121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“عجیب منظر ہے میں جس کی منتظر تھی وہ کسی اور کے انتظار میں بیٹھا تھا ہاتھوں میں گلدستہ تھامے وہ بھی ویسے ہی بیٹھا تھا وہاں جہاں اکثر میں بیٹھا کرتی ہوں اُس کے انتظار میں۔۔
عجیب منظر ہے موسم آج بھی سہانا ہے۔۔ ٹھنڈی ہوا میں گم صم بیٹھا وہ شخص نہایت دلکش لگ رہا ہے۔۔۔ میرے حواسوں پر تو وہ ویسے بھی حاوی تھا۔۔ آج تیز ہوا میں اسکے لہراتے اسکے بال مجھے اور گائل کررہے تھے
عجیب منظر ہے میں آج اُداس نہیں ہوں۔۔ وہ کسی اور کا انتظار کررہا ہے اور میں اُداس نہیں ہوں۔۔۔
دل کو ٹھنڈ پڑ گئی ہے اسے بھی کسی کا شیدائی ہوتا دیکھ کر۔۔
چلو اُسے بھی پتہ چلا انتظار کی سولی لٹکنا کہتے کسے ہیں۔۔
عجیب منظر ہے وہ پلکیں جھپکا رہا ہے اسکی نظریں مجھ پر ٹھہر رہی ہیں۔۔ اور پھر واپس کلائی میں پہنی اپنی گھڑی کو دیکھ رہا ہے۔۔
گھڑی کی ٹک ٹک اسے یہ احساس دلا رہی ہے کہ جب انتظار میں بیٹھ جائیں تو یہ کمبخت وقت بھی لمحوں کو سال بنا دیتا ہے۔۔
کیا کمال منظر ہے آج اس کا انتظار بھی طویل کردیا اسکے چاہنے والے نے۔۔
اُس عجیب منظر کو دیکھ کر دل کررہا ہے اسے بھی بددعا دوں کہ خُدا اسکا انتظار بھی لاحاصل کردے جیسے اس نے میرا کیا۔۔۔
مگر میرے ارادے دم توڑ گئے تھے جب اس کا انتظار میری آنکھوں کے سامنے اختتام کو پہنچا۔۔۔جب وہ اسکے پہلو میں آکر بیٹھی تھی۔۔
ہائے۔۔۔ کیا عجیب منظر ہے۔۔۔ اب دل اداس ہورہا ہے۔۔ “
۔
چل سارا دل آرام کرنا ہے میڈم نے۔۔؟؟
جیل کا دروازہ کھولے دو جیلر صاحبہ نے پریہان کو بالوں سے اٹھالیا تھا۔۔
“میڈم وہ لوگ باہر ہی ہیں۔۔ اب اس پر کوئی ٹارچر۔۔۔”
دیکھتے ہی دیکھتے جیلر نے پریہان کے چہرے پر زور دار تھپڑ مارا تھا
“یہ کچھ نہیں بولے گی۔۔ اسکی وجہ سے میرا بنتا ہوا کام بھی بگڑ گیا اس کا بدلہ نہ لوں۔۔؟”
بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اسے پھر سے کھڑا کیا تھا
“ہاہاہا دیکھا۔۔ اسکی تو درد کے مارے چیخ بھی نہیں نکل رہی۔۔۔”
ہنستے ہنستے ان لوگوں ن پریہان پر ان پانچ منٹوں میں وہ ظلم تو کردیا تھا مگر باہر لے جانے سے پہلے اسکے ہاتھوں کو ایسے بھاری چینز سے باندھ دیا تھا
۔
“ابھی تک آئے نہیں جلدی جاؤ اندر ثاقب میں اگر گیا تو میں اس جیلر کو۔۔۔”
“پلیز سر آپ یہیں رہیں کام بگڑ سکتا ہے آپ کے غصہ کرنے سے۔۔۔ آپ گاڑی میں بیٹھے۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہے تھے جب انہوں نے بھاری نفری میں باہر لاتے اس خطرناک مجرم کو دیکھا تھا جس کے چین تین لوگوں نے پکڑی ہوئی تھی جسے ایسے باہر لا رہے تھے جسے وہ خود کو چھڑا کر بھاگ جائے گی۔۔۔ مگر وہ تو سر جھکائے چل رہی تھی ننگے پاؤں۔۔۔ سفید سلوار سوٹ بالوں میں سر چھپا ہوا تھا مگر دوپٹہ کوئی نہ تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
سحاب اپنی کوٹ اتار کر پریہان پر اوڑھنے جارہا تھا جب ساتھی آفیسر نے روک دیا تھا دور کھڑے میڈیا پرسن اور کچھ نئے چہروں کی طرف توجہ دلا کر اشارہ کیا تھا۔۔۔
“سحاب گاڑی میں جاکر بیٹھو پلیز۔۔۔”
اور وہ غصے سے چلا گیا تھا گاڑی میں بیٹھے سٹیرنگ پر سر رکھ دیا تھا مگر جب پریہان سامنے سے گزری تھی سحاب کی آنکھیں بھر چکی تھی اس لڑکی کی خاموشی دیکھ کر۔۔۔
آنکھوں میں سورج کی روشنی پڑتے ہی پریہان نے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیا تھا مگر نظر جیسے ہی سحاب کی گاڑی پر پڑی۔۔۔ سحاب کے چہرے کو دیکھ کر وہ ایک دم سے رک گئی تھی۔۔
“چل تیرے انتظار میں نہیں رکنے والے ہم۔۔”
اسے کھینچتے ہوئے وہ لے گئے تھے مگر سحاب کی آنکھوں کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔
۔
“یہ وہی لڑکی ہے جو کہانیوں میں کرداروں کی ہمت لکھتی تھی تو حیران کردیتی تھی
کہاں گئی وہ ‘وومن پاور۔’۔۔؟؟”
۔
“یہ وقت کی کیسی ہوا چلی۔۔ نہ یار رہا نہ اسکی گلی۔۔۔
بس اتنی خطا تھی عشق کیا۔۔۔ کیوں عشق کیا یہ سزا ملی۔۔۔”
۔
پولیس وین کے پیچھے دو گاڑیاں تھیں اور تیسری سحاب کی تھی۔۔۔
۔
وہ قافلہ تو چل نکلا تھا۔۔۔
یہاں سحاب خوش تھا کہ اب پریہان ایک عذاب سے نکل کر اچھی جگہ چلی جائے گی اور وہ سکون سے اسکے بےگنا ثابت کرسکے گا۔۔۔
مگر اُسے کیا پتہ تھا کہ وہ اسکی مشکلیں اور بڑھا چُکا ہے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ لوگ وہاں سے نکل چُکے ہیں سر۔۔ کسی طرح سے انہیں روکیں۔۔۔ اگر وہ دوسری جیل میں چلی گئی تو وہ آسانی سے اسے وہاں سے نکلوا لیں گے اور آپ کے بھائی کی قاتل اور اس کا عاشق ایک ہوجائیں گے۔۔۔”
“اب تم جا سکتے ہو۔۔۔”
نمرہ نے اس شخص کو کہہ کر دروازہ بند کرلیا تھا پھر سے۔۔۔
“آپ دونوں نے دیکھ لیا۔۔؟ میں سچ کہہ رہی تھی۔۔ اور جزیل تم نے سہی پہچانا وہ سحاب تو حنین ۔۔ب۔۔بھائی کا ہی دوست تھا۔۔۔ وہ چلا گیا تو حنین بھائی سے شادی کرلی۔۔ اور جب وہ شخص دوبارہ ملا تو اسے پرانی محبتیں یاد آگئی۔۔۔”
جزیل یہ بات سن کر ہی اٹھ گیا تھا اپنی سیٹ سے۔۔۔
“آپ لوگ گھر جائیں میں دیکھ لوں گا ان دونوں کو۔۔۔”
جزیل اپنے والد نمرہ کے والد اور نمرہ کو ایک نظر دیکھ کر آفس سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“تم کبھی بھی مجھ سے بچ نہیں پاؤ گی۔۔ میں پل پل ہر پل درد میں دیکھنا چاہتا ہوں تمہیں۔۔۔
اور اس شخص کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”
۔
گاڑی کو فُل سپیڈ میں چلائے وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پریہان کی موت تو آج ہی ہوجائے گی جیل منتقل کرنے کی ڈیمانڈ اس آفیسر کی تھی اب وہ اسکی ڈیڈ باڈی پر کیس حل کرے گا”
“ہاہاہاہاہا پیچھے دیکھا اسکی گاڑی کیسے فالو کررہی ہے اب اسے ہم ایکشن دیکھائیں گے۔۔۔”
وین میں بیٹھے جیلر اور دو آفیسرز نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔۔
پریہان ابھی بھی ہتھکڑیوں میں جکڑی ہوئی تھی دو فی میل جو اسکے ساتھ پیچھے بیٹھی تھی اور جیلر صاحبہ نے فون کردیا تھا گاڑی نے جیسے ہی ٹرن لیا تھا
سحاب کی گاڑی کے آگے والی گاڑی جیسے ہی بلاسٹ ہوئی تھی سحاب کی گاڑی پر بھی فائرنگ شروع ہوگئی تھی۔۔۔
اور بیک اپ پر کوئی گاڑی سحاب کی ہیلپ کے لیے اسکے پیچھے نہ تھی۔۔۔
وہ جو وین پریہان کو لیکر جارہی تھی اس وین نے ٹریک چینج کرلیا تھا۔۔
“کچھ منٹ کی ڈرائیو پر پریہان کو بالوں سے پکڑ کر انہوں نے ایک سنسان بیابان پر کھینچ کر اتار دیا تھا۔۔۔
“پتہ ہے نہ کیا کرنا ہے۔۔؟؟”
پہلے اس وین کو نیچے پھینکو اور پھر اس لڑکی کو شوٹ کردو اسکی بھی اس کھائی سے نیچے پھینکنا ہے۔۔”
پریہان کو جیسے ہی گھٹنوں کے بل بٹھا کر اس پر فائر کی تو گولی اسکے کندھے پر لگی تھی
“کیوں ٹائم ویسٹ کررہے ہو۔۔؟؟ ایک ہی بار کام تمام کرو۔۔۔”
جیلر کے ساتھ جو آدمی تھا وہ ایک الگ ہی تھا جو وہاں موجود تھا اس نے پھر سے پریہان کے سر پر گن رکھی تھی۔۔۔ وہ سُد سر جھکائے گھٹنوں کے بل بیٹھی جیسے موت کے لیے بانہیں کھلے ہوئے تھی۔۔ جیسے اسے اس پل کا انتطار تھا۔۔۔
گن جیسے ہی زور سے اسکے سر پر رکھی تھی اس آدمی نے پریہان کی آنکھوں سے ایک پانی کا قطرہ نکلا تھا۔۔۔ہاتھوں میں لگی اس ہتھ کڑی کو دیکھ کر اس نے اپنی اب تک کی زندگی کو جیسے سوچنا شروع کردیا تھا۔۔۔اب اسے اور جلدی تھی اس جہان سے جانےکی۔۔
اپنے شوہر سے کچھ سوالات کے جوابات لینے کی۔۔۔
“گن چلانے کے لیے ہاتھوں کا سلامت ہونا بہت ضروری ہے۔۔۔”
پیچھے آواز آنے پر ایک اور گولی چلی تھی اور وہ گن اس آدمی کے ہاتھ سے گر گئی تھی۔۔۔۔
وہاں سے بہت سی گولیاں چلی تھی۔۔۔ اور جب ہر سو خاموشی ہوگئی تھی چیخ و پکار ختم ہوگئی تھی تو وہ شخص آہستہ قدموں کے ساتھ پریہان کے سامنے آیا تھا۔۔۔ وہ جیسے ہی پریہان کے چہرے سے بال ہٹاتا ہے تو اسکے سامنے وقت سے ہاری ہوئی لڑکی ہوتی ہے۔۔۔
زخموں سے بھرا ہوا چہرہ اسکے اب تک جیل کے سفر کی داستان بتا رہا تھا۔۔۔
پریہان کے چہرے کو ہاتھوں میں لئیے اس نے جیسے ہی اٹھایا تھا پریہان کی سانسیں اٹک گئی تھی اور لبوں سے ایک ہی نام نکلا تھا۔۔۔
“جزیل۔۔۔۔۔”
۔
اور وہ بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔
“تم مرتے دم تک یہ نام یاد رکھو گی مس پریہان۔۔۔میں نے کہا تھا تمہیں اتنی آسان موت نہیں ملے گی۔۔۔”
پریہان کو اپنی بانہوں میں اٹھائے وہ اپنی گاڑی میں وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔۔
۔
وہ گاڑی کے جانے کے بعد ایک اور گاڑی وہاں آئی تھی۔۔۔
“سحاب رک جاؤ۔۔۔”
مگر سحاب نےہر جگہ کھوج لی تھی اور وہاں زخمی لوگوں میں اسے پریہان نہ ملی تھی
“وہ وین کے ساتھ پریہان بھی اس کھائی میں گر گئی۔۔۔”
اس جیلر نے آنکھیں بند کرنے سے پہلے یہ بات جیسے ہی کہی تھی سحاب کی آنکھیں بھر چکی تھی۔۔۔۔۔اور اسکی زبان سے وہ ایک نام وہاں ان وادیوں میں اس بیابان میں ان پہاڑوں کے درمیان گونج اٹھا تھا جتنی شدت سے سحاب چلایا تھا۔۔۔
“پیاااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“سحاب۔۔۔۔”
“وئیر ہاؤس لے جاؤ۔۔۔ اس جیلر کو بھی۔۔۔ سب کو۔۔۔۔ ثاقب ایک کو بھی نہیں چھوڑنا۔۔۔۔”
۔
۔
وہ پاگلوں کی طرح چلاتے ہوئے وہاں سے جانے لگا تھا جب اس نے اس مٹی کو دیکھا تھا۔۔۔۔
۔
“کوئی بھی گاڑی یہاں نہ آئے۔۔۔ فورینسک ٹیمز کو جلدی بلاؤ۔۔۔ یہ گاڑی کے ٹائر کے پرنٹ۔۔۔ یہ عام گاڑی نہیں ہے۔۔۔
دور دور تک ‘سی سی ٹی وی’ کی فوٹیج منگواؤ۔۔۔ ہائی پر جتنی گاڑیوں کی چیکنگ ہوئی سب کے پرنٹ اس پرنٹ سے میچ کرو۔۔۔ ہری اپ۔۔۔”
۔
چہرہ صاف کئیے اس نے اس وقت خود کو پھر سے مظبوط کیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ گھنٹوں کی ڈرائیونگ کے بعد جزیل نے گاڑی کو ایک خالی روڈ پر روک دیا تھا
جہاں دوگاڑیاں پہلے سے ہی موجود تھی بیک سیٹ پر پریہان ابھی بھی بےہوش تھی ہاتھ ابھی بھی بندھے ہوئے تھے۔۔۔
اس نے ایک نظر دیکھا تھا اور گاڑی سے باہر نکل گیا تھا
“اس گاڑی کو میرے جانے کے بعد آگ لگا دینا اس طرح کے سب راکھ ہوجائے۔۔۔
اور تم میرے ساتھ دوسری گاڑی کو ڈرائیو کرو گے۔۔۔ میں رائٹ ٹرن کروں تو تم لفٹ کرو گے۔۔۔
گاڑی کے پرنٹس ابھی تک مل گئے ہوں گے۔۔۔ اس لیے انہیں کنفیوز کرنا ضروری ہے۔۔۔
اور یہ بات ہم تینوں تک رہے نمرہ یا ڈیڈ یا کسی کو بتایا تو جان سے مار دوں گا۔۔۔”
اپنے خاص لوگوں کو انسٹرکشن دئیے جزیل واپس گاڑی کی طرف مڑا تھا۔۔۔
پریہان کو اٹھا کر وہ دوسری گاڑی میں لے گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وئیر ہاؤس۔۔۔۔”
“سحاب سر وہ لوگ کچھ بھی نہیں بول رہے۔۔۔ ایسے لگ رہا ہے کہ اپنی موت سے زیادہ ڈر ان سب کو اس خاص “اے جے’ سے ہے۔۔۔”
“اے جے۔۔؟؟”
“جی سر۔۔۔ مگر یہ ایک شخص کو پکڑا ہے۔۔۔”
آج پھر وہ لوگ اس خاص جگہ پر جمع تھے سحاب نے ثاقب کو اشارہ کیا تو وہ گاڑی سے اس شخص کو لے آیا تھا جس کی آنکھوں پر بلیک پٹی باندھی ہوئی تھی
“ادریس۔۔؟؟”
سحاب نے اس کا چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔۔۔
۔
“آپ۔۔۔ آپ کون ہیں۔۔۔میں آپ کو نہیں جانتا مجھے جانے دیں۔۔۔”
وہ معافیاں مانگ رہا تھا جب سحاب نے گردن سے پکڑ کر اس شخص کو اپنی جانب کھینچا تھا
“پریہان تو بیٹی جیسی تھی نہ۔۔؟؟ اسکی محنت پر تمہاری پبلشنگ کمپنی یہاں کی ٹاپ بک سیلر کمپنی بنی تھی نہ۔۔؟؟
تم کیسے انوالوڈ ہوگئے۔۔؟؟ میں تمہیں زندہ گاڑھ دوں گا اگر تم نے سچ نہ بتایا تو۔۔”
“مجھے نہیں پتہ۔۔۔ مجھے کیوں لائے ہو یہاں۔۔۔؟ ہمارا کوئی تعلق نہیں پلیز مجھے جانے دیں۔۔ مجھے گھر کے اندر لے جائیں یہاں وہ لوگ مجھے مار دیں گے۔۔۔”
وہ اس قدر گھبرا کر یہاں وہاں دیکھنے لگ گیا تھا
“یہاں تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا سوائے میرے۔۔۔تم مجھے بتاؤ کس کے لیے کام کرتے ہو۔۔؟؟ پریہان کے کیس میں تم کیسے شامل ہوئے۔؟؟ وہ کون ادمی ہے جس سے اتنا ڈر رہے ہو تم۔۔؟؟
اے جے کون ہے۔۔؟؟”
پیچھے کھڑے سب لوگ ایک دم سے الرٹ ہوگئے تھے جب ایک ریڈ کلر کا پوائنٹ سحاب کی وائٹ شرٹ پر آیا تھا۔۔۔ اور جب وہ ریڈ ڈاٹ اسکے سینے سے ہوتے ہوئے ادریس کی شرٹ پر نظر آیا تو سحاب نے حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔
اور ایک دم سے فائر ہوئی تھی ادریس نیچے گرگیا تھا۔۔۔ خون کے چھینٹے سحاب کے چہرے پر آگرے تھے۔۔۔
اور وہ لوگ یہ نہیں دیکھ سکے تھے کہ فائر ہوئی کہاں سے۔۔۔۔
“نام بتاؤ مجھے۔۔۔کون ہے وہ۔۔۔جلدی۔۔۔”
ادریس کو پھر سے اٹھایا تھا۔۔۔جس کے کندھے اور پیٹ سے خون بہہ رہا تھا
“جلدی بتاؤ۔۔۔”
“وہ۔۔۔ لوگ۔۔بہت خطرناک ہیں۔۔۔ وہ۔۔۔ لیپ ٹاپ۔۔۔ پریہان کو مارنا چاہتے۔۔۔”
“نام ۔۔نام بتاؤ۔۔کہاں ہے وہ۔۔۔ادریس۔۔۔”
“ار۔۔۔۔”
نام ادھورا رہ گیا تھا۔۔۔۔
“ثاقب۔۔۔ اس بلو بلڈنگ کو جلدی کور کرو وہاں سے فائر ہوا ہے۔۔۔”
دوسرے آفیسر نے وہاں سے سب کو بھیج دیا تھا
“پریہان کو کون مارنا چاہتا ہے۔۔؟؟ کون ہے۔۔۔؟؟ نام بتاؤ۔۔۔میں پوچھ رہا ہوں۔۔”
سحاب نے غصے سے اسکے منہ پر تھپڑ مارے تھے۔۔۔
“پریہان کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں۔۔ نام بتاؤ ورنہ میں تمہیں مار دوں گا۔۔۔”
ادریس کے وجود کو پیچھے کرلیا تھا پیچھے کھڑے آفیسر نے
“سحاب۔۔۔سنبھالو خود کو۔۔۔”
“اس کو پیچھے کیوں کردیا۔۔۔؟؟ ڈیم اٹ میں اس سے کچھ پوچھ رہا تھا۔۔۔اوئے بول تجھے کس نے پیسے دئیے۔۔۔”
“وہ مر چکا ہے۔۔۔ کس سے جواب مانگ رہے ہو۔۔؟؟ مرے ہوئے لوگ جواب نہیں دیتے
اپنے پاگل پن سے باہر آؤ۔۔۔۔”
سحاب کو پیچھے دھکا دہ دیا تھا ادریس سے ۔۔۔
“آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔۔۔ کوئی نہیں مار سکتا پریہان کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔۔۔”
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔۔۔ چلاتے ہوئے
“پاگل ہوگیا ہوں میں۔۔۔۔ میں وہ پہلا شخص ہوں جو اپنے قاتل خود ڈھونڈنے نکلا ہوں۔۔
تاکہ اپنی بیوی کو بچا سکوں۔۔۔ سابقہ بیوی کو۔۔۔میں۔۔۔بدنصیب انسان۔۔۔
کون ہوگا جو مرنے کے بعد اپنوں کو ایسی اذیت میں ڈال جائے۔۔۔؟؟
میری پیا۔۔۔ میرے قتل کے جرم میں اتنے سال اتنا ظلم برداشت کرتی رہی۔۔۔
کیوں۔۔۔۔؟؟؟”
وہ چلایا تھا اور چہرے سے ماسک اتار کراس نے دوسری طرف پھینک دیا تھا جو گرنے پر اتنا ہلکا تھا جو اس کی نئی پہچان تھا۔۔۔۔
سحاب ذلقرنین۔۔۔۔۔
“حنین۔۔۔بات کو سمجھو۔۔۔۔ماسک اتارنے سے چہرے۔۔۔”
جزیل نے آفیسر کی بات کا کاٹ دیا تھا
“پیا کو ڈھونڈنا ہے بس۔۔۔اور میری اپنی چاہت کو لوگوں سے کیا بچانا میں نے میرے تو اپنے گھر والے اس معصوم کو مارنے کے در پہ ہیں۔۔۔
جزیل۔۔۔۔ جزیل کو ٹریک کرو۔۔۔ وہ لے کر گیا ہے۔۔۔اسے ٹریک کرو۔۔۔”
۔
چہرہ پھر سے بھر گیا تھا آنسوؤں سے وہ کہتے کہتے پھر سے اسی مٹی پر بیٹھ گیا تھا۔۔
“پیا۔۔۔ بہت زیادتی کردی میں نے تمہارے ساتھ۔۔۔بہت ظلم ہوگیا پیا۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔