Piya Baawari by Sidra Sheikh readelle50037 Episode 03
No Download Link
Rate this Novel
Episode 03
“وہ رہی باوری پیا کی وہ کلپ پھر سے لگاؤ ایک بار پھر سے۔۔۔”
“بہت بُرا ہوا اس کے ساتھ۔۔وہ جو اپنی کہانیوں میں کسی کردار کو بیوہ نہ لکھتی تھی وہ خود پر گری یہ قیامت کیسے برداشت کرے گی۔۔”
لاونج میں مسافر ٹی وی سکرین دیکھ رہے تھے اور گوسپ کررہے تھے۔۔
طیارے کی فنی خرابی نے جزیل کی فلائٹ لیٹ کردی تھی اور اب وہ پبلک فلائٹ کے لیے ویٹ کررہا تھا۔۔۔
پیا باوری لفظ پر بھی اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ بات کس کی ہورہی۔۔۔
اور جب نیوز چینل پر وہ چلتی ویڈیو دیکھی جس میں وہ لڑکیگاڑی رکتے ہی بھاگتے ہوئے اس ہسپتال کی جانب بڑھ رہی تھی لوگوں کی بھیڑ میں۔۔
جزیل کو اپنے بھائی کا چہرہ نظر آرہا تھا
وہ نظریں نیچے جھکائے بلیک گلاسزز لگا چکا تھا وہ بس گھر جانا چاہتا تھا اسکے وجود سے ہمت جاتی جارہی تھی۔۔۔
“لفٹنٹ حنین عباسی کی وائف پریہان حنین عباسی۔۔۔”
وہ موبائل اسکے ہاتھ سے نیچے گر گیا تھا وہ بےچین نظریں پھر سے ٹی وی سکرین پر ٹک گئی تھی
مگر وہ چہرہ اسے ٹھیک سے نظر نہیں آرہا تھا۔۔
“شئ از آ فیمس رائٹر۔۔۔ مگر انکا چہرہ آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا یہ فرسٹ پبلک اپئیرنس ہے ان کا۔۔۔”
بنا پوچھے اسکے تمام سوالات کے جوابات مل رہے تھے اسے۔۔
اور اناؤنسمنٹ ہوگئی تھی اسکا اسسٹنٹ پہلے ہی لگئیج پکڑے اسکے پیچھے پیچھے تھا۔۔
۔
وہ تیز قدموں سے چل رہا تھا جاتے جاتے بھی ان سکرین پر اسے وہی ویڈیو دیکھنے کو مل رہی تھی۔۔۔
اُسے اپنی بھابھی کے لیے بھی اتنا ہی دُکھ پورہا تھا جتنا اپنے بھائی کے بچے کے لیے
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ نے کہا تھا وہ زخمی ہوئے ہیں حنین ٹھیک ہے بابا۔۔”
وہ والد کی گرفت سے خود کو چھڑانے کی کوشش میں تھی۔۔
“پریہان سنبھالو بیٹا تمہارے سسر ابھی گئے ہیں ان لوگوں کے ساتھ وہ۔۔”
والدہ نے بیٹی کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔
“ایم سوری سر ہمیں رونگ انفارمیشن دی گئی تھی ایم سوری۔۔۔حنین کی دیتھ۔۔۔”
وہ اور سننے کی طاقت کھو چکی تھی بےہوش ہوکر گر گئی تھی وہ وہاں۔۔
اسکی گلاسزز بھی اتر کر دور جا گری تھی۔۔۔
“یہ میرے گھر کی بربادیوں کی شروعات ہے۔۔۔ جوان بیٹا کہ جس کا وجود بھی نہیں رہا کہ جسے ہم دفنا سکیں۔۔۔ میری بیوی جو ان دل کی مشینوں میں گھری پڑی ہے۔۔اور میری بہو۔۔۔ میرا پوتا۔۔۔”
وہ لوگ پریہان کو اٹھا کر روم میں لے گئے تھے جب آفاق صاحب اشک بہاتے ہوئے وہاں بیٹھے تھے۔۔۔
“وہ شہید ہوئے ہیں آن ڈیوٹی انکی جان گئی ہے وہ مشن پر تھے انکل۔۔”
سہیل صاحب کے گلے لگ کر وہ اور زیادہ رونے لگے تھے زندگی سچ میں رک گئی تھی انکے لیے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ ٹھیک ہیں اب اس حالت میں انہیں کسی بھی قسم کا سٹریس دینا انکے اور بےبی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔۔”
“ہم پوری کوشش کررہے ہیں بہو کو زیادہ سے زیادہ دور رکھیں اس دکھ سے۔۔”
آفاق صاحب کی بہن نے باقی سب کو بھی پریہان کی کنڈیشن سے آگاہ کیا تھا جو اس وقت کمرے سے باہر تھے آج ایک ماہ سے زیادہ ہونے کو آیا تھا اور پریہان کی حالت میں کچھ بہتری نہ آئی تھی اب تو رشتے دار بھی جانا شروع ہوگئے سب رسومات پوری ہوگئی ہوئی تھی
جوان موت کا صدمہ صرف گھر والوں کو ہی نہیں پورے خاندان کو تھا ہر کوئی اس ڈکھ میں جکڑ چکا تھا وہاں اگر کوئی تھا جو سب کو ہمت حوصلہ دے رہا تھا تو وہ بس جزیل تھا جو نا چاہتے ہوئے بھی اس گھر کا پرفیکٹ بیٹا بننا شروع ہوگیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔۔”
۔
“میں چاہتا ہوں تم پریہان سے نکاح کرلو جزیل۔۔۔”
“کیا کہا آپ نے ڈیڈ۔۔؟ میں شادی کرلوں۔۔؟ جسٹ لائک ڈیٹ۔۔؟
اپنے بڑے بھائی کی بیوہ سے شادی کرلوں۔۔؟ مذاق سمجھا ہوا ہے شئ از پریگننٹ۔۔
میں گناہ گار ہوں مگر اتنا بڑا گناہ کرنے کے لیے مت کہیں مجھے۔۔”
“تو کسے کہوں۔۔؟ عدت پوری ہونے کے بعد وہ یہاں سے چلے جائے گی۔۔اور وہ وہ زیادہ دیر بیوہ بھی نہیں رہے گی۔۔ اسکی شادی کروا دیں گے اسکے گھر والے۔۔۔اور ایک آخری امید بھی چلے جائے گی اس بچے کے ساتھ جو آخری نشانی ہے ہمارے حنین کی۔۔
جزیل ایک بار ایک بار تو وہ بیٹے بن جاؤ میرے جو ہمیشہ حنین بنتا آیا۔۔۔”
جزیل نے ڈریسنگ ٹیبل سے ہر چیز غصے سے نیچے پھینک دی تھی ہر چیز آنکھوں میں شدید غصے کی وجہ سے پانی بہنا شروع ہوگیا تھا
غصے سے شیشے پر مکا مار کر اسے نے اسے چکنا چور کردیا تھا اور پھر اپنے والد کی طرف دیکھا تھا جو شاکڈ تھے اپنے چھوٹے بیٹے کا یہ روپ دیکھ کر
“یو نو وٹ ڈیڈ۔۔۔ میں اس موقع کی تلاش میں تھا کہ کب ایسا دن آئے کہ میں وہ ہر چیز حاصل کرلوں جو حنین کی ہے۔۔ میرے اندر ایک جنون تھا میں وہ پرفیکٹ بیٹا بننا چاہتا تھا
حنین کو پیچھے چھوڑنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ سب لینا چاہتا تھا۔۔
اور آج جب اس کی جیت اسکی زندگی اسکی محبت اسکی بیوی اسکا بچہ مجھے پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جا رہا ہے میرے دل میں زخم ہونا شروع ہوگئے ہیں۔۔
میں اپنے بھائی سے جلتا تھا مگر نفرت کبھی نہیں کی تھی۔۔
اور آج مجھے خود سے نفرت ہورہی ہے۔۔پلیز میں اپنی بھابھی سے شادی نہیں کرسکتا۔۔
مجھ سے یہ کرنے کا مت کہیں۔۔۔”
وہ گھٹنوں پر بیٹھ گیا تھا
“یہ کمرہ ان دونوں کی داستان سنا رہا ہے ڈیڈ۔۔۔ وہ لڑکی بھائی سے آگے کبھی نہیں بڑھ سکتی وہ جو پتھر بنی بیٹھی ہے وہ کبھی مجھ جیسے شخص کے ساتھ شادی کے لیے ہاں نہیں کرے گی۔۔
یہ گناہ ہے۔۔۔ میں نہیں مانوں گا آپ کی یہ بات۔۔”
“تو پھر سمجھ لینا حنین کے ساتھ ساتھ میں بھی مرگیا تمہارے لیے جزیل۔۔۔ تمہیں کوئی حق نہیں یہاں ہمارے غموں میں شریک ہونے کا۔۔۔ میں سمجھ لوں گا میں نے تمہیں بھی دفنا دیا۔۔۔”
۔
وہ غصے سے اپنے کمرے سے سیدھا باہر نکلا تھا اور جس سے وہ ٹکڑایا تھا وہ گمان بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
پریہان کا کمزور وجود اس ٹکر سے جب پیچھے گرنے کو تھا تو جزیل نے جلدی ہی سہارا دے کرگرنے سے بچا لیا تھا
“آپ۔۔آپ ٹھیک ہیں۔۔؟”
ان جھکتی آنکھو ں کو بہت حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔
وہ جو لڑکی بےسد اپنی دنیا میں مگن ٹیرس پر جانے کو تھی سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ کتنے قدم پیچھے ہوئی تھی بےیقینی سے۔۔۔
دوپٹے سے چہرہ ڈھانپے وہ واپس بھاگ گئی تھی اپنے کمرے میں۔۔۔
“بھا۔۔بات سنیں۔۔۔”
وہ اس کمرے کے باہر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“بھابھی۔۔۔؟؟؟ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟ میں جزیل۔۔۔ حنین بھائی کا چھوٹا بھائی۔۔۔”
عین اسی وقت اندر کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی تھی
“آپ ٹھیک ہیں۔۔؟کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی۔۔۔۔آپ کو کچھ چاہیے تھا۔۔؟ میں پھوپھو کو ثانیہ کو بھیجوں۔۔؟؟”
وہ ناک کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا وہ اپنے کنسرن پر خود بھی حیران تھا جہاں وہ گھبراہٹ بھرے لہجے میں پوچھ رہا تھا وہیں
“میں۔۔ٹھیک ہوں آپ جائیں یہاں سے پلیز۔۔۔”
“اوکے۔۔۔ بھابھی۔۔۔ میں کسی کو بھیجتا ہوں پلیز دروازہ کھول دیجئے میں جارہا ہوں۔۔ ایم سوری مجھے یہاں نہیں رہنا چاہیے تھا آپ عدت میں ہیں۔۔ ایم سوری۔۔۔”
وہ اپنی گھبراہٹ میں وہ الفاظ بول گیا تھا جو اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں بولے تھے وہ معافی مانگ رہا تھا۔۔ وہ جانتا تھا اسکی غلطی نہیں تھی وہ بےدھیانی روم سے باہر آرہا تھا وہ غصے میں تھا جب وہ ٹکرایا۔۔ مگر پھر بھی وہ اس لڑکی کی گھبراہٹ پر بار بار سوری کررہا تھا
وہ جزیل آفاق عباسی۔۔۔
۔
وہ جب خاموشی پا کر وہاں سے واپس اپنے روم میں گیا تھا اسکے ذہن پر ایک ہی سوال سوار تھا۔۔
“وہ آنکھیں میں نے پہلے کہیں دیکھی ہیں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عدت مکمل ہوچکی ہے آپ کب بات کریں گے آفاق۔۔؟ اس لڑکی کا چہرہ بھی برداشت نہیں کرسکتی میں اس گھر میں”
“میں ایک ہی بات پر بار بار بحث نہیں کروں گا تم سے۔۔۔ وہ کہیں نہیں جائے گی اور نہ ہی ہمارا پوتا۔۔”
“اسکی طرح وہ بچہ بھی منحوس ہوگا آفاق مجھ سے لکھوا لیں ہمیں نہیں چاہیے کچھ بھی۔۔”
حنین کی والدہ جیسے ہی اشکبار ہوئیں تو آفاق صاحب جلدی سے سائیڈ ٹیبل سے انکی میڈیسن اٹھا کر انہیں کھلا چکے تھے
“ہمارا بیٹا ہمیں چھوڑ گیا آفاق اب ہم اسے دیکھ نہیں پائیں گے۔۔”
وہ روتے ہوئے کسی بچے کے جیسے بلبلا رہی تھی
“پریہان کی جگہ خود کو رکھ کر سوچو۔۔۔ وہ کس کرب سے گزر رہی ہے اسکی محبت حنین کے لیے بےمثال تھی تم جانتی ہو۔۔۔”
اپنی بیوی کو بیڈ پر لٹائے وہ پیچھے ہوگئے تھے جب انہوں نے روم میں لیڈی ڈاکٹر کو اینٹر ہوتے دیکھا۔۔
یہ روز مرہ کا کام بن گیا تھا دوائیاں دے کر انہیں سلانے والا
حنین کے جانے نے سب چھین لیا تھا اس گھر سے انکی خوشیاں انکی ہنسی انکی زندگیاں۔۔
۔
“ڈیڈ آپ نے بتایا موم کو پھر۔۔؟؟ بھابھی۔۔میرا مطلب ہے اس لڑکی کی فیملی نے کیا جواب دیا۔۔؟”
دروازہ بند کئیے وہ دونوں بیڈروم سے باہر آگئے تھے
“جزیل بس تھوڑا وقت دو مجھے بیٹا۔۔بس تم اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹو گے وعدہ کرو۔۔”
“آپ جانتے ہیں میں اپنے کہے الفاظ اپنے عہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔۔۔آپ دادی جان کو بُلا لیں وہ بات کریں امی سے۔۔۔”
“وہ تو اور بھی خلاف ہیں پریہان کے۔۔اس بچی کو سب منحوس سمجھ رہی کہ جسکی اپنی دنیا اجڑ گئی۔۔”
۔
کچھ دیر اور باتیں کی تھی آفاق صاحب نے پھر جزیل کو اپنے گلے سے لگایا تھا واپس جانے سے پہلے۔۔۔وہ دونوں مستقبل کی ساری تیاری کربیٹھے تھے پوری طرح۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میرے بیٹے سے نکاح۔۔؟؟ میں تمہیں ایک اور منٹ برداشت نہیں کروں گی۔۔”
“پلیز امی۔۔۔حنین کی یادیں اس کمرے میں میں مجھے انکی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں مجھے اور اس بچے کے سر سے حنین کا یہ سایہ نہ چھینے۔۔”
آنکھوں کے نیچے ہلکے اترا بھیگا چہرہ دیکھ کر حنین کی والدہ کا غصہ جیسے ایک دم سے کم ہوگیا تھا مگر جب دیوار پر لگے بیٹے کی فوٹو فریم کو دیکھا تو انہوں نے پریہان کا بازو غصے سے پکڑ کر کمرے سے باہر کھینچنا شروع کردیا تھا
“میری اولاد کو تو کھا گئی ہو اب میرے دوسرے بیٹے کی جان لینا چاہتی ہو۔۔؟ تمہاری نحوست نے سب ختم کردیا میرے بیٹے کی زندگی بھی۔۔۔”
“پلیز امی۔۔۔”
“خبر دار جو مجھے امی کہا۔۔۔”
وہ جیسے سیڑھیوں سے نیچے لے جاتے پریہان پر چلائی تھی پریہان میں ہمت نہیں تھی کچھ اور بولنے کی اور جب آخری چند سیرھیوں سے نیچے کھینچنے کی کوشش کی تو پریہان کا پاؤں پھسل گیا تھا۔۔۔وہ کچھ سیڑھیوں سے نیچے گرتی ہوئی جس شخص کے قدموں میں جا گری تھی وہ آج اپنی والدہ کے اس ظالمانہ روپ کو دیکھ کر حیران تھا۔۔۔
“حنین۔۔۔” درد سے چلاتی پریہان اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے سمٹ کررہ گئی تھی۔۔۔ اسکی چیخیں گونج رہی تھی جہاں اسکی ہنسی گونجتی تھی اپنے شوہر کے ساتھ۔۔۔آنکھیں بند کرنے سے پہلے اس نے یہاں وہاں نظریں ضرور گھمائی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ باوری بہت خوش تھی اپنی شادی شدہ زندگی میں مگر کچھ تو تھا جو اسے دور کئیے ہوئے تھے ۔۔۔دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہوگئے تھے
مگر اس باوری کے دل میں ایک خلا گھر کر گئی تھی وہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھ چکی تھی پھر کیوں ان آنکھوں کو وہ بھول نہیں پائی تھی کیوں وہ بےچین رہتی تھی کیوں دل بےقرار رہتا تھا۔۔۔”
اور اس باوری نے خود سے عہد کیا تھا وہ اپنے ماضی کا ہر راز اپنے مجازی خدا کو بتانے کے بعد وہ ماضی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھلا دے گی دفنا دے گی۔۔۔
۔
“میں جارہا ہوں واپس آنے کے لیے پھر ہم لونگ وکیشن پر جائیں گے تم میں اور ہمارا اینجل۔۔۔ “
“ہر بار ایسے ہی کہتے ہیں حنین۔۔۔”
“چل جھوٹی۔۔ ہر بار گھمانے لیکر بھی جاتا ہوں لکھاری صاحبہ۔۔۔”
“حنین۔۔۔”
وہ آوازیں مدھم ہونا شروع ہوگئی تھی اور پھر خاموشی کے بعد اسکی بند آنکھوں میں حرکت بھی ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“آپ دونوں کہاں ہیں حنین۔۔۔ہمارا بچہ کیوں رو رہا ہے۔۔”
“ہم دونوں یہیں ہیں چشمش جلدی آجاؤ یہاں۔۔۔”
وہ وہاں فاصلہ کم کررہی تھی اور یہاں اسکے ہوش واپس آرہے تھے۔۔
وہاں حنین کے ہاتھوں میں ہاتھ دینے والی تھی وہ باوری اور یہاں اسکی آنکھیں پوری طرح کھل گئی تھی۔۔
“ہاسپٹل کے روم کو دیکھ کر بےساختہ ہاتھ اسکے پیٹ پر رکھا تھا اس نے۔۔۔
اور آنکھیں بند کرکے لیٹ چکی تھی۔۔۔
وہ ایک موت کے ماتم سے اسکے سوگ باہر نہیں نکل پائی تھی اور اب ایک اور موت۔۔۔
۔
“قصے کہانیوں میں کردار مر جائیں تو موت لکھنا بہت آسان ہوتا ہے مگر حقیقت میں وہی سب لکھنے والا خود کو سنبھال نہیں پاتا کیونکہ لکھنے اور برداشت کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے وہ رائٹر صاحبہ آج سعی معنوں میں سمجھ گئی تھی۔۔۔
“حنین میں نے تو آج تک اپنی کہانی میں کسی رنگین کردار کو بیوہ کا لبادہ نہیں اڑایا تھا۔۔
میرا قلم اتنا وزنی ہوجاتا تھا بیوہ لفظ لکھتے ہوئے۔۔ یہ تم نے کیا کردیا ہمارے ساتھ۔۔۔”
۔
۔
“پئشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔۔۔ایم سوری ہم انکے بچے کو نہیں بچا پائے۔۔۔”
انکی بات ختم ہونے سے پہلے ہی پیچھے بڑا سا شیشہ ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے بکھر گیا تھا۔۔۔
جزیل کے قدموں میں اور وہ غصے سے اپنی ماں کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا
“آپ خوش ہیں اب۔۔؟ اپنے بیٹے کی آخری نشانی کو بھی مٹا دیا آپ نے ماں۔۔
میرا فیصلہ سہی تھا جو میں نے دس سال پہلے لیا تھا آپ دونوں سے بلکہ آپ سب سے دور جانے کا۔۔۔”
وہ جانے لگا تھا جب اس نے اپنے آبدیدہ والد اور پریہان کے ماں باپ کی طرف دیکھا تھا
میرا اور پریہان کا نکاح اسی دن اسی وقت ہوگا جو مقرر ہوا تھا۔۔
اور آپ ماں آپ نے اپنے بیٹے کی اولاد کو تو مار دیا ہے مگر نکاح پھر بھی نہیں روک پائیں گی آپ کیونکہ میں اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
