Piya Baawari by Sidra Sheikh readelle50037 Episode 08
No Download Link
Rate this Novel
Episode 08
“تم بدکردار ہو۔۔میں نے ایک بدکردار سے شادی کی”
“میں۔۔۔میں بدکردار نہیں ہوں۔۔”
“تم میری پیا نہیں ہوسکتی تم ‘باوری’ ہو اس شخص کی جس کے ساتھ تمہارا یارانہ تھا
میں غلط تھا۔۔۔
تم تو کہانیوں میں بھی کسی لڑکی کو بدکردار نہ لکھتی تھی اور خود کیسے وہ بن گئی جسے لکھتے ہوئے بھی تمہیں گھن آتی تھی۔۔۔”
وہ سر جھکائے کھڑی تھی جیل کے گپ اندھیرے میں چین کے ساتھ بندھی ہوئی وہ مجرم۔۔۔
“بدکردار۔۔؟؟ باوری۔۔؟؟ آپ جانتے ہیں آپ میرے زندگی میں وہ پہلے شخص تھے جو میری ہر چیز میں پہلے تھا اور آخر بھی۔۔۔
میرے نکاح میں میرے وجود پر میری زندگی میں۔۔۔آپ ہر جگہ پہلے تھے آپ جانتے ہیں نہ حنین۔۔؟؟”
“مگر میں محبت میں پہلا شخص نہیں تھا پیا۔۔ تم نے دھوکا دیا مجھے۔۔۔”
وہ آگے بڑھا تھا دونوں کے چہرے اتنے پاس تھے۔۔۔ اور ایک دم سے حنین نے پریہان کو بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“کیوں پریہان۔۔؟؟ کیوں کیا میرے ساتھ ایسا۔۔؟ کیا کمی تھی۔۔؟ کیا بستر پر اچھا نہیں تھا میں۔۔؟؟ کیا میں کم تھا کسی بھی چیز میں۔۔؟؟ کیا میں۔۔۔”
“حنین۔۔۔میری نظروں سے آپ اسی دن گر گئے تھے جب مجھے طلاق دی تھی
آج یہ الفاظ بول کر اپنی نظروں سے نہ گر جانا۔۔۔”
“پیا۔۔۔”
اس چہرے پر پچھتاوے کے بادل جیسے ہی چھائے تھے پریہان کے چہرے کو اور پاس کیا تھا اس نے
“میں آج بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔میں تمہیں معاف کرکے اپنا لوں گا پیا۔۔”
حنین کی گرفت ابھی بھی مظبوط تھی پریہان کی گردن پر اسکے ہونٹ جیسے ہی پریہاں کے لبوں پر محسوس ہوئے تھے اس نے منہ پیچھے کرلیاتھا
اور حنین کے ہونٹ اسکے رخصار کو چھو گئے تھے
“حنین آپ تو میرا مسیحا تھے۔۔ میں دردر بھٹک رہی تھی زندگی کے بنجر میدانوں میں
آپ میری اس تلاش کا پھل تھے آپ وہ کنواں تھے جس سے کسی پیاسے کی پیاس بجھنی ہو لمبی مسافت کے بعد۔۔۔
آپ میرا حاصل تھے۔۔۔ مگر آپ۔۔”
“پیا۔۔۔”
“آپ بستر پر بھی اچھے تھے آپ میرے شوہر تھے۔۔۔ آپ ہر جگہ اچھے تھے جہاں کوئی بھی مرد اچھا ہوتا۔۔۔
مگر جہاں شریکِ حیات اچھے ہوتے وہاں آپ بہت بُرے ثابت ہوئے حنین۔۔۔
بیوی کے کردار پر تہمت لگا کر طلاق دینا یہ کوئی محبت نہیں۔۔۔
بستر پر تو لوگ اچھے ہو ہی جاتے ہیں۔۔۔ مگر یقین کا بھرم چند ایک ہی رکھ سکتے۔۔۔”
وہ کچھ قدم پیچھے ہوگئی تھی
“پیا۔۔۔”
“باوری کہیں۔۔۔ بدکردار باوری۔۔۔ میں کہاں پیا باوری رہی ہوں۔۔ یہ دیکھیں میری حالت۔۔۔
حنین۔۔۔۔ سب کچھ تو چھین لیا اس باوری سے۔۔۔آپ نے۔۔ دنیا نے۔۔”
“اب اتنے قریب کیوں آرہے ہیں حنین۔۔؟؟ میں تو نامحرم بن گئی۔۔ وہ نامحرم جس کو محرم بنانے کےلیے آپ نے اتنے جتن کئیے تھے۔۔”
“پیا۔۔۔”
“ٹھنڈا پانی ڈالو۔۔۔ اس پر۔۔اسے کچھ گھنٹے بھی آرام کرنے کیوں دیا گیا۔۔۔؟؟؟”
جیلر صاحبہ کے چلانے پر ایک نہیں دو پانی کی بالٹی اس پر انڈیل دی گئی اتنی ٹھنڈ میں اسکے زخموں پر جمے خون کو اور منجمند کردیا تھا اس ٹھنڈے پانی نے۔۔۔
“حنین۔۔۔”
ایک جھٹکے سے وہ جیسے ہی اٹھی تھی اس نے بےساختہ پکارا تھا اس نام کو۔۔
“اسے مار کر بھی سکون نہیں آیا جو پھر سے اسکا نام لے رہی۔۔۔؟
چل اٹھ۔۔ آج یہ سب جگہ کی صفائی کرے گی۔۔۔”
“پر میڈم پچھلے ہفتے سے یہی کررہی تھی۔۔۔”
اسی سیل میں ایک اور سزا یافتہ مجرمہ نے کہا تھا
“تجھے بہت ہمدردی ہورہی ہے۔۔؟؟ اسکو اس کے سیل سے نکالو اور وہ ہماری خاص مجرم کو یہاں بند کردو اسکے ساتھ یہ ایک پل کے سکون میں بھی نہیں رہنی چاہیے۔۔۔”
پریہان کو دونوں بازوں سے پکڑ کر اسے سیل سے گھسیٹ کر باہر لے جایا گیا تھا
اور اسکی چین سے پکڑ کر کھینچ کھینچ کر اسے ہر کمرے میں لے جاتے اس سے اچھی طرٖ وہ زمین دیواروں بستر صاف کروانے کے بعد دوسرے کمرے میں لے جاتے
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
دو سال بعد۔۔۔۔”
۔
“ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے بھائی صاحب اس مہینے منگنی کردیتے ہیں اور پھر شادی کی ڈیٹ فکس کردیں گے۔۔۔آپ کیا کہتی ہیں ناہید جی۔۔؟؟”
جزیل کے چہرے کی مسکان اور ڈبل ہوگئی تھی جب نمرہ نے اسے آنکھ ماری تھی اپنی موم کی بات سن کر
“مجھے تو اسی پل کا انتظار تھا میری دلی خواہش تھی نمرہ بیٹی کی شادی میرے جزیل سے ہو۔۔۔آفاق آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں۔۔؟؟”
انہوں نے اپنے ہسبنڈ اور بیٹے کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
“بیگم میں تو کہتا ہوں آج ہی کردیتے ہیں دونوں کی شادی کیا خیال ہے جزیل بیٹا۔۔۔؟؟”
“ڈیڈ۔۔۔ کیوں اتنی جلدی مجھے قید کروانا چاہتے ہیں۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔”
“قید تو میں ہونے والی ہوں مسٹر جزیل۔۔؟”
“آہاں میں بھی تو عمر قید کاٹنے والا ہوں تمہارے ساتھ۔۔”
۔
وہ دونوں اپنی باتوں میں باقی سب کو بھول گئے تھے جیسے۔۔
پچھلے دو سال میں انکی دوریاں پوری طرح ختم ہوگئی تھیں
کتنی ختم ہوئی تھی یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“مسٹر جزیل۔۔۔ پرسو ہماری منگنی ہے اور آپ یہاں آفس میں مصروف ہیں۔۔؟؟”
نمرہ جیسے ہی کیبن میں داخل ہوئی تھی اس نے دروازہ بند کردیا تھا پیچھے۔۔۔
“آج میڈم یونیفار م میں نہیں ہیں۔۔؟؟ پہلے ہی چھٹیاں لے لی ہیں۔۔؟؟”
۔
دو قدم ہی چلی تھی نمرہ جب جزیل اپنی کرسی سے اٹھ کر اسکی جانب آیا تھا۔۔۔
“ہاں جی پہلی پہلی منگنی ہے مسٹر پرفیکٹ سب کچھ پرفیکٹ ہونا چاہیے نہ۔۔؟؟”
نمرہ نے جزیل کی گردن میں اپنی بانہوں کا ہار بنا دیا تھا خود کو جزیل کے اتنے قریب کردیا تھا
“آہمم۔۔۔ کچھ زیادہ ہی نہیں پرفیکٹ چاہتی۔۔؟؟”
اسکے چہرے پر شرارت بھی جھلک رہی تھی اور محبت بھی
“آج بہت شدت سے مس کررہی تھی ہماری محبت کے دنوں کو۔۔
ہمارا پہلی بار وہ گلے ملنا۔۔ وہ ہماری پہلی کس۔۔۔”
“نمر۔۔۔۔”
نمرہ نے جزیل کا چہرہ اپنے ہاتھوں می بھر کر ان بولتے لبوں کو خاموش کردیا تھا اپنے ہونٹوں سے۔۔۔
وہ لمحات جو ان دونوں کا حاصل تھے کالج سے شروع ہوتا وہ پیار یونیورسٹی میں جاری وہ انکی لازوال محبت آج کتنے سالوں کے بعد وہی دن جو انکے سامنے کھڑے تھے
“نمرہ۔۔۔”
کچھ وقفے کے بعد گہرا سانس بھرتے جزیل کے ہاتھ نمرہ کی ویسٹ پر اور مظبوط ہوئے تھے
“سیریسلی۔۔۔؟؟ “
جزیل نے اسکے ہونٹ پر انگلی رکھتے ہوئے پوچھا تھا
“سیریسلی۔۔۔ ناؤ شٹ اپ اینڈ کس مئ۔۔۔”
اور جزیل کو دوبارہ کہنے کا موقع نہیں ملا تھا اسے۔۔۔
مگر دروازے پر ہوئی ناک نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا تھا۔۔۔
۔
“سر۔۔”
“گیسٹ لوسٹ مسٹر نعمان میں ابھی فارغ نہیں ہوں۔۔۔”
“ہاہاہاہا اٹس اوکے۔۔۔ میں جارہی ہوں۔۔۔”
جزیل کے گال پر بوسہ دے کر وہ چلی گئی تھی اور جزیل نے غصے سے دیکھا تھا اپنے مینیجر کو۔۔۔
“ایم سوری سر۔۔۔مگر یہ دیکھنا بہت ضروری ہے۔۔۔”
انہوں نے کیبن کے ایک کارنر پر لگی ہوئی بڑی سکرین کو آن کیا تھا۔۔۔
کچھ دی تک تو جزیل دیکھتا ہی رہا تھا اس سکرین کو۔۔۔اور پھر اپنے مینیجر کو دیکھا تھا
۔
“سر یہ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔۔ پاکستان میں بھی اور یہاں بھی بہت سی کنٹریز میں۔۔”
۔
“تم کیا کہنا چاہتے ہو یو ایڈیٹ۔۔؟؟ میڈیا کو پیسے پراپرٹی سب دیا پھر بھی یہ سب ٹرینڈ کررہا ہے۔۔؟ وہ لڑکی جو مجرم ہے اسکے لیے لوگ جسٹس چاہتے ہیں۔۔؟”
ریموٹ اٹھا کر اس مینیجر کی طرف مارا تھا
“سر انکی بک ‘پیا باوری’ کا نیا ایڈیشن مارکیٹ میں جیسے ہی آیا کچھ ہفتے پہلے اسکے بعد سے یہ سب شروع ہوگیا۔۔۔
لکھاری کی گرفتاری کا بھی میڈیا سے چھپایا گیا تھا پولیس کو ڈر تھا۔۔۔”
جزیل اپنی کرسی پر بیٹھ کر کچھ کالز ملانے لگا تھا جب مینیجر کی اگلی بات نے اسے شاکڈ کردیا تھا
“اندر کی خبریں مس پریہان کے کردار پر جو کیچڑ ہماری کمپنی کے رائیولز نے اچھالا تھا سر وہ بیک فائر ہوگیا۔۔انہیں لگا تھا انکی بدنامی کرکے وہ لوگ آپ کو نقصان پہنچا دیں گے
مگر لوگ انکی سپورٹ کے لیے باہر نکل آئے ہیں۔۔۔”
۔
مینیجر جیسے ہی گیا تھا جزیل نے سکرین پر دیکھا تھا جہاں وہ پیرا گراف چل رہا تھا جس نے اسکی روح تک کو ساکن کردیا تھا اسکی دھڑکنوں کی طرح۔۔
“یہ۔۔۔ یہ لائینز میں نے کہیں سنی۔۔۔ ہوئی ہیں پڑھی ہوئی ہیں۔۔یہ۔۔۔”
وہ جلدی سے اٹھا تھا اس نے ریموٹ پکڑ کر آواز اونچی کی تھی مگر تب تک اور نیوز چلنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
وہ واپس اپنے ڈیسک کی طرف بھاگا تھا لیپ ٹاپ پر اس نے پریہان کا نام لکھا تھا۔۔۔
اور اسے “پیاباوری’ کے ہیش ٹیگ سے بہت لنکس شو ہونا شروع ہوگئے تھے۔۔
اور جو ٹاپک ٹاپ ٹرینڈ پر چل رہا تھا اس نے
ایک ہی پوسٹ شو ہورہی تھی اس نے سب کچھ اگنور کردیا تھا اس بک کے پیراگرافس کو آن کیا تھا اس نے جسے کچھ دیر پہلے ٹی وی پر سنا تھا
۔
“میں نے تمہیں بھول جانے کا ارادہ کیا ہے
آج ہی خود سے یہ وعدہ کیا ہے۔۔..
.
میں بھلانا چاہتی ہوں وہ ہجر کی کالی راتیں
جہاں تمہارا انتظار بہت زیادہ کیا ہے…
.
میں راتیں جاگ جاگ تھک گئی ہوں۔۔
جُدائی سے بھاگ بھاگ تھک گئی ہوں۔۔
.
میں نے پہلے جیسی ہونے کا ارادہ کیا ہے۔۔۔
تمہیں بھول جانے کا وعدہ کیا ہے…
.
میں محبت میں بہت مایوس ہوگئی ہوں۔۔۔
کہ تمہارے لیے خود سے ہی کھو گئی ہوں…
.
میں نے وفاؤں کو آگ لگانے کا ارادہ کیا۔۔۔
تمہیں بھول جانے کا وعدہ کیا ہے….”
.
یہ باوری آج ارادوں پہ تکمیل پا ہی جائے گی۔۔
تمہیں بھلا کر تسکین پا ہی جائے گی….
.
میں نے ہر رنج و غم مٹانے کا وعدہ کیا ہے۔۔۔
تمہیں بھول جانے کا ارادہ کیا ہے”
(میری لکھی ہوئی شاعری :سدرہ شیخ)
۔
جزیل نے اس سکرین پر ہاتھ لگائے تھے ان لکھے ہوئے الفاظ کو وہ پہلے سن چکا تھا۔۔
اسے یاد نہیں آرہا تھا کہاں اس نے یہ سنے تھے۔۔۔؟؟
“یہ میں پڑھ چکا ہوں پہلے۔۔۔پر کہاں۔۔؟؟”
جزیل اپنی سوچوں کے سمندر میں کھو گیا تھا۔۔۔مگر اسے وہ چہرہ یاد نہیں آرہا تھا ماضی تھا جو دھندلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ لوگ تماشا دیکھنا چاہتے ہیں مگر مجھے وہ مردہ چاہیے دو سال دئیے تم لوگوں کو شادی سے پہلے مار دو اسے۔۔۔ اس سے بھی ڈبل پیسہ دوں گی۔۔۔”
وہ نوٹوں سے بھرا ہوا بیگ انہوں نے دوسر ی طرف پھینک دیا تھا
“اتنے زیادہ پیسے۔۔؟ آپ کا کام آج ہی ہوجائے گا ناہید میڈم۔۔۔ ہمارے لوگ اس جیل میں پہلے سے موجود ہیں۔۔ آپ نے کہہ دیا تو آج ہی اس کا کام تمام ہوجائے گا۔۔۔”
۔
“اسے مارنے سے پہلے اس لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ ضرور پوچھ لینا۔۔ ہمارا کام آسان ہوجائے گا۔۔”
وہ وہاں سے چلی گئی تھی رات کی تاریکی میں۔۔جیسے آئی تھی
یہاں سے وہاں اس جیل میں ایک کال گئی تھی اور فون پر بات ہوتے ہی دوسری جیل کا لاک آپ کھلا تھا اور وہاں سے وہ خطرناک مجرم جو کچھ عورتیں تھی انکے ہاتھ کھول کر دوسرے لاک اپ میں لےجایا گیا تھا۔۔
جہاں پریہان ٹھنڈی زمین پر بنا بستر کے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔
جیلر صاحبہ نے ان تین مجرموں کو اندر ڈال دیا تھا اور لاک اپ کا دروازہ بند کرگئی تھی
“کتنے سکون سے سو رہی ہے۔۔۔ اگر اس سے پاس ورڈ نہ ہوچھنا ہوتا تو اسکی نیند میں ہی اسکا قصہ تمام کردیتے۔۔”
۔
بالوں سے پکڑ کر اسے کھینچا تھا جو ایسے گہری نیند سورہی تھی جیسے صدیوں سے نہ سوئی ہو۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر آپ۔۔؟؟”
“نئے انویسٹی گیشن آفیسر کو وزٹ کروانا تھا۔۔۔”
اور پیچھے دروازہ جیسے ہی کھلا تھا جیلر صاحبہ جگہ سے کھڑی ہوگئی تھی سلیوٹ کرتے ہوئے۔۔۔
“سر انویسٹی گیشن۔۔؟ کس کیس کے۔۔؟؟ “
“مس پریہان چوہدری۔۔۔”
“وہ۔۔؟؟ سر وہ تو لوسٹ کیس ہے۔۔ اور اس وقت۔۔؟؟”
اس آفیسر نے جیسے ہی سر سے کیپ اتار کر اس جیلر کی آنکھوں میں دیکھا تھا انہوں نے سر جھکا لیا تھا۔۔
“یہاں سپیرئیر میں میں ۔۔ اس لیے ہر سوال کا جواب دینا میں ضرور نہیں سمجھتا۔۔۔
مس پریہان کس رو۔۔۔ کس لاک اپ میں ہیں۔۔۔؟؟”
“سر آپ صبح آجائیے گا۔۔ یہ رات کا وقت ہے میرے قیدی ابھی آرام کررہے ہوں گے آپ چاہیے سپیرئیر ہوں مگر یہ میرا ڈیپارٹمنٹ ہے۔۔”
اس جیلر نے جس مغرور لہجے میں جواب دیا تھا وہ آفیسر ڈیسک پر ہاتھ رکھے اسکی جانب بڑھا تھا
“میں اگر تمہاری جگہ ہوتا تو ایسے بدتمیزی نہ کرتا۔۔ میرے پیچھے میرے آفیسرز سے پوچھ لو۔۔ عین ممکن ہے کہ صبح تک تم اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھو تم۔۔۔؟
وہ جیلر کا پسینہ تو چھوٹ رہا تھا مگر وہاں ایک چیخ نے اس آفیسر کے چہرے پر گھبراہٹ لا دی تھی۔۔
“یہ کس کی چیخ تھی۔۔؟؟ “
پیچھے کھڑے ایک اور آفیسر نے پوچھا تھا۔۔۔
“دیکھیں سر آپ لوگ ابھی جائیں آپ۔۔ کا نام۔۔؟؟”
اور یونیفارم پر لکھے نام کو دیکھ کر جیلر نے پھر سے ریکوویسٹ کی تھی وہ جانتی تھی پریہان کی حالت بہت بری ہوچکی ہوگی۔۔۔وہ اس لیے ان تینوں آفیسرز کو روکنا چاہتی تھی۔۔
“آفیسر سحاب آپ صبح۔۔۔”
ایک اور چیخ پر آفیسر سحاب اپنی کیپ پہنے اندر کی جانب بڑھے تھے۔۔۔ ہر قیدی اپنے اپنے لاک اپ میں جاگ گیا تھا
اور یہ خواتین کی جیل تھی۔۔۔ ایک لاپ اپ میں ایک سے زیادہ مجرم تھے وہ آفیسر سحاب تیز قدموں سے چل رہے تھے اور سب سے آخر میں سب سے اندھیرے سے بھرے لاک اپ کا دروازہ کھلا دیکھا جہاں سے آوازیں آرہی تھی۔۔۔
وہ جیسے ہی اندر گئے انکی نظروں کے سامنے جو سین تھا شاید انہوں نے آج سے پہلے نہ دیکھا ہو۔۔۔
پریہان کے چہرے سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا وہ تینوں قیدی اس لڑکی کو پکڑے اس دیوار مارنے کو تھے جہاں کیل ہی کیل نظر آرہے تھ۔۔۔ پیچھے سے جیسے ہی پریہان کو دھکا دیا تھا۔۔۔ اس آفیسر نے اپنا ہاتھ آگے کردیا تھا لاک اپ میں داخل ہوتے ہی۔۔۔ہاتھ سے سر ٹکراٹے ہی وہ نیچے گرنے کو تھی جب اپنے زخمی ہاتھ کو اس زخمی لڑکی کے کندھے پر رکھ کر اسے تھام لیا تھا۔۔۔اور ایک نظر اس نے پیچھے ان تین عورتوں کو دیکھا تھا جو ڈر کے مارے باہر بھاگ گئی تھی۔۔۔
“پی۔۔۔پریہان۔۔؟؟ آر یو اوکے۔۔؟؟”
مگر وہ بےہوش پڑی تھی اس شخص کی بانہوں میں۔۔۔
۔
وہ بہت آرام سے اس لڑکی کو زمین پر لٹا چکا تھا۔۔۔
“پل۔۔۔مجھے ایک۔۔۔ گدا۔۔بستر تکیہ۔۔ “
اور اس آفیسر سے بولا نہیں جارہا تھا۔۔ اس زخمی لڑکی کے چہرے سے بالوں کو ہٹا کر اس نے پہلے اسکی عینک اتاری تھی جس پر خون لگا ہوا تھا اس کا۔۔۔
“او۔۔۔میرے خدایا۔۔۔ “
اسکی آنکھوں سے آنسو بارش کے پانی جیسے بہہ رہے تھے پریہان کے چہرے پر گر رہے تھے وہ جیسے ہی جھکا تھا پیچھے کھڑے دو آفیسر وہاں سے چلے گئے تھے وہ چیزیں لینے جو انکے سینئر آفیسر نے کہی تھی۔۔۔
۔
“کیا حال کردیا تمہارا۔۔۔”
اس کے ماتھے پر اپنا سر رکھے وہ یہی کہہ رہا تھا اور وہ بےہوش لڑکی جو کانپنے لگی تھی بےہوشی میں۔۔۔
“چھونا مت۔۔۔۔ پلیز ڈونٹ ٹچ مئ۔۔۔پاس مت آنا۔۔۔”
۔
ہاتھ مارنا شروع ہوگئی تھی وہ۔۔۔
وہ خود تو پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔اور اس نے وہ بستر پکڑ لئیے تھے جیسے ہی وہ لوگ لائے تھے۔۔۔زمین بستر بچھا کر اس نے پریہان کو اٹھا کر اس پر لٹا دیا تھا سر کے نیچے تکیہ رکھ کر وہ جلدی میں وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
“تم یہاں رہو گے۔۔۔ یہیں پہرہ دو گے کوئی اندر نہ جائے۔۔۔”
۔
چہرہ چھپائے نیچے جھکائے آخری بار پریہان کو دیکھ کر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
گاڑی ویرانے میں کھڑی تھی اسکی خاموشی تھی ہر طرف۔۔۔ سر گاڑی پر رکھے وہ گہری سانسیں بھر رہا تھا شاید انتظار کررہا تھا وہ کسی کا۔۔۔۔
جیسے ہی گاڑی کے رکنے کی آواز آئی اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔۔ اسکے آفیسر
ایک شخص کو دونوں بازؤں سے گھسیٹتے ہوئے اس کے پاس لا رہے تھے۔۔۔
“آفیسر سحاب۔۔۔ آپ کا شک سہی نکلا۔۔۔ یہ اس جیل کا کئیر ٹیکر تھا۔۔ جو باہر ڈیوٹی دیتا تھا۔۔۔
دو رات پہلے۔۔ اس نے۔۔۔ اس لڑکی کے ساتھ۔۔
میرا مطلب ہے مس پریہان کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر وہاں کے کچھ قیدیوں نے اس پر حملہ کردیا۔۔۔”
سحاب نے اس کا گریبان پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کردیا تھا۔۔۔وہ اس ہٹے کٹے آدمی کو دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔
“جب تو نے اس نہتی لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی اس نے تیرا مقابلہ کیسے کیا ہوگا بتا مجھے۔۔؟؟
تو کہاں تک زبردستی کرسکا اسکے ساتھ۔۔۔”
گردن کے گرد اپنی گرفت مظبوط کئیے سحاب نے اسے اپنی طرف کھنچا تھا۔۔۔
“میں۔۔۔کچھ نہیں کرپایا تھا۔۔ وہ لوگوں نے حملہ کردیا تھا۔۔۔”
“کہاں تک زبردستی کی تھی۔۔؟؟”
“اسکی قمیض کندھے سے پھٹ گئی تھی وہ۔۔۔چیخ رہی تھی کہ مجھ پر حملہ کردیا ان لوگوں نے۔۔۔”
اسکے سیدھے ہاتھ کواپنے دونوں ہاتھوں میں لئیے سحاب نے اس طرح مڑور دیا تھا کہ ہڈیاں ٹوٹنے کی آواز اور اس شخص کی چیخیں دور دور تک سنائی دی گئیں تھی۔۔۔
وہ پاگل ہوگیا تھا۔۔۔ کبھی اسکے پیٹ پر اپنے جوتے مار رہا تھا تو کبھی اسکے ہاتھوں پر۔۔۔۔
۔
کچھ دیر بعد اسے اٹھا کر اپنی گاڑی پر مار دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
“آہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
سحاب گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔۔۔ سر کے بالوں کو انگلیوں میں دبوچے وہ چیخ اٹھا تھا۔۔۔۔
“نو۔۔۔۔نوووو۔۔۔۔”
ان چیخوں کے بعد اس کے رونے کی آوازیں وہاں گونج اٹھی تھی۔۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
