121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

“عجیب بات ہے جزیل۔۔ ایک لڑکی تھی منکوحہ تھی تمہارے بھائی کی ۔۔اور تم نے اس لڑکی پر بلا کے ظلم ڈھائے اسے سزا دی اور لوگوں کو بھی ڈیوٹی پر لگا دیا کہ اسے سزا دیں۔۔
اور رہی سہی کسر اس سے زبردستی شادی کرکے پوری کرلی اب تم زخمی ہاتھ لئیے بیٹھے ہو اندھیرے میں اور باہر تمہارا بھائی پاگل ہورہا ہے اس لڑکی کے لیے۔۔”
“وہ لڑکی بیوی ہے میری شبانہ باجی۔۔ اور جو باہر بیٹھا ہے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے میری بیوی سے۔۔ میں حیران ہوں کیسے میری لوکیشن ٹریس کی انہوں نے۔۔۔”
جزیل نے اٹھ کر لائٹس آن کردی تھی روم کی
“کر کیا رہے ہو تم پاگل ہوگئے ہو۔۔۔؟”غصے سے پکڑ کر جزیل کو واپس کرسی پر بٹھا دیا تھا
“باجی آپ کچھ نہیں جانتی آپ نہیں سمجھ سکے گی مجھے۔۔”
سر ہاتھوں میں پکڑ کر وہ سکون کی سانس لینا چاہتا تھا شبانہ باجی کی آنکھوں میں وہ سب الزامات اسے نظر آرہے تھے جنہیں وہ ابھی تک اگنور کررہا تھا۔۔
“کیسے سمجھوں تمہیں۔۔؟؟ حنین کی موت کا پتہ چلا تو تم نے خود سے سوچ لیا کہ تم اسکی موت کا بدلہ لو گے۔۔؟؟ اس لڑکی کو سزا دینے کی جلدی نہ حنین کے ماں باپ کو تھی نہ خاندان کے کسی فرد کو بس تم بہادر ہو محبت میں شیدائی تھے حنین کی۔۔؟؟ جسے تم دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔۔؟؟ اچانک سے بھائی کی محبت جاگ گئی۔۔؟”
“آپ کہنا کیا چاہتی ہیں۔۔؟؟”
ہاتھوں کو گہرائی سے دیکھنا شروع کردیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس وقت کسی کی نظروں میں دیکھنے کے قابل نہیں رہا
“تم نہیں جانتے۔۔؟؟ ایک لڑکی جو بھابھی بھی تھی تم نے کچھ باتوں ثبوتوں پر یقین کرکے اس بچی پر ظلم کئیے۔۔۔ حنین نے جو کیا وہ کم تھا۔۔؟؟ ناہید پھوپھو نے جو کیا وہ کم تھا کہ تم نے کسر پوری کردی۔۔؟؟
اب تم ایک اور گناہ کرچکے ہو۔۔ اس سے شادی کرکے زبردستی اپنے ساتھ یہاں چھپا کر۔۔”
“گناہ۔۔؟؟ آپ کی باتوں سے مجھے حنین بھائی کی طرفداری کی مہک آرہی ہے۔۔
میں سمجھا تھا کہ اب تو شاید کوئی ہوگا جو مجھے سمجھے گا۔۔؟؟ مگر آپ خاندان والوں نے ہمیشہ انہیں ہی ترجیح دی۔۔”
وہ اٹھ گیا تھا۔۔ جہاں شبانہ کی اتنی باتوں نے جزیل کو گھائل کیا وہاں جزیل نے بھی اپنی آخری بات کہہ کر کمی نہیں چھوڑی تھی۔۔۔
“جزیل۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔۔ جزیل وہ لڑکی حنین سے بےتحاشہ محبت کرتی ہے۔۔۔ میں پریہان کے بہت قریب رہ کر دیکھ چکی ہوں۔۔۔”
“شبانہ باجی وہ لڑکی اب میرے نکاح میں ہے۔۔ اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں یہاں کوئی جیت منا رہا ہوں یا کوئی ضد۔۔؟؟ میں بس اپنے غلطیوں کی معافی چاہتا ہوں۔۔۔
میں بس اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ میں اپنی باقی کی زندگی اسکے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں بس۔۔۔”
“جزیل۔۔۔”
جزیل دروازہ کھول کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“باجی مجھے ایک موقع ملنا چاہیے۔۔۔ ایک آخری موقع پریہان کی زندگی میں وہ سب خوشیاں لانے کا۔۔۔”
اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ مگر اب کے وہ کسی تنہائی والی جگہ پر نہیں گیا تھا۔۔ اب وہ پریہان کے کمرے میں گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یو بچ۔۔۔”
“یو باسٹرڈ۔۔۔”
نمرہ نے نیچے گری ہوئی گن کو جلدی سے اٹھا لیا تھا اور اس کی ٹانگ پر فائر کردی تھی
وہ خود کو ان چینز سے چھڑا چکی تھی اس زخمی گارڈ کی بلٹ سے چاجی نکال کر۔۔۔
جیسے ہی دروازہ کھولا تھا باہر پانچ اور گارڈز تھے۔۔۔ جنہیں وہ فائر کرکے زخمی کرچکی تھی اور کھڑی سے وہ اس روم سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔۔
“موبائل کہاں سے لوں۔۔۔اس سنسان جگہ۔۔۔”
وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے سانس لینے لگی تھی پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ ایسے ہی سنسان جگہ پر گھوم رہی تھی۔۔۔ ابھی اس نے ہائی وے تک جانا تھا جو دور دور تک نظر نہیں آرہا تھا اسے۔۔۔
“وہ رہی۔۔۔ پکڑو اسے۔۔ نہیں تو غزلان صاحب ہم سب کو مار دیں گے۔۔۔” نمرہ پر جیسے ہی انکی نظر پڑی تھی وہ اسکے پیچھے بھاگے تھے۔۔۔
“شٹ۔۔۔ایک بار بچ جاؤں مجھے یہاں تک پہنچانے والے ہر ایک کی زندگی اپنے ہاتھوں سے ختم کروں گی۔۔۔”
پیچھے فائر کرتے ہوئے وہ آگے بھاگنا شروع ہوئی تو کچھ منٹ بعد ہی ایک بلیک کار اسکے سامنے آگئی تھی لیفٹ سائیڈ سے گاڑی عین اسکے پاس رکی تھی اور دروازہ کھلنے پر نمرہ ڈر گئی تھی
“بےہوش ہونے کا وقت نہیں ہے گاڑی میں بیٹھو۔۔۔”
“اے جے۔۔؟؟ پر تم تو مر گئے۔۔۔”
“مجھے کوئی مار دے جرات نہیں کسی میں۔۔۔”
اے جے نے نمرہ کا ہاتھ کھینچ کر بیک سیٹ پر اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا اور پھر ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
وہ جیسے ہی ان گارڈز کی گولیوں سے محفوظ ہائی وے پر پہنچے تھے۔۔۔ نمرہ اے جے کے گلے لگ کر رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“نمرہ۔۔۔۔”
وہ شاکڈ ہوگیا تھا۔۔۔
“میں موت کے منہ سے بچ کر آئی ہو۔۔۔ غزلان کون ہے۔۔؟؟ وہ بہت خطرناک ہے اے جے اسکی بیٹی تفشالہ۔۔ اگر وہ اسے نہ ملی تو وہ سب تباہ کردے گا۔۔ اسکی بیٹی کون ہے۔۔؟؟”
اے جے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نمرہ نے پوچھا تھا
“یہی پتہ لگوانا ہے۔۔۔ تفشالہ کون ہے۔۔؟؟ غزلان وہ ڈان ہے جس کا راستہ موت بھی نہ کاٹے۔۔۔ مگر اس نے مجھ پر گولی چلا کر اپنی موت کو دعوت دہ دی ہے۔۔
اب اسکی بیٹی تک ہمیں پہنچنا ہے اس سے پہلے۔۔۔”
“نہیں۔۔۔میں ان سب میں شامل نہیں ہورہی۔۔۔ مجھے بس اپنا بدلہ چاہیے۔۔۔
جزیل عباسی سے۔۔ مجھے بیس کیمپ پر چھوڑ دو۔۔۔”
اور وہ خود کو الگ کرکے ونڈو کی طرف دیکھنے لگی تھی۔۔۔
اے جے کو غصہ آیا تھا مگر اس نے نمرہ کی حالت دیکھ کر اسکی ساری گستاخی کو درگزر کردیا تھا۔۔۔ اور ویسے ہی کیا تھا نمرہ کو جیسے ہی وہاں پر ڈراپ کرنے لگا تھا سامنے حنین اپنے دو آفیسرز سے گفتگو کررہا تھا نمرہ جیسے ہی گاڑی سے اتری تھی اے جے نے گاڑی چلانے کا کہہ دیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ حنین اسے دیکھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے لگا نہیں تھا تم غیرت میں بالکل زیرو ہوگے۔۔۔ پھر سے میرے کمرے میں۔۔”
پریہان نےبستر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر سر میں شدید درد کی وجہ سے ہونٹ سے ایک آہ نکلی تھی
“تمہارے زخم ابھی بھی نہیں بھرے اور میں کسی اور کو نہیں بھیج سکتا مرہم لگانے کے لیے۔۔”
فرسٹ ایڈ باکس بیڈ پر رکھ کر وہ بیٹھنے لگا تھا جب پریہان جلدی سے پیچھے ہوئی تھی
“کیوں کوئی اور نہیں مجھےپٹی نہیں کرسکتا۔۔؟ کیوں لازم ہے زخم دینے والا مرہم بھی لگائے۔۔۔”
“پریہان۔۔۔۔”
جزیل نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کمفرٹ کو پیچھے کردیا تھا۔۔۔
“آپ۔۔۔”
“میرا نام کیوں نہیں لیتی تم۔۔؟؟”
مگر وہ چپ ہوگئی تھی۔۔ جزیل نے سر پر بندھی پٹی کو آہستہ آہستہ کھولنا شروع کردیا تھا۔
اور جب کھول کر زخم دیکھے تو ڈاکٹر کی دی ہوئی ٹیوب ان زخموں پر آہستہ سے لگائی کر وہاں پھر سے اس نے ایک نئی پٹی باندھ دی تھی اس کی نظریں مسلسل پریہان کی آنکھوں پر جارہی تھی جو نظریں جھکائے وہاں بیٹھی تھی اور وہ شدت کی طلب میں ان آنکھوں کو دیکھنا چاہتا تھا اس وقت۔۔۔
“تم جانتی ہوں میں نہیں چاہتا کہ کوئی ملازمہ یا کوئی بھی تمہارے زخموں کو مرہم لگاتے کمر کے اس تِل کو دیکھے جسے دیکھنے کا حق بس میرا ہے۔۔”
اور وہ کامیاب ہوگیا تھا جب پریہان نے حیرانگی سے چہرے کو اٹھایا تھا اور جزیل کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“مجھے تم سے محبت نہیں ہوئی۔۔۔ پریہان۔۔ شاید ہو بھی نہ۔۔۔ مگر نکاح کے بعد میں تمہیں اپنے دل میں بسا چکا ہوں۔۔ اور اب جدا نہیں کروں گا۔۔۔ تم دعا کرنا مجھے موت آجائے۔۔۔ میں مرجاؤں گا تو تمہیں نجات مل جائے گی۔۔۔”
جزیل نے ان لبوں پر اپنے لب رکھ دئیے تھے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد۔۔۔ اسکے ہاتھ پریہان کی شرٹ پر جیسے ہی گئے تھے بہت سی چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں آنا شروع ہوگئی تھی اور کھڑکی کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔”
پریہان کو کور کئیے وہ وارڈروب کی جانب لے گیا تھا
“تم یہیں رہو گی جب تک میں نہیں آتا۔۔”
وہ اپنی گن نکالے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم کیا بکواس کررہی ہو۔۔؟؟ شادی اور وہ بھی تم سے۔۔؟؟ کبھی نہیں کرسکتا”
حنین چلایا تھا اور اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا وہ مسلسل نمرہ کو غصے سے دیکھ رہا تھا جو ابھی بھی اسی زخمی حالت میں اسکے کیبن میں بیٹھی تھی سامنے رکھی ہوئی کرسی پر
“کیوں نہیں کرسکتے۔۔؟؟ اگر تمہارا بھائی تمہاری محبت کے ساتھ کرسکتا ہے تو تم کیوں اسکی محبت کے ساتھ شادی نہیں کرسکتے۔۔؟؟”
“آپ سے تم۔۔؟؟ شرم کرو نمرہ تمہارے سر پر چوٹ آئی ہے شاید میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔۔”
وہ نمبر ڈائل کرکے موبائل کان پر لگا چکے تھے جب نمرہ کی بات نے جھنجھوڑ کررکھ دیا تھا حنین کو۔۔۔
“جزیل پریہان کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔۔۔ جب تک میں اسے قائل نہیں کرلیتی۔۔
وہ مجھے سے دیوانوں کی طرح پیار کرتا آیا ہے مجھے تمہارے ساتھ دیکھ کر وہ جلن محبت کی چنگاڑی کو ہوا دہ دے گی۔۔۔”
“سیریسلی۔۔۔؟؟ مجھے کیا فائدہ ہوگا۔۔؟؟ پریہان کو پانے کا ایک آخری موقع بھی کھو دوں گا میں۔۔؟ اگر اس نے مجھے کسی اور سے شادی کرتے دیکھ لیا۔۔”
“ڈونٹ وری پریہان کے کانوں تک یہ بات نہیں پہنچے گی۔۔بس جزیل تک ہمارا پیغام جائے گا وہ جب خود دیکھے گا تو مجبور ہوجائے گا پریہان کو چھوڑنے پر۔۔۔”
۔
حنین گہری سوچ میں چلا گیا تھا۔۔۔ نمرہ کے چہرے پر وہ شیطانی مسکراہٹ دیکھ نہیں پایا تھا۔۔۔
اسکا دل اسے یہ شادی کرنے سے روک رہا تھا اور دماغ اسے مجبور کررہا تھا۔۔۔اور اسکے ایک جواب نے فیصلہ کرنا تھا آنے والی زندگی کا
“اوکے۔۔ میں تم سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں کہیں نہیں جارہا میں اور سیکیورٹی۔۔۔”
“بس کرجاؤ جزیل۔۔۔ بس۔۔۔ یہاں اگر حملہ ہوگیا ہے تو آگے کیا گارنٹی ہے۔۔؟؟
شبانہ باجی ٹھیک کہہ رہی ہیں تمہیں عباسی مینشن لے جانا چاہیے پریہان بھابھی کو۔۔
وہاں آفاق انکل کی حنین بھائی کی ڈبل سیکیورٹی ہوگی جزیل۔۔۔”
“ول یو شٹ اپ پلیز۔۔؟؟ ان لوگوں نے پریا کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا میں ان لوگوں میں لے جاؤں ۔۔۔”
“اور تم جیسے پریہان کے مجرم نہیں ہو۔۔؟؟”
“شبانہ باجی۔۔۔”
“نہیں میں جارہی ہوں۔۔۔ تم رکھو یہیں اور پھر ذمہ دار تم خود ہوگے۔۔۔
اور ایک بات یاد رکھو۔۔ پریہان اس جرم سے باعزت بری ہوئی تھی تو کیوں اس گھر میں کوئی اسے کچھ کہے گا۔۔؟؟ تم نے شک کیا تھا تو سب شروع ہوا تھا نہ۔۔۔؟؟”
اور جزیل خاموش ہوگیا تھا۔۔کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اگلی صبح جب وہ عباسی مینشن کے سامنے کھڑے تھے تو جزیل زبردستی پریہان کو وہاں لے گیا تھا اس گھر جہاں اسے ہتکڑی لگا کر وہ سر جھکائے جزیل کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی ایسے تھا جیسے ساری خواہشیں مر گئی ہوں اور وہ زندہ لاش
“پریہان ماضی کو بھول کر آگے بڑھنا والا عظیم ہوتا ہے مجھے امید ہے ہم سب کامیاب ہو جائیں گے ماضی کے گھاؤ کو بھرنے میں۔۔”
شبانہ باجی پریہان کو اپنے گلے لگا چکی تھی یہ کہتے ہوئے۔۔۔ اور جزیل اندر چلا گیا تھا
اور جب اندر گیا تھا جیسے پیروں تلے کسی نے زمین کھینچ لی ہو جب اس نے نمرہ اور حنین کو ہاتھ پکڑے دیکھا تھا۔۔۔
“آؤ چھوٹے بھائی۔۔۔ مجھے مبارک باد نہیں دو گے۔۔؟ میں نے شادی کرلی ہے۔۔ نمرہ سے۔۔ خوبصورت لگ رہی ہے نہ میری بیوی۔۔؟”
حنین جزیل کو اکیلے دیکھ کر اونچی آواز میں بولا تھا اسے کیا پتہ تھا جزیل کے پیچھے کون کھڑا تھا۔۔۔
“نمرہ۔۔۔؟؟”
“جزیل اگر تم زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہو تو میں کیوں نہیں۔۔؟ حنین نے مجھے پرپوز کیا تھا۔۔۔ یہ رنگ بھی دیکھو کتنی خوبصورت ہے نہ۔۔۔؟؟”
نمرہ نے حنین کے بازو میں بازو ڈالے اپنی فنگر جزیل کی جانب کی تھی۔۔۔
“ہاں مگر تم سے خوبصورت نہیں بیگم۔۔۔”
حنین نے آگے جھک کر نمرہ کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا عین اسی وقت پریہان جزیل کے ساتھ آکر کھڑی ہوئی تھی اور اسکی آنکھوں میں اتنے وقت کے بعد وہ درد ابھرا تھا۔۔
وہ درد جسے وہ حنین کے طلاق کے کاغذات کے ساتھ ٹھکرا چکی تھی۔۔
وہ درد جو اسے تب محسوس ہوا تھا جب حنین نے اسے بےوفا مخاطب کیا تھا اس خط میں جو ان طلاق کے کاغذات کے ساتھ تھا۔۔۔ وہ خط جو اتنا مظبوط ثبوت ثابت ہوا تھا اسے مجرم ٹھہرانے میں وہ ثبوت جو اسے دو سال تک اس کاال کوٹھری میں قید کروانے میں کامیاب ٹھہرے ۔۔۔
پریہان نے پلکیں اٹھائے حنین کی جانب دیکھا تھا جو ایک پل تو مسکراتے ہوئے ساتھ کھڑی اس لڑکی کے ماتھے پر بوسہ دے رہا تھا اور اگلے ہی پل جب اس نے پریہان کو دیکھا اسکے چہرے سے وہ ہنسی وہ مسکراہٹ چلی گئی تھی اور وہ ساکن ہوگیا تھا اپنی جگہ پر ایک دم سے۔۔۔
جب پریہان نے پلکیں جھپکا کر نیچے کی تھی اس وقت وہ جان گیا تھا کہ اس نے وہ آخری موقع بھی گنوا دیا تھا اپنی پیا کو پانے کا۔۔۔۔
۔