Piya Baawari by Sidra Sheikh readelle50037 Episode 06
No Download Link
Rate this Novel
Episode 06
“حنین تمہارے حصے کو موت بھی مجھے آجاتی مجھے سہاگن کی موت مار دیتے مگر یہ بیوہ کی زندگی۔۔؟ یہ قاتل کی زندگی۔۔؟؟؟”
وہ سنائی جارہی کبھی ہاتھوں کو سر پر مار رہی تھی تو کبھی دیوار پر سر مار رہی تھی
چین توڑنے کی کوشش کررہی تھی مگر ناکام ہوکر پھر سے آہ پکار کررہی تھی اس شخص کو اپنے پاس بلا رہی تھی جو اپنی جگہ پر ساکن تھا۔۔۔۔
“پیا۔۔۔۔”
وہ اس لفظ کو سن کر شاکڈ رہ گئی تھی۔۔ہلنا بند کردیا تھا اس نے۔۔۔
“باوری۔۔۔”
اس لڑکی نے جیسے ہی سرگوشی کی تھی اس سیل میں خود کو تنہا پایا تھا۔۔۔۔
۔
“جس کا نام لیکر تم رو رہی ہو۔۔تمہارا سابقہ شوہر۔۔؟؟ تمہارے ساتھ سب سے بڑی زیادتی تو وہی کرکے گیا ہے۔۔ تم اسکی بیوہ بنی رہی وہ تو مرنے سے پہلے ہ تمہیں طلاق دے گیا تھا۔۔۔”
وہ جو آفیسر کھانے دے کر گئی تھی وہ لاک اپ کے باہر بیٹھ گئی تھی جیسے وہ دیوار کے ساتھ اندر بیٹھی جانے کس سے باتیں کررہی تھی مگر حنین کا نام سنتے ہی اس پولیس آفیسر نے غصے میں وہ باتیں بھی بتائی جو اسے بتانی نہیں چاہیے تھی
“کیا۔۔۔کیا کہا۔۔؟ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔۔حنین اور مجھے طلاق دہ دیں۔۔؟؟ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔۔ ہاہا۔۔”
وہ لاچارگی سے پر اعتماد ہوکر بتا رہی تھی بات کے آخر میں قہقہ لگانے کی کوشش کی مگر ہنسی کی جگہ لبوں سے خون بہہ رہا تھا۔۔
کچھ پل کے لیے اس نے آنکھیں بند کرلی تھی اور باہر سلاخوں کے فاصلے میں آس آفیسر نے پریہان کے کدھے پر ہاتھ رکھا تھا
“تمہاری فائل دیکھ کر آرہی ہوں۔۔ قتل کی وجہ بتائی گئی ہے کہ تمہارا آفئیر ماضی کے کسی شخص سے چل رہا تھا۔۔۔ اور وہی سب تمہارے ہسبنڈ کو پتہ چل گیا ۔۔۔
سب کو لگتا ہے اپنی بدکاری چھپانے کے لیے تم نے اپنے شوہر کو مار دیا۔۔۔”
“اور حنین۔۔۔حنین۔۔۔ انہیں کیا لگتا تھا۔۔؟؟”
“سر پیچھے دیوار کے ساتھ لگائے اسکے وجود نے ہمت چھوڑ دی تھی۔۔”
“یہ۔۔۔ وہ خط جو طلاق پیپرز کے ساتھ تمہارے ہسبنڈ نے تمہارے والد کو پہنچانے کا کہا تھا۔۔اور۔۔یہ میں بہت مشکل سے کاپی کروا کر لائی ہوں۔۔تم پڑھ لو۔۔ تاکہ تم ایسے دیوانوں کی طرح اسکا نام نہ لو جس نے تم پر رتی برابر یقین نہیں کیا۔۔”
کانپتی ہوئی انگلیوں سے اس نے وہ کاغذ کا ٹکڑا پکڑا تھا۔۔
وہ رائٹنگ پہچان گئی تھی۔۔۔اپنے حنین کی۔۔۔
“آپ مجھے کچھ وقت اکیلا چھوڑ دیں گی میں یہ خط۔۔”
“تم میرے سامنے پڑھتے ہوئے شرمندہ ہورہی ہو۔۔؟ بے فکر رہو اس میں کچھ نیا نہیں جو ہم نے نہ پڑھا ہو۔۔ سب لوگ پڑھ چکے ہیں۔۔تمارے بچنے کے چانسز بھی تمہارے سابقہ شوہر کے اس خط اور ڈائیورس پیپرز کے بعد ختم ہوگئے ہیں۔۔”
وہ اٹھ کر چلی گئی تھی وہ باوری جو کچھ لمحے پہلے بےتاب تھی اب وہ ڈر رہی تھی حنین کی نفرت جاننا نہیں چاہتی تھی وہ۔۔۔
“مجھے تو لگا تھا تم میری پیا ہو۔۔ مگر تم تو باوری ہی رہی اسکی۔۔۔مجھے افسوس ہے خود پر اپنی پسند پر۔۔ مجھے افسوس ہے تم پر پریہان۔۔بہت افسوس ہے۔۔۔”ۯ
۔
“نووو۔۔۔ نوووو نووووو۔۔ میں آپ کی پیا ہوں۔۔ حنین میں آپ کی پیا ہوں۔۔ مجھ سے قسم لے لیجئے جو میں نے ہمارے نکاح کے بعد اس شخص کو سوچا بھی ہو۔۔۔یا اللہ۔۔۔
ابھی تو آپ سے ملنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے حنین۔۔۔ حنین۔۔۔”
وہ کبھی بند جیل کو دیکھ رہی تھی حنین کو ڈھونڈ رہی تھی تو کبھی پاگلوں کی طرح اس کاغذ کو اتنی تہوں میں فولڈ کرکے چھپا رہی تھی اس میں اور ہمت نہیں تھی اسے پڑھنے کی۔۔
اسکی ہمت جواب دہ گئی تھی
وہ خط وہ طلاق سب کچھ چھین کر لے گیا تھا اسکا یقین وہ محبت وہ جدو جہد خود کو بےقصور ثابت کرنے کی حنین کی بےیقینی نے اس سے وہ سب چھین لیا تھا۔۔۔
“کیوں کیا آپ نے یہ سب حنین کیوں مجھ پر میرے کردار پر اتنا گھنوونا الزام لگا دیا۔۔؟
اب تو اور جلدی ہوگئی ہے آپ سے ملنےکی۔۔ اور مرے بغیر تو مل نہیں پاؤں گی تیار رکھئیے گا خود کو۔۔۔ آپ نے بھرپور طریقے سے کیا جو بھی کیا۔۔۔ اپنی موت سے پہلے میری موت کی تیاری کرکے گئے تھے آپ۔۔۔
اچھی بات ہے مجھے یہاں جینا بھی نہیں تھا۔۔میں اور جینا نہیں چاہتی۔۔”
۔
وہی جیلر کچھ دیر بعد آئی تھی جو غصے سے پریہان کو دیکھ رہی تھی
“تمہارے لیے ایک بری خبر ہے۔۔ ویسے تم جیسی قاتل کے لیے کچھ بھی بُرا نہیں ہوگا مگر۔۔۔ تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہےکہ تمہارے والدہ کا صبح انتقال ہوگیا ہے۔۔
تمہاری دی ہوئی بدنامی وہ برداشت نہیں کرپائی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے تمہیں سزا دلوانے کا کتنا پریشر ڈل چکا ہے۔۔؟ کتنے لوگ سامنے آگئے ہیں۔۔۔؟؟”
وہ باتیں کررہی تھیں اور حنین فائننلی
سر پیچھے پھینک چکی تھی
“اب سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔۔؟ تمہارے باپ کی بھی حالت ٹھیک نہیں ہے تم جیسی بیٹیاں ایسے ہی کرتی ہیں اور ماں باپ کے نام کو خراب کرجاتی ہیں۔۔۔”
“اور۔۔۔ سب سے بڑی خبر تو دینا ہی بھول گئی۔۔۔”
پریہان کی طرف سے کوئی حرکت نہیں ہورہی تھی
“تمہاری والدہ نے مرنے سے پہلے سٹیٹمنٹ دیا۔۔ تمہارے خلاف۔۔۔ وہ بھی تصدیق کرچکی تھیں۔۔ کہ تم نے مرڈر کیا اپنے شوہر کا۔۔۔”
۔
“وہ بےہوش ہوچکی ہے میڈم پلیز۔۔۔”
جیلر صاحبہ کو واپس لے گئی تھی وہ آفیسر۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے نہیں پتہ تھا اپنے یونیفارم کے بغیر تم اور بھی ہوٹ لگنے لگو گی۔۔”
“کٹ دا کریپ وقار۔۔۔ مجھے یہاں کیوں بلایا ہے۔۔؟؟”
بار کاؤنٹر کے سامنے سٹول پر وہ اسکے سامنے بیٹھ گئی تھی جو ڈرنک کا گلاس اسکے سامنے رکھ چکا تھا اور ساتھ ایک پیکٹ بھی۔۔۔
“تمہارا کام ہوگیا ہے۔۔ وہ ثبوت۔۔۔ اور وہ فنگر پرنٹ۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ سیریسلی۔۔؟؟”
اسکے چہرے پر وہ خوشی تھی جو وقار کر بھی حیران کرگئی تھی اس وقت
“ایسی کیا بات ہے اس کیس میں۔۔؟ تمہیں کبھی کسی کیس کے پیچھے اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا۔۔؟؟”
اس خنجر سے نظر ہٹا کر اس نے وقار کو دیکھا تھا اور چہرہ اسکے قریب کیا تھا۔۔
“اس کیس کی الگ بات ہے۔۔ اس کے مجرم کو سزا دلوانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا اگلی سانس لینا۔۔۔بس اب ایک اور کام رہ گیا ہے اس پر فنگر پرنٹ مکمل ہونے چاہیے۔۔۔”
اور اس نے فون کیا تھا اسی جیلر کو۔۔۔
“میں ایک نائف بھجوا رہی ہوں مجھے فنگر پرینٹ چاہیے اس مجرم کے۔۔۔”
“وہ تو ابھی بےہوش ہے آپ نے جیسے کہا تھا ویسے ہی کیا گیا ہے۔۔۔ وہ خط بھی اسے دہ دیا تھا اور وہ اس وقت سے کوئی مومنٹ نہیں کرپائی۔۔۔اور۔۔”
“اسکی اذیتیں سننے کے لیے فون نہیں کیا میں نے جو کہا ہے بس وہ کرو۔۔۔ اسکی تکلیفیں تو ابھی شروع ہوں گی۔۔۔”
وہ فون اٹھا کر وہ سب چیزیں اٹھا چکی تھی۔۔۔
“یہ تمہارے پیسے۔۔۔ کنٹیکٹ میں رہنا ابھی تمہاری ضرور ت ہے۔۔۔”
وہ وہاں سے جانے لگی تھی جب وقار نےپیچھے سے آواز دی تھی
“نمرہ۔۔۔ مجھے کیوں لگ رہا ہے اس بار تم کسی بےگناہ کو پھنسانے جارہی ہو۔۔؟ ابھی تک سب کیس مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے کرتے آئے ہم اور اب۔۔؟؟”
“وہ مجرم ہے میری۔۔۔ کیونکہ اس نے جس کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کی ہے اس کی اتنی جرات کی اسے سزا تو ملنی چاہیے نہ۔۔؟؟ اور وہ سزا۔۔۔سزائے موت ہوگی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مسٹر ادریس۔۔یو کانٹ ڈو دس۔۔۔ شئ نیڈز یو۔۔ شئ نیڈ ایس۔۔۔پلیز۔۔ ہیلپ ہر۔۔۔”
“وائے۔۔؟؟ وہ مجرم ہے۔۔ وہ قاتل ہے۔۔۔ میں کیسے اسکی مدد کردوں۔۔؟؟ میرا پبلشنگ ہاؤس بند کروا دوں۔۔؟؟ میں پریہان کو لیکر پریس کانفرنس کروا رہا ہوں۔۔ اور میں ڈکلئیرڈ کردوں گا لا تعلقی کا۔۔۔”
“آپ کیسے کرسکتے ہیں اسکے ساتھ یہ سب۔۔؟ اسکی لکھی کتابوں سے یہ پبلشنگ ہاؤس آج کامیابیوں کو چھو رہا ہے۔۔ دس سال دہ دئیے اس نے اس ادارے کو۔۔۔ “
ادریس صاحب نے اپنی عینک اتار کر گہرا سانس لیا تھا
“میں کچھ نہیں کرسکتا۔۔وہ قاتل ہے۔۔”
“آپ کے سامنے قتل کیا تھا اس نے۔۔؟ آپ لوگ کم سے کم کورٹ کے فرسٹ ٹرائل کا ویٹ تو کیجئے۔۔۔”
“ایم سوری۔۔ میں آج شام کو لاتعقی کا انتظار کردوں گا۔۔”
“اوکے مسٹر ادریس احمد۔۔۔ آپ کی کانفرنس کے ٹھیک پانچ منٹ بعد میں کانفرنس کروں گی۔۔ میں پریہان کی پرسنل اسسٹنٹ ہی نہیں اسکے بعد اسکی سب ایسسٹ کی اونر بھی ہوں۔۔۔
اور میں پریہان کی ہر کتاب آنے والے ہر پروجیکٹ۔۔۔ یہاں تک کہ
“پیا باوری” کا ریلیز ہونے والا نیا ایڈیشن رکوا دوں گی۔۔۔ میں نوٹس لے آؤں گی۔۔۔”
“بیٹا۔۔۔تم یہ سب۔۔۔”
ادریس صاحب کی اواز نرم ہوگئی تھی گھبراہٹ میں۔۔۔”
“آپ کو کیا لگا تھا کہ مجھے پتہ نہیں چلے گا۔۔؟؟ “پیا باوری” کا سیکنڈ ایڈیشن چھاپنے کا آپ نے جو آرڈر پاس کیا ہے۔۔۔ اس کے پہلے حصے کو آپ مارکیٹ میں اتنا جلدی کیوں لانا چاہتے ہیں۔۔۔؟؟؟ ان سب میں آپ وہ واحد شخص ہیں جنہیں سب سے زیادہ فائدہ ہوگا پریہان کے جیل جانے سے اور۔۔۔۔”
چہرے کو صاف کئیے وہ رکی تھی ادریس صاحب کے ماتھے پر آئے پیسنے کو دیکھ کر اس نے انکی آنکھوں میں دیکھا تھا
“پریہان کو ” باوری ثابت کرکے زیادہ پبلسٹی ملے گی کتاب کو۔۔۔ یہی کہہ رہے تھے نہ میڈیا ریلیشن آفیسر کو۔۔؟؟ ویل سر۔۔۔۔ وہ قاتل ثابت ہو یا نہ ہو۔۔۔ اسے باوری ثابت نہیں ہونے دوں گی میں۔۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔”
اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آفیسر۔۔۔ یہ نائف۔۔۔ انفورچنیٹلی یہاں یوز نہیں ہوا۔۔۔”
“ہاؤ از اٹ پوسیبل۔۔؟؟ ہمیں کرائم سین سے ملا ہے ڈاکٹر۔۔۔تم لوگ جاؤ یہاں سے۔۔”
نمرہ نے اپنے باقی کے آفیسرز کو مارگ روم سے باہر جانے کا کہہ دیا تھا اب وہ دونوں تھے یہاں۔۔۔
“یہ خنجر۔۔۔ اور یہ کٹ ساتھ نہیں جُڑتے۔۔۔ یہاں جو خنجر آپ نے دیا ہے یہ ایک سمپل نائف ہے۔۔۔ مگر جو اس باڈی پر یوز ہوا ہے وہ پروفیشنل آلہ تھا اور وہ نوکیلا تھا۔۔۔
یہ دیکھیں گردن پر جس طرح وار کیا گیا تیزی سے۔۔۔ اور یہ نشان۔۔۔”
انہوں نے سکرین پر جیسے ہی زووم ان کیا تھا نمرہ نے وہ خنجر گلوزز سے پکڑ کر اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں دہ دیا تھا۔۔۔
“اس نائف سے اس باڈی پر وہاں واار کیجئے جہاں ثبوت نظر آئیں کیونکہ نیکسٹ ویک یہی ثبوت اس لڑکی کو مجرم ٹھہرائیں گے۔۔۔ یو انڈرسٹینڈ ڈاکٹر۔۔؟؟”
“پر آفیسر یہ غلط ہے آپ۔۔۔”
“او کم آن۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔ غلط کیا ہے آپ مجھے نہ بتائیں۔۔۔ آپ کے پچھلے سال کے کیس کو میں نے ہی کلوز کروایا تھا بھول گئیں ہیں آپ۔۔؟؟”
ڈاکٹر نے نیچے سر کرلیا تھا
“یہ لیجئے اور کام پر لگ جائیں۔۔۔”
۔
“مس پریہان۔۔۔اب کون بچائے گا آپ کو۔۔؟؟”
اور وہ کیپ سر پر رکھے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وئیر یور آفیسرز۔۔؟ اسے آج اتنے سکون سے کیوں رکھا ہوا ہے۔۔؟ میرے جوان بھائی کے وجود کے ٹکڑے کھلے آسمان میں بکھیرنے کے بعد یہ ایک حصے میں کیوں نظر آرہی ہے مجھے۔۔؟؟”
“اوپن اٹ۔۔۔”
ٹارچر سیل کا لاک اوپن ہوتے ہی اس شخص نے زنجیروں میں جکڑی اس لڑکی کی چین کھینچ کر اسے کرسی سمیت پیچھے دھکیل دیا تھا
۔
“شئ ایکسیپٹڈ سر۔۔۔وہ اعترافِ جُرم کرچکی ہیں۔۔وہ تسلیم کرچکی ہیں کہ انہوں نے اپنے شوہر۔۔ آپ کے بھائی لیفٹنٹ حنین عباس کو مارا۔۔۔
یہاں ترکی کے قانون کے مطابق ہم انہیں اور ٹارچر نہیں کرسکتے۔۔۔ایم سوری۔۔۔”
“کب کیا تسلیم۔۔؟؟ کب سچ مانا۔۔؟؟”
“آج صبح۔۔۔”
چہرے سے پکڑ کر اس لڑکی کا چہرہ جب اس شخص نے اپنی جانب کیا تو چہرے سے نکلتے خون سے اسکے ہاتھ بھی بھر چکے تھے
“تم نے مارا میرے بھائی کو۔۔۔”
“ہم۔۔۔میں نے مارا۔۔۔”
“آئی ول کل یو۔۔۔ تم میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو ۔۔۔اور تم سے محبت میری۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکا تھا اور اس لڑکی کی بند آنکھیں جو ہلکی ہلکی کھلی تھی
“جسٹ کل مئ۔۔۔کل مئ۔۔۔”
بات کرتے کرتے بھی ہونٹوں سے بلڈ نکل رہا تھا
“سر۔۔۔اپنے ہاتھ اسکے خون سے گندے نہ کریں۔۔۔ اس مجرم کا دماغ اس ٹارچر سیل میں رہ کر اتنے فیصد بند ہوگیا ہے کہ اب شاید ہی موت کی ضرورت رہ جائے۔۔ یہی موت ہوگی یہاں زندہ رہے گی ان پہاڑوں میں تنہا۔۔۔”
۔
“I Will Break You Bit by Bit…”
۔
اور کچھ سیکنڈ بعد بلٹ چلی تھی فائر کی آواز وہاں سے نکل کر کھلے آسمان میں گونجی تھی۔۔۔۔
۔
(وہ عجیب سما تھا جب سزا دینے والے نے اپنی محبت ااور سزا پانے والے نے اپنی موت کا اظہار کیا تھا)
۔
اس نے غصے سے گن کی ساری بلٹس اس کے وجود کے آس پاس چلائی تھی اور وہ سر جھکائے وہاں کھڑی تھی نہ وہ ڈر کر ہلی تھی نہ ہی خوف سے اس نے آنکھیں جھپکی تھی۔۔۔
۔
“کل کورٹ کے فرسٹ ٹرائل پر اسے سزا مل جانی چاہیے اور پھر میں بتاؤں گا اسکی بچی ہوئی سانسوں کے ساتھ کرنا کیا ہے۔۔۔۔
۔
جزیل نے اسے پیچھے دھکا دہ دیا تھا جس کا سر پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگا تھا۔۔۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
