچوں جیسا بھی۔۔۔ اس لیے انکے سامنے آپ کا لہجہ دھیما اور نرم ہونا چاہیے۔۔۔”
“منہ کھولو جلدی سے۔۔۔ کھانا ٹھنڈا ہوجائے گا۔۔۔”
بالوں کو چہرے سے ہٹائے جزیل نے جیسے ہی سپون ہونٹوں کی جانب کیا تھا کوئی ری ایکشن نہیں تھا۔۔۔ وہ سر جھکائے کسی گہری سوچ میں تھا۔۔۔
پر جب دوسرے ہاتھ کو رخصار پر رکھے جزیل نے اسکا چہرہ اوپر اٹھایا تھا اس نے آہستہ سے منہ کھولا تھا۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔”
اس پل وہ بھی جذباتی ہوگیا تھا۔۔ سامنے بیٹھی اس لڑکی کی معصومیت دیکھ کر وہ جیسے کھانا کھا رہی تھی جیسے صدیوں سے کچھ نہ کھایا ہو۔۔۔
“بہت زیادتی ہوگئی پریہان۔۔۔”
اسکی بات پراسکی آنکھیں تو بھیگی تھی مگر پریہان کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔۔”
وہ اپنی جیب سے رومال نکالے اسکے آنسو صاف کررہا تھا مگر چہرہ پھر سے بھر گیا تھا۔۔
وہ آنکھیں جو جزیل نے اس عینک کے پیچھے کبھی غور سے نہیں دیکھی تھی اب ان آنکھوں کے خالی پن نے اسے اور گھائل کردیا تھا۔۔۔
وہ ہونٹ ہل رہے تھے مگر کچھ کہہ نہیں پارہے تھے۔۔۔ وہ آنکھیں جو اسکی جانب اٹھی تو اسکی سانسیں روک دی تھی۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔۔”
وہ یہ کہتے ہی جھکا تھا پریہان کی طرف۔۔۔ تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس نے وہ چہرہ جیسے ہی اپنی اوڑھ کھینچا تھا وہ اور روک نہیں پایا تھا خود کو۔۔۔ ان کانپتے ہوئے ہونٹوں کو جیسے ہی اپنے لبوں کی گرفت میں لیا تھا پریہان کا جسم ساکن ہوگیا تھا۔۔۔ وہ اتنی شاکڈ ہوگئی تھی۔۔۔
جزیل نے ایک دم سے ان دونوں کے درمیان وہ فاصلہ بھی رہنے نہیں دیا تھا۔۔۔
اور جب پریہان نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو دور کھڑے حنین سے اسکی نظر جاٹکرائی تھی حنین کی آنکھوں کے درد نے پریہان کی آنکھوں میں ایک نئی چمک بھر دی تھی۔۔۔
اسکے ہاتھ اٹھے اور جزیل کی گردن پر بانہوں کا ہار ڈالتے ہی وہ آنکھیں بند کرچکی تھی۔۔۔
حنین کے بعد جزیل وہ دوسرا مرد تھا جو اسکے اتنا قریب آیا تھا۔۔۔
قربت کے وہ لمحے جیسے حاصل ثابت ہوئے ہوں جزیل کے لیے اس نے اس کس میں اپنی محبت اپنی ناکامیاں وہ جیسے معافی مانگ رہا ہو۔۔ اسکا چہرہ بھیگ گیا تھا اسکے آنسوؤں سے۔۔۔
“آئی لو یو۔۔۔”
گہرا سانس بھرا خود کو پریہان سے الگ کئیے اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“آئی لو یو پریہان۔۔۔”
یہ کہتے ہی پھر سے اس نے ان لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے تھے۔۔۔۔
“آئی لو یو ٹو۔۔۔۔حنین۔۔۔۔”
بند آنکھوں سے پریہان کی سرگوشی نے جزیل کو نئی امید دی تھی مگر آخر میں اس نام نے وہ دی ہوئی زندگی نچھوڑ لی تھی جیسے۔۔۔
“نوووو۔۔۔۔۔نو۔۔۔۔۔۔”
اس بار جو اس نے فاصلہ ختم کیا وہ غصے میں ختم کیا تھا۔۔۔ وہ اپنا نام لکھ رہا ہو جیسے وہ اسکے چہرے کو چوم رہا تھا کبھی آنکھوں پر بوسہ لے رہا تھا تو کبھی رخصاروں پر۔۔۔
“تم صرف میری ہو۔۔۔۔فقط میری۔۔۔۔”
۔
وہ جتنی بار بوسہ لے رہا تھا ان لبوں کا وہ اتنا ہی بےچین ہورہا تھا ان آنکھوں میں اپنے بھائی کے لیے محبت دیکھ کر۔۔۔
۔
اور وہ باوری بنا کچھ کئیے ان دونوں بھائیوں کو وہاں زخم دے گئی تھی جہاں ان دونوں کو تکلیف شدت کی ہورہی تھی۔۔۔ وہ دونوں ہی تکلیف میں تھے
اور اسے راحت مل رہی تھی
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔