121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

“ٹوٹ کر محبت کرنے والے باورے لوگوں کو لوگ نہیں انکے محبوب کی بےپروائی مار دیتی ہے”
“ڈاکٹر عدن کی بات سن کر نرس بھی رک گئی تھی وہاں۔۔
“میڈم پچھلے دس منٹ سے وہ اس تیز بارش میں بیٹھی ہیں کسی کی بھی بات نہیں سن رہی۔۔”
“وہ اکیلی نہیں بیٹھی اور بھی کوئی بیٹھا ہے ساتھ اس باوری کےمجھے یہ سمجھ نہیں آرہی وہ سزا کس کو دے رہی ہے خود کو اس شخص کو یا پھر اس شخص کو۔۔۔؟”
انہوں نے پہلے پریہان کی طرف دیکھا تھا جس درخت کے نیچے وہ ٹیک لگائے بیٹھی تھی اس درخت کے دوسری طرف جزیل اور کچھ فاصلے پر گیٹ کے اس گاڑی کے ساتھ زمین پر ٹیک لگائے حنین اس تیز بارش میں بھیگ رہا تھا
۔
“ابھی ابھی بھولے بھی نہ تھے تمہیں۔۔۔
خیال بن کے پھر۔۔۔ تم آگئے۔۔۔
احساس جو تھے دل میں کہی ان کہے۔۔۔
لفظوں پہ وہ پھر یوں آگئے ۔۔۔۔”
۔
“میں اس بار واپس آؤں گا تو پھر ساتھ چلیں گے یہاں سے دور لونگ ہنی مون پر۔۔۔ جہاں میں تم اور ہمارا اینجل ہوگا۔۔۔پیا تمہیں پھر شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔۔۔”
۔
“اس نے جانے سے پہلے تمہیں طلاق دہ دی تھی اور اسی چیز نے تمہیں مجرم ثابت کردیا”
پریہان نے گھٹنوں کو سمیٹ کر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی تھی
۔
“مانتی ہوں وفا تجھی کو۔۔۔تو ہی تو رہبر میرا۔۔۔
اب اس خالی پن میں بھی تو۔۔۔پاس میرے کھڑا۔۔۔”
۔
“وعدہ تھا ساتھ نبھانے کا ایک دوسرے کے ناز اٹھانے کا
تم بدلے تو یقین آیا کیا وعدہ جو نبھانے کے لیے کیا جائے”
اس نے گہری سانس بھری تھی۔۔۔
۔
“تو ہے نہیں یہاں یہ نہ یقین ہوا کیسے کروں خود سے بیان
بکھری ہوں ہر جگہ میں ریت کی طرح نہ میرے درد کی ہے دوا۔۔۔”
۔
“اس نے میرے بھائی کو مارا ہے ڈیم اِٹ۔۔۔ اپنے یار کے ساتھ مل کر اس نے وہ کیا جو کوئی ظالم کرتا۔۔۔ دفنانے کے لیے میرے بھائی کا وجود بھی نہیں تھا ہمارے پاس۔۔۔ اسکے جسم کے ٹکڑے خاک بن گئے تھے کھلے آسمان کے نیچے۔۔۔اور تم کہتے ہو اسکے حال پر چھوڑ دیں۔۔؟”
۔
جزیل اسکی ہر ایک حرکت کو نوٹ کررہا تھا خود کو اس طرح سے چھپایا ہوا تھا اس نے۔۔۔
۔
“سانسوں کی سرزمین پر برسات لا گئے۔۔۔
ایک جھپکی میں تیرے سو خؤاب آگئے۔۔۔”
۔
“اگر ایک لمحہ ملے پیا میں وہ فیصلہ بدل دوں جس نے تمہیں مجھ سے دور کردیا۔۔۔
ایک ایک لمحہ درد ناک ہے جی نہیں پا رہا تمہارے بغیر۔۔۔ اور اپنے ہی بھائی کے ساتھ تمہیں دیکھ کر سو موت مررہا ہوں۔۔۔”
۔
“ٹوٹ کے بکھرا پڑا ہوں۔۔ سانس لینا بھی ہے سزا۔۔
جینے میں اب کیا رکھا ہے۔۔۔ مررہا سو دفعہ۔۔۔
کیسی ہیں سازشیں۔۔ روٹھی ہیں رنجشیں۔۔
لیتی ہیں کروٹیں زندگی۔۔
اب کس موڑ پر آکر رکا ہوں میں۔۔۔
نہ کوئی راہ ہے نہ پتہ۔۔۔”
۔
سانسوں کی سرزمین پر برسات لا گئے۔۔۔
ایک جھپکی میں تیرے سو۔۔ خواب آگئے۔۔۔”
۔
محبت ناجانے کیا کھیل کھیلے گی۔۔۔ وہ تینوں اسی محبت کے مارے تھے جو سامنے ہوتے ہوئے بھی اظہار نہیں کرپارہے تھے۔۔۔
۔
۔
“ہے الگ یہ بات پھر بھی۔۔۔ تو میرا نہ کبھی ہوا۔۔۔
پھر بھی میں نے تجھ کو اپنے دل میں دی ہے جگہ۔۔۔”
“پریہان میں تمہیں پھر کبھی کوئی دکھ نہیں دوں گا۔۔ ایک بار مجھے موقع دو۔۔۔”
جزیل نے سرگوشی کی تھی تیز بارش کی بوندوں میں وہ پاس بیٹھی اپنی بیوی کو دل کی بات اونچی آواز میں نہیں کہہ پایا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سائرہ۔۔وہ لوگ پھر سے آجائیں گے۔۔”
شائنہ نے سائرہ کو پھر سے اٹھانے کی کوشش کی تھی
“کو۔۔کون لوگ۔۔۔۔”
وہ سائرہ کو سہارا دے کر بیڈ پر بٹھا چکی تھی اور بڑے ہال میں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے لوگوں کو خاموش کردیا تھا مانیٹر کی اس بیپ نے۔۔۔
وہاں سب سے پہلے غزلان صاحب اٹھے تھے اپنے کوٹ کے بٹن کو بند کرکے وہ اپنی فیملی ممبرز سے بنا ایکسکئیوز کئیے وہاں سے اوپر تھرڈ فلور پر چلے گئے تھے جہاں وہ لڑکیوں کو گیسٹ روم میں بندی بنا کررکھا گیا تھا۔۔۔
“غزلان صاحب کو انہی کے گھر میں چار سے پانچ گارڈز نےکور کیا ہوا تھا جب وہ اوپر والے پورشن میں ایلویٹر کے زریعے جارہے تھے۔۔۔
“اٹھ جاؤ سائرہ ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔ اس کھڑکی سے ہم جاسکتے ہیں۔۔۔”
شائنہ سائرہ کو سہارا دے کر ونڈو کی طرف لے گئی تھی
“اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔ ہماری بیٹی کی بیسٹ فرینڈ ہمیں ملے بغیر جارہی ہے”
غزلان صاحب جیسے ہی اندر داخل ہوئے تھے ان دونوں لڑکیوں کو کھڑکی سے بھاگتے دیکھ انہیں غصہ آیا تھا انکے گارڈز کی گن کو انہوں نے نیچے کردیا تھا۔۔۔
اب انہوں نے بہت سوال جوب پوچھنے تھے اپنی گمشدہ بیٹی کولیکر۔۔۔
۔
“سر۔۔۔بیٹی کونسی بیٹی۔۔؟؟”
سائرہ نے جواب دیا تھا شائنہ کو اس نے اپنے پیچھے چھپا لیا تھا۔۔
“تمہارے ماتھے پر اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے۔۔؟ میری آنکھوں میں دیکھ کر بتاؤ کہ تم تفشالہ غزلان کو نہیں جانتی۔۔؟؟کم سٹ۔۔۔”
انہوں نے واپس بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا تھا بیڈ پر وہ دونوں جیسے ہی بیٹھی تھی غزلان صاحب سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئے تھے
“سر ہم کسی تفشالہ کو نہیں جانتے۔۔۔”
اس بار شائنہ نے آہستہ اواز میں کہا تھا وہ دونوں ڈر گئی تھی ان گارڈز کو دیکھ کر اور غزلان صاحب کے چہرے پر ایک ہلکی مسکراہٹ انہیں آنے والے طوفان کا بتا رہی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے نہیں پتہ ہوکیا رہا ہے سب کچھ خراب ہورہا ہے اے آر۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ میں یہاں نہیں تھا تو تم سے وہ دونوں بھائی نہ سنبھل پائے۔۔۔
ڈونٹ وری بےبی اب میں آگیا ہوں۔۔۔”
نمرہ کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے اسے واپس بیڈ پر اپنی اوڑھ کھینچ لیا تھا اس شخص نے
“میں کیسے سنبھال لیتی۔۔؟؟ وہ دونوں بھائی عذاب بن گئے ہیں۔۔۔
اور اس لڑکی کو تم مارنے نہیں دے رہے۔۔۔ جی چاہتا ہے اسے زندہ درگور کردوں۔۔”
وہ شیٹ کور کئیے واپس اٹھ کھڑی ہوئی تھی بستر سے
“اسے مار دیا تو میرا کیا ہوگا۔۔؟؟ ابھی تو اس لڑکی نے میری راتوں کو رنگین کرنا ہے۔۔ مجھے تو پتہ اب چلا ہے اسکی معصومیت اور خوبصورتی کا۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟تم۔۔۔”
نمرہ اتنی شاکڈ ہوئی تھی کہااسکی آنکھیں بھر آئی تھی
“ڈونٹ ورری وہ بس میرے بستر کی رونق بنے گی میرا دل تو تمہارے پاس ہے جان۔۔۔”
مگر کسی بات کا نمرہ پر اثر نہیں ہوا تھا۔۔ اس پل اسے پریہان سے اور زیادہ نفرت ہوگئی تھی
“میں بھی تو دیکھوں کہ ایسا کیا ہے یہ بیسٹ آفیسر اور وہ بیسٹ بزنس مین دونوں بھائی ہی اسکو بچانے کے لیے جتن کررہے اپنی جان تک داؤ پر لگا چکے ہیں اسکےلیے۔۔۔
سوچو اگر وہ میرے پاس ہوگی تو کیا ہوگا۔۔؟؟
سب کو گھٹنوں پر لے آؤں گا میں میرے سارے بدلے پورے ہو جائیں گے۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہا تھاکہ نمرہ کپڑۓے پہنے وہاں سے جاچکی تھی۔۔۔
“مس پریہان۔۔۔تیار ہوجاؤ ان دونوں سے پہلے میں تمہیں حاصل کرلوں گا۔۔۔ اور پھر دل بھر جانے کے بعد تمہیں آگے بیچ دوں گا۔۔۔”
“غزلان کی بیٹی کو آگے بستر پر لانے سے پہلے میں تجھے جہنم واصل کر دوں گا۔۔
اسکی بیٹی کو بیچنے کا سوچ کر ہی تو اپنی موت کو وقت سے پہلے دعوت دے چکا۔۔۔”
پیچھے کھڑے اس شخص کی آواز سن کر وہ خاموش کمرے کی چار دیواری کانپ گئی تھی۔۔۔
“گارڈز۔۔۔۔”
“اسکے گارڈز کو اندر لے آؤ۔۔۔”
غزلان صاحب کے کہنے کے بعد وہ تمام زخمی لوگوں کو اندر پھین دیاتھا۔۔۔
اس سے پہلے وہ اپنے ڈراڑ سے گن نکالتا اسے ایک ہی گولی سے چپ کروادیا تھا غزلان صاحب نے۔۔۔
۔
“اب وقت آگیا ہے میری بیٹی کو گھر لےجانے کا۔۔۔”
وہ اس شخص کی باڈی کو پیچھے پھینک کر وہاں سے باہر چلے گئے تھے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک ماہ بعد۔۔۔۔”
“مبارک ہو مسٹر جزیل مسٹر حنین آپ کی بیوی باعزت بری ہوگئی ہیں اور آپ کی بھابھی مسٹر حنین۔۔۔”
حنین بنا کچھ کہے وہاں سے اندر چلا گیا تھا جہاں آفیشلی پریہان کو ہر طرح کے چارج سے بری کردیا گیا تھا
“پیا۔۔۔”
بینچ پر پریہان خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی
پاس حنین جیسے ہی آکر بیٹھاتھا پریہان نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
پچھلے کچھ سال کی فلم فلیش بیک آنکھوں کے سامنے چلنا شروع ہوگئے تھے
اسکے یہاں تک کا سفر ایک دائرے کی صورت اسکے گرد گھومنے لگا تھا۔۔۔
اور حنین اسکی حالت بھی پریہان جیسی تھی وہ بھری ہوئی آنکھوں کو نیچے کئیے بیٹھا تھا
۔
“ہم دونوں کتنا خوش تھے پیا۔۔۔”
“ہم۔۔۔؟؟ یا آپ۔۔۔؟؟ بقول آپ کے میں تو اذیت بھری زندگی گزار رہی تھی میں تو اپنے عاشق کے ساتھ مل کر چیٹ کررہی تھی آپ کو۔۔۔”
اس کی ہلکی ہلکی دبی دبی آواز نے طوفان مچا دیا تھا حنین کی زندگی میں۔۔ وہ شرمندگی سے مرا جارہا تھا مگر ہمت تھی کہ ساتھ نہیں چھوڑ رہی تھی
“پیا۔۔۔ایک بار ایک موقع دہ دو۔۔۔ایک بار جزیل کو میں خود سنبھال لوں گا۔۔ایک بار۔۔۔”
پریہان کا ہاتھ پکڑ کر حنین نے جیسے ہی اپنے سینے پر رکھا تھا جزیل اندر داخل ہوگیا تھا۔۔۔
۔
“جزیل۔۔۔میرے بھائی۔۔۔”
جزیل جلدی سے ان دونوں کے پاس آیا تھا اس نے پریہان کا ہاتھ کھینچ لیا تھا حنین کی گرفت سے۔۔۔
وہ دونوں بھائی آمنے سامنے کھڑے تھے ایک دوسرے کے۔۔۔
“حنین بھائی کچھ شرم کریں۔۔۔”
“جزیل۔۔۔ میں پیا سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ میں اپنی ہی بیوی اپنی محبت کو کسی سے مانگوں گا خاص کر تم سے۔۔۔
جزیل آج میں ہاتھ جوڑ کر اپنی محبت کی بھیک مانگتا ہوں۔۔۔”
پریہان ان مہینوں میں ان سالوں میں پہلی بار اس شخص کو اس طرح جھکتے ہوئے دیکھ رہی تھی جس کا سر کبھی نہیں جھکا تھا کسی کے سامنے۔۔۔
پریہان کی انگلیوں نے جزیل کے ہاتھ کو چھوڑنے کی کوشش کی تھی جب جزیل کی گرفت اور مظبوط ہوگئی تھی۔۔۔
“حنین بھائی۔۔۔ اگر میری محبت مانگتے تو بنا سوچے سمجھے وار دیتا آپ پر۔۔۔
مگر یہاں بات میری عزت کی غیرت کی ہے آپ میری بیوی مانگ رہے ہیں۔۔۔
بھیک میں محبت دی جا سکتی ہے بیوی نہیں۔۔۔
میں مرتا مر جاؤں گا۔۔ مگر اس لڑکی کو اب خود سے الگ نہیں کروں گا۔۔۔”
اسکی باتوں نے ان دونوں کو شاکڈ کردیا تھا۔۔۔حنین کی آنکھیں برس رہی تھی تو پریہان کی آنکھیں پتھرا گئی تھی جب جزیل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
پریہان کی آنکھیں حنین کی آنکھوں کا درد دیکھ کر جھک گئی تھی۔۔۔
“چلیں۔۔۔”
پریہان کے ماتھے پر بوسہ دے کر اس نے سرگوشی کی تھی جس پر حنین منہ پھیر چکا تھا
“پلیز پیا۔۔۔مت جاؤ مجھے چھوڑ کر۔۔۔”
“مگر پریہان کے ایک ہاں نے کبھی نہ مٹنے والا فاصلہ بڑھا دیا تھا ان تینوں کے درمیان انکے رشتے کے درمیان۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
۔
۔