62.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

“میں تمہاری طرح کوئی فلاسفر نہیں کوئی لکھاری نہیں ہوں جانِ من مگر میں اُس باوری کے لیے بہت پریشان ہوں۔۔۔ اب اینڈ کیا ہوگا کیا نہیں مگر وہ کب تک سفر کرے گی۔۔؟؟”
حنین کے سینے سے سراٹھا کر پریہان نے سیریس ہوکر اسے دیکھا تھا اور ہنستے ہوئے واپس سر رکھ لیا تھا
“ہاہاہاہا حنین آپ ٹھیک تو ہیں۔؟؟ ہاہاہاہا اس وقت بیگم کو پیار کرتے ہوئے آپ کو باوری کی فکر ہورہی۔۔؟؟”
حنین نے منہ بنا لیا تھا پر پریہان کی ہنسی سن کر وہ بھی مسکرا دیا تھا
“مجھے وہ باوری میری باوری لگتی ہے۔۔۔ پیا۔۔ اور ایک دم سے دل ڈر جاتا ہے۔۔”
“کیوں۔۔؟؟”
“کیونکہ تم نے کہانی میں سارا ظلم اس بیچاری پر ڈھا دیا ہے۔۔ اسکا کیا ہوگا مجھے تو یہی فکر لگی رہتی ہے۔۔۔”
“آہاں سرکار اس باوری کی تو زرا فکر نہیں ہے ابھی آئے ہیں اور کل پھر چلے جائیں گے۔۔۔”
“اوہو۔۔۔ میری باوری کی فکر کیوں نہیں ہے تم پر تو میں قربان۔۔۔”
پریہان کے ماتھے پر بوسہ دے کر حنین نے اپنی گرفت اور مظبوط کرلی تھی اسکی ویسٹ پر۔۔
“ہر آزمائش کے بعد راحت ہے۔۔۔ حنین وہ باوری اپنا راستہ تلاش کرلے گی ۔۔”
“اور میری باوری۔۔؟؟”
گرے شیٹس کو پیچھے کئیے حنین جیسے ہی اس پر جھکا تھا پریہان کی آنکھیں شرارت سے چمکی تھی
“یہ باوری ۔۔۔یہ باوری اب باوری کہاں رہی ہے پیا بن گئے ہے ۔۔”
حنین کی تھوڑی پر بوسہ دے کر اس نے بھی ویسے ہی جواب دیا تھا۔۔۔
“میری پیا۔۔۔ میں تمہارا دیوانہ ہوں یہ کافی ہے تمہیں میں باوری نہیں بننے دوں گا اپنی۔۔۔ تم میری پیا رہو گی۔۔۔”
۔
“پریہاں بیٹا دروازہ کھولو۔۔۔ پلیز بیٹا تم کہاں گئی تھی بنا کسی کو بتائے۔۔؟؟ بیٹا دروازہ کھولو سب پریشان ہورہے ہیں۔۔”
وہ باتھروم میں بھاگ گئی تھی دروازہ روم کا جیسے ہی کھلا تھا اس نے باتھروم کا دروزہ بند کرلیا تھا روتے ہوئے وہ فلور پر بیٹھ گئی تھی ہاتھو میں لگے خون کو دیکھ کر اس نے سلیو میں چھپائے ہوئے خنجر کو باہر نکال کر سنک میں پھینک دیا تھا اور اسے دھونا شروع کردیا تھا۔۔۔ہاتھوں سے خون دھو کر وہ باتھروم میں چکر لگانے لگ گئی تھی باہر والدہ دروازے پر دستک دے رہی تھی
“امی آپ جائیں میں عبیرہ سے ملنے گئی تھی ۔۔۔ میں کچھ اور نہیں بتانا چاہتی پلیز۔۔۔”
“بیٹا۔۔۔”
“پلیز۔۔۔”
والدہ جیسے ہی گئیں تھی وہ جلدی سے باہر آئی تھی اور اس نائف کو اس نے ایک کپڑے میں چھپا کر واپس سلیو میں چھپا لیا تھا اور بالکونی کے دروازے سے وہ نیچے بیک یارڈ میں چلی گئی تھی اور اتنے ناخنوں سے دور درخت کے پاس اس نے مٹی کو کُریدنا شروع کردیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے زمین بہت زیادہ کرید لی تھی اسکے ناخن ہاتھ مٹی سے بھر گئے تھے اور جب اس نے وہ چیز وہاں چھپا دی تھی تو وہ انہی الٹے قدموں سے واپس بھی آگئی تھی۔۔۔۔وہ جیسے ہی اپنے روم کی کھڑکی کو بند کرکے اندر داخل ہوئی تھی پیچھے اس گارڈن میں وہ چھپا ہوا شخص باہر نکل آیا تھا اس اندھیرے سے۔۔۔ وہ کبھی اوپر روم کی جانب دیکھ رہا تھا تو کبھی درخت کے پاس اس جگہ جہاں اس چیز کو چھپایا گیا تھا جو اسکے مطلب کی تھی
اس نے موبائل کان پر لگایا تو اس آگے کی انسٹرکشن ملنا شروع ہوگئی تھی
“انہی قدموں کے نشانوں پر قدم رکھو اپنے جوتے کا ایک بھی نشان نہیں چھوڑنا۔۔
اور ہاں جب وہ وہ سے نکالو تو گلوزز پہن لینا۔۔ وہاں کی کسی بھی چیز پر تمہارے فنگر پرنٹس نہ رہ جائیں وہ لا کر مجھے ابھی دو کچھ بلاک پیچھے میری گاڑی کھڑی ہوئی ہے۔۔۔”
“جی سر،،، میں ابھی آیا۔۔اور سر میرا انعام۔۔؟”
“جب میری چیز مجھے دینے آجاؤ گے تو اپنا انعام بھی لے جانا۔۔۔”
فون جیسے ہی بند ہوا تھا تھا وہ شخص اپنی لالچ میں اندھا ہواگپ اندھیرے میں وہاں بیٹھ گیا تھا اور بنا گلوزز پہنے وہاں سے وہ چھپائی ہوئے چیز کھوجنے لگا تھا اور جب اس نے اس خنجر کو جلدی سے ہاتھوں میں لے لیا تھاوہ خوشی خوشی واپس چلا گیا تھا وہاں سے جس چور رستے سے وہ آیا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم بار بار یہاں کیوں آجاتی ہو۔۔؟؟ اب ہمیں شرمندگی ہونے لگی ہے۔۔”
“یہ میرے شوہر کا گھر ہے امی میں بیوہ ہوں۔۔یہاں نہیں آؤں گی تو کہاں جاؤں گی۔۔؟؟”
وہ کہتے کہتے پھر کچھ تلاش کرنے لگی تھی
“کیا ڈھونڈ رہی ہو۔۔؟؟ میری گلاسز۔۔۔یہی رکھی تھی۔۔”
“پریہان یہاں میں کچھ ضروری بات کررہی ہوں تم۔۔۔”
وہ بات سنتے سنتے بالکونی کی طرف چلی گئی تھی باہر کرسی پر رکھی بکس پر بھی اسے گلاسز نہیں ملی تھی
وہ دونوں ابھی باہر بات کررہے تھے جب اندر کوئی دبے پاؤں آیا تھا اور گلاسز وہاں ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر واپس چلا گیا تھا ۔۔مگر جانے سے پہلے وہ پانی کے گلاس کو ٹشو پیپر کی مدد سے پکڑ کر اپنے ساتھ باہر لے گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر یہ آپ کی امانت۔۔؟؟”
وہ شخص جو گاڑی سے باہر نکلا تھا اپنے نوکر کے ہاتھ میں بنا گلوز پکڑے وہ خنجر دیکھ کر اس نے غصے سے اسکے منہ پر ایک طمانچہ مارا تھا
“یو فول۔۔۔ میں نے طوطے کی طرح پڑھایا تھا کہ فنگر پرنٹ نشان نہ لگنے دینا۔۔”
“اوہ سوووو سوریی سر میں ابھی صاف کرتا ہوں۔۔”
اس نے جیسے ہیاپنی شرٹ سے اس خنجر کو صاف کرنے کی کوشش کی تھی اس کے مالک نے غصے سے ایک اور تھپڑ مارا تھا اسے
“دفعہ ہوجاؤ میری نظروں سے اس سے پہلے تمہاری کھال ادھیڑ دوں۔۔۔”
وہ نوکر جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
“تم اپنا انعام لینا بھول گئے ہو۔۔”
پیچھے سے آواز پر وہ رکا تھا اور اگلے لمحے اسکی باڈی بے جان اس روڈ پر گری پڑی تھی۔۔
“یوزلیس۔۔”
اپنی گن واپس کوٹ کی جیب میں ڈال لی تھی
“اور وہ گاڑی جیسے ہی وہاں سے گئی تھی پیچھے کھڑی گاڑی ایک دھماکے سے نظر آتش ہوگئی تھی اس باڈی کے ساتھ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔”
وہ کسی زندہ لاش کی طرح بیٹھی ہوئی تھی دلہن کے جوڑے میں۔۔۔ وہ انتظار کررہی تھی اپنے آپ کو دفنائے جانے کا۔۔
لوگوں نے اسے ڈولی بٹھانا تھا مگر وہ جانتی تھی وہ اس بار ڈولی نہیں بیٹھے گی اسکا جنازہ اٹھے گا۔۔۔
پچھلے ہفتوں کی لڑائی وہ بحث وہ منتیں اسے جوں جوں یاد آرہی تھی اسکی آںکھوں سے اشک بہنا شروع ہوگئے تھے
“وقت گزر رہا ہے اور ابھی تک جزیل نہیں آیا آفاق بھائی۔۔۔”
“جزیل کہاں رہ گیا ہے۔۔؟؟”
دولہا نہیں آیا۔۔؟ پہلے ہی پتہ تھا وہ نہیں آئے گا جو لڑکی اپنے پہلے شوہر کو کھا گئی اس منحوس سے کون شادی کرے گا۔۔؟؟
بہت سی چیم گوئیاں ہونا شروع ہوئی تھی۔۔
وقت گرزتا چلا جارہا تھا جو نکاح دوپہر کے وقت ہونا تھا وہ وقت بھی مضرب تک آپہنچا تھا
مگر جزیل کی کوئی خیر خبر نہ تھی۔۔۔
۔
“جزیل بیٹا۔۔۔”
جزیل جیسے ہی داخل ہوا تھا سرخ آنکھیں بکھرے بال اور چہرہ غصے سے بھرا ہوا تھا
“جزیل بیٹا کہاں رہ گئے تھے سب انتظار کررہے تھے مولوی صاحب آپ نکاح۔۔۔”
پریہان کے والد کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹا کر جزیل نے پیچھے دھکیل دیا تھا انہیں
“آپ کی بدکردار قاتل بیٹی سے میں نکاح نہیں کروں گا۔۔۔”
“جزیل۔۔۔”
آفاق صاحب نے اپنے بیٹے کو غصے سے چپ کروانے کی کوشش کی تھی
“آفیسرز۔۔۔ اندر آجائیں اس قاتل کو لے جائیں یہاں سے۔۔”
“جزیل بیٹا۔۔۔”
پریہان کی والدہ نے آگے بڑھےنے کی کوشش کی تھی مگر لیڈی آفیسرز انہیں بھی پیچھے کرکے اس بیڈروم میں داخل ہوگئی تھی جو حنین کا اور اسکا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ لوگ میری شادی آپ کے چھوٹے بھائی سے کرنا چاہتے ہیں حنین۔۔
آپ کی پیا آپ کی بیوہ بن کر جی رہی ہے اتنا کافی نہیں ہے جو یہ لوگ مجھے کسی اور کی محرم بننے پر مجبور کررہے ہیں سہاگن بنا کر۔۔۔حنین میں نے ان سب سے کیا مانگا تھا۔۔؟
زندہ رہنے کے فقط تمہاری یادوں سے بھرا یہ کمرہ۔۔؟
حنین آپ نے کہا تھا آپ ساتھ دیں گے۔۔ حنین آپ کے چھوڑ جانے کا یقین نہیں ہوا تھا کہ اب یہ لوگ مجھے سے وہ حق بھی چھین رہے ہیں۔۔۔”
۔
“یہ ڈرامے اب جیل جاکر کرنا۔۔”
“آپ کون۔۔؟ یہاں اندر کیا کررہی ہیں۔۔۔”
مگر پریہان کو بےدردی سے وہ لوگ کھینچتے ہوئے باہر لے گئے تھے جہاں پہلے ہی آپس میں لڑائی ہو رہی تھی فیملی والوں کی۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر الزام لگانے کی۔۔؟؟”
“ثبوت ہیں میرے پاس۔۔۔یہ دیکھیں۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔ جس کو آپ اپنی بیٹی مانتے رہے وہی قاتل نکلی آپ کے بیٹے کی۔۔۔آپ۔۔۔”
اور دلہن کے جوڑے میں ملبوس اس لڑکی کو جیسے ہی پولیس نیچے ہال میں لائی تھی
جزیل کی ہر بات دم توڑ دئی تھی جب اس نے اس لڑکی کو اس سرخ جوڑے میں دیکھا تھا۔۔۔
اسکی دھڑکن ایک دم سے رکی تھی۔۔۔ پریہان اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
آنکھوں میں وہ لگی گلاسز بھی چھپا نہیں پائی تھی کاجل لگی ان آنکھوں کو۔۔۔
وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا۔۔۔
“میں نے کسی کو نہیں مارا۔۔۔آپ لوگ میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔ امی ابو۔۔۔”
ان دونوں کو بھی پیچھے کردیا گیا تھا وہ جیسے ہی جزیل کے پاس سے گزری تھی۔۔۔وہ زبردستی رک گئی تھی وہاں اسکے سامنے
“میں نے حنین کو نہیں مارا۔۔۔ آپ کہیں ان لوگوں کو۔۔ آپ انہیں سمجھائیں۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں ایک یقین تھا جو اس نے اس وقت جزیل پر کیا تھا۔۔۔
“میں انہیں سمجھاؤں۔۔؟؟ میں ہی تو انہیں یہاں لایا ہوں۔۔ تم قاتل ہو بھائی کی اور یہ سب ثبوت۔۔۔ مس پریہان۔۔۔لے جائیں۔۔۔”
پریہان کو غصے سے اس نے پیچھے دھکا دیا تھا وہ
۔
شور شرابے میں آفیسرز کے ساتھ بہت بحث مباحثے کے باوجود بھی وہ لوگ پریہان کو وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔اور اسکے پیچھے اسکی فیملی بھی وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“جزیل۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔آج تم نے ثابت کردیا ہے کہ تم کبھی حنین نہیں بن سکتے۔۔۔تم نے مجھے ہی نہیں حنین کی روح کو بھی تکلیف دہ دی ہے آج۔۔۔”
جزیل کو تھپڑ مار کر باہر جانے لگے تھے جب جزیل نے وہ بات کہہ دی تھی
“آپ کا بیٹا۔۔۔ آپ کی بہو اور اپنی قاتل کو پہلے ہی ڈائیورس دے چکا تھا ڈیڈ۔۔۔
وہ لڑکی کریکٹر لیس لڑکی تھی یہ دیکھیں۔۔۔”
اور حنین آفاق عباسی کے گھر میں اب کوئی نہیں رہا تھا اس باوری کی سائیڈ لینے والا۔۔۔
“حنین بھائی میں اسے سزا دلوا کر رہوں گا۔۔۔”
آسمان کی طرف دیکھے اس نے سرگوشی کی تھی اور اپنی آنکھیں صاف کئیے وہ بھی چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“ایک ماہ بعد۔۔۔”
۔
“ڈیمپارٹمنٹ کے بیسٹ آفیسر کا مرڈر کردیا اور یہ سکون سے آرام فرما رہی ہے۔؟ اٹھاؤ اسے۔۔اور جتنا ہوسکے ظلم کرو اس ظلم لڑکی نے اپنے ہی شوہر کا قتل کردیا یہ ہمدردی کے قابل نہیں ہے۔۔”
بالوں سے پکڑ کر لیڈیز پولیس آفیسر نے اسے کھڑا کیا تھا جس میں کھڑے رہنے کی بھی ہمت نہیں تھی
“میں نے۔۔۔حنین کو نہیں مارا۔۔۔”
مار کھاتے ہوئے اسکے خون آلود ہونٹوں سے ایک ہی آواز نکلی ےتھی
“تو نے ہی مارا ہے سارے ثبوت تیرے خلاف ہے۔۔جھوٹ بولتی۔۔۔”
پیٹ پر لات پڑتے ہیں وہ پیچھے جا گری تھی
“کوئی جسم سے روح کو کیسے جُدا کرسکتا ہے اپنے ہی ہاتھوں۔۔؟ وہ میری زندگی تھا۔۔۔”
دیوار کا سہارا لئیے وہ خود کھڑی ہوئی تھی کھانسی کرتے ہوئے بھی اسے درد ہورہا تھا
وہ درد جو پچھلے کچھ ماہ سے اسکے نصیب میں لکھ دیا تھا ظالم دنیا نے۔۔۔
“خود نہیں کیا کسی سے تو کروایا تھا اس طیارے میں بم رکھوا کر۔۔ تجھے زرا ترس نہ آیا اپنے شوہر کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے۔۔؟؟”
جیلر صاحبہ تو باقی سب سے بھی زیادہ ظالم نکلی تھی
مگر ظلم سہنے والے کی آواز بند ہوگئی تھی وہ چپ چاپ سب برداشت کئیے جارہے تھی اب تو وہ بھی خود کو مجرم سمجھنے لگی تھی اپنے مجازی خدا کا۔۔۔
“بس کر جائیں۔۔ اسکی حالت دیکھ رہی ہیں۔؟ وہ مرجائے گی۔۔”
“مرتی ہے تو مر جائے جزیل صاحب نے کہا تھا وہ سنبھال لیں گے۔۔اسکی سزا نہیں رکنی چاہیے۔۔”
وہ جیسے ہی باہر گئی تھی ایک اور آفیسر اندر سیل میں آئی تھی کھانے کی پلیٹ لیکر۔۔
“یہ کھانا کھا لو۔۔۔ پانی پی لو۔۔ تم نہیں جانتی حنین کیا اہمیت رکھتے تھے ہم سب کے لیے۔۔
سب کو غصہ ہے تم پر۔۔”
وہ پلیٹ بھی پاس رکھنے کے بجائے دور سے اسکی طرف پھینک کر باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“چشمش۔۔۔”
گہرے اندھیرے میں دور کونے میں اسے وہ شخص ہنستا مسکراتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔
وہ جیسے ہی اٹھ کر اسکی طرف بڑھنا چارہی تھی اسکی چین پیچھے کھینچ لیتی وہ بار بار چین کو کھنچ کرتوڑنے کی کوشش کررہی تھی اسے ڈر تھا کہیں وہ شخص پھر سے اس سے دور نہ چلا جائے اور
جب وہ دوسری جانب دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تو وہ بھی تھک ہار کر پیچھے بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“حنین۔۔۔تم سچ میں ہو یہاں۔۔۔؟؟”
۔
پتھر آنکھوں نے ان ہفتوں میں پہلی بار پلکیں جھپکی تھیں۔۔۔
۔
“آبیٹھ پاس تجھے دیکھ تو لوں۔۔
نجانے پھر کب موقع ملے۔۔۔
جینے دے کچھ پل باقی میرے۔۔
کون جانے کتنے۔۔۔ہو فاصلے۔۔۔”
۔
“کھانا کھا لو۔۔ ہمارے بچے کو بھوکا رکھنے کا ارادہ ہے۔۔۔؟؟”
بس اتنا سننے کی دیر تھی اسکی آنکھوں سے دریا بہہ نکلا تھا آنسوؤں سے اسکے چہرے پر لگا خون بھی مٹنا شروع ہوگیا تھا
“ہی از گون حنین۔۔۔تمہاری طرح وہ بھی مجھے چھوڑ کرچلا گیا۔۔”
اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے وہ زاروقطار رہ دی تھی۔۔۔اس کال کوٹھری میں اسکی سسکیاں گونج رہی تھی
“حنین۔۔۔”
“تم نے کہا تھا تم ہر مشکل کا سامنا کرو گی ہمت سے ہارو گی نہیں کہاں گیا وہ تمہارا وعدہ۔۔؟”
“تم نے بھی تو وعدہ کیا تھا تم ہر مشکل میں میرے ساتھ رہو گے میری ہمت بنو گے۔۔۔
کہاں گیا تمہارا وعدہ حنین۔۔۔؟؟”
“چشمش۔۔۔جانے والے کو کوئی روک نہیں سکتے۔۔”
“تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔۔ یہ دیکھو تمہاری خوبصورت دنیا نے کتنا بدصورت حال کردیا۔۔
کہتے ہیں میں نے تمہیں مار دیا۔۔بھلا میں اسے کیسے مار سکتی جسے ٹوٹ کر چاہا۔۔۔
تم آگئے ہو تو بتاؤ انہیں کہ میں نے نہیں مارا۔۔۔ حنین تمہارے حصے کو موت بھی مجھے آجاتی مجھے سہاگن کی موت مار دیتے مگر یہ بیوہ کی زندگی۔۔؟ یہ قاتل کی زندگی۔۔؟؟”
وہ سنائی جارہی کبھی ہاتھوں کو سر پر مار رہی تھی تو کبھی دیوار پر سر مار رہی تھی
چین توڑنے کی کوشش کررہی تھی مگر ناکام ہوکر پھر سے آہ پکار کررہی تھی اس شخص کو اپنے پاس بلا رہی تھی جو اپنی جگہ پر ساکن تھا۔۔۔۔
“پیا۔۔۔۔”
وہ اس لفظ کو سن کر شاکڈ رہ گئی تھی۔۔ہلنا بند کردیا تھا اس نے۔۔۔
“باوری۔۔۔”
اس لڑکی نے جیسے ہی سرگوشی کی تھی اس سیل میں خود کو تنہا پایا تھا۔۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔