121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“غروبِ آفتاب مایوس لوگوں کو اور مایوس کرجاتا ہے۔۔جو زندگی سے ہار چکے ہوں اس ڈوبٹے سورج کو دیکھ کر انکے دل بھی ڈوب جاتے ہیں۔۔۔
میرے لیے وہ غروبِ آفتاب بھی میری یک طرفہ محبت کی طرح مایوس کُن ہی رہا ہر شام یونیورسٹی میں میں اُسے حاصل کرنے کی امید کو ڈوبتے ہوئے دیکھتی تھی
اور مایوس ہوجاتی ۔۔ میرے لیے وہ ڈوبتہ ہوا سورج کبھی خوشگوار ثابت نہ ہوا تھا
میں مایوس ہوچکی تھی۔۔۔ اس محبت کے لیے میں خود کو کھو چکی تھی
کیا کرتی کہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔۔۔ اور پھر مایوس ہوتے ہوتے میں کب
‘تفشالہ غزلان’ سے پیا باوری بنتی چلی گئی مجھے خبر نہ ہوئی۔۔۔”
۔
کتاب کے صفحات کو پلٹتے ہوئے وہ بے چینی کے ساتھ اپنے مطلب کی باتیں پڑھنے اور دیکھنے کے تجسس میں تھا۔۔۔وہ اپنے نام کو ڈھونڈنے کی ضد میں تھا کل رات سے وہ یہی کررہا تھا۔۔۔ ابھی تک کے سارے کاغذات وہ اکٹھے کرچکا تھا اپنے پاس۔۔۔
“جزیل۔۔۔جزیل دیکھو کون آیا ہے۔۔۔”
نیچے سے بہت ساری آوازیں آنے پر جزیل نے جلدی سے وہ سب بند کرکے کمفرٹ کے نیچے چھپا دیا تھا اور اپنے روم سے باہر چلا گیا تھا۔ نیچے ہال میں کھڑے اس شخص کو دیکھ کر وہ بہت شاکڈ ہوا تھا۔۔۔
۔
“حنین ۔۔۔۔بھائی۔۔۔”
حنین آہستہ آہستہ اندر داخل ہوا اور سب کے درمیان آکر کھڑا ہوگیا۔۔۔
وہ جس طرح خوش باش اپنے یونیفارم میں گھر سے گیا تھا ویسے واپس نہیں آیا۔۔
کیونکہ جو آج سامنے کھڑا ہوا تھا کندھے جھکائے ہوئے کمزور ٹوٹا ہوا شخص آج انہیں ان کا بیٹا نہیں لگ رہا تھا۔۔
“حنین بیٹا۔۔۔”
ناہید بیگم سیڑھیوں سے بھاگتی ہوئی آئی اور آتے ہی بیٹے کے گلے سے لگ کر رونے لگی۔۔۔
“تمہیں نہیں پتہ تمہیں زندہ دیکھ کر ہم کتنا خوش ہیں میرے بچے ہم ترس گئے تھے۔۔”
“کیا سچ میں ماں۔۔؟؟”
حنین نے اپنے چہرے سے انکے دونوں ہاتھ ہٹا دئیے تھے
وہ پیچھے ہوگیا تھا پہلے اپنے والد کی طرف دیکھا تھا جن کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح کوئی تاثرات نہیں تھے نہ خوشی کے نہ ہی غمی کے۔۔۔
پھر اپنی والدہ کی طرف دیکھا جو زارو قطار رو رہی تھی
اور پھر اپنے بھائی کی طرف۔۔
“آپ سب مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔؟ بہت ہی کمال کی محبت ہے۔۔۔ جن کے جوان بیٹے مر جائیں وہ اپنے بیٹوں کی اوالد کو سینے سے لگا کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔۔ مگر آپ نے کیا کیا موم۔۔؟؟ میرے بچے کو ہی مار دیا۔۔؟”
“اور ڈیڈ آپ۔۔؟؟ میری بیوہ کی شادی اپنے بیٹے سے کروانے کی کوشش کی آپ نے۔۔؟؟”
“اور تم جزیل۔۔؟؟ اس بےگناہ پر ظلم کرتے رہے اسے ان دو ٹکے کے لوگوں سے پٹواتے رہے مرواتے رہے گولیاں چلاتے رہے۔۔۔
کیونکہ آپ سب کو محبت تھی مجھ سے۔۔؟؟ کمال کی محبت تھی اللہ کسی دشمن کو بھی نصیب نہ کرے۔۔”
حنین یہ کہہ کر کچھ ہی قدموں کا فاصلہ تہہ کرکے اپنے بیڈروم میں چلا گیا تھا۔۔
اور جب اس نے روم کا دروازہ کھولا تو جیسے اندر کا منظر دیکھ کر اسکے قدم جم گئے تھے وہاں۔۔
آدھی چیزیں غائب تھی پورا روم بکھرا ہوا فرنیچر ٹوٹا ہوا دیکھ کر اس نے پلٹ کر صرف ایک ہی شخص کو دیکھا تھا۔۔
اور جیسے جزیل نے محسوس کرلی تھی حنین کی نفرت بھری نظر وہ نظریں چرائے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔
۔
جیسے وہ بہت پشیمان ہو۔۔کیونکہ جو کچھ اس نے غصے میں اس کمرے کے ساتھ کردیا تھا۔۔
اس نے صرف ایک کمرہ نہیں برباد کیا تھا اس نے دو محبت کرنے والے میاں بیوی کی ہر یاد مٹا دی تھی اس کمرے سے۔۔
۔
“پیا۔۔۔۔۔ پیا۔۔۔۔”
اس بکھری اجڑی ہوئی چیزوں کے بیچ وہ شخص بھی بکھرا بکھرا پڑا تھا وہاں وہ کمرہ نہیں ان کی جنت تھا جہاں اسکی خوبصورت یادیں تھی اسکی بیوی کے ساتھ اب اس کمرے میں صرف ٹوٹ پھوٹ تھی انکے رشتے کی طرح۔۔۔
“پیا۔۔۔۔”
حنین نے اب غصے میں کہا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ ہی ہیں وہ ڈاکٹر جنہوں نے اس فنگر پرنٹ کو پریہان کے فنگر پرنٹ سے میچ کیا تھا۔۔۔؟؟”
روکنگ چئیر پر بیٹھے اس شخص کی آواز نے اس خاتون کو الرٹ کردیا تھا۔۔۔ اپنے بیڈروم میں داخل ہوتے ہی وہ اس آواز کو سن کر لائٹس آن کرنے کی طرف بڑھی تھی
“کون۔۔۔کون…”
“بجلی نہیں آرہی شاید۔۔۔ ایسے ہی اندھیرے میں بات کرلیں۔۔؟ گناہوں کا اعتراف شاید روشنی میں نہ ہوسکے آپ سے ڈاکٹر صاحبہ۔۔؟؟”
جزیل اس چئیر سے اٹھ کر اس خاتون کی طرف کچھ قدم بڑھا چکا تھا جو ڈر کر پیچھے بیڈ پر جاگری تھی
“کون ہو تم۔۔؟”
“میں کون ہوں یہ چھوڑیں یہ بتائیں وہ تین ڈیڈ باڈیز پر ایک ہی فنگر پرنٹ کیسے آئے اور وہ سب ثبوت کلیکٹ کس نے کئیے تھے۔۔؟؟”
ونڈو سے آتی ہوئی روشنی سے اتنا تو نظر آرہا تھا ان دونوں کو ہی۔۔۔
جزیل بیڈ پر پاؤں رکھ کر اس عورت کے پاس جیسے ہی ہوا تھا پیچھے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی تھی۔۔۔
اس نے اپنی گن بیک سے جیسے ہی نکالی تو اسے کسی نے پیچھے دھکا دہ دیا تھا دو سے تین لوگ اس کمرے میں داخل ہوئے تھے کھڑکی تھی
“آہ۔۔۔”
اندھیرے میں پیچھے گر جانے سے جزیل کی گن پیچھے گر گئی تھی۔۔ اور جیسے ہی وہ اٹھا تھا اس عورت کی چیخ کے بعد وہ اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔
“باسٹرڈ۔۔۔”
اس خاتون کو بھی جزیل پر پھینک کر وہ لوگ بھاگ گئے تھے
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
لائٹس جیسے ہی آن ہوئی تھی جزیل کے ہاتھ اس عورت کی ویسٹ پر تھے جو اسے سہارا دئیے ہوئے تھا اور اسکے پیٹ پر لگے نائف کو دیکھ کر اس نے وہی کیا تھا جو کوئی بھی کرتا اگر اسکی جگہ ہوتا۔۔۔۔
وہ نائف جیسے ہی جزیل نے کھینچا تھا روم کا دروازہ اسی وقت کھل گیا تھا
“وٹ دا۔۔۔۔جزیل۔۔۔”
اپنی گن نیچے کردی تھی نمرہ نے جو دو لوگوں کے ساتھ روم میں داخل ہوئی تھی
“نمرہ۔۔۔یہ۔۔۔”
“او گاڈ باجی۔۔۔”
جزیل جیسے ہی پیچھے ہوا تھا اس خاتون کے جسم سے خون تیزی سے بہنا شروع ہوگیا تھا
“جزیل یہ تم نے کیا کردیا۔۔۔”
نمرہ نے جزیل کو بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا تھا جو ابھی بھی شاکڈ تھا۔۔۔
“ڈاکٹر مرحا۔۔۔”
“اس شخص نے اس لڑکی کو بچانے کے لیے میری بہن کو مار دیا۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ دیکھیں۔۔۔پلیز نمرہ۔۔۔”
“جزیل نے گھبراہٹ کے مارے نمرہ کے دونوں ہاتھ پکڑ لئیے تھے۔۔ اس کا اس طرح گھبرا جانا نمرہ کو بھی حیران کرگیا تھا۔۔۔
“پلیز نمرہ۔۔۔ میں نے اسے نہیں مارا۔۔۔تمہیں تو مجھ پر یقین ہے نہ۔۔؟؟”
وہ پاگلوں کی طرح نمرہ کو اپنی بات پر یقین دلانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔
“جزیل۔۔۔مجھے یقین ہے تم پر۔۔۔ تم یہ مجھے دو۔۔ اور جاؤ یہاں سے۔۔۔ جانے سے پہلے اپنے ہاتھ صاف کرلو۔۔اور کسی کو مت بتانا پلیز۔۔۔”
جزیل کو باتھروم کی طرف جانے کا اشارہ کیا تھا
“آپ نے اسے گرفتار کیوں نہیں کیا ۔۔وہ مجرم ہے۔۔۔ وہ قاتل ہے۔۔”
وہ ڈاکٹر چلا رہی تھی
“تمہاری بہن زندہ ہے۔۔۔زخمی ہوئی ہے۔۔۔”
جزیل کھڑکی سے ہی باہر نکل گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وٹ۔۔؟؟ کسی نے حملہ کردیا۔۔؟؟ “
اس کا اسسٹنٹ چلایا تھا۔۔
“اور وہ خود ڈاکٹر نہیں تھی۔۔۔ ایک ٹریپ تھا۔۔۔ مجھے پھنسانے کے لیے کھیلا گیا یہ کھیل۔۔ فراز۔۔۔ مگر ان کے اس گھنونے کھیل سے ہمیں فائدہ ہوگا۔۔۔”
“مطلب سر۔۔؟؟”
وہ دونوں ایک سنسان سڑک پر گاڑی روکے کھڑے تھے
“اس خنجر پر کسی اور کے فنگر پرنٹس تھے۔۔ میں نے جیسے ہی نکالا عین ٹائم پر دروازہ کھل گیا۔۔ مطلب کے میری انگلیوں کے نشان آگئے۔۔ اب نمرہ نے مجھے یقین دلایا کہ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔”
“سر آپ تو بےقصور ہیں آپ کو کچھ کیوں ہوگا۔۔”
“تم سمجھ نہیں رہے ہو فراز۔۔۔میں وہاں کچھ سوالات کے جوابات لینے گیا تھا۔۔
وہاں اس ڈاکٹر کی جگہ اسکی بہن کا ہونا پھر وہ قاتلانہ حملہ اس عورت پر ہی نہیں مجھ پر بھی ہوا۔۔ مگر میں بچ گیا۔۔”
جزیل نے اپنے کوٹ کر پیچھے کیا تھا خون سے بھری شرٹ دیکھ کر فراز نے پریشان ہوکر ایمبولینس بلانے کی کوشش کی۔۔
“پاگل ہو۔۔؟؟ ایمبولینس نہیں ان ایکسپرٹ کو بلاؤ۔۔۔ ہم خود اس سب کی انویسٹی گیٹ کریں گے۔۔۔”
“سر مگر آپ کا زخم۔۔۔”
“میں ٹھیک ہوں۔۔فراز۔۔۔ آج مجھے۔۔۔ نمرہ پر بھی شک ہوا۔۔۔ میں اسے آزما رہا تھا۔۔۔”
جزیل نے کوٹ اتار کر گاڑی کی ڈکی پر رکھ دیا تھا
“سر آپ کی کوئی بات سمجھ نہیں آرہی ۔۔۔”
“مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی تھی جب وہ دروازہ اوپن ہوا اور نمرہ کسی اور کے ساتھ داخل ہوئی جیسے وہ انتظار میں تھے۔۔؟؟ خود کو بچانے کے لیے میں نے وہاں نمرہ کےسامنے وہ ڈرامہ کیا۔۔۔ مجھے لگا تھا وہ مجھے اریسٹ کرے گی۔۔۔ مگر جو اس نے مجھے کہا وہ تو میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا۔۔ اب دیکھنا یہ ہے نمرہ کیسے فنگر پرنٹس کو چینج کرواتی ہے۔۔
اور وہ ڈاکٹر۔۔۔؟؟ ہر ایک ڈیٹیل پتہ کرواؤ اس ڈاکٹر کی ۔۔۔
نمرہ نے چاہے مجھے بچانے کے لیے ہی کہا ہو۔۔۔ مگر پریہان پر یہ قتل کا شک کروانے والی بھی نمرہ ہی تھی۔۔۔ فراز۔۔۔ اپنا دائرہ بڑا کردو۔۔۔کچھ بھی کرو بس۔۔۔”
اس نے اپنا فون نکال کر ایک ہی تصویر نکالی تھی
“فراز۔۔۔ حنین بھائی۔۔۔ اور پریہان۔۔۔ کی پہلی ملاقات کیسے ہوئی اتفاقا تھی یا وہ بھی کسی کی پلاننگ تھی مجھے سب تفصیل چاہیے۔۔۔”
۔
فراز کو وہاں سے بھیجنے کے بعد بھی جزیل وہیں کھڑا تھا اس تصویر کو دیکھتے دیکھتے وہ ایک الگ ہی سوچ میں گم ہوگیا تھا کتنے گھنٹے وہ وہاں رہا تھا اس بیابان میں اس خاموشی میں اس تصویر کو دیکھتے ہوئے کب صبح ہوگئی اسے خبر نہ ہوئی تھی۔۔۔
۔
“میں تمہیں اس جیل سے چھڑا لے جاؤں گا پریہان۔۔۔”
اب کے لہجہ وہ نرم تھا جب انگلیاں موبائل کی سکرین کو چھو رہی تھی۔۔
۔
“پریہان کا چہرہ وہ چہرہ جس کو بنا دیکھے وہ اپنانا چاہتا تھا جب اس نے اپنی بھابھی سے شادی کے لیے ہاں کی تھی۔۔وہ چہرہ جو بڑی سی عینک میں اسے ٹھیک سے نظر نہیں آیا تھا ان دنوں۔۔۔
وہ چہرہ جو ان تصویروں میں بھی دھندلا ہی دکھا اسے مگر آج جب وہ اسے دیکھ رہا تھا اپنے موبائل کی سکرین پر تو اسے دنیا کی معصومیت ان آنکھوں سے چھلکتے دیکھائی دے رہی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ وہ ہوٹل روم ہے جہاں دوسرا مرڈر ہوا تھا ۔۔۔”
“دوسرا۔۔؟؟”
“ہممم پہلا تمہارا تھا۔۔۔ سی یہ رپورٹ میں لکھا ہوا۔۔۔”
وہ تینوں آفیسر اندر چلے گئے تھے
“ہوٹل کا یہ فلور ابھی تک کلئیر نہیں کروایا گیا یہ آفیسر بھی تھے۔۔ اس لیے اس فائل کو کلوز نہیں کیا گیا لیک آف ایویڈینس کی وجہ سے۔۔۔”
وہ اس کمرے میں داخل ہوگئے تھے
“نعمان تم بولتے جاؤ وجہ اور رپورٹ کی ہائی لائٹ۔۔ شاہد تم یہاں آؤ میرے سامنے۔۔۔
ری کریٹ کریں سین ۔۔۔”
“فائل اور رپورٹ کے مطابق۔۔۔یہ وکٹم ۔۔پلیز نام کی جگہ ابھی وکٹم ہی کہوں گا۔۔”
“اوکے سٹارٹ۔۔۔”
“وکٹم یہاں اس روم میں ایک ہفتے سے رہ رہا تھا۔۔۔ جس رات اس نے یہاں سے جانا تھا اسی دن اسے یہاں کوئی ملنے آیا نیچے ریکارڈ روم میں نام نہیں مگر شک ہے کہ ۔۔یا پھر یقین ہے کہ وہ مس پریہان تھی۔۔ کیونکہ فوٹیج کا حوالہ دیا گیا ہے۔۔۔ ایلویٹر سے یہاں اس فلور تک آنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔
مگر۔۔۔۔”
“مگر میں بتاتا ہوں۔۔۔ پریہان یہاں اس فلور پر آئی عین اسی ٹائم یہاں کسی ایک روم میں بلاسٹ ہوا۔۔۔ ہر طرف دھواں گرد جمع ہوگئی تھی۔۔۔ اس بیچ کسی نے بھی پریہان کو اس روم میں جاتے ہوئے نہیں دیکھا رائٹ۔۔؟؟”
حنین نے نعمان کی طرف پر امید ہوکر پوچھا تھا
“ہاں۔۔۔ سوائے ایک گواہ کے۔۔۔”
“گواہ۔۔؟؟”
“ہممم۔۔۔ جزیل عباسی۔۔۔”
“جزیل۔۔۔۔۔”
۔
حنین نے غصے سے فائلز پکڑ کر دیوار پر دے ماری تھی۔۔
“کوئی ایک خانہ ہے جو جزیل نے گواہی نہ دے کر فل نہ کیا ہو۔۔؟؟ ہر جگہ گواہ بنا ہوا ہے۔۔۔
اب تو مجھے شک ہونے لگا ہے اپنی کوئی دشمنی نکالی ہے میرے قتل کا بدلے لینے کے بجائے۔۔۔”
بات کرتے کرتے وہ اداس ہوگیا تھا سر کو ہاتھوں میں پکڑے وہ پاس پڑی کرسی پر بیٹھا تو نعمان ایک کاغذ لیکر اسکے پاس آیا
“یہ کیا کوڈ ہے۔۔؟؟ یہ وہاں اس سیف کے پیچھے دیوار کے ساتھ اٹیچ تھا
“نائن ایٹ نائن الیون۔۔۔”
“یہ کوئی کوڈ ہے۔۔ کیا تمہیں پتہ ہے۔۔؟؟”
نعمان نے پوچھا تو حنین جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوکر کمرے کی پوشیدہ جگہ میں کچھ تلاش کرنے لگا تھا
“حنین کیا ہوا کیا ہے کوڈ۔۔؟؟ کیا ڈھونڈ رہے ہو۔۔؟؟”
“یہاں کوئی ہڈن کیمرہ ہے اسے ڈھونڈو۔۔۔۔وہ یہی ہے۔۔۔”
اور آنے والے تیس منٹ میں وہ کمرے کی چیزیں یہاں سے وہاں کردی تھی
“کہیں نہیں مل رہا کچھ بھی حنین یہ کوڈ کچھ اور بھی تو ہوسکتا۔۔۔”
نعمان کو پیچھے کرکے حنین بیڈ پر چڑھ گیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے چھت پر لگے فین کو اتار لیا تھا۔۔۔اور فین کے راڈ پر اسے ایک چھوٹا سا ہڈن کیمرہ شو ہوگیا تھا
“گائیز۔۔۔یہ کمرہ ویسے ہی کرو جیسے تھا۔۔۔اور شاہد جلدی سے ایسا ہی ایک کیمرہ لیکر آؤ بیٹری والا۔۔۔ ہم وہ اسکی جگہ اٹیچڈ کریں گے۔۔۔ ہوسکتا ہے مجرم پھر سے یہاں آئے۔۔
جلدی کرو سب۔۔۔ پرسو سزا کی تاریخ سے پہلے وکیل صاحب کو یہ ثبوت دینے ہیں۔۔۔”
۔
حنین جلدی سے وہاں سے وہ کیمرہ لیکر چلا گیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر میری نوکری بھی جاسکتی ہے۔۔۔”
“جان چلی جائے گی اسکا افسوس نہیں ہوگا۔۔۔؟؟”
“اس راستے سے آجائیں۔۔۔”
پیچھے کے راستے سے جزیل جیسے جیسے اندر اندھیرے سے بھرے رستوں پر چل رہا تھا وہ اس جیل کے سیل کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔۔
اب اسے یہاں ہر قسم کی بو آرہی تھی اسے یہاں ہر گندگی محسوس ہورہی تھی
اب وہ اس باوری کو بےگنا سمجھنے لگا تھا جسے یہاں تک پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار خود اسی کا تھا
“آپ اندر جا سکتے ہیں۔۔جیسے ہی بڑے صاحب آئیں گے تو میں اشارہ کردوں گا آپ پچھلے دروازے سے باہر چلے جائیے گا۔۔۔”
جزیل بنا کوئی جواب دئیے اندر چلا گیا تھا۔۔۔
“پی۔۔۔پریہان۔۔۔”
سمٹھی ہوئی پریہان اپنی جگہ سے ہلی ضرور تھی مگر جزیل کی آواز سن کر وہ پھر سے پتھر بن گئی تھی۔۔۔
“حنین۔۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی اسکی سرگوشی جزیل کے تن بدن میں جیسے ابلتا ہوا پانی گرا گئی تھی جب اس نے اپنی ہی بیوی کے منہ سے اپنے بھائی کا نام سنا۔۔۔
۔
“تمہیں پتہ ہے تم میری منکوحہ ہو۔۔؟؟ میرے نام کی جگہ میرے بھائی کا نام۔۔۔؟
اچھی بیوی ایسی نہیں ہوتی۔۔۔”
گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پریہان کے کان میں جیسے ہی سرگوشی کی تھی پریہان نے پیچھے سرکنے کی کوشش کی تھی وہ اپنی اس حالت میں بھی اس شخص کے پاس نہیں رہنا چاہتی تھی زخمی بےہوشی بےسد حالت میں بھی وہ پیچھے سرک کر اپنی نفرت اپنی حقارت واضح کررہی تھی جزیل پر جو سمجھ بھی رہا تھا۔۔
وہ جو اس پر پچھلے دو سال سے ظلم و ستم کرواتا رہا اب اسے اس لڑکی کا اس سے پیچھے جانا بھی ناگوار ٹھہر رہا تھا۔۔۔
وجہ اسے بھی نہیں معلوم تھی۔۔۔
“پریہان۔۔۔ ٹاک ٹو مئ۔۔۔ کیا تم جس سے پیار کرتی تھی وہ میں تھا۔۔۔؟
کیا ماضی میں ہم مل چکے تھے۔۔؟ کیا ان کتابوں میں تم نے میرا ذکر کیا تھا۔۔۔
مجھے بتاؤ پریہان میں سخت اذیت۔۔۔”
“مجھے اتنی پہنچا کر تھوڑی سی اذیت برداشت نہیں کرپارہے آپ۔۔؟؟
مگر میں آپ جتنی ظالم نہیں ہوں بتا دیتی ہوں وہ کون ہے جس کی باوری میں ہوں۔۔۔”
پریہان نے بالوں کو چہرے سے پیچھے کیا تو جزیل کو اپنی طرف جھکنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
اسکی آنکھوں میں ایک الگ چمک تھی جیسے وہ اپنے حواس کھو چکی ہو وہ جیسے مسکرا کر جزیل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
جزیل کے کانوں کے پاس لب لے جاکر اس نے جیسے ہی اپنا سچ بتایا تو جزیل عباسی کو مکمل برباد کردیا تھا اس کی کہی ہوئی باتوں نے۔۔۔
“میں ہمیشہ سے ایک ہی شخص کی باوری رہی۔۔۔ اور وہ حنین ہے۔۔۔ میری روح میرے تن من پر صرف اسی کا حق رہا اور رہے گا۔۔۔ آپ کی منکوحہ تو بن گئی میں۔۔۔
پر میں ابھی بھی حنین کی ہوں۔۔۔ اس لیے غیرت جگائے اور وہ کردیں جو پچھلے دو سال سے کرنے کی کوشش کررہے ہیں جان سےمار دیں مجھے۔۔۔
مسٹر جزیل۔۔۔ حنین مر چکے ہیں۔۔ چاہے زندہ ہوں۔۔وہ مرگئے ہیں۔۔۔
اور میں مرنا چاہتی ہوں۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اور وہ اونچی آواز میں ہنسنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔بہت اونچی آواز میں۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔منکوحہ۔۔۔؟؟ ہاہاہاہاہا۔۔۔”
وہ ہنسی کوئی نارمل ہنسی نہیں تھی جب اس نے تالیاں بجانا شروع کردی تھی اور بہت سے لوگ بھاگتے ہوئے اندر آگئے تھے
“سر آپ جائیں یہاں سے۔۔۔ انہیں پھر سے دورہ پڑ رہا ہے۔۔۔جلدی جائیں۔۔”
“دورہ۔۔؟؟”
جزیل کو کھینچتے ہوئے لاکر سے باہر لے گئے تھے وہ لوگ۔۔۔
۔
“باوری۔؟ اور میں۔۔؟؟ میں کسی کی باوری نہیں ہوں۔۔۔ میں بس پیا ہوں حنین کی۔۔”
ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردئیے تھے اس نے کوئی بھی اسے پکڑنے کی کوشش کرتا تو وہ یہی کررہی تھی۔۔۔آوازیں باہر تک پیچھا کررہی تھی جزیل عباسی کا۔۔۔
وہ جو لاجواب لوٹا تھا۔۔۔ وہ جو پریشان لوٹا تھا اس جیل سے۔۔۔
اور وہ جو فکر مند واپس پلٹ گیا تھا۔۔۔ اب سے زیادہ پختہ ارادے کے ساتھ کہ وہ اسے چھڑا لے گا یہاں سے۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔