Piya Baawari by Sidra Sheikh readelle50037

Piya Baawari by Sidra Sheikh readelle50037 Last updated: 7 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Piya Baawari by Sidra Sheikh

میری بیٹی جس سے محبت کا اظہار کرے گی اگلے ہی پل اسے موت کی نیند سلا دینا۔۔ اس کااگلا سانس نہ آنے پائے

پریہان کے کانوں میں اپنے باپ کی وہ آواز گونج رہی تھی منجدھار میں پھنسی وہ دونوں اطراف میں دیکھ رہی تھی اور قدم حنین کی طرف بڑھنے کے بجائے جزیل کی طرف بڑھنے لگے تھے

آج وہ باوری خود سے عہد کرچکی تھی اس شخص کی موت پر وہ قصہ بھی ختم ہوجائے گا جو اس شخص سے شروع ہوا تھا اس پیا باوری کا۔۔ جزیل عباسی تمہاری موت پر میرے سارے امتحان بھی دم توڑ دیں گے۔۔ آج میں خود غرض بن جانا چاہتی ہوں۔۔

اسکے چلتے قدموں نے اور تیز چلنا شروع کردیا تھا وہ جیسے ہی جزیل کے سامنے اسکے روبرو ہوئی تھی جزیل نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔

میرے مرنے سے پہلے ایک بار آخری بار اعتراف کرلو وہ 'پیا' میں ہی تھا جس کی 'باوری' تم تھی۔۔؟؟؟" اور جب پریہان نے 'ہاں' میں سرہلایا تھا جزیل نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا اور اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔ وہ اسے سینے سے لگائے خود پریہان کو اپنی جگہ کرچکا تھا اسکی کمر پر چبھن محسوس ہوئی تھی گولی چلنے کے بعد۔۔۔ "جزیل۔۔۔" وہ بھی اس راستے پر آگیا تھا جس رستے پر اسکی بےرخی اسکے ظلم نے پریہان کو چلنے پر مجبور کیا تھا۔۔ وہ بھی اپنے منتقی انجام کا آپہنچا تھا۔۔۔

دوسری طرف سے آوازیں آنے پر اور گولیاں چلنا شروع ہوئی تھی وہ گر گیا تھا زمین پر۔۔۔ "پیا۔۔۔" پریہان کی گود پر سر رکھے اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔ "میری تمہارے لیے نفرت دیکھ لی تم نے۔۔؟؟" "پھر تمہاری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں۔۔؟؟" تمہاری موت پر یہ خوشی کے آنسو ہیں۔۔ مجھے تمہارے زندہ۔۔

شش۔۔۔مرتے ہوئے انسان کو ایسے رخصت نہیں کرنا چاہیے میں کسی دشمن کے لیے بھی ایسی موت نہ چاہوں پیا۔۔۔

اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے جزیل نے وہی ہاتھ پریہان کے پیٹ پر رکھا تھا درد بھری آہ کے بعد ایک خوبصورت مسکراہٹ آگئی تھی اسکے چہرے پر

ہمارے بچے کا خیال رکھو گی نہ۔۔؟؟ میرا نام لیوا گر تم اسے پالنا نہیں چاہتی تب بھی اسے سزا نہ دینا۔۔۔ میری دادی کے پاس چھوڑ دینا۔۔اولڈ ایج ہوم میں۔۔ وہ میرے بچے کا خیال رکھیں گی۔۔تم۔۔۔ وعدہ کرو۔۔

رب نہ کرے کہ یہ زندگی۔۔ کبھی کسی کو دغا دے کسی کو رولائے نہ دل کی لگی۔۔۔ مولا سب کو دعا دے