Piya Baawari by Sidra Sheikh readelle50037 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“جانے والے اگر ایک آواز دینے پر رک جائے تو جدائیاں محبتوں کا مقدر نہ بنے”
“پیا پلیز۔۔۔”
حنین نے آگے بڑھ کر پھر سے پیا کا ہاتھ پکڑنا چاہا تھا جسے جزیل اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا چکا تھا
حنین کبھی پریہان کی طرف جارہا تھا تو کبھی جزیل کی منتیں کررہا تھا
“حنین میڈیا والے یہیں دیکھ رہے چلو یہاں سے۔۔۔تماشا بن جائے گا۔۔۔جزیل پریہان کو لیکر سیدھا گھر جائے گا تم وہی جاؤ۔۔۔”
شاہد کی بات سن کر حنین نا چاہتے ہوئے بھی اس چلتی گاڑی کے سامنے سے ہٹ گیا تھا
اسکے دل میں ایک امید کی کرن جاگی تھی
“ہاں موم ڈیڈ جزیل کو منا لیں گے وہ سمجھائیں گے اسے۔۔۔”
“حنین جیسے ہی اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا اسکے کچھ سینئر آفیسرز اسکے سامنے آکر کھڑے ہوگئے تھے
“سر آپ۔۔۔؟؟”
“آفیسر حنینآپ نے اتنا ہی وقت مانگا تھا۔۔۔ اب وکٹم بھی باعزت بری ہوچکی ہیں۔۔ اب آپ کو کوئی آبجیکشن نہیں ہونا چاہیے مشن کو جاری رکھنے میں۔۔۔”
۔
انہوں نے حنین سے کچھ اور بھی ضروری باتیں کہی تھی مگر حنین کی نظر دور تلک جزیل کو تیز رفتار گاڑی کو جاتے دیکھ رہی تھی
“پیا۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی اور اپنے سینئرز کی گاڑی میں بیٹھ کر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ اس وعدے کے ساتھ کہ وہ رات کو گھر ضرور جاکر سب ٹھیک کردے گا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں کسی تفشالہ کو نہیں جانتی اور آپ ہمیں یہاں قید نہیں کرسکتے مسٹر۔۔۔”
“سر آپ کہیں تو ان دونوں کو سبق۔۔۔”
“تم سب جاؤ۔۔۔”
غزلان صاحب نے سب لوگوں کو باہر بھیج دیا تھا اور ایک نظر غصے سے شائنہ اور سائرہ کو دیکھا تھا
“تفشالہ غزلان میری اکلوتی لاڈلی بیٹی۔۔۔ جس کی ابھی تک کی انفارمیشن تمہیں پتہ ہے میں جانتا ہوں تم دونوں جانتی ہو کہ وہ کہاں کس حال میں ہے۔۔۔ میری بیٹی کی جان کو خطرہ ہے۔۔
اگر اسے ایک خروش بھی آئی تو تم دونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا ان باقی لوگوں کے ساتھ۔۔۔ اس لیے مزید چوبیس گھنٹے کا وقت دیتا ہوں۔۔۔ تب تک پانی کا ایک قطرہ کھانے کا ایک لقمہ نہیں ملے گا تم دونوں کو۔۔۔”
وہ کہہ کر چلے گئے تھے انکے باہر جاتے ہی اس کمرے کو باہر سے لاکڈ کردیا گیا تھا
“شائنہ۔۔۔ بتا دو تفشالہ کون ہے۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی۔۔۔”
“ہماری پریہان ہی تفشالہ ہے۔۔۔ تم نہیں جانتی یہ شخص کتنا خطرناک ہے سائرہ۔۔۔ یہ سب کو تو مار دے گا۔۔۔ مگر تفشالہ کو بھی نہیں چھوڑے گا۔۔۔ پریہان نے جو جنگ لڑنے کی تھانی تھی وہ سب سے پہلے اپنے باپ کے خلاف تھی۔۔۔ اس شخص پر یقین کرنا حماقت ہوگی یہ پریہان کو آنکھوں کے سامنے مار دیں گے۔۔۔”
وہ ڈر گئی تھی سائرہ کے لیے اور پریہان کے لیے۔۔۔ شائنہ کشمکش میں پڑ چکی تھی ایک دم سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈرائیو کرتے ہوئے جزیل ہر پانچ سیکنڈ بعد پریہان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ابھی بھی آدھے گھنٹے کا فاصلہ تھا گھر تک کا۔۔۔
اس بار پریہان کا سر پیچھے سیٹ پر تھا آنکھیں بند تھی دونوں ہاتھ گود میں رکھے ہوئے تھے پونی ٹیل کئیے ہوئے وہ بال اتنے الجھے ہوئے لگ رہے تھے جزیل کو وہ بار بار ہمت کرکے ہاتھ آگے بڑھا بالوں کو پیچھے کرنے کی کوشش کرتا مگر ڈر کے مارے ہاتھ پیچھے کرلیتا کہ پریہان کی آنکھ نہ کھل جائے اسکی نیند نہ خراب ہوجائے۔۔۔
گلے میں پہنا دوپٹہ بھی سرک کر گود میں گرچکا تھا۔۔۔ اور نظریں چرانے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا اسکے پاس۔۔۔
۔
“کوئی اتنا معصوم کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟؟ تم جیسا۔۔۔۔
کوئی کیسے اتنا ظالم ہوسکتا ہے مجھ جیسا۔۔۔؟؟”
جزیل نے آہستہ سے زخم لگے اس ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔۔۔
۔
پریہان کی آنکھیں کھل گئی تھی جب اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر کسی کے نرم لبوں کا لمس محسوس ہوا تھا اسے۔۔۔
وہ جیسے ہی اٹھی تھی اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا تھا جس پر جزیل بار بار بوسہ دے رہا تھا۔۔
اس شخص کے ساتھ وہ آنے کے لیے مان تو گئی تھی مگر زندگی۔۔۔؟؟ وہ بھی اس ظالم شخص کے ساتھ۔۔؟؟
۔
ان دونوں کی نظریں ٹکرائی تھی اور ایک دم سے انکی گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کردیا تھا کسی نے۔۔۔
“شٹ۔۔۔ ہمیں فالو کیا جارہا۔۔۔”
جزیل نے گاڑی کی سٹئیرنگ کو سنبھالا تھا۔۔
“گن بھی آفس میں چھوڑ آیا۔۔۔۔ڈونٹ ورری پریہان۔۔۔”
پریہاں کا ہاتھ واپس اپنے گھٹنے پر رکھ کر اس نے سپیڈ تیز کردی تھی۔۔۔ مگر پریہان کی آنکھوں میں کوئی ڈر خوف کوئی گھبراہٹ نہیں تھی کچھ پیچھے سے فائرنگ جیسے ہی شروع ہوئی تھی انکی گاڑی کے ٹائرز پر گولیاں لگنے سے گاڑی ایک درخت کے ساتھ جا ٹکرائی تھی۔۔۔
ماتھے پر چوٹ لگنے سے جزیل کی آنکھیں بند ہوگئی تھی۔۔۔ بند آنکھوں سے بھی اسے آوازیں سنائی دے رہی تھی کچھ لوگ بلیک یونیفارم میں پریہان کی سائیڈ کا دروازہ کھولے اسے زبردستی وہاں سے نکال کر باہر لے گئے تھے۔۔۔
“اس لڑکی کو ختم کردو۔۔ مگر ایسے نہیں اتنی اذیت دو کہ اسے دیکھنے والے بھی یاد رکھیں۔۔۔”
پریہان کے بال کھینچ کر اسے روڈ پر دھکا دے دیا گیا تھا۔۔۔
سر پر وہ بوٹ پہنے اس پاؤں کی چوٹ جیسے لگی تھی اسکے سر سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا
اسکے سر پر بار بار بوٹ مارے جارہے تھے جب جزیل نے پیچھے سے ایک گارڈ کی گن چھین کر ان پر فائر کردئیے تھے۔۔۔
“باسٹرڈ۔۔۔”
جو پریہان کے سر پر بوٹ سے وار کررہا تھا جزیل نے کتنی بلٹ اسکی ٹانگ پر ماری تھی۔۔۔۔
وہ جب سب کو ڈھیر کرچکا تھا وہ پریہان کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
اسکے سر سے خون نکل کر اسکے ہی گرد ایک دائرے میں بکھر گیا تھا۔۔۔
جزیل گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھ گیا تھا پریہان کے سر کو جیسے ہی اپنی گود میں رکھ تھا
اسکے زخموں سے بھرے چہرے نے جزیل کی آنکھوں کو بھگو دیا تھا۔۔۔
چہرہ تر ہوگیا تھا جب وہ جھکا تھا اور اپنے لب اسکے زخموں پر رکھ دئیے تھے
“تمہارا قصور کیا ہے۔۔۔؟؟ اتنا ظلم۔۔؟؟ آخر کیوں پریہان۔۔؟؟ ٹاک ٹو مئ۔۔ اپنی آنکھیں بند مت کرو۔۔۔ مجھے تمہاری خوبصورت آنکھیں دیکھنی ہے چندا۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی وہ اسے اٹھانے کی کوشش کررہا تھا مگر کوئی جواب نہیں مل رہا تھا اسے۔۔۔
“کیسے ۔۔۔کیسے برداشت کرتی رہی تم میرے ظلم۔۔؟؟ دو سال پریہان۔۔۔ کیوں میں یہ سب دیکھ نہ سکا۔۔؟؟”
جزیل اپنے گلے سے لگائے پریہان کو اٹھا چکا تھا اپنی ڈیمیجڈ گاڑی کی طرف جانے کے بجائے وہ انہی لوگوں کی گاڑی میں پریہان کو لٹائے وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یو باسٹرڈ جس رینک کی میں آفیسر ہو وہ لوگ چھوڑے گے نہیں تجھے۔۔”
نمرہ نے منہ سے نکلتے خون کو صاف کرتے ہوئے غصے سے کہا تھا
“رونگ آنسر بےبی۔۔۔ پھر سے ٹرائی کرتے ہیں اس بار غلط جواب ہوا تو یہ نائف سیدھا تمہارے گلے پر ہوگا۔۔۔”
وہ شخص اپنی باتوں سے اتنا تو نمرہ کو خوف میں مبتلا کرچکا تھا مگر وہ ظاہر نہیں کروا رہی تھی کچھ بھی
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ اگر اتنے ہی مرد ہوتے تو ایک ہی بار میں مار دیتے۔۔۔ تجھے بھی معلوم ہے کہ مجھے مار کر تجھے کچھ نہیں ملنے والا۔۔۔ “
“آہاں۔۔۔؟؟”
چین کو ایک بٹن پریس کرنے کے بعد سے اوپر کی جانب کردیا تھا دونوں ہاتھوں میں بندھی ہوئی چین جیسے جیسے اوپر کھینچی جارہی تھی وہ تکلیف میں کرسی سے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
اور پھر اس ٹارچر سیل میں اسکی چیخیں سنائی دی تھی۔۔
جیسے کسی سیل میں پریہان کی آوازیں گونجتی تھی۔۔۔
“تفشالہ غزلان کہاں ہے۔۔۔؟؟”
خون سے بھرے ہاتھوں کو صاف کئیے اس نے نمرہ سے پھر سے پوچھا تھا
“تفشالہ۔۔۔ نام سنا سنا لگ رہا ہے۔۔۔ مگر میں نہیں جانتی۔۔۔”
اور وہ بےہوش ہوگئی تھی وہیں۔۔۔
“بچ۔۔۔” کپڑے خراب کروا دئیے۔۔۔ اب غزلان سر کو کیا جواب دوں گا۔۔۔”
“سر باس کا فون آیا ہے۔۔”
گارڈ موبائل اندر لے کر آیا تھا۔۔۔
“اسکے ہاتھ کھول کر ڈاکٹر کو بلواؤ۔۔۔ اسے زندہ رہنا ہے اور اسکی ذمہ داری تمہاری ہے۔۔”
۔
وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا موبائل فون لیکر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر پر گہری چوٹ آئی ہے۔۔۔ انکے سٹیچز کا خاص خیال رکھئیے گا۔۔ انہیں چوبیس گھنٹے انڈر آبزرویشن کی ضرورت ہے مسٹر جزیل آئی تھنک آپ انہیں ہاسپٹل شفٹ کردیں۔۔”
“نو تھنکس آپ جا سکتے ہیں۔۔۔ جیمی انہیں ویسے ہی یہاں سے لیکر جاؤ جیسے لیکر آئے تھے۔۔۔
اور وہ جیپ جہاں کھڑی ہے وہیں اسے آگ لگا کر تباہ کردینا۔۔ کوئی فٹ پرنٹ ہوں تو برباد کردینا۔۔۔”
جزیل کے حکم پر اس ڈاکٹر اور نرسز کی آنکھوں پر پٹی باندھے جیمی ان لوگوں کو اس جگہ سے لے گیا تھا جہاں جزیل پریہان کو لے کر آیا تھا۔۔۔
۔
“تم بہت جلدی ٹھیک ہوجاؤ گی۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔۔۔ میں کسی کو تمہارے پاس نہیں آنے دوں گا۔۔۔”
بالوں کو ماتھے سے پیچھے کئیے جزیل نے پریہان کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
شوز اتارے وہ خود بھی بیڈ پر لیٹ گیا تھا اور آہستہ سے پریہان کو اپنی طرف کیا تھا جیسے ہی پریہان کا سر اسکے سینے پر آہستہ سے رکھا تھا وہ آنکھیں بند کرچکا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“جزیل۔۔۔ موم ڈیڈ۔۔۔ پریہان۔۔۔”
حنین چلاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا تھا لیونگ روم میں پہلے سے بہت سے رشتے دار موجود تھے جو حنین کو دیکھ کر خوشی سے اسکی طرف بڑھے تھے۔۔۔
“حنین بیٹا۔۔۔ میری آنکھیں ترس گئی تھی تمہیں دیکھنے کے لیے بیٹا۔۔۔”
نانی نے آگے بڑھ کر بہت شفقت کے ساتھ حنین کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔
ایک ایک کرکے سب کزن حنین کو مل رہے تھے گلے لگا رہے تھے ماتھا چوم رہے تھے اور وہ بار بار اوپر کے کمروں کی طرف دیکھ رہا تھا
“مو۔۔م۔۔۔ موم میری بات سنیئے۔۔۔”
ناہید بیگم کا بازو پکڑ کے ایک سائیڈ پر لے گیا تھا حنین
“موم۔۔۔ جزیل اور پیا۔۔۔ وہ گھر آچکے ہیں۔۔؟؟ کہیں نظر نہیں آرہے۔۔”
“نام مت لو اس گھٹیا لڑکی کا میرے سامنے۔۔۔اور تم کس منہ سے اسے پیا کہہ رہے ہو۔۔؟؟ چلی گئی ہے وہ جزیل کے ساتھ۔۔۔ فون آیا تھا جزیل کا وہ اپنے کپڑے منگوا چکا ہے کچھ دیر پہلے ہی۔۔۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ ٹھیک ہے اسکی فکر نہ کرے کوئی۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔”
ایک دیوار کے ساتھ لگ گیا تھا حنین اس بات کو سن کر۔۔۔
“وہ میری پیا کو مجھ سے دور لے گیا ہے۔۔۔”
“یہ سب تماشا چل رہا ہے۔۔؟؟ کبھی تم تو کبھی جزیل۔۔۔ حنین۔۔۔ ایک وقت تھا جب مجھے فخر تھا تمہاری پسند پر مگر اس لڑکی کی بدکرداری نے سب واضح کردیا۔۔۔ آفاق بھی بہت غصے میں جزیل کا کوئی کنٹیکٹ نمبر نہیں مل رہا اور میڈیا پر چلنے والی خبروں کے بعد جو نقصان بزنس کو ہوا ہے اسکا اندازہ نہیں لگا سکتے تم سن رہے ہو۔۔۔”
۔
مگر ہمت ہارے گھر سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
وہ جیسے جیسے گھر سے دور ایک سنسنان پارک میں داخل ہوا تھا اسکا ہاتھ پیچھے سے پکڑ کر کسی نے روک لیا تھا۔۔۔اور جب پیچھے مڑ کرحنین نے دیکھا تو وہ حیران ہوگیا تھا۔۔
“مسز سائمن۔۔۔”
مسز سائمن نے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا حنین کو۔۔۔
“جس کے کردار کو گندہ کرکے تم نے اسے طلاق دی اسکی زندگی کے تین سال اذیتیوں میں گزار دئیے اس بیوی پر شک کیا۔۔۔
اب اس بیوی کو اپنے لیے محبت پڑھ کر شرم سے ڈوب مرنا حنین عباسی۔۔۔”
انہوں نے ایک کتاب تھما دی تھی حنین کے ہاتھ میں۔۔۔۔
“باوری پیا کی”
اس ٹائٹل کو پڑھ کر اس نے پھر اس خاتون کی طرف دیکھا جو غصے سے پھر سے تھپڑ مارنا چاہتی تھی حنین کو۔۔۔
“مسز سائمن۔۔۔”
“ایک لفظ نہیں۔۔۔ جانتے ہو یہ کونسی کتاب ہے۔۔۔ یہ اس ‘ پیا باوری’ کا وہ حصہ ہے جو پریہان تمہارے آنے کے بعد شائع کروانا چاہتی تھی۔۔۔ کچھ لوگوں نے اسکی ہزاروں کاپیاں چھاپ دی مگر اسے پبلک میں دینے سے روک دیا تھا کورٹ نے۔۔۔ کیونکہ پریہان چاہتی تھی پہلے تم تک جائے یہ کتاب۔۔۔اب جاؤ اور پڑھو اس باوری کی اپنے محبت کو۔۔”
۔
وہ جیسے جیسے وہاں سے جانا شروع ہوئی تھی حنین خالی بینچ پر بیٹھ گیا تھا اس کتاب کو اپنے گلے سے لگائے۔۔۔
۔
۔
“جگ جگ کے راتوں میں۔۔میری طرح آنکھوں میں
ماہی آنسوؤں کے دھاگے تو پروئے گا۔۔۔۔
تو بھی روئے گا ماہی تو بھی روئے گا۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
