62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“محبت کا بھی ایک معیار ہوتا ہے تمہاری محبت کا معیار میں سہی حق ادا ہوگیا۔
مگر تم نے سوچ بھی کیسے لیا میں تمہیں اپناؤں گا۔؟ تمہاری محبت کو اپناؤں گا۔۔؟
کبھی خود کو آئینے میں دیکھا ہے۔۔؟؟ میں یونیورسٹی کا ہرٹتھروب ہوں اور تم۔۔؟”
اس نے نفرت بھری نگاہ سے اس باوری کو دیکھا تھا جس کا چہرہ بھی ٹھیک سے نظر نہیں آرہا تھا جس جگہ وہ دونوں کھڑے ہوئے تھے۔۔
“یہ ہاتھ پر جو نام لکھا ہے نہ تم نے میرا۔۔ اسے مٹا دو ورنہ یہاں اس یونی سے اس کنٹری سے تمہارا نام و نشان مٹا دوں گا میں۔۔۔”
اس نے جیسے ہی اس لڑکی کو حقارت سے پیچھے دھکا دیا تھا وہ کچھ قدم پیچھے گر گئی تھی رئیلنگ پر ہاتھ رکھتے ہی اس نے خود کو سنبھالا تھا اس کی گلاسز نیچے گر گئی تھی بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر وہ گلاسز جیسے ہی گرے تھے نیچے کھڑے سٹوڈنٹس نے اوپر دیکھا تھا
۔
“تو نے بڑا ستایا ہے مجھے۔۔۔
جا تو بھی ستایا جائے گا۔۔۔”
۔
اور نے پھر اس کا بازو پکڑ کو اپنی اوڑھ کھینچا تھا۔۔۔
“میں نہیں چاہتا کوئی بھی تمہیں میرے ساتھ دیکھے اور کچھ اور سمجھ لے میں نہیں چاہتا میری گرل فرینڈ تمہیں میرے ساتھ دیکھے۔۔”
۔
“ہائے بڑا رولایا ہے مجھے۔۔۔
جا تو بھی رولایا جائے گا۔۔۔”
۔
“دور رہو مجھ سے۔۔ آئندہ کے چھپ چھپ کر بھی مت دیکھنا مجھے۔۔
میں صرف اس سے محبت کرتا ہوں۔۔۔ اگر تمہاری وجہ سے ہمارے درمیان لڑائی ہوئی تو ہاتھ پکڑ کر نکال دوں گا یہاں سے۔۔”
چہرے پر بالوں نے اسکے چہرے کے چھپا لیا تھا مگر اسکی سسکیاں جانت کو دور تک سنائی دی تھی وہ جیسے جیسے وہاں سے جا رہا تھا پیچھے اس باوری کو چھوڑ کر
“میں تمہیں بھول جاؤں گی۔۔ مگر اس دل کو کیسے سمجھاؤں گی یہ میری نہیں سن رہا۔”
۔
“پڑھتے پڑھتے اسکے ہاتھ رک گئے تھے وہ کچھ پل کو رکا اور اٹھ گیا تھا اس کتاب کو بیڈ پر چھوڑ کر وہ وہاں سے اٹھ گیا تھا۔۔
اپنے بند کمرے میں اسے گھبراہٹ ہونا شروع ہوئی تو شرٹ کے بٹن کھولے وہ کھڑکی کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔ آنکھیں بند کرنے پر وہ یہاں اس کمرے میں نہیں یونیورسٹی کے اس فلور پر خود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کتاب کے اگلے لفظ اس نے اپنے منہ سے ادا کئیے تھے اس وقت
“نہیں بھول سکتی تو مر جاؤ۔۔ مگر میرا پیچھا کرنا چھوڑ دو۔۔ یہ چھپ چھپ کر دیکھنا بند کردو۔۔چلی جاؤ میری زندگی سے دور یہاں سے دور۔۔”
۔
“وہ۔۔۔ وہ میں ہوں۔۔ جس کی باوری ہو تم پریہان۔۔۔”
شیشے کی ونڈو پر سر رکھے پینل کو اس نے جس قدر زور سے پکڑا تھا اسکی انگلیاں زخمی ہوئی تھی۔۔
دماغ تھا کہ سوچنے سمجھنے کہ سکت کھو رہا تھا۔۔ سانسیں بھاری ہورہی تھی تیز دھڑکنوں کے ساتھ۔۔۔
وہ سب چھوڑ چھاڑ کر دوسرے روم کی طرف بھاگا تھا۔۔ لائٹس ابھی بھی آف تھی پاس کرسی پر بیٹھی نرس جزیل کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی تھی
“تم جاؤ میں یہیں ہوں۔۔”
نرس کے باہر جانے پر وہ پریہان کے پاس بیٹھ گیا تھا۔۔ دو دن ہوگئے تھے پریہان کو ایسے بےہوش ہوئے۔۔
“باوری۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی مگر جیسے ہی آنکھیں بند کرنے لگا تھا ایک ہی بات تھی جس نے بےچین کر کے رکھ دیا تھا جزیل کو کمفرٹ کو آہستہ سے ہٹا کر پریہان کے لیفٹ بازو کو باہر نکال کر سلیو کوجیسے ہی ہٹایا تھا وہاں۔۔۔ وہ نام دیکھنے کے لیے۔۔۔ مگر اب کچھ نہیں تھا۔۔
لیکن جب سے نے غور سے دیکھا تو اسے محسوس ہورہا تھا اس نام کو مٹا دینے کی مکمل کوشش کی گئی تھی
“اور وہ کامیا ب بھی ہوگئی۔۔۔مجھے مٹانے میں۔۔”
۔
“کہاں جوڑ پائیں گے ہم دھڑکنوں کو۔۔۔
کہ دل کی طرح ہم بھی ٹوٹے ہوئے ہیں۔۔۔”
۔
“ایم سو سوری۔۔۔”
پریہان کے ہاتھ کو اپنے سینے ہر رکھے اس نے بھی سر تکیے پر پھینک دیا تھا اور آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
۔
معافی کے علاوہ اسکے پاس تھا کیا۔۔۔؟؟ وہ کیا بولتا کیا کہتا کہ ازالہ ہوجاتا اسکی غلطیوں کا۔۔؟
وہ ایک بات جانتا تھا پہلو میں سورہی وہ خاموش لڑکی جاگ جانے پر اسے اپنے اتنا قریب برداشت نہیں کرے گی۔۔ رات کا یہی پہر تو ہوتا تھا جب وہ اسکے قریب آتا تھا۔۔۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اندر نہیں چلیں گے اب آپ۔۔؟؟”
“آپ اندر جائیں پلیز اسے اپنے ساتھ واپس لیکر آئیے گا۔۔”
“حنین ساتھ چلو میرے۔۔۔”
“نہیں باجی آپ اندر جائیں۔۔۔پلیز۔۔۔”
“اوکے ۔۔”
وہ گاڑی سے نکل کر جیسے ہی اندر کی طرف بڑھی تھی گارڈز سامنے کھڑے ہوگئے تھے
گن لیکر۔۔۔
“آپ اندر نہیں جاسکتی میڈم۔۔۔”
“جزیل عباسی۔۔ اگر تم پانچ منٹ میں باہر نہ آئے تو تمہارے گارڈز کی طرح تمہیں بھی دھو ڈالوں گی یاد رکھنا۔۔۔”
اس لڑکی نے اونچی آواز میں کہا تھا اور سامنے کھڑے گارڈز کو زور سے تھپڑ مارا تھااورجوتی اتار لی تھی۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔ باجی۔۔۔”
جزیل آواز سن کر جلدی سے نیچے آیا تھا وہ آواز سن کر ہی پہچان گیا تھا
“سیریسلی شبانہ باجی۔۔؟؟ آپ پاکستان سے کب آئی۔۔؟؟”
وہ ابھی باہر ہی آیا تھا جب وہ غصے سے اندر آئی اور اپنا کپڑوں سے بھرا ہوا بیگ جزیل کی طرف پھینکا تھا۔۔۔
“اپنے ان پالتو۔۔”
“باجی۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔ بدتمیز۔۔۔”
وہ وہ اندر چلی گئی تھی۔۔۔ جزیل نے اپنے گارڈز کی طرف دیکھا تھا اور پھر اندر جاتی ہوئی باجی کو اور واپس اس بیگ کو۔۔۔
“بیک ٹو ڈیوٹی۔۔۔”
وہ سوری بولے بغیر اندر بڑھا تھا
“سر میڈم کی جوتی بھی لے جائیں۔۔۔”
“اووہ۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا۔۔۔”
جزیل نے جوتی کو دیکھا تھا اور اپنے گارڈز کی حالت دیکھ کر اسکی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ سوری۔۔۔”
اور وہ اندر چلا گیا تھا دروازہ واپس کلوز کرکے وہ سب گارڈز پھر سنجیدگی کے ساتھ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔
او دور کھڑی گاڑی میں بیٹھے ہوئے حنین نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی
“تم اپنا فیصلہ بہت جلدی بدل دو گے جزیل شبانہ باجی پریہان کے نظریے کو بہت جلدی بدل دیں گی۔۔۔ وہ واپس میرے پاس آجائے گی۔۔۔”
وہ وہاں کتنی دیر بیٹھا رہا تھا اسے سکون مل رہا تھا۔۔ یہ سوچ کرکے پریہان اسکے بہت نزدیک ہے۔۔۔ مگر کچھ منٹ بعد شاہد کی کال آگئی تھی جسے سن کر وہ جلدی میں وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“غزلان کہاں ہے میری بچی۔۔؟؟ آپ نے وعدہ کیا تھا اسے واپس لے آئیں گے آج پھر آپ ایسے ہی آگئے ہیں۔۔؟؟ کہاں ہے میری تفشالہ۔۔؟؟”
بیڈروم کا دروازہ جیسے ہی کھلا تھا سامنے بیڈ پر اپنی بیوی کو دیکھ کر رک گئے تھے اندر جانے کی ہمت نہیں تھی۔۔
“غزلان بھائی کہاں ہے تفشالہ۔۔؟؟”
بھائی نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو وہ چونک گئے تھے عائشہ کو اندر دونوں بھابھیاں بازو سے پکڑ کر واپس بستر پر لٹا رہی تھی
“یہ سب کیسے ہوا ہے۔۔؟؟”
انہوں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا پاس کھڑے بھائی سے
“جیسے آپ کو نہیں پتہ۔۔؟؟ انہیں یہ اٹیک آرہے ہیں جب سے تفشالہ گئی یہاں سے۔۔”
“جھوٹ مت بولو کچھ ٹریگر ہوا ہے،،، کچھ ہوا ہے جو عائشہ کو آج ایسے اٹیک آیا۔۔”
غصے سے کہتے ہوئے وہ اندر داخل ہوئے تھے اور سب کو باہر جانے کا کہہ دیا تھا۔۔
“پر بھائی بھابھی آپ سے سنبھل نہیں پائیں گی کمرے کی حالت دیکھیں۔۔۔”
“آؤٹ۔۔۔”
اور کمرہ جیسے ہی خالی ہوا تھا غزلان صاحب نے گہرا سانس بھر کر بیڈ کی طرف دیکھا تھا جو اب بالکل خاموش ہوگئی تھی تکیے پر سر چھپائے وہ جیسے رو رہی تھی وہ درد سے بھری آوازیں غزلان صاحب کا بچا کچا بر بھی ختم کرتی جارہی تھی
“عائشہ۔۔”
“آپ نے جھوٹ بولا مجھ سے غزلان۔۔ کہا تھا ہماری بیٹی کو ہر تکلیف ہر پریشانی سے دور رکھیں گے۔۔ مگر آپ نے کچھ نہ کیا اسے ظالم دنیا کے حوالے کردیا جہاں وہ در در کی ٹھوکریں کھاتی رہی جیل میں چلی گئی۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟”
وہ شاکڈ ہوگئے تھے اور ٹیبل پر پڑے موبائل پر انکی نظر پڑی تھی جہاں ابھی بھی نیوز چینل آن تھا
“عائشہ۔۔۔”
“ہماری تفشال۔۔۔۔پریہان۔۔۔ ہماری بچی غزلان۔۔ آپ نے مایوس کردیا مجھے۔۔ میں آپ کو کبھی۔۔۔کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔”
یہ کہتے ہی انہیں کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی۔۔ غزلان صاحب اس ویڈیو میں اتنا کھو گئے تھے کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوا تھا تب عائشہ صاحبہ کے منہ سے خون نکلنا شروع ہوگیا
“غزلان۔۔۔”
انہوں نے آنکھیں بند کرکے سر جیسے ہی پیچھے کیا تھ غزلان صاحب کے ہاتھوں سے وہ موبائل نیچے گرگیا تھا
“عائشہ۔۔۔”
وہ بےساختہ چلائے تھے۔۔ اور اگلے پل عائشہ کو اٹھائے روم سے باہر چلے گئے تھے
گھر کے افراد جو پہلے سے ہی پریشان تھے عائشہ صاحبہ کے منہ سے نکلتے خون کو دیکھ کر سب غزلان صاحب کے پیچھے پیچھے گھر سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاتھوں سے وہ بینڈایج کا رول گر گیا تھا جب اسکے ہونٹ ان سوکھے ہوئے ہونٹوں سے ٹکرائے تھے جو کسی تپتے صحرا جیسے محسوس ہوئے تھے۔۔ اسکی شرٹ پہل ہی پھینک دی تھی اتار کر۔۔
وہ اس لمحے اپنی محبت اپنی چاہت کئیر کا اظہار کررہا تھا۔۔ وہ معصوم کس کب ایگریسیو بن گئی تھی وہ خود نہیں سمجھ پایا تھا سامنے کھڑی اسکی بیوی جو پتھر بنے کھڑی تھی۔۔اور وہ رضا مندی سمجھ بیٹھا تھا اسکی خاموشی کو۔۔۔
اسکے دانت کب اسکے بوٹم لپس کو انٹیسٹی سے چھو رہے تھے کچھ سیکنڈ میں اسکی شرٹ جو اس نے ایگریشن میں کھینچ کر اسکے وجود سے جدا کردی تھی
“پریہان۔۔۔”
گردن پر ہونٹ رکھے اس نے سرگوشی کی تھی اور اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھے شیشے کی طرف رخ موڑ دیا
“شیشے میں ہمارے ایک ہوتے وجود دیکھ کر کیسا لگ رہا ہے تمہیں۔۔؟؟ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ نمرہ کے علاوہ کبھی کسی کے بارے میں ایسا سوچوں گا بھی۔۔”
جزیل کی انگلیاں پریہان کی ویسٹ سے ہوتے ہوئے گردن تک جیسے آئی وہ بات مکمل نہیں کرپایا تھا پریہان کو ایسے دیکھ وہ مدہوش ہورہا تھا۔۔۔ کندھے سے بال ہٹا کر وہ بےساختہ اپنی ہونٹوں سے وہاں اپنے نشان چھوڑے جارہا تھا بند آنکھوں میں وہ اپنے ہونٹوں اور ہاتھوں سے وہ لائن بھی کراس کررہا تھا۔۔۔پریہان خاموش کھڑی اس شیشے کو دیکھ رہی تھی مگر اسکے کہے جملے نے جزیل کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی جیسے
“تمہیں ہم دونوں کی نزدیکی اگر کسی ایروٹک امیج کی طرح لگ رہی ہے تو لگتی ہوگی۔۔
مگر میرے اور حنین کی نزدیکی سے زیادہ نہیں۔۔۔ ابھی بھی حنین کے ہاتھ خود پر محسوس ہورہے ہیں حالانکہ تم ہو پاس میرے۔۔
حنین میرے وجود کو اتنی محبت دے چکے ہیں کہ تم چاہ کر بھی مٹا نہیں سکتے۔۔”
ایک جھٹکے میں جزیل نے اسے خود سے جدا کردیا تھا
“تم جانتے ہو حنین جتنے بھولے بھالے لگتے تھے بیڈروم میں ان سے “
“شٹ اپ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔”
پریہان کو بیڈ پر دکھا دے کر وہ وہیں تیز سانس لینا شروع ہوگیا تھا پریہان نے اس جگہ ہٹ کیا تھا ایک بار اپنی باتوں سے جزیل کواسی شیشے کو وہ دیکھ رہا تھا جہاں ابھی کچھ سیکنڈ پہلے اس نے اپنی پہنی انٹیمیسی شئیر کی تھی
“مجھے ابھی بھی اس شیشے میں میرے ساتھ حنین نظر۔۔۔”
پریہان کی بات نے اتنی طیش دلا دی تھی کہ وہ شیشے پر مکا مار کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرچکا تھا اپنا ہاتھ زخمی کرنے کے بعد۔۔۔
“پریہان۔۔۔ اس” آنکھوں سے باتیں کرنے والے” کو تکلیف دو مگر اتنی نہیں کہ میاں بیوی کے رشتے کی حدود پامال ہوجائے۔۔۔”
جزیل نے آنکھ اٹھا کر پریہان کی آنکھوں میں آنکھیں مرکوز کرتے ہوئے کہا تھا۔۔ کچھ دیر تو پریہان بھی اپنی نظر نیچی نہ کرپائی تھی جزیل کے الفاظ میں’وہ ماضی کی بات نے پریہان کو جکڑ لیا تھا وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی اس کا ماضی کسی کے سامنے عیاں ہو۔۔
خاص کر جزیل عباسی کے سامنے۔۔
“آپ کے منہ رشتوں پر لیکچر نہیں سننا مجھے۔۔۔ جس نے اپنے بھائی کی بیوی۔۔”
“سابقہ بیوی۔۔۔ جتنا جھٹلانا ہے جھٹلا لو۔۔۔ مگر میں ماضی کے اس شخص کو پوری طرح سامنے لا کھڑا کروں گا جس کی باوری تم تھی۔۔۔”
اور وہ بنا کوئی بات سنے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ دروازے سے باہر جیسے ہی آیا تھا شبانہ باجی کے ساتھ ٹکرا گیا تھا وہ جو جانے کتنی دیر سے کھڑی باتیں سن رہی تھی
“جزیل وی نیڈ ٹو ٹاک۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ مجھے کسی سے بات نہیں کرنی باجی۔۔۔”
اپنا بازو چھڑائے وہ ٹیرس کی جانب چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہر بار ہم انہیں خطرے سے بچا نہیں سکتے آپ سے کہا تھا کہ انہیں سٹریس سے دور رکھیں۔۔۔”
کچھ اور باتیں کرنے کے بعد وہ جیسے ہی وہاں سے گئے تھے غزلان صاحب اندر اپنی بیگم کے پاس جانے کے بجائے اس وئیر ہاؤس گئے تھے جہاں سائرہ اور شائنہ کو قید رکھا ہوا تھا۔۔
“سر آپ یہاں اس وقت۔۔۔”
“دروازہ کھولو۔۔۔”
دروازہ جیسے ہی کھلا تھا غزلان صاحب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا سائرہ پر
“تمہاری وجہ سے وہ اس حال میں ہے اگر ہمیں پہلے بتا۔۔۔”
وہ تو پچھلے تین سال سے اس عذاب میں تب کہاں تھے۔۔؟؟ اپنی بیٹی کو بیچنے کی پلاننگ کررہے تھے۔۔؟؟”
ایک اور تھپڑ مارا تھا انہوں نے اور بالوں سے پکڑ کر باہر لے گئے تھے کمرے سے۔۔
“ان دونوں کو وہاں لے جاؤ جہاں اس دنیا میں انہیں جہنم دیکھنے کو مل جائے۔۔ اس شپ میں ڈال کر بھیج دو آگے۔۔”
وہ دونوں کو زبردستی پکڑ کر وہاں سے لے گئے تھے اور غزلان صاحب کے چہرے پر زرا سی بھی شرمندگی نہیں تھی کہ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکیوں کو انہوں نے اس دلدل میں بھجوا دیاتھا جو انکے وہم و گماں میں بھی نہ تھا۔۔۔
“ان دونوں حرام خوروں کو پکڑ کر میرے سامنے لاؤ۔۔۔ جزیل عباسی۔۔۔ حنین عباسی۔۔”
وہ غرائے تھے اور انکے سب گارڈز پیچھے پیچھے چلے گئے تھے
“سر۔۔۔ یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔ ایک مشہور بزنس مین ہے تو ایک ایماندار آفسر۔۔۔”
۔
“میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔ مجھے میری بیٹی واپس چاہیے ورنہ میں اپنی بیوی کے سامنے نہیں جاؤں گا جب تک وہ نافرمان میرے سامنے نہیں آجاتی۔۔۔ناک کٹوا دی اس نے۔۔ اب وقت آگیا ہے اسے لگام ڈالنے کا۔۔۔
ان دونوں کا بھائیوں میں سے اسکی جان لینی ہے جس پر میری بیٹی مرتی ہے اسکو موت دینی ہے۔۔۔ دوسرے کو چھوڑ دینا۔۔۔ یہ میرا سزا ہوگی۔۔۔”
اپنے لوگوں کو حکم دے کر بھیج دیا تھا انہوں نے۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔