121.9K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

“سب سے دور وہ اپنی ناکام محبت کو چھپائے ایک طویل جنگ میں اک بنام سپاہی جیسے گمنام ہوگئی تھی وہ پیا باوری۔۔ اسکا اپنا تو کوئی رہا نہیں تھا۔۔ چلتے چلتے اس سفر میں اس کا سامنا اس دیوانے سے ہوا جو اس باوری کی منزل ٹھہرا جو اسکی مستقبل ٹھہرا۔۔۔
کسے پتہ تھا وہ سچ کردیکھائے گا۔اس باوری کو اپنا بنانے کا وعدہ سچ کر دیکھائے گا۔۔۔
اس محٖل سے ہونے والی ملاقات نے مجھے اس پھولوں کے بستر پر بٹھا دیا تھا اسکی بیوی کی حیثیت سے۔۔۔
وہ مجھے باوری کے لقب سے مکمل جدا کرکے اپنی منکوحہ بنا چکا تھا اپنی بیوی کا درجہ دہ دیا تھا اس نے۔۔۔ ہماری شادی اس سب کا ثبوت تھی۔۔۔”
۔
“آپ کو شرم نہ آئی۔۔۔”
جزیل نے حنین کا گریبان جیسے ہی پکڑا تھا پریہان اپنی کھوئی ہوئی دنیا سے واپس آئی تھی۔۔
اسکی نظریں بار بار حنین کے چہرے پر جارہی تھی جو اپنا گریبان چھڑانے کے بجائے اسی کو دیکھ رہا تھا سب کچھ جیسے رک سا گیا ہو ان دونوں کے لیے۔۔۔
“پریہان۔۔۔”
پریہان جیسے ہی بےہوش ہوکر پیچھے گرنے لگی تھی حنین جزیل کو دھکا دے کر اسکی طرف بڑھا تھا
“پیا۔۔؟؟ پیا آنکھیں کھولو۔۔۔”
وہ پاگلوں کی طرح پیا کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا تھا۔۔ آفاق صاحب ناہید بیگم حنین کی شکل تکتے رہ گئے تھے
اور جزیل۔۔۔ وہ ایک پل اسے یہ سمجھا گیا تھا کہ نمرہ کو حنین کے ساتھ دیکھ کر اسے اتنی تکلیف نہیں ہوئی تھی جتنا درد حنین کو پریہان کے ساتھ دیکھ کرہورہا تھا۔۔۔
۔
“ڈونٹ ٹچ ہر۔۔۔ڈونٹ یو۔۔ شادی کرلی ہے نئی بیوی لے آئے ہیں اسکے ساتھ رہے۔۔
دور رہیں میری بیوی سے۔۔۔”
جزیل پریہان سے پیچھے کرکے اسے اٹھا کر اوپر اپنے روم میں لے گیا تھا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“حنین۔۔۔”
“یہ تھی تمہاری پلاننگ یہ تھا تمہارا پلان۔۔؟؟ تمہارا جزیل وہ تو ایک نظر نہیں دیکھ رہا تھا تمہیں۔۔
مگر میری پیا۔۔۔ وہ جن نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی مجھے اپنے اس وجود پر شرمندگی ہورہی تھی میں کیا سے کیا بن گیا۔۔۔؟”
نمرہ کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر حنین نے غصے سے پوچھا
“حنین ابھی شروعات ہے۔ تم نے دیکھا نہیں جزیل بھی تو دیکھ رہا تھا اس لڑکی کا تمہیں دیکھنا ۔؟ ان دونوں کے درمیان اب علیحدگی ہوگی دیکھ لینا۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہے تھے جب ملازمہ نے دروازے پر دستک دی تھی
“صاحب آپ نے کہا تھا میڈم کو جب ہوش آجائے تو آپ کو بتا دیں انہیں ہوش آگئی ہے۔۔۔”
“حنین ابھی وہاں مت جاؤ۔۔۔”
مگر نمرہ کے ہاتھ کو جھٹک کر حنین وہاں سے چلا گیا تھا جزیل کے بیڈروم کی طرف۔۔
وہ اس کمرے سے گزرتے ہوئے گیا تھا جو کمرہ کبھی اسکا اور پریہان کا تھا۔۔
وہ کمرہ جہاں اس نے زندگی کی ہر خوشی منائی تھی اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔
اور وہ جیسے ہی جزیل کے کمرے میں داخل ہوا تھا جزیل کو پریہان کے پاس بیڈ پر دیکھے وہ غصے میں آیا تھا۔۔۔
مگر پریہان کی نظریں جزیل پر نہیں دروازے پر کھڑے حنین پر تھی
جن آنکھوں میں بہت گلے شکوے دیکھے تھے حنین نے اپنے لئیے۔۔۔
۔
“روؤں یا ہنسوں تیری حرکت پہ۔۔ یا پھر تیری تعریف کروں۔۔؟؟
میرے دل سے تو ایسے کھیل گیا۔۔اب جی نہ سکوں مر بھی نہ سکوں۔۔”
۔
“اب یہ ٹھیک ہیں مسٹر جزیل مگر میں آپ کی وائف کی میڈیکل ہسٹری ضرور دیکھنا چاہوں گا۔۔۔ اور ایک بات انکو سٹریس سے دور رکھئیے گا جتنا ہوسکے۔۔”
۔
“پریہان۔۔۔”
ڈاکٹر کے باہر جاتے ہی حنین اندر داخل ہوا تھا جس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جزیل نے وہیں روک دیا اسے۔۔۔
“ایک اور قدم نہیں آپ نے جو کرنا تھا آپ نے کردیا۔۔ مجھے فرق نہیں پڑا۔۔”
“مگر اسے ضرور پڑا ہے کیوں پیا۔۔؟؟ آج بھی محبت ہے مجھ سے آج بھی میں ضروری ہوں آج بھی میں۔۔۔”
حنین جیسے جیسے کہتے ہوئے اندر آیا تھا جزیل کی گرفت کمزور ہوئی تھی یہ وہ بھی جانتا تھا پریہان کو فرق پڑا تھا حنین کی شادی سے۔۔۔
“آپ کی بھول ہے ۔۔ مجھے فرق نہیں پڑا۔۔ میں فرق پڑنے والے اس دل کو جیل کے اس اندھیر ے میں دفن کر آئی ہوں۔۔”
پریہان نے پہلے حنین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا اور پھر جزیل کے۔۔۔
۔
“وعدوں کی لاشوں کو۔۔بول کہاں دفناؤں۔۔؟؟
خوابوں اور یادوں سے۔۔۔ کیسے تم کو مٹاؤں۔۔؟؟”
۔
“لئیو مئ آلون پلیز۔۔۔”
دوسری طرف منہ کرکے وہ آنکھیں بند کرچکی تھی
۔
حنین تو سر جھکائے کمرے سے باہر چلا گیا تھا مگر جزیل وہیں صوفہ پر بیٹھ گیا تھا لائٹس آف کرکے۔۔۔
۔
“تو نے وار کیا سیدھا دل پہ۔۔اور پلک بھی نہ جھپکائی۔۔۔
وفا نہ راس آئی۔۔۔ تجھے اور ہرجائی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“ہم نے کہا تھا یہ تمہارے شوہر کو بھی وارننگ دی تھی مگر وہ پیچھے نہیں ہٹا۔۔
اب یہی حرکت تم کررہی ہو۔۔ اپنی عمر دیکھو اور کام دیکھو۔۔”
ایک ایک کرکے وہ لوگ مسز سائمن کے گھر میں داخل ہوگئے تھے اور جوآخر میں داخل ہوا تھا اسے دیکھ کر مسز سائمن پہچان گئی تھی
“ہاہاہاہا میرے شوہر کو بےرحمی سے قتل کرنے والاآج میرے سامنے آہی گیا۔۔
مگر تمہارا آنا فضول جائے گا۔۔ میں ثبوت آگے دے چکی ہوں مسٹر غزلان۔۔”
دو لوگوں نے مسز سائمن کو کندھے سے پکڑ لیا تھا اور تیسرے گارڈ نے منہ پر تھپڑ مارا تھا
جس پر وہ نیچے گر گئی تھی
“ہاہاہاہا نامردوں سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔۔؟؟ تمہاری بیٹی نے جو جنگ تمہارے خلاف لڑنا شروع کی تھی تم آخر اپنے بِل سے باہر نکل ہی آئے۔۔؟؟”
۔
“ہاہاہا اس گستاخ کو تو میں سزا دوں گا پر تمہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ موت سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔ وہ تم جیسے گناہ گار لوگوں کے لیے موت ہے۔۔
ہم لوگوں کے لیے نجات ہے تم جیسے شیطانوں سے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شاہد میں ابھی کال۔۔۔”
“حنین ابھی آجاؤ یہاں۔۔ لوکیشن بھیج رہا ہوں کرائم سین کی۔۔”
“وہ میرا مسئلہ نہیں ہے میں ابھی مینٹلی سٹیبل نہیں ہوں پلیز۔۔۔”
حنین ون بند کرنے لگا تھا جب شاہد کی بات نے اسے شاکڈ کردیا تھا
“حنین یہ کرائم پریہان سے جڑا ہوا ہے۔۔ اور یہی نہیں بڑی لیڈ ملی ہے جلدی آجاؤ یہاں۔۔۔اور۔۔ کسی کو بتانا مت۔۔ یہ کیس ہم راز داری سے فالو کریں گے۔۔۔”
۔
حنین گن لوڈ کئیے جاتے جاتے پھر اسی کمرے سے گزرا تھا کچھ دیر رکنے کے بعد۔۔ اس میں حوصلہ نہیں تھا واپس پریہان کی آنکھوں میں اپنے لیے وہ نفرت دیکھنے کا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ دوائی اس کھانے میں ملانی ہے جو جزیل کو دینے جاؤ گی۔۔”
“کیا۔۔؟ پریہان سے شادی کی اتنی بڑی سزا دیں گے جزیل کو آپ۔۔؟ ان دونوں کو زہر دینے والے ہیں۔۔؟”
ناہید بیگم کی بات نے آفاق صاحب کو ہکا بکا کردیا تھا
“بیوقوف عورت۔۔ یہ نشہ کی دوائی ہے۔۔ اسے کھا کر وہ دونوں۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ آفاق صاحب آپ کو کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟ اس لڑکی کے قریب کیوں کرنا چاہتے ہیں آپ ہمارے بیٹے کو۔۔؟؟”
“کیونکہ وہ اس شخص کی بیٹی ہے جو اس دنیا کا بےتاج بادشاہ ہے جہاں جس کرسی پر بیٹھنے کی میں کوشش کرتا آیا۔۔ اب سب سمجھ آرہا ہے۔۔۔ سب کچھ۔۔۔
بس بیگم جلدی یہ ان دونوں کو کھلاؤ۔۔۔ اس رات کے بعد حنین اس لڑکی کے ذہن سے نکل جائے گا۔۔۔ اور جب اسکا اور جزیل کا بچہ اس دنیا میں آئے گا تو غزلان کو ہمارے سامنے جھکنا ہی پڑے گا۔۔۔”
۔
آہستہ آواز میں انہوں نے کہتے ہی وہ پیکٹ ناہید کو پکڑا دیا تھا اور واپس اپنے روم کی طرف چلے گئے تھے
“یا اللہ ۔۔۔ناچاہتے ہوئے بھی اس منحوس لڑکی کو برداشت کرنا پڑے گا۔۔۔”
“انہوں نے ویسے ہی کیا تھا کھانے میں وہ دوا ملا کر اوپر روم میں بھجوا دی تھی ملازمہ کے ہاتھوں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سر یہ میڈم کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو انہوں نے آپ دونوں کا کھانا آپ کے کمرے میں پہنچانے کا کہا ہے۔۔”
“ہمم اندر رکھ دو میڈم کے پاس۔۔ میں فریش ہوکر آتا ہوں۔۔”
روم ڈور اوپن کئیے وہ ملازمہ کے لیے باتھروم میں چلا گیا تھا
پریہان جو بالکونی میں کھڑی تھی ملازمہ کی آواز پر چونک گئی تھی۔۔
۔
کچھ دیر بعد جب جزیل بالوں کو ٹاول سے صاف کرتے ہوئے واپس آیا تو پریہان اسی کی طرف دیکھ رہی تھی
“اتنی دور کیوں کھڑے ہو کھانا نہیں کھائیں گے۔۔؟؟”
پریہان کی آواز میں اتنی نرمی اور محبت محسوس کی تھی اس نے کہ وہ کچھ منٹ تو پریشان ہوکر کبھی پریہان کو دیکھتا رہا تو کبھی کھانے کو۔۔۔
“یہاں آکر بیٹھو۔۔۔”
“وٹ دا۔۔۔؟؟ پریہان۔۔؟؟”
پریہان نے روٹی کا ایک نوالہ ہاتھ بڑھا کر جزیل کی طرف کیا تھا جب وہ بیڈ پر آکر بیٹھا تھا۔۔
“جزیل۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔ لڑکی۔۔۔ جان لو گی۔۔؟؟ نوالہ کھاتے ہی وہ کھانسی کرنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ نے جو بھی کیا بہت غلط کیا آفاق انکل ۔۔۔ مگر میں موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گی حنین کو نفرت ہوجائے گی اپنی پیا سے۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ موبائل کا کیمرہ آن کئیے جیسے ہی جزیل کے بیڈروم کی طرف آئی تھی وہ جتنی کنفیڈنٹ تھی۔۔
اندر کمرے کی حالت اور ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب دیکھ کر ماتھے سے پسینہ چھوٹ گیا تھا اور آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
اور زیادہ کھڑی نہ ہوپائی تھی اور وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“پریہان۔۔۔”
“ح۔۔۔”
“جزیل۔۔۔”
جزیل نے پھر سے اپنے ہونٹوں میں قید کرلئیے تھے وہ لب۔۔۔ کچھ دیر میں کپڑوں کی قید سے انکے وجود اس طرح الگ کردئیے تھے اس نے۔۔
۔
“تیری نادانیاں۔۔۔ میری گستاخیاں
ملی تو یوں جُڑی۔۔۔ کہ جاگے رات بھر۔۔۔”
۔
“زندگی اتنی خوبصورت ہوگی معلوم نہ تھا۔۔ تمہارے بکھرتے وجود کو میری بانہوں میں پگھلتے ہوئے دیکھ کر مجھے افسوس ہورہا ہے زندگی کے اتنے سال کیسے برباد کردئیے میں نے۔۔؟؟
جب کہ تم تو میرے سامنے تھی۔۔۔؟؟”
رخصار پر ہاتھ رکھےوہ پریہان کی طرف جیسے ہی جھکا تھا پریہان نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔
“آنکھیں بند مت کرو میں ان آنکھوں میں دیکھنا چاہتا ہو تمہیں اپنا بنانے سے پہلے۔۔ خود کو دیکھنا چاہتا ہوں آنکھیں بند مت کرو۔۔۔میری جان۔۔۔”
۔
“تیری بازؤں میں میری چاہتیں سمائے۔۔۔
تیری دھڑکنوں کومیری دھڑکنیں سنائیں۔۔۔”
۔
“آج کی رات کے بعد ہمارے وجود ہی نہیں ہم بھی ایک ہوجائیں گے۔۔۔ میری جان۔۔۔”
“اجازت ہے۔۔۔؟؟”
اس بار پریہان نے جزیل کے چہرے کو ہاتھوں میں پکڑے اپنی طرف کھینچا تھا اور ہونٹوں کے درمیان وہ فاصلہ بھی ختم کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔