121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

“تم نے مارا میرے بھائی کو۔۔۔”
“ہم۔۔۔میں نے مارا۔۔۔”
“آئی ول کل یو۔۔۔ تم میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو ۔۔۔اور تم سے محبت میری۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکا تھا اور اس لڑکی کی بند آنکھیں جو ہلکی ہلکی کھلی تھی
“جسٹ کل مئ۔۔۔کل مئ۔۔۔”
بات کرتے کرتے بھی ہونٹوں سے بلڈ نکل رہا تھا
“سر۔۔۔اپنے ہاتھ اسکے خون سے گندے نہ کریں۔۔۔ اس مجرم کا دماغ اس ٹارچر سیل میں رہ کر اتنے فیصد بند ہوگیا ہے کہ اب شاید ہی موت کی ضرورت رہ جائے۔۔ یہی موت ہوگی یہاں زندہ رہے گی ان پہاڑوں میں تنہا۔۔۔”
۔
“I Will Break You Bit by Bit…”
۔
اور کچھ سیکنڈ بعد بلٹ چلی تھی فائر کی آواز وہاں سے نکل کر کھلے آسمان میں گونجی تھی۔۔۔۔
۔
(وہ عجیب سما تھا جب سزا دینے والے نے اپنی محبت ااور سزا پانے والے نے اپنی موت کا اظہار کیا تھا)
۔
اس نے غصے سے گن کی ساری بلٹس اس کے وجود کے آس پاس چلائی تھی اور وہ سر جھکائے وہاں کھڑی تھی نہ وہ ڈر کر ہلی تھی نہ ہی خوف سے اس نے آنکھیں جھپکی تھی۔۔۔
۔
“کل کورٹ کے فرسٹ ٹرائل پر اسے سزا مل جانی چاہیے اور پھر میں بتاؤں گا اسکی بچی ہوئی سانسوں کے ساتھ کرنا کیا ہے۔۔۔۔
۔
جزیل نے اسے پیچھے دھکا دہ دیا تھا جس کا سر پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگا تھا۔۔۔
۔
وہ پیچھے گر چکی تھی سر دیوار پر جیسے ہی لگا تھا اس باوری کی آنکھیں بھی بند ہوگئیں تھیں جیسے وہ انتظار میں تھی اسکے جسم میں جان نہیں رہی تھی ماتھے پر پڑے شکن بھی ختم ہونا شروع ہوگئے تھے اب اسکے وجود کو آرام ملا تھا اتنے دنوں کی مار طعنوں مسلسل جاگتا رہنے کے بعد فائننلی اسکا وجود شٹ ڈاؤن ہوگیا تھا چاہے کچھ دیر کے لیے ہی کیوں نہیں۔۔۔
۔
اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ دوسری طرف منہ کرکے کھڑا ہوگیا تھا اسے غصہ اتنا شدید تھا وہ چاہتا تھا کچھ کرگزرے مگر لڑکی ذات پر وہ اور کیا غصہ کرتا۔۔؟؟ ابھی وہ اپنے آپ پر قابو کرہی رہا تھا کہ کہ اسکے نظر اپنے بلیک شوز کے نیچے فرش پر پڑی جہاں پیچھے سے خون آرہا تھا۔۔۔
“سر۔۔۔ مجھے لگتا ہے ایک گولی انکی ٹانگ پر لگ گئی ہے۔۔”
وہ اسی سپیڈ سے پیچھے ہوا تھا
“ہمیں انہیں ہاسپٹل لے جانا ہوگا کورٹ میں اس طرح سے لے جانے پر ہماری نوکری بھی جاسکتی ہے۔۔۔”
اس نے جلدی میں کچھ آفیسرز کو اندر بلایا تھا جزیل ابھی بھی وہیں کھڑا تھا وہ اس قدر حیران ہوا تھا اس لڑکی کے وجود سے بہتا ہوا خون اسے کچھ قدم پیچھے ہونے پر مجبور کرگیا تھا
“تم یہاں آؤ اور اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالو اسے۔۔۔”
جزیل اور شاکڈ ہوا تھا جب دو میل آفیسر پریہان کو اٹھانے کے لیے نیچے جھکے تھے
“رکو۔۔۔ میں۔۔۔ اٹھاتا ہوں۔۔۔”
جزیل نے انکو روک دیا تھا
“پر سر آپ کا ڈریس گندا ہو جائے گا۔۔”
جزیل نے یہ سنتے ہی غصے سے اسے دیکھا تھا اور جلدی سے اٹھا لیا تھا پریہان کو۔۔۔
۔
وہ وجود اٹھانے پر اتنا ہلکا سا لگ رہا تھا کہ جزیل اسکے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پایا تھا۔۔۔
۔
۔
“پیا۔۔۔۔”
“حنین۔۔۔”
اسکی آنکھیں جیسے ہی کھلی تھی وہ ایک جھٹکے سے اٹھ گئی تھی۔۔۔
“حنین۔۔۔”
“پیا دیکھو کوئی تمہارا انتظار کررہا تھا۔۔۔”
وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اس سرسبز میدان میں لے گیا تھا جو ہر قسم کے پھولوں سے بھرا ہوا تھا
“پیا ہمارا بچہ۔۔”
اور دور کھیلتے ہوئے ہنستے ہوئے بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔
“پیا وہ دیکھو ہمارا۔۔۔”
پریہان کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔
“کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ وہ سب حنین۔۔؟؟ کتنی محبت کی میں نے آپ سے۔۔ میں کہاں بے وفائی کی تھی بتائیں۔۔”
“پیا۔۔۔”
پریہان نے ایک اور تھپڑ مارا تھا۔۔۔
“پیا۔۔۔”
“مت کہیں پیا حنین۔۔۔ آپ تو اس باوری کے لیے افسردہ ہوتے تھے۔۔۔ اور میرا حال کیا کردیا آپ نے۔۔؟؟ طلاق دے گئے۔۔؟؟ یہ بھی نہ سوچا کہ مجھ پر کیا بیتے گی۔۔؟؟
آپ کو زراشرم نہ آئی حنین۔۔؟؟ آپ نے کیسے۔۔۔ کیسے مجھے جیتے جی مار دیا۔۔؟؟
میرا قصور کیا تھا۔۔؟ آپ سے بےحد محبت کی یہ میرا قصور تھا۔۔۔؟”
وہ جی بھر کر روئی تھی اس شخص کے قدموں پر سر رکھے۔۔۔
“ایم سوری پیا۔۔۔”
“سوری۔۔۔؟ نہیں آپ مجھے واپس کریں وہ سب حنین مجھے طلاق نہیں چاہیے تھی۔۔
مجھے بیوہ بھی نہیں ہونا تھا۔۔۔ میں بدکردار بھی نہیں ہوں۔۔ مجھے سب واپس دیں۔۔”
“ایم سوری۔۔۔”
وہ ایک ہی لفظ سن کر غصہ کررہی تھی۔۔۔غصہ اتنا شدید تھا کہ
پاس کھڑے ڈاکٹرز حیران ہوگئے تھے
وہ بےہوشی کی حالت میں جس طرح اپنے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی
“ایم سوری پیا۔۔۔”
“آئی ہیٹ یو حنین۔۔۔”
“پئشنٹ کو ہوش آرہا ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سائرہ وہ سب امانت ہے میری بچی کی۔۔۔”
“مسز سائمن آپ فکر مت کریں وہ سب پریہان کو بےقصور ثابت کرنے کے لیے ہی مانگ رہی ہوں۔۔”
پریہان کی دوست اور اسسٹنٹ کی باتوں پر یقین کرکے مسز سائمن اندر چلی گئی تھیں کچھ دیر بعد وہ ایک بیگ کے ساتھ باہر آگئی تھیں۔۔۔
وہ جیسے ہی باہر آئیں تھیں سائرہ کی ہر ایک حرکت کو نوٹ کررہی تھی
کبھی وہ دروازے کے جانب دیکھ رہی تھی تو کبھی اپنے موبائل کو۔۔
“بیٹا تم کچھ گھبرائی ہوئی لگ رہی ہو۔۔ اس بیگ میں جو بھی ہے اسے اسکی سہی جگہ پر پہنچانا ورنہ۔۔۔ غلط ہاتھوں میں پہنچنے پر جو نقصان ہوگا اسکا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔۔۔”
سائرہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے بہت پیار سے سمجھایا تھا
“یہ ثبوت نہیں ہوں گے مگر ان میں وہ ہے جو اس پتھر دل شخص کے سامنے پریہان کو بےقصور ثابت کرے گا۔۔۔”
“بیٹا تم کہو تو میں ساتھ حنیف کو بھیج دوں۔۔؟؟ اس وقت تم اکیلی جاؤ گی۔۔؟؟”
“جی میں مینیج کرلوں گی آپ فکر مت کریں۔۔”
سائرہ وہاں سے جیسے ہی باہر نکلی تھی وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھی تھی اور جیسے ہی اس نے اپنی گاڑی سٹارٹ کی تھی اسکی آنکھیں بھر آئیں تھیں
“پریہان میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گی۔۔۔تم یہ سب ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔
چندا میں کچھ بھی کروں گی۔۔تمہیں بچا لوں گی۔۔”
اپنے آنسو صاف کرکے اس نے ایک فون ملایا تھا
“شائنہ۔۔۔میری بات دھیان سے سنو۔۔۔ مجھے ایک نمبر کی لوکیشن ابھی پتہ کرکے بتاؤ۔۔ “
“یار تم کہاں ہو۔؟ تمہیں پتہ ہے نہ کل ہئیرنگ ہے کورٹ کی وہ لوگ پریہان کو جیل سے ہاسپٹل لے گئے تھے اور تمہارا فون بھی نہیں مل رہا تھا۔۔۔”
سائرہ نے گاڑی کی سپیڈ اور تیز کردی تھی
“میں پھر ہاسپٹل ہی جاتی ہوں۔۔۔ تم مجھے ہاسپٹل کا نام بتاؤ۔۔۔”
“دوسری طرف خاموشی ہوئی تھی۔۔ اور سائرہ کے سامنے ایک گاڑی اچانک سے آگئی تھی۔۔۔
اور دوسری طرف سے ایک اور گاڑی نے اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی تھی
“سائرہ۔۔۔”
“اچھا لیسن شائنہ اگر مجھے کچھ بھی ہو تو تم اس بیگ کو۔۔۔”
اور جیسے ہی اسکی گاڑی کوٹکر ماری گئی تھی روڈ سے نیچے اتر گئی تھی اسکی گاڑی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بڑی دیر کردی مہربان آتے آتے۔۔۔”
گیراج کا دروازہ کھلا اور سر پر کیپ پہنے اوور کوٹ میں اس شخص نے جیسے خود کو چھپایا ہوا تھا
وہ جوں جوں اندر آرہا تھا
“میں یہاں تمہاری فالتو کی بکواس سننے نہیں آیا ۔۔”
“بکواس تو تمہیں سننی پڑے گی آفاق عباسی۔۔۔باس تم سے جس قدر غصہ ہیں تم نے بغاوت کرکے انکے غصے کو اور ہوا دہ دی ہے۔۔۔پہلے تمہاری بہو۔۔ پھر تمہارا بیٹا۔۔
اور اب یہ تماشا۔۔؟؟کیوں ہے یہ۔۔۔”
اس بےہوش لڑکی کے جسم کو آفاق صاحب کی طرف پھینک دیا تھا دو گارڈز نے اپنے مالک کے ایک اشارے پر
“مجھے کیا پتہ کون ہے یہ۔۔؟؟”
“آفاق ایک جھوٹ اور تمہارا پورا خاندان باس ختم کردے گا۔۔۔”
آفاق صاحب نے اپنی گن نکال کر اس شخص کی ٹانگ پر مار دی تھی۔۔
جو ابھی اتنی ٹریاں لگا رہا تھا وہ زخمی ٹانگ کو پکڑے نیچے گر پڑا تھا۔۔
اور گارڈ ز کو ہاتھ کے اشارے سے پیچھے کردیا تھا
“میں نہیں جانتا اسے۔۔ کون ہے یہ۔۔؟ اسکا پورا منہ تو خون سے بھرا ہوا ہے کیسے پتہ لگے گا مجھے۔۔؟؟”
اس کا گریبان پکڑ کر انہوں نےاوپر اٹھا لیا تھا۔۔۔وہ شخص جو اندھیروں میں یہاں آیا تھا جس کے چہرے پر کچھ دیر پہلے انتہا کی نفاست تھی اب اس چہرے پر وحشت نظر آرہی تھی وہاں کھڑے اس ہر شخص کو
“آفاق۔۔۔”
“صاحب بولو۔۔۔ تمہاری گستاخیاں اور برداشت نہیں کروں گا میں۔۔ میرے باس اور اپنے باپ سے پوچھ لینا کہ گستاخی کرنے والے کو کیا سزا دیتا ہوں میں۔۔۔”
دور دھکا دے کر انہوں نے اس لڑکی کو پھر سے دیکھنے کی کوشش کی تھی
“یہ ہے کون۔۔؟؟”
“سر۔۔۔ یہ پریہان میڈم کی اسسٹنٹ بھی ہے مگر جو اس لڑکی نے مجھے آفس میں دھمکی دی تھی مجھے شک ہوگیا تھا۔۔۔ یہ۔۔یہ فائل جزیل سر کو دینے جارہی تھی۔۔۔”
وہ ادھیڑ عمر شخص ڈرتے ہوئے سامنے آیا تھا
“اور تو کون ہے۔۔؟؟”
اسی بےرخے لہجے میں پوچھا تھا آفاق صاحب نے۔۔
“میں۔۔ اس پبلشنگ کمپنی کا مالک ادریس احمد۔۔سر نائس ٹو میٹ یو۔۔”
چہرے سے پسینہ صاف کرتے انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا
“رپورۓٹ کیا ہے اب۔۔؟؟ “
“صاحب کے لیے کرسی لاؤ۔۔۔”
اسکی ٹانگ سے خون نکل رہا تھا مگر پھر بھی وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا آفاق سے بہت دور۔۔
“اسکے پاس کچھ کاغذ اور یہ لیپ ٹاپ تھا جو یہ کورٹ ہئیرنگ سے پہلے جزیل سر کے پاس لے جانے والی تھی۔۔۔ہمارے لوگوں نے اس پر اٹیک کرکے وہ سب چھین لیا۔۔
مگر۔۔۔”
ادریس کہتے کہتے چپ ہوگیا تھا
“مگر وہ کاغذ پر عجیب سی کہانیاں لکھی ہوئی ہیں۔۔اور لیپ ٹاپ۔۔؟؟”
“اگر اس نے ایک جملے میں بات مکمل نہ کی تو اسکی آنکھوں کے درمیان میں گولی ماروں گا۔۔۔”
“ادریس یہ کہنا چاہتا ہے۔۔ ‘صاحب’ وہ لیپ ٹاپ ایک سپیشل پاسورڈ کے ساتھ شٹ ڈاؤن کیا گیا تھا۔۔۔ سب کچھ لیا مگر اوپن نہیں ہورہا۔۔”
“باسٹرڈ۔۔ تو کوئی ایکسپرٹ بلواؤ۔۔۔ دوسری جگہ لیکر جاؤ۔۔ ایک ہی جگہ لیکر بیٹھے ہوئے ہو۔۔
اس کو تو سزائے موت ہوجائے گی اور ہم سب لٹک جائیں گے وہ ڈاکومنٹری کہاں کس جگہ ہے وہ اسے پتہ ہے۔۔۔مجھے ہر حال میں چاہیے۔۔۔”
۔
وہ چلائے تھے اور اس بار انہوں نے ادریس کو غصے سے شوٹ کیا تھا جو انکی بات کو کاٹ رہا تھا بار بار۔۔۔
کچھ دیر غصہ نکالنے کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔
“سر اسے ہوش آنا شروع ہوگیا ہے۔۔۔”
ادریس نے اپنے بازو پر اپنے کوٹ کو باندھ لیا تھا اسے گولی لگنے سے تکلیف تو بہت ہورہی تھی مگر وہ شکر بھی منا رہا تھا کہ آفاق نے اسے گولی بازو پر ماری سر پر نہیں۔۔۔
“اسکی ضرورت نہیں ہے ڈمپ کردو کہیں لے جا کر۔۔۔جاؤ اب یہاں سے باس کے آنے کا وقت ہوگیا ہے تم سب بھی جاؤ یہاں سے۔۔”وہ سب چلے گئے تھے
اور اس شخص نے اپنی خون بھری ٹانگ کو دیکھ کر ایک ہی بات کہی تھی
“آفاق عباسی یہ آخری بار تھا۔۔ تجھے کیسے برباد کریں گے ہم تو یا د رکھے گا،،، تو شیر بن رہا ہے تو یاد رکھے گا ہم کریں گے جو تیرے ساتھ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہم ہار گئے ہیں۔۔۔ پریہان کا کیس لڑنے والا کوئی نہیں تھا۔۔اسکے والد کی دیتھ کے بعد اسکی مدر بھی چلی گئیں تھیں۔۔اسے عمر قید کی سزا ہوگئی ہے۔۔۔
ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔۔ کوئی ثبوت نہیں تھا۔۔۔ اور اسکا جو وکیل تھا وہ تو معافی مانگ کر پیچھے ہوگیا ۔۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔۔۔”
“بس بیٹا۔۔۔ہم پھر سے کوشش کریں گے۔۔۔ ہم پھر سے اٹھے گے۔۔ہم پھر سے لڑیں گے۔۔۔”
مسز سائمن نے شائنہ کو اپنے گلے سے لگا کر دلاسہ دیا تھا۔۔۔
پولیس وین میں اسے واپس لے جارہے تھے اور وہ سر جھکائے چلی جارہی تھی انکے پیچھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اس باوری کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔۔ ویل ٹیکنلی اسے سزا موت ہونی چاہیے تھی عمر قید نہیں۔۔۔”
“مسٹر جزیل آپ کو تو خوش ہوجانا چاہیے اب آپ کو موقع مل گیا ہے اسے اور زیادہ ٹارچر کرنے کا۔۔۔”
“وکیل صاحب مجھے سکون تب ملے گا جب اس کے بےنام عاشق کو بھی اسکے ساتھ سزا دوں گا اپنے ہاتھوں سے۔۔”
“اس کی ٹانگ میں لگی وہ ایک گولی آپ کی گن سے نکلی تھی نہ مسٹر جزیل۔۔؟؟ وہ کچھ سیکنڈ بھی کھڑی نہ ہو پائی تھی۔۔۔ میرے خیال سے آپ کو اب اسے اسکے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔۔”
اپنے ہی ملازم کی بات سن کر جزیل نے اسے گریبان سے پکڑ کر اپنی اوڑھ کھینچا تھا
“اس نے میرے بھائی کو مارا ہے ڈیم اِٹ۔۔۔ اپنے یار کے ساتھ مل کر اس نے وہ کیا جو کوئی ظالم کرتا۔۔۔ دفنانے کے لیے میرے بھائی کا وجود بھی نہیں تھا ہمارے پاس۔۔۔ اسکے جسم کے ٹکڑے خاک بن گئے تھے کھلے آسمان کے نیچے۔۔۔اور تم کہتے ہو اسکے حال پر چھوڑ دیں۔۔؟؟”
اسے پیچھے دھکا دینے کے بعد۔۔۔ وہ اپنے کپڑے جھاڑ کر وہاں سے سے باہر آگیا تھا۔۔۔
“اس لڑکی کو اسی جیل میں منتقل کروا دو۔۔ جہاں نہ سورج کی دھوپ دیکھنا نصیب ہو اور نہ چاند کی چاندنی۔۔۔
اسکی جیل میں اس سے بھی زیادہ خطرناک مجرم رکھنا جو اسے سکون کا سانس نہ لینے دیں۔۔۔”
“سر اسکا دماغ پہلے ہی ڈیمیجڈ ہوچکا ہے۔۔کورٹ نے اسے سزا سنا دی عزت شہرت سب تو چلا گیا۔۔۔ نفسیاتی مریضہ مینٹلی اِل ہونے کا ٹائٹل بھی مل گیا
ٹانگ پر لگی بلٹ اور جسم پر آگے ہی اتنے نشانات تھے۔۔ جو لڑکی مرنے کے دہانے پر ہے جو خود مرنا چاہتی ہے اسے آپ اور کتنا اور کیسے ماریں گے۔۔؟؟ موت تو ایک بار ہی دے سکتے ہیں نہ۔۔۔؟”
اسکے قدم رک گئے تھے یہ بات سن کر وہ آنکھیں بند کرتا تو وہ آنکھیں نظر آتی جن آنکھوں میں اس نے ایک ہی خواہش دیکھی تھی وہ اپنی موت مانگ رہی تھی۔۔
اور وہ ہونٹ۔۔۔؟ جہاں اس نے ایک ہی فریاد سنی تھی۔۔ “جسٹ کل مئ۔۔۔”
وہ اب تک بھلا نہیں پایا تھا وہ سب۔۔۔ مگر بھائی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آتے ہی اس نے غصے سے مٹھی بند کرلی تھی ہاتھ کی۔۔
“اسے سزائے موت ملتی تو وہ موت ہوتی اسکی ۔۔جیل میں مرنے سے پہلے وہ ہر روز ایک موت مرے گی۔۔ وہ پچھتائے گی اپنی بےوفائی پر۔۔۔ وہ اپنے باوری ہونے پر پچھتائے گی کسی غیر کی محبت میں میرے بھائی کو قتل کرنے والی لڑکی کو موت بھی ویسی ہی ملنی چاہیے۔۔۔جو میں نے کہا ویسا کرو۔۔۔”
اس نے وہ حکم دہ دیا تھا جو جانے کتنے سال اس باوری کو بھگتنا تھا۔۔۔۔
پر انہیں نہیں پتہ تھا کہ کوئی مسیحا آئے گا۔۔۔ جزیل عباسی کو نہیں پتہ تھا وہ آنے والے دو سال کا پچھتاوا ساری زندگی بھگتے گا۔۔۔۔
وہ جو آج کسی کی زندگی کو نرخ بنانے جا رہا تھا عنقریب جب وہ حقیقت سے شناس ہوگا تو اسکے پیچھے بھاگے گا جسکے پیچھے وہ آج لوگوں کو بھیج رہا تھا تاکہ اسکی زندگی عذاب بنا سکے۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔