121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“حنین۔۔۔”
“سحاب کہو بار بار میرا نام مت پکارو۔۔۔”
وہ دونوں گن تانے اس گھر کی کھڑکی سے اندر داخل ہوئے تھے
“یہ وہ شخص کا گھر ہے جو اسی ہوٹل روم میں باہر آتے دیکھا گیا تھا جہاں ذہیب کا مرڈر ہوا اور اسکے قتل کا الزام بھی مس پریہان پر ڈال دیا گیا۔۔۔”
حنین نے اپنے ساتھی آفیسر کو دیکھا تھا اور اب وہ اور غصے میں اندر داخل ہوا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اندر کتنا خطرہ ہوسکتا۔۔۔
“وہ یہاں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے۔۔ اسکی خبر مجھے ‘سی بی آئی’ سے ملی تھی پولیس کو انوالوو کرنے سے سب کو خبر لگ جانی تھی۔۔۔”
وہ آفیسر برائیفلی سب ڈیٹیل بتا رہے تھے حنین کو جو اندر اندھیروں میں چلتا جا رہا تھا کوریڈور سے ہوتے ہوئے و دوسرے کمرے میں جانے لگے تھے جب پچھلے روم میں کچھ ٹوٹنے کی آواز نے انکے قدم روک دئیے تھے
“بیک اپ۔۔۔بیک اپ۔۔۔”
حنین نے آفیسر کو کہہ کر دروازے کو ایک کک سے کھول لیا تھا۔۔۔ روکنگ چئیر پر وہ آدمی مردہ حالت میں پڑا ملا تھا جس کی تلاش میں وہ لوگ یہاں تک آئے تھے۔۔۔ اور اسکے پیٹ سے خون نکل رہا تھا مگر وہاں کوئی بھی ویپن نہیں تھا جس سے یہ وار کیا گیا تھا
“جلدی سے ایمبولینس منگواؤ اسکی جان بچائی جا۔۔۔”
مگر گردن کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں حنین نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔
“ہی از نو مور۔۔۔وہ دیکھو۔۔۔”
دوست نے شیشے کی طرف توجہ دلائی تھی جہاں اسی کے خون سے ایک پیغام لکھا گیا تھا حنین کے لیے۔۔۔
“بیٹر لک نیکسٹ ٹائم آفیسر سحاب۔۔۔”
“سحاب۔۔۔”
“اف۔۔۔۔ ایک پل کو لگا جیسے مجھے کسی نے پہچان لیا۔۔۔”
حنین نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔
“تمہیں اب احتیاط کرنی ہوگی۔۔۔ہماری ہر حرکت پر نظر ہے ۔۔۔اس روم میں بھی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔۔۔اوپر۔۔۔اوپر مت دیکھو ڈیم اِٹ۔۔۔”
حنین نے جلدی سے اس آفیسر کو روک دیا تھا۔۔۔
وہ دونوں وہیں بیٹھ گئے تھے اسی بیڈ پر۔۔۔
“ایمبولینس اور پولیس آگئی ہے آفیسر سحاب۔۔۔دوست نے اونچی اواز میں کہا تھا۔۔
“ہممم۔۔۔ ناؤ لیسن۔۔۔ میں نے تمہیں میسج کیا ہے اسے پڑھو اور ویسے ہی کرو۔۔۔
ہم یہاں پھر واپس آئیں گے اس روم سے ہمیں کچھ ایسا ضرور ملے گا جو مددگار ثابت ہوگا۔۔۔اور۔۔۔”
بات کرتے کرتے حنین کا شوز کسی چیز سے ٹکرایا تھا بیڈ کے نیچے آدھی باہر آئی اس کتاب کو جیسے ہی اس نے نکالا تھا وہ حیران رہ گیا تھا
پریہان کے ناول کو دیکھ کر۔۔۔
“پیا باوری”
“اس پر یہ پیج مارک ہے۔۔۔”
دوست کی بات سن کر حنین اپنی ہی دنیا سے باہر آیا تھا اور جب اس نے اس مارکڈ پیج کو اوپن کیا تو وہ بہت حیران رہ گیا تھا اس کہانی کے اس موڑ کو پڑھ کر۔۔۔
“اُن لوگوں کو لگ رہا تھا کہ وہ بچ جائیں گے اور کسی کو خبر تک نہ ہوگی۔۔۔
مگر وہ نہیں جانتے تھے محبت اپنا انتقام لے گی۔۔۔ وہ باوری پھر سے کھڑی ہوگی انکے سامنے اور ہر ایک کو سزا دے گی۔۔
وہ بھیک میں ملنے والی چیز کو کبھی نہ اپناتی اور یہ تو تھی بھی محبت اس شخص کی جو اُسے بہت پہلے ٹھکرا چُکا تھا۔۔”
۔
حنین نے وہ پیرا پڑھا تھا اور پھر اس باڈی کو دیکھا تھا۔۔۔اور پھر اپنے دوست کو۔۔۔
۔
“مجھے باہر ملو۔۔۔”
وہ بک کوٹ میں ڈالے حنین وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔
۔
“کہانی میں کیا ہے پیا۔۔؟؟”
حنین نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہیں اپنا بنانے کا جنون سر پہ ہے کب سے ہے۔۔۔
مجھے عادت بنا لو اک نئی۔۔۔ کہنا یہ تم سے ہے۔۔۔”
۔
“نوٹ سووو سووون ہنی۔۔۔”
بیلٹ پر پہنچی ان انگلیوں کو روک دیا تھا بیڈ پر لیٹے سرٹ لیس اس پرسن نے۔۔۔
“وائے۔۔۔؟؟ آئی وانٹ یو ناؤ۔۔۔”
“نوٹ سووو سون ہنی۔۔۔ابھی تو تمہاری ڈیسپریشن دیکھنی ہے میں نے۔۔۔”
“آہاں۔۔؟؟ سیریسلی۔۔؟؟ کتنے ٹائم کے بعد مل رہے ہیں۔۔۔”
آغوش میں آکر وہ جیسے ہی لیٹنے کو تھی ساتھ ہی سیل فون کی رنگ نے ان دونوں کو الرٹ کردیا تھا۔۔۔
“ایک منٹ۔۔۔ آفس سے کال۔۔۔”
اس نے جیسے ہی فون پک کیا تھا اسے چہرے پر غصہ عیاں تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔؟ اور وہ غائب ہوگئی۔۔؟؟ جسٹ لائک ڈیٹ۔۔؟؟”
وہ چلا کر اٹھی تھی۔۔۔
“شش۔۔۔ جسٹ ریلیکس نمرہ۔۔۔”
“ریلیکس اے جے۔۔؟؟ وہ بچ اسے وہاں سے کوئی بچا کر لے گیا ہے۔۔۔ مرنے کے بجائے ان لوگوں نے زندہ جانے دیا اسے۔۔۔”
“پیچھے بیٹھے اس شخص کے چہرے پر بھی غصہ آگیا تھا
“وہ بچ نکلی۔۔؟؟”
“ہاں بچ نکلی۔۔۔ میں نے سوچا تھا کہ اسے ایک بار مار دیں۔۔۔ پھر جزیل کو بھی ختم کردیں گے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا تم تو بہت آگے کی سوچ کر بیٹھی ہو جزیل۔۔؟؟تمہاری محبت۔۔۔”
“اپنی بات مکمل مت کرنا۔۔۔ وہ میری محبت نہیں تھا۔۔۔ جو میری محبت تھا وہ وہ نہیں تھا۔۔۔”
وہ اپنی شرٹ کے بٹن کلوز کرکے اٹھ گئی تھی۔۔۔
“تو۔۔۔؟؟؟”
حنین آفاق عباسی۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
اے جے کی شیطانی ہنسی پورے بیڈروم میں گونجی تھی جب کہ نمرہ کے چہرے پر کوئی بھی تاثرات نہیں تھے چہرہ بلینک تھا اس کا جب اس نے اے جے کو دیکھا تھا پیچھے مڑ کر۔۔۔
“اس بار تو مجھے روک دیا اگلی بار نہیں ۔۔۔”
وہ اسکی طرف جھکی تھی ایگریسویلی اسکے ہونٹ پر کس کرتے ہوئے وہ اس روم سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بازو پر لگی گولی کو نکال دیا گیا ہے آپ کوشش کریں انہیں ہسپتال شفٹ کردیں انکے زخم بہت گہرے ہیں ۔۔۔”
“بس ڈاکٹر آپ کا کام پورا ہوگیا۔۔آپ جا سکتے ہیں۔۔۔”
ڈاکٹر جانے کو تھے جب پھر سے پریہان کو دیکھا تھا جو پرسکون تھی اپنی نیند میں
“انکے زخموں میں پانی نہ پڑے بس یہ میڈیسن اور یہ ٹیوبز انہیں ٹائم تو ٹائم لگاتے رہیں۔۔
انکا خیال رکھئیے گا۔۔۔”
“حاشر ڈاکٹر صاحب کو عزت کے ساتھ انکے کلینک پر واپس چھوڑ کر آؤ۔۔۔
اور فیس ڈبل دینا تاکہ انکا منہ بند رہے۔۔۔”
باہر کھڑے گارڈ نے گن دیکھاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں پر بلیک پٹی باندھ دی تھی اور جیسے وہ لائے تھے ویسے ہی وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔۔
۔
“وہ کہہ کر گئے ہیں زخموں پر پانی نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔ میں تو زخموں پر نمک ڈالنے کی سوچ رہا ہوں مس مڈرڑ۔۔۔”
جزیل نے دو ملازمہ کو اندر بلایا تھا۔۔۔
“اندر سے ٹھنڈا پانی بھر کر لاؤ۔۔۔ اور اس پر ڈالو۔۔۔” ان دونوں نے جزیل کی بات سن کر پریہان کی طرف دیکھا تھا اور پھر وہ دونوں ہی جلدی سے پانی بھر کر لے آئی تھی
جزیل کے ایک اشارے پر پریہان پر وہ پانی ڈال دیا تھا انہوں نے جو ایک جھٹکے گہری نیند سے جاگ گئی تھی۔۔۔
۔
“حنین۔۔۔۔”
وہ چلائی تھی۔۔۔۔
“حنین۔۔؟؟ اسے تو مار دیا نہ۔۔؟؟ اب تو مجھے لگنے لگا ہے اپنے بچے کو بھی تم نے خود مارا تھا۔۔۔”
وہ کہتے ہی پریہان کی طرف جھکا تھا۔۔مگر پانی میں اسکا بھیگا ہوا وجود ان کپڑوں جیسے ہی نمایاں ہونا شروع ہوا تھا جزیل نظریں پیچھے کرکے
“یہ آج سے اس وِیلا کا ہر کام کرے گی۔۔۔ ہر روم باتھروم بالکونی ٹیرس سب کچھ۔۔۔ کھانے کو ایک نوالہ نہیں ملنا چاہیے جب تک میں نہ کہوں۔۔ کوئی نرمی کوئی رعائیت نہیں۔۔۔”
وہ تو اور بھی بہت کچھ بول رہا تھا مگر پریہان پورے بستر پر جیسے کچھ دھونڈ رہی تھی کچھ کھویا ہوا۔۔۔جو وہ اپنی نیند میں بھی ڈھونڈ رہی تھی پر کیا تھا۔۔۔
کھلے بالوں جو بکھرے ہوئے تھے کندھے پر گولی لگنے کے بعد کے ٹانکے بھی گیلے ہوگئے تھے۔۔۔
جزیل کی آواز اسکی سماعتوں تک پہنچ ہی نہیں رہی تھی وہ تو ایک ربوٹ بن گئی تھی جب ملازمہ جزیل کے سامنے اسکے کندھے سے پکڑ کر اسے کھینچتے ہوئے روم سے باہر لے گئی تھی۔۔۔
“ڈیم اِٹ۔۔۔”
جزیل نے غصے سے سائیڈ ٹیبل کو مار کر پیچھے پھینک دیا تھا۔۔۔ تکیے پر لگے خون کو دیکھ کر اسے خود پر غصہ آیا تھا پہلی بار ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تو آپ کیا کہنا چاہتی ہیں۔۔؟؟”
“یہی کہ اس ویپن پر بھی وہی فنگر پرنٹس ہیں جو اس نائف پر تھے۔۔۔”
“میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔”
“آفیسر۔۔۔”
“سحاب۔۔ آپ مجھے سحاب کہہ سکتی ہیں ڈاکٹر۔۔۔”
سحاب نے سمائل پاس کرتے ہوئے کہا تھا جیسے وہ ڈاکٹر کو اپنا قائل کرنے کے در پہ ہو جو کہ اثر پر بھی کررہا تھا۔۔۔
“آہم۔۔۔”
نمرہ نے ان دونوں کو غصے سے دیکھا تھا
“مس پریہان کے فنگر پرنٹس ہیں اس پر بھی۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟؟”
سحاب کے ساتھ آفیسر نے بہت لاؤڈلی کہا تھا۔۔۔
“جی۔۔۔”
“اووو۔۔۔۔”
حنین نے اس ڈاکٹر اور پھر نمرہ کو دیکھا تھا۔۔۔ اور پھر اس نائف کو۔۔۔
“یہ ویپن اس وقت وہاں نہیں تھا۔۔۔کیوں نعمان وہاں پر جو ٹیم انویسٹیگین کرنے گئی تھی انہوں نے رپورٹ میں یہ نائف تو۔۔۔”
“وہاں میں موجود تھی آفیسر۔۔۔ اور میری نگرانی میں یہ ثبوت اکٹھے کئیے گئے تھے جو ڈاکٹر صاحبہ کو دئیے ہم نے۔۔۔”
“آپ ویسے سوپر وومن ہیں مس نمرہ۔۔۔ ہر جگہ آپ پہنچ جاتی ہیں مس پریہان کے کیس میں آپ ہی ہیں نہ جو ہر ثبوت جھٹ سے لے آتی ہیں۔۔؟؟”
سحاب نمرہ کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا وہ اپنے غصے پر قابو نہیں کر پایا تھا
“ظاہر ہے میرے منگیتر کے جوان بھائی کا قتل کردیا اس نے اور میں اسے ایسے ہی چھوڑ دوں گی۔۔؟؟ اب تو دو اور قتل بھی اسکے س پر ہیں۔۔۔
کیوں ڈاکٹر۔۔؟؟”
“جی۔۔۔اس نائف سے مرڈر ہوا ہے اور اس پر بھی فنگر پرینٹ اسی مجرم کے ہیں۔۔۔”
“بُلشٹ۔۔۔”
سحاب غصے سے کہہ کر اس فورینسک لیب سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“سحاب۔۔۔سحاب۔۔۔”
نعمان بھی کہتےکہتے پیچھے بھاگا تھا اس کے۔۔۔
“حنین۔۔۔”
اسکے پاس پہنچنے پر نعمان نے اسکا نام لیکر پکارا تھا
“حنین۔۔۔”
“جزیل کے سب نمبر ٹیب کرو نعمان پریہان کا سامنے آنا بہت ضروری ہے۔۔۔
یہ لوگ بہت بڑا جال بنا رہے ہیں ٹریپ کرنے کے لیے وہ بیچاری ایک قتل کے الزام میں سب کھو چکی ہے۔۔۔ یار اور کیس ڈال دئیے۔۔۔ ان لوگوں کو میں دیکھ لوں گا مگر اسکا سامنے آنا ضروری ہے۔۔۔”
۔
“ہمیں ایک لیڈ ملی ہے جزیل تک پہنچنے کی میرے ساتھ چلو۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک ماہ بعد۔۔۔۔۔”
۔
“اب پتھر کیا بنی ہوئی ہو۔۔؟؟ آج شام پارٹی ہے یہاں گرینڈ پارٹی اور سب ملازموں کو چھٹی دہ دی ہے میں نے تم سب کام کرو گی آج۔۔۔اور ایک بات۔۔۔۔”
اس نے زمین پر بیٹھی اس لڑکی کو بازو سے پکڑ کر اوپر اٹھایا تھا۔۔۔
“آج کی پارٹی میں ایک انجان پولیس والا تمہیں دیکھے گا۔۔۔ جس پر تم حملہ کرو گی۔۔۔
اور اسے زخمی کرنے کے جرم میں وہ تمہیں یہاں سے لے جائے گا۔۔
تم جانتی ہو آگے کیا ہوگا مائی ڈئیر وائف۔۔؟؟”
پریہان کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے جزیل نے اسے جیسے ہی اپنی آغوش میں کھینچا تھا اسکے وجود میں وہی خوف ڈور اٹھا تھا۔۔۔
“شہر جاتے ہی تمہیں وہ پولیس پکڑ کر اسی جیل میں پھینک دے گی۔۔۔ اور اس بار اس آفیسر کی درخواست پر بھی تمہیں جیل سے منتقل نہیں کیا جا سکے گا۔۔۔اور۔۔۔”
ہونٹوں کو کان کی لو تک لے جا کر اس نے سرگوشی کی تھی
“اب کے میں کوشش کروں گا کہ ایک دو سال میں تمہیں اسی جیل میں موت آجائے۔۔۔ مگر بہت بدتر موت۔۔۔اور۔۔۔”
دروازے پر ناک ہوا تھا۔۔۔
“اس وقت کون آگیا۔۔۔ شام کا وقت دیا تھا۔۔۔”
جزیل خود سے کہتے ہوئے پریہان کو پیچھے دھکا دے کر دروازہ کھولنے گیا تھا جو ایک الگ پاس ورڈ پر مشتمل کوڈ تھا جو آٹومیٹک تھا۔۔۔
اس نے جیسے ہی دروازہ ان لاک کیا تھا سامنے آفیسر سحاب کھڑا تھا۔۔۔
جزیل نے اپنے گارڈز کو زخمی حالت میں دیکھ کر سحاب کی طرف دیکھا تھا اور سحاب نے ایک زور دار مکا جزیل کے چہرے پر مارا تھا۔۔۔ جب اس نے پریہان کو زمین پر گرے دیکھا تھا۔۔۔
۔
کچھ منٹ ان دونوں کی لڑائی چلتی رہی تھی۔۔۔ ہال کا فرنیچر انکی لڑائی کی نظر ہوگیا تھا۔۔۔
“نائس مووو آفیسر سحاب۔۔۔”
اپنے ناک سے خون صاف کرکے جزیل نے بھی اسی تیزی سے وار کرکے سحاب کو شیشے کے ٹیبل پر مارا تھا۔۔۔ جو گرتے گرتے پریہان کے پاس جا گرا تھا۔۔۔
اور تب سحاب نے پریہان کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا تھا۔۔۔ اور جزیل کو گریبان سے پکڑا تھا طیش میں۔۔۔
۔
“کوئی ظالم بھی اپنی مردانگی کسی عورت پر ایسے نہیں دیکھاتا جو تم نے کردیا اس معصوم لڑکی کے ساتھ۔۔۔”
“معصوم۔۔۔ اور یہ۔۔؟؟ معصوم کے خلاف ثبوت بھرے پڑے ہیں۔۔ اب اسے سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔”
۔
“اُسے میں یہاں سے لیکر جاؤں گا۔۔۔دیکھتا ہوں کون روکے گا مجھے مسٹر جزیل۔۔”
“آفیسر سحاب میری بیوی کو مجھ سے پوچھے بغیر آپ کہیں بھی نہیں لے جاسکتے۔۔۔
یہ مجرم ہے تو اسکے کیس کی سزا اور جزا کی ساری ذمہ داری اب میری ہے۔۔پوچھ لیں اس سے۔۔۔”
سحاب نے ایک بار پھر جزیل کے منہ پر مکا مارا تھا لڑائی کرتے کرتے ان کے چہرے سے پہلے ہی خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا
“کیا۔۔۔؟؟؟ جزیل۔۔؟”
سحاب نے بے ساختہ اس شخص کو دیکھا تھا جو ہنستے ہوئے اس پتھر بنی لڑکی کے پاس جا بیٹھا تھا۔۔
“ہاہاہاہا یہ میرے نکاح میں آچکی ہے۔۔۔ شادی کرلی ہے میں نے اس سے۔۔۔
تم ہی تھے نہ اسکے عاشق۔۔؟؟ تمہارے ساتھ مل کر اس نے دھوکا دیا میرے بھائی کو۔۔۔”
“بھائی۔۔۔؟؟ تمہیں مطلب بھی پتہ ہے جزیل۔۔۔ ہاتھ ہٹا لو اسکے کندھے سے ورنہ ہاتھ اتار کر رکھ دوں گا تمہارا۔۔۔”
“ہاتھ لگا اگر ہمت ہے تو۔۔۔”
سحاب کو پیچھے دھکا دہ دیا تھا اس نے۔۔۔
“میں اسے تو برباد کروں گا میں تجھے بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ اس وردی کے ساتھ ساتھ تجھے بھی جیل کی زندگی دوں گا۔۔سحاب ذلقرنین۔۔۔”
سحاب اتنا شاکڈ تھا کہ اسے معلوم نہ ہوا کب جزیل نے اسے مکا مار کر پیچھے پھینک دیا تھا۔۔
وہ تو پریہان کے وجود سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا۔۔۔
“تم نے گناہ کیا ہے جزیل کس کی کوئی معافی نہیں دو سال جیل میں کم اسے برباد کیا تم نے۔۔؟ کس لیے۔۔؟؟ بھائی کی موت کے پیچھے۔۔؟ تمہیں کس نے حق دیا تھا۔۔؟؟”
جزیل کو گریبان سے پکڑے سحاب پریہان سے دور لے گیا تھا۔۔ اس نے جیسے ہی گن نکال کر جزیل کے سامنے کی تھی جزیل اپنی گن اس سے پہلے ہی نکال چکا تھا وہاں سے۔۔۔
“ہاہاہاہا میں بنا تیاری کے نہیں بیٹھا یہاں سحاب اگر میری موت لکھی ہے تو میں تجھے بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا اور اسے بھی۔۔۔”
وہ ٹریگر پریس کرنے کو تھے وہ دونوں مرد۔۔۔
جب ایک ہی آواز وہاں ہال میں گونجی تھی
“بس کرجائیں۔۔۔ خُدا کے لیے بس کرجائیں۔۔۔مجھے مار دیں۔۔ اور قصہ تمام کریں۔۔۔
میں نے اپنے شوہر حنین کا مرڈر کروایا۔۔۔ میں ہوں مجرم میں نے سب کچھ کیا۔۔۔
مجھے کوئی انصاف نہیں چاہیے۔۔۔ مجھے موت چاہیے بس۔۔۔ مجھے سکون دہ دو۔۔۔خدا کے لیے مجھے موت دہ دو۔۔۔۔”
۔
کہتے کہتے اس نے شیشے کے ٹکڑے سے خود کو زخمی کرلیا تھا۔۔۔و ہ اپنے جسم پر وار کئیے جارہی تھی جب ان دونوں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لئیے تھے
“پیا۔۔۔۔”
“باوری۔۔۔”
۔
ان دونوں بھائیوں نے ایک ساتھ کہا تھا۔۔۔۔ اور ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“میں اسے یہاں سے لے جارہا ہوں۔۔۔”
سحاب نے زخمی پریہان کو جیسے ہی اٹھایا تھا پیچھے سے کسی نے سر پر ایسا وار کیا تھا کہ وہ لڑکھڑا گیا تھا
“ویری گڈ حاشر۔۔۔”
پریہان کو واپس سحاب سے لے لیا تھا۔۔۔
“پر۔۔۔پریہان۔۔۔۔”
وہ گرتے ہوئے بھی ہاتھ آگے بڑھا رہا تھا پریہان کے لیے۔۔۔ آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا گئی تھی سحاب کی۔۔۔ وہ منظر کسی موت سے کم نہیں تھا اسکے لیے۔۔۔ جہاں جزیل پریہان کو اپنی بانہوں میں اٹھائے وہاں سے باہر لے گیا تھا۔۔۔
“پیا۔۔۔۔”
اس نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی جب جب پھر سے حاشر نے اس پر وار کیا تھا
“وہ تو جا کی ہے۔۔ اب وہ اس ملک سے بھی باہر چلی جائے گی۔۔۔”
حاشر کی بات سننے کی دیر تھی جب سحاب نے اسکی گردن اپنی گرفت میں لے لی تھی
“وہ کہیں نہیں جا سکتی اسے مجھ سے دور کوئی نہیں لے جا سکتا۔۔۔”
اور حاشر کو تب تک مارا تھا سحاب نے جب ک وہ پیچھے نہ ہوا۔۔۔
“جزیل۔۔۔”
ویلا سے کچھ فاصلے پر ہیلی کاپٹر میں جزیل کو جاتے دیکھ وہ اور سپیڈ سے بھاگا تھا۔۔۔
جزیل۔۔۔۔”
اور وہ ہیلی کاپٹر جیسے ہی زمین سے کچھ فاصلے پر تھا اس نے اپنی گن نکال کر اس پر نشانہ لگانے کی کوشش کی تھی مگر وہ جانتا تھا پریہان کی جان بھی چلی جائے گی۔۔۔
اس نے گن دور پھینک دی تھی وہ اکیلا کھڑا رہ گیا تھا وہاں۔۔۔
اپنی ناکامیوں پر رونے کے سوا کچھ نہیں تھا حنین آفاق عباسی کے پاس۔۔۔
آج وہ مان گیا تھا کہ وہ ناکام ہوچکا ہے
“پریہان۔۔۔ “
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔