121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

۔
“تفشالہ غزلان کو پرپوز کرنے سے پہلے اپنے گھر والوں کو خدا حافظ کہہ دینا وہ جو وہاں بیٹھے ہوئے ہیں وہ گارڈز ہیں اسکے۔۔۔
اور وہ جو غریب بہن جی تمہیں لگ رہی ہے وہ اکلوتی وارث ہے غزلان ایمپائرز کی۔۔۔۔”
“سچا پیار کرنے والے کچھ نہیں دیکھتے نہ ذات نہ پات۔۔۔
اور یہ جو بتا کر تو مجھے ڈرا رہا ہے یہ تو وہ کوٹھی والی کی لڑکی ہے اور میرے والی تو۔۔۔۔”
وہ ابھی آپس میں باتیں کررہےتھے جب سامنے بہت سے کالے لباس میں ملبوس لوگ ان کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے تھے
“کاشف کون ہے تم میں سے۔۔۔؟”
ان چاروں لڑکوں نے ایک ہی لڑکے کی طرف اشارہ کیا جو ابھی اپنی محبت کے لمبے لمبے قصیدے پڑھ رہا تھا وہ ڈر کر جیسے ہی بھاگنے کو تھا ان لوگوں نے ںایک دم سے اسے گریبان سے اٹھا کر کالج کی کینٹین کے درمیان میز پر مار دیا تھا۔۔۔
وہ جیسے ہی گرا تو وہ ٹیبل ٹوٹ گئے تھے کرسیوں کے ساتھ۔۔
“تیری ہمت کیسی ہوئی صاحب کی بیٹی پر نظر رکھنے کی۔۔۔”
پانچ منٹ میں وہ سٹوڈنٹ لہو لہان ہوگیا تھا اور وہ کینٹین کا بھی برا حال ہو چکا تھا
“اسکی باڈی جب اسکے گھر بھیجو تو وجہ میں یہ بتانا کہ جن کی عزت پر اس نے نظر رکھی وہ ایسی گستاخی معاف نہیں کرتے آنکھیں نوچ لیتے ہیں۔۔۔۔”
اسکے زخموں سے نڈھال وجود کو وہاں پھینک کر وہ لوگ جیسے ہی سٹوڈنٹس کے رش سے باہر نکلے تھے لوگ گھبرا گھبرا کر اس لڑکی کا نام ایک دوسرے سے پوچھنے کی کوشش کررہے تھے مگر جواب کسی کو معلوم نہ تھا۔۔۔۔
“سیریسلی ڈیڈ۔۔۔؟؟؟” وہ غصے سے کالج سے سیدھا گاڑی میں بیٹھ کر گھر گئی تھی جہاں پہلے ہی گارڈ دروازہ کھول چکے تھے ۔۔۔۔اور تیزی سے گاڑی اندر کی طرف چلی گئی تھی اسکے حکم پر ڈرائیور نے ڈرائیو فاسٹ کردی تھی۔۔۔۔
۔
“ڈی۔۔۔۔”
وہ جو لال سرخ غصے میں گھر آئی تھی اپنے والد کے کسی ملازم کو مارتے دیکھ وہ بھیگی بل بن گئی تھی۔۔۔
“تفشالہ۔۔۔۔۔”
“ڈی۔۔۔۔موم۔۔۔۔ائی مس یو موم۔۔۔۔”
گھبراتے ہوئے وہ اپنی والدہ سے لپٹ گئی تھی جو اپنے شوہر کو ایک نظر دیکھے اپنی بیٹی کو وہاں سے لے گئیں تھیں۔۔۔۔
“موم۔۔۔۔”
“میری پیاری بچی۔۔۔۔ آپ کو بھی پتہ ہے نہ ڈیڈ اور میں آپ کو بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔
چلو بنا ڈرے بتاؤ۔۔۔”
“وہ موم۔۔۔”
“تفشالہ۔۔۔تفشالہ۔۔۔”
غزلان صاحب کی گرجتی ہوئی آواز سن کر تفشالہ کے ہاتھوں سے کتابیں بھی نیچے گر گئی تھی۔۔۔
“موم۔۔۔”
عائشہ بیگم نے سہمی ہوئی بیٹی کو اپنے سینے سے لگایا اور باہر جانے سے صاف منع کردیا تھا۔۔۔
اور کچھ ہی دیر بعد گولی چلنے کی آواز آئی۔۔ اور پھر غزلان صاحب کی وارننگ نے اسکے مستقبل کے ہر خواب کو چکنا چور کردیا تھا اس کمرے کی چار دیواری میں۔۔۔
“یہ لڑکا اسکا پیچھا کرتا رہا اور یہ انجان بنتی رہی۔۔؟ اگر پہلے بتا دیتی تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی اب یہ ڈوٹکے کے فقیر ہماری بچیوں کے پیچھے گلاب کے پھول لیکر گھومتے پھیریں گے۔۔؟”
“غزلان۔۔۔”
عائشہ بیگم نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جیسے ہی انہیں سمجھانے کی کوشش کی انہوں نے ایک اشارے سے اپنے لوگوں کو اس لڑکے کو باہر لے جانے کا کہہ دیا تھا
“آج کے بعد اسکی تعلیم بند۔۔ کوئی کالج کوئی اکیڈمی کوئی ایکسٹرا کلاس نہیں۔۔
اپنی لاڈلی سے کہہ دینا گھر سے باہر قدم رکھے تو کاٹ دوں گا۔۔۔”
للکارتے ہوئے وہ چلے گئے تھے مگر جانے سے پہلے سختی سے منع کردیا تھا انہوں نے تفشالہ غزلان کو باہر قدم رکھنے سے اور پہرے لگا دئیے تھے۔۔۔
“ان کا کچھ نہیں ہو سکتا ماں جی۔۔۔ہر دوسرے دن بعد یہی ڈرامہ۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ تو اسے ٹھیک بھی تم ہی کرتی ہو تمہاری تو سنتا ہے۔۔۔”
عائشہ بیگم نے فرش پر بکھرے خون کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے اوپر کمرے کی طرف دیکھا تھا
وہ نہیں چاہتی تھی انکی معصوم بچی یہ خون خرابہ دیکھے مگر وہ پہلے ہی دیکھ ک دروازہ بند کرچکی تھی۔۔۔
۔
تفشالہ۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پریہان۔۔۔۔پیا۔۔۔”
۔
“اسکے ہاتھ میں جو چاک تھا جس سے وہ اس جیل کی دیوار پر کچھ بنارہی تھی وہ ہاتھ رکھ گئے تھے۔۔ اس جانی پہچانی آواز پر۔۔۔
سر پر آئے بکھرے ہوئے بالوں نے اسکے چہرے کو کور کیا ہو ا تھا وہ نہ کچھ ری ایکٹ کررہی تھی نہ ہی کوئی جواب دیا تھا اس نے اپنا نام سن کر بس اسکے ہاتھ کچھ وقت کو رکے اور پھر چلنا شروع ہوگئے تھے
“بیٹا مجھے پہچانا ۔۔۔؟ میں مسز سائمن۔؟تم شاید مجھے پہچان بھی لو پر میں نے تمہیں نہیں پہچان پا رہی رہی پریہان یہ حالت بنا لی ہے اپنی۔۔؟؟”
مسز سائمن گلاسز اتار کر پاس بیٹھ گئی تھی پریہان کے
“بیٹا آج تم یہان جس کی وجہ سے ہو اسکے ذمہ دار ہم لوگ ہیں۔۔یہ ہماری جنگ تھی جو تم نے لڑی دیکھو کیا کردیا ان لوگوں نے۔۔پہلے سائمن کو مار دیا اور پھر ہمارے بیٹے اور اب تم۔۔۔ “
پریہان کے ہاتھوں کو ہاتھوں میں لئیے وہ بہت زیادہ رونا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔مگر پریہان کی طرف سے انہیں وہ جواب نہیں ملا تھا
“سائرہ کے ساتھ ساتھ باقی سب کو بھی مار دیا گیا۔۔۔اگر تم اب بھی ہمت نہیں کرو گی تو سب کی قربانیاں رائگاں چلی جائیں گی۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں حرکت ہوئی تھی مسز سائمن کی باتیں سن کر مگر کوئی دیکھ نہیں پایا تھا۔۔۔۔
“تم سن رہی ہو نہ بیٹا۔۔؟؟ جس سچائی کی جنگ کو ہم نے شروع کیا تھا اس نے سوائے بربادیوں کے کچھ نہیں دیا۔۔ حنین نے جو کیا مجھے پتہ چلا جانتی ہوں ہم لوگوں کے پیچھےسب سے زیادہ نقصان تمہارا ہوا ہے میری بیٹی۔۔۔”
۔
وہ وہاں کچھ دیر اور باتیں کرتی چلی گئی تھی جب تک کہ وقت نہ ختم ہوگیا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سائرہ حمید، شائنہ مرتضی،عینی عابد، اور دو لوگ۔۔۔”
“ایک منٹ۔۔ جو گاڑی کھائی میں گری تھی اس میں چار لوگ تھے۔۔۔ “
“سر پانچ لوگ تھے۔۔۔”
“تم کیسے اتنی گاڑنٹی سے کہہ سکتے ہو۔۔؟؟”
“کیونکہ ہم نے ہی گاڑی کو ریکور کروایا یہ ان کی ڈیڈ باڈیز آپ کے سامنے ہیں۔۔۔”
“شاہد۔۔۔”
حنین چہرے سے ماسک اتار کر مارگ روم سے باہر آگیا تھا۔۔اور باہر آتے ہی اپنے ساتھی دوست کو بلایا تھا
“حنین میں نے کہا تھا یہاں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔ اگر نمرہ پر شک ہے تو اسے فال اپ کرنا چاہیے موقع کی مناسبت کو سمجھو۔۔”
“یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔”
شاہد کا بازو پکڑ کر دوسری طرف لے گئے تھے
“گاڑی میں چار لوگ تھے مگر اندر باڈیز پانچ کوگوں کی ہے۔۔”
“چار پانچ ہوں گے کیا پتہ ہمیں۔۔”
“سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دیکھی تھی کیا ایڈیٹ۔۔؟؟ یہ کیس صرف نمرہ پر نہیں ہر اس شخص ہر ایک نقطے سے جڑا ہوا ہے۔۔۔
یہ باڈیز اگر پانچ ہیں تو یقینا ان پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ یہ اصل لوگ ہی تھے۔۔”
“تو۔۔؟؟ ہم واپس جائیں گے تمام وکٹمز کے گھروں میں”
“مگر ایک بار آپ کو جزیل سے بات کرنی ہوگی کیونکہ کچھ ثبوت انکے پاس پہلے سے ہیں اور ہمیں فائدہ ہوگا۔۔۔”
“میں کبھی اسکی مدد۔۔۔”
“ایک بار سوچ لیں مس پریہان کے کیس کو ہر طرح کے ایوڈینس کی ضرروت ہے۔۔”
۔
وہ دونوں جیسے ہی جزیل کی انفارمیشن لیکر نمرہ کے گھر کے سامنے کھڑے تھے ٹھیک نمرہ کی گاڑی کے ساتھ انہیں جزیل کی گاڑی میں ملی تھی۔۔۔
۔
مگر وہ گھر کے کھلے دروازے کو دیکھ کر جیسے ہی اندر داخل ہوئے تھے بیڈروم کے منظر نے حنین کو سپیچ لیس چھوڑ دیا تھا۔۔۔
اسکے باقی آفیسرز نیچے ہی اسکے انتظار میں کھڑے تھے۔۔۔
اور حنین بھی باہر آگیا تھا غصے سے۔۔۔
“یہ میرا بھائی کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟ اسے پتہ ہے اسکا نکاح پریہان سے ہوچکا ہوا پھر بھی یہ ۔۔۔”
مٹھی بند کئیے وہ سب کو وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔مزید کچھ دیکھنے کچھ سننے سے پہلے۔۔۔
۔
“جزیل۔۔۔کم آن ہنی۔۔۔اتنا دور کیوں کھڑے ہو۔۔”
“میری جان وہاں بھی آجاؤں گا اتنی بھی جلدی کیا ہے۔۔۔پہلے میری بات کا جواب تو دہ دو۔۔۔”
“ہاہاہاہا کیا انٹیروگیشن کے لیے مجھے کچھ نشہ آور پلا دیا تم نے۔۔؟؟
کچھ نہیں اگلوا پاؤ گے میرے منہ سے جزیل۔۔۔”
وہ پھر جزیل کی شرٹ کے بٹن کھولنا شروع ہوئی جب جزیل پیچھے ہٹ گیا تھا
“جزیل۔۔۔آئی لو یو۔۔۔”
“تو پھر بتاؤ مجھے۔۔۔وقار نامی وہ شخص کہاں ملے گا۔۔؟جس نے وہ خنجر تمہیں دیا تھا۔۔”
“کون وقار۔۔۔؟؟ اچھا وہ والا وقار۔۔۔وہ اس کلب میں ہوتا ہے۔۔۔مگر اب میں نے اسے انڈر گراؤنڈ کروا دیا ہے۔۔۔ہاہاہا اب وہ پکڑ میں نہیں آئے گا۔۔۔”
“بہت سمارٹ سمجھتی ہو خود کو۔۔؟”
بالوں سے پکڑ کر نمرہ کو اپنی طرف کھینچا تھا
“میں ہوں سمجھدار۔۔۔ابھی تو شروعات ہوئی ہے۔۔۔”
وہ نشے کی حالت میں اور بہت سی باتیں کررہی تھی۔۔اور جزیل غصے سے وہاں سے جانے لگا تھا جب اس کی نظر ایک کارنر پر پڑے اس لیپ ٹاپ پر پڑی
“ہر بار نہیں نمرہ۔۔۔”
جزیل واپس دو قدم پیچھے آیا تھا نمرہ پہلے ہی بیڈ پر سو چکی تھی جزیل وہ لیپ ٹاپ لئیے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہیں یہاں آنے کی کیا ضرورت ہے۔۔؟؟ یا پھر ثبوت مٹانے آئے ہو یہاں۔۔؟”
جزیل کو بازو سے پکڑ کر وہیں روک کر پوچھا حنین نے
“حنین بھائی۔۔۔”
“بھائی مت کہو مجھے۔۔۔”
“اوکے مسٹر حنین۔۔۔ وہ جو اس وقت جیل میں ہے جس کے پاس اتنا وقت نہیں۔۔۔ وہ میری بیوی ہے۔۔۔ میں اسکی بےگناہی جاننا چاہتا ہوں۔۔۔”
“ب۔۔۔بیوی۔۔۔؟”
نمرہ ان دونوں بھائیوں سے پیچھے ہوئی تھی
“تو یہ کون ہے۔۔؟؟ یہ لڑکی جس کے ساتھ کل رات میں نے تمہیں دیکھا۔۔ فزیکل ہورہے تھے۔۔ تمہاری لوو میکنگ اور یہ گندہ رشتہ۔۔۔ میری پیا کے ساتھ بھی یہی کیا زبردستی نکاح کرکے اپنے بستر پر۔۔۔”
حنین کو ایک مکا مار کر جزیل نے پیچھے پھینک دیا تھا
“عزت ہے وہ میری ڈیم اِٹ۔۔۔ نکاح کیا ہے۔۔ ۔ کیسے الفاظ استعمال کررہے ہیں حنین بھائی۔۔؟؟”
وہ پھر مکا مارنا چاہتا تھا اس نے ہاتھ بھی آگے بڑھایا تھا مگر حنین کے ہونٹ اور ناک سے نکلتے ہوئے خون کو دیکھ کر اس نے وہی مکا گاڑی کے شیشے پر مار دیا تھا۔۔۔
“شیم آن یو۔۔۔”
“شرم تمہیں آنی چاہیے تھی گھٹیا شخص میری منکوحہ پر ڈورے ڈالے۔۔۔”
حنین نے اٹھ کر پوری طاقت سے جزیل کو تھپڑ مار دیا
“حنین بھائی۔۔”
“کیا غلط کہا حنین بھائی نے۔۔؟؟ تم میرے منگیتر تھے پھر کیسے شادی کرلی تم نے اسکے ساتھ۔۔؟؟
کل رات مجھے لگا تھا کہ جو میں سب کچھ سنتی آئی دیکھتی آئی وہ جھوٹ ہے کیونکہ کل تم نے میری طرف قدم بڑھائے تھے جزیل۔۔۔ تم میری محبت تھے مجھ سے پیار کرتے تھے
پھر وہ کہاں سے آگئی۔۔؟؟ سائیکو پاگل عورت بیوقوف شادی شدہ ہوکر بھی کسی سے عشق کرتی رہی۔۔۔
کیا پتہ کتاب میں اس نے اپنی رنگین راتیں۔۔۔”
“بس۔۔۔”
جزیل نے ہاتھ اٹھا دیا تھا،،، مگر مارا نہیں تھا۔۔۔
نمرہ نے دور کھڑۓے اپنے جونئیرزآفیسرز کو دیکھا اور چہرہ صاف کرتے ہوئے وہ واپس اپنی پولیس کار کی طرف بھاگ گئی تھی۔۔۔
جزیل کا ہاتھ ابھی بھی ہوا میں تھا۔۔۔ حنین چہرے سے خون صاف کرکے اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔
“کتنی شرم کی بات ہے جزیل۔۔۔ اس طرف تم ایک عورت پر ہاتھ نہیں اٹھا سکے۔۔ کیونکہ وہ تمہاری محبت ہے منگیتر ہے عزت ہے۔۔
مگر جزیل میری عزت میری پریہان پر ہاتھ اٹھانے کا کوئی موقع تم نے نہیں چھوڑا۔۔۔
وللہ میری نظر میں وہ باعزت احترام کے لائق صابرہ تھی۔۔۔ میری پیا۔۔۔
تم نے خود بھی ظلم کیا۔۔ لوگوں سے بھی کروایا۔۔۔ کیا وہ اتنی بدکردار بری تھی۔۔؟؟
جزیل بدکرادار پر بھی ہاتھ اٹھانا مرد کے شایانِ شان نہیں۔۔۔ تم نے مجھے سچ میں مار دیا ۔۔
یار میں اپنے چھوٹے بھائی کی محبت کو ترستا رہا۔۔۔ خود کو کوستا رہا۔۔۔ اس لیے کہ ایک دن تم آؤ گے اور سب تھیس نھس کردو گے۔۔۔؟؟”
وہ چہرے کے آنسو کو انگلی سے صاف کرکے وہاں سے اندر چلے گئے تھے۔۔۔
اور وہ شخص سر جھکائے کھڑا رہ گیا تھا۔۔۔
آنکھوں کا پانی اسکے لاکھوں روپے والے بوٹ اسکا ایکسپینسو سوٹ خراب کرچکے تھے۔۔۔
۔
اسکے بھائی نے اس پتھر کو پوری طرح گھائل کردیا تھا مکمل طور پر۔۔ نہ وہ اندر گیا تھا نہ ہی وہ وہاں سے دور کہیں گیا تھا۔۔۔
“پریہان۔۔۔”
“تمہیں کوئی حق نہیں اس کا نام لینے کا۔۔۔ جزیل عباسی۔۔۔ تم دوغلے شخص ہو۔۔ جانے تم نے اس بیچاری سے کس بات کا کس چیز کا بدلہ لیا۔۔۔”
اس تنہائی میں رات کی تاریکی میں اندھیرے سے بھری ہوئی سڑک پر اپنی پرچھائی اسے ایسے نظر آرہی تھی جیسے اس کا جڑوا کوئی سامنے ہو۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہم نے یہ سپیشل میٹنگ کروائی ہے۔۔۔ جج صاحب کے ساتھ کچھ اٹارنیز کو یہ ثبوت دیکھائیں گے۔۔۔ پلیز آپ سب باہر ہی رہیں۔۔”
وکیل تو اندر چلے گئے۔۔۔مگر ابھی بھی امید نہیں تھی کسی کو سوائے حنین اور جزیل کے وہ جانتے تھے وہ بچا لیں گے پریہان کو۔۔۔
۔
کچھ دیر میں کی بعد گھنٹے پر جا پہنچی تو وہ دونوں بھائی الگ الگ جگہ پر ایسے چکر کاٹنے لگے جیسے انکی جان مٹھی میں آگئی ہو۔۔۔
کچھ دیر میں پریہان کو وہاں سے پھر سے پولیس وین میں لے جایا گیا۔۔۔
تب نمرہ اپنی گاڑی سے نکل کر جزیل کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی،،
“ہاہاہا۔۔۔ کیا ہوا۔۔ اسکی سزا ختم نہیں ہوئی۔۔؟؟ بہت افسوس ہوا۔۔۔
لیٹ سی پھانسی کس وقت ہوتی کل کی ڈیٹ ہے نہ۔۔؟؟”
وہ کیپ پہنے اندر کورٹ روم میں چلی گئی تھی اور وکیل کچھ ڈاکومنٹ کے ساتھ باہر آگئے تھے۔۔۔
“ایم سوری مجھ سے میری ٹیم سے بس اتنا ہی ہوسکا۔۔”
“اتنا۔۔؟؟ تم نے کیا کیا ہے۔۔؟؟ اسے واپس جیل میں لے گئے ہیں۔۔ اسے کل پھانسی دہ دیں گے۔۔ تم سے نہیں سنبھل پا رہا تھا تو بتا دیتے۔۔”
دونوں ہاتھو ں سے جزیل نےگریبان پکڑ لیا تھا
“جزیل تماشا نہ لگاؤ۔۔۔”
“تو آپ نے کیا کردیا۔۔؟ کل بہت پرجوش تھے یہ تیاری تھی۔۔۔؟؟ میرے لائرز کی ٹیم کو ریجیکٹ کرکے یہ وکیل چنا آپ نے۔۔اسے پھانسی ہوجائے گی۔۔۔”
اس شخص کو پیچھے دھکیل کر اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ خود بھی منہ پھیر چکا تھا اسے پرواہ نہیں تھی اسکی تصاویر لی جارہی تھی اسے لوگ دیکھ رہے تھے۔۔۔
“انہیں اب پھانسی نہیں ہوگی۔۔۔پہلے میری بات سن لیں۔۔۔ ان پر سے پچاس فیصد کیس کلیر ہوچکا ہے۔۔۔مگر۔۔۔ ابھی اتنا نہیں ہوا۔۔ اور جیل رکھنا انکی جان کے لیے خطرناک ہوسکتا تھا۔۔اس لیے ہم نے انہیں ان سب سے بچانے کے لیے دماضی طور پر مفلوج قرار دینے کی کوشش کی جو کامیاب ہوگئی۔۔۔ اب وہ یہاں کے مینٹل اسائلم میں منتقل کی جاچکی ہے۔۔۔وہ وہاں سے سیدھا گھر جائیں گی۔۔۔ جیل نہیں۔۔
بس اصل مجرموں کو پکڑنے کی جلدی کیجئے۔۔۔۔”
۔
۔
سب باتوں کو سن کر ان دونوں بھائیوں نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔
اور دونوں ہی وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔پریہان کو اس نئی جگہ ملنے کے لیے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کاش تیرے عشق میں نیلام ہوجاؤں۔۔۔
آخری بولی تم لگاؤ۔۔۔تیرے نام ہوجاؤں۔۔”
۔
وہ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ رکی تھی فرق بس اتنا تھا حنین نے اپنی گاڑی کو اس طرح سے بریک لگایا تھا کہ جزیل کی گاڑی کا راستہ روک دیا تھا وہ اندر پہلےے بھاگا تھا۔۔۔
وہ بہت خوش تھا۔۔مگر اندر جیسے جیسے چلتا گیا اسکی خوشیاں ماتم کا روپ دھاڑتی گئی
ان سب مریضوں کے درمیان پریہان کو بیٹھے دیکھ اسکے قدم رک گئے تھے۔۔۔
۔
“اس درخت کے نیچے وہ بیٹھی ہوئی تھی کپڑے ابھی بھی اسی جیل والے ملبوس تن تھے۔۔۔وہاں بھی وہ کچھ نہ کچھ لکھنے رہی تھی چھوٹے سے پتھر کے ساتھ اس زمین پر۔۔۔
۔
۔
“پیا۔۔۔؟؟؟ لک ایٹ مئ۔۔۔تم اس جیل میں واپس پھر سے نہیں جاؤ گی بہت جلدی بچا لوں گا۔۔۔باعزت بری ہوگی تم اس کیس سے۔۔”
“پریہان کے ماتھے پر بوسہ دئیے وہ بھی وہاں بیٹھ گیا تھا۔۔۔
۔
“پیامیں چاہتا تھا تمہیں اس سب سے آزاد کروا کر کہیں دور لے جاؤں اور وہاں چلا چلا کر تم سے معافی مانگوں۔۔۔
گڑگڑا کر رؤں تمہارے سامنے۔۔۔ بہت تکلیف دہ دی میں نے تمہیں پیا۔۔۔”
دونوں ہاتھوں سے پریہان کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں لئیے حنین نے جیسے ہی اپنی طرف کیا تھا ان آنکھوں کے خالی پن کو دیکھ کر وہ جیسےسب کچھ کہنا بھول گیا ہو۔۔
پھر سے نے بات بدلنے کی کوشش کی آنکھوں کے آنسو پونچھ کر۔۔۔
“تم جانتی ہو شادی کی پہلی رات۔۔۔جب تم دلہن بنے پھولوں سے سجے ہوئے بستر پر بیٹھی بیٹھی کانپ رہی تھی ۔۔۔ اور تمہاری ہیسیٹیشن سمجھنے کے بجائے میں بہت اونچی ہنس دیا تھا۔۔۔جب میں ہنسنا بند نہ ہوا تو تم نے کشن اٹھا کر مارا تھا۔۔۔”
پھر بھی جواب نہیں ملا تھا کچھ وہ پلکیں جھکی ہوئی تھی اٹھے ہوئے چہرے کی۔۔۔
“پیا۔۔۔ان لبوں پر جب پہلا بوسہ لیا تھا میں۔۔۔ انکی ہچکچاہٹ انکی نرمی۔۔۔ انکی معصومیت سے تو میں واقف تھا۔۔۔ پھر جب تم پر یقین کی باری آئی تو کیوں میں منافق بن گیا۔۔؟؟
مجھ سے ہمارے پیار بھرے لمحات بھی بیان نہیں کئیے جارہے۔۔۔سمجھ نہیں آرہا۔۔۔
میں سب سے بدلہ لوں گا۔۔ پیا۔۔۔ جزیل کو بھی سزا دوں گا۔۔ اسے طلاق دلوا کر ہم پھر سے شادی کریں گے۔۔۔میں الگ دنیا میں لے جاؤں گا یہاں سے بہت دور۔۔۔”
۔
وہ ماتھے پر بوسہ دینے کے لیے جیسے ہی آگے بڑھا پریہان پیچھے ہوگئی تھی ان آنکھوں نے حرکت کی تھی وہ زبان بھی کھلی تھی اور وہ ہاتھ بھی اس شخص کو پیچھے دھکا دے چکے تھے
“سزا دینی ہے۔۔۔ تو خود کو دیجئے۔۔۔ آپ کے اس طلاق کے تحفے اور اس خط نے جس میں میری بدکرداری کو آپ نے بہت ہائی لائٹ کرکے لکھا تھا وہ دو چیزیں کافی تھی مجھے اس جہنم میں پہنچانے کے لیے۔۔۔
اور کس نے کہا مجھے طلاق چاہیے جزیل سے۔۔۔؟؟ میں اسکے ساتھ رہوں گی۔۔۔
آپ کی نظروں کے سامنے مسٹر حنین عباسی۔۔۔”
“پیا۔۔۔پلیز ایسے مت کہو میں مرجاؤں گا۔۔۔”
“تو مرجائیے۔۔۔یقین جانیں مجھے اب آپ کے مرجانے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔جب یہاں سے چلے جائیں تو اپنے بھائی کو بھیج دیجئے گا۔۔۔ اسے کہئے گا اسکی بیوی اسے یاد کررہی ہے۔۔۔”
۔
۔
“تجھ کو بھی چھوڑ کر جائے تیرا اپنا کوئی۔۔۔
تو بھی اک روز مکافات کا مطلب سمجھے۔۔۔۔”
۔
۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔