Piya Baawari by Sidra Sheikh readelle50037 Episode 01
No Download Link
Rate this Novel
Episode 01
“وہ آنکھوں سے باتیں کرتا تھا وہ آنکھیں کہ جن کو دیکھ کر یوں لگے کہ دنیا کی خوبصورتی دیکھ لی
وہ آنکھیں کہ جن میں کھو جانے کا دل کرتا تھا۔۔ وہ آنکھیں جو ہما وقت کسی کی متلاشی رہتی وہ آنکھیں کہ جن میں میں خود کو ڈھونڈتی آئی ۔۔
وہ آنکھیں جب ہنستی تو روشن صبح کا پیغام دیتی۔۔۔ اور اداس ہوتی تو سیاہ رات کا الہام دیتی
اُن آنکھوں کے بدلتے رنگ مجھے خوبصورت موسموں کا گماں لگتے تھے
ان آنکھوں کی گہرائی میں دنیا کے سب سچ بدگماں لگتے تھے
وہ آنکھیں جو برسی تو بارش کی نوید ٹھہری۔۔ اور اٹھی تو میرے لیے عید ٹھہری
وہ آنکھیں کہ جو کبھی میری طلب گار نہ تھی
وہ خوبصورت آنکھیں کہ جن میں کوئی اور آکر بس چکا تھا اور میں وہیں اس بس سٹاپ پر کھڑی ان دونوں کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جاتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ پیا باوری گھر جاتے ایسے ہی دیکھتی تھی دور سے اس شخص کے کہ جس کو پتہ نہیں تھا اس باوری کا جو دیوانی ہوئی بیٹھی تھی اس کے پیچھے۔۔”
٭
“واہ واہ واہ۔۔۔کیا کہنے محترمہ کیا کہنے۔۔۔ “
“کیا کہنے رائٹر صاحبہ۔۔۔”
یار چھا گئی ہو۔۔۔۔”
گلاسز پھر سے ٹھیک کرکے اس نے ان احباب کی محفل کو دیکھ کر اپنی کہانی کو دیکھا اور پھر اپنی کتاب بند کردی تھی
“کیا ہی کہنے۔۔۔کیا کہانی کے اینڈ تک وہ باوری رہے گی یا مرکزی خیال کو اپنی اصل پہچان بھی مل پائے گی۔۔؟”
ایک انجان آواز نے پیچھے سے آہستہ آواز میں پوچھا تھا جن کو دیکھ کر سب ہی احترام میں کھڑے ہوئے تھے سوائے اس لڑکی کے
“حنین عباس تشریف لائیں ہیں ہمارے اس غریب خانے میں پتہ ہوتا تو پھولوں سے رستے سجاتے۔۔”
بہت آوازوں کی گونج نے اسکے چہرے کی چمک کو دھم کردیا تھا جو گھبراہٹ میں کبھی گلاسز ٹھیک کررہی تھی تو کبھی اپنے دوپٹے کو
“ابھی شروعات ہے کہانی کی۔۔ اس باوری نے بات ابھی آنکھوں سے شروع تو کردی ہے کہانی بات کس کی آنکھوں پہ ختم کرتی یہ تو آگے چل کر پتہ چلے گا۔۔”
۔
“اس کہانی کا اینڈ میں ابھی بتا سکتا ہوں۔۔” حنین کی بات نے محفل کے معزز مہمانوں کو تجسس میں مبتلا کردیا
“لکھاری صاحبہ تو خود کہانی کے اختتام کو کرداروں پر چھوڑ چُکی پھر آپ کیسے بتا سکتے ہیں سپیشل کاپ۔۔؟؟”
آفیسرز جو حنین کے حلقہ احباب میں سے تھے وہ آج سب ہی یہاں ادب کی اس محفل میں شریک ہوئے تھے حنین کے ساتھ
یہاں کا ماحول کچھ اس طرح سے تھا کہ ایک ہال جو موم بتیوں سے روشن تھا پورے کمرے میں چار ٹیبل تھے جہاں لوگ بھی اپنی اپنی گفتگو میں مصروف تھے مشاعرے کے بعد چائے کے سیپ لیتے ہوئے وہاں مشہور لکھاری کے آنے کے بعد محفل میں نظریں انکی جانب گئیں تھیں اور گفتگو چلتے چلتے یہاں تک آگئی کہ کہانی لکھنے والی کی نظریں تجسس سے حنین کو دیکھ رہی تھیں
“تو کیا اینڈ ہوگا۔۔؟؟”
پریہان نے آہستگی سے پوچھا۔۔۔ وہ ہلتے لبوں کی تشنگی میں کچھ تو جادو تھا کہ حنین اپنی نظریں دوسری طرف نہیں لے جا پایا تھااس لمحے
“وہ کہانی اس دیوانی سے شروع ہوکر اس باورے پر ختم ہو گی۔۔کہانی اداسی سے شروع ہوکر ایک خوشحال زندگی پر ختم ہوگی”
حنین نے محفل کے تمام لوگوں کو درگزر کرکے جب ہاتھ اٹھا کر اس لڑکی کی طرف اشارہ کیا تھا اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا
“کہانی ہمارے نکاح پر ختم ہو گی۔۔۔ مجھ سے شادی کریں گی مس۔۔۔؟”
اور وہاں جسے اس لڑکی کا نام تک ٹھیک سے معلوم نہیں تھا وہ آج نڈر کچھ لمحوں کی ملاقات کے بعد نکاح کے لیے ہاتھ مانگ رہا تھا
“ہاہاہا وٹ آ بیوٹیفل اینڈ۔۔۔” سب نے قہقوں میں بات کو مذاق بنا دیا تھا
مگر حنین نے نگاہیں مرکوز کی ہوئی تھی چشمہ پہنے اس معصوم چہرے پر
“ایم سیریس۔۔میں کوئی سر پھیرا نہیں جو مذاق میں ہاتھ مانگوں کسی بھی عزت دار لڑکی کا۔۔۔ میں نے ابھی ابھی انہیں سب کے سامنے شادی کے لیے پرپوز کیا ہے۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔۔”
وہاں پر ٹکی نظریں لکھاری صاحبہ پر جاپڑی تھی جن کا نام بھی غصے سے لال ہوگیا تھا
“آپ سر پھیرے ہی نہیں دل پھینک بھی ہیں۔۔راہ چلتے ہاتھ مانگنے کو آپ عزت افزائی سمجھتے ہیں۔۔؟؟ آپ کے لیے یہ عام بات ہوگی میرے لیے نہیں آئندہ زبان سنبھال کر بات کیجئے گا۔۔”
وہ ناک پھلائے وہاں سے باہر چلی گئی تھی کچھ سٹریٹ ہی دور تھا اس کا گھر وہاں سے
جہاں وہ پچھلے دو سال سے مقیم تھی اپنی کزن کے ساتھ
یہ اس کا شوق تھا ترکی جیسے ملک کو ایکسپلور کرنے کا شادی سے پہلے اس نے یہ چند ماہ ہی تو مانگے تھے اپنے گھر والوں سے۔۔۔لونگ کوٹ زر تن کئیے وہ وہاں سے باہر نکل آئی تھی ایک ٹھنڈی شام میں وہ لطف اندوز ہوتے ہوئے جارہی تھی جہاں اسے اندازہ نہ تھا وہ شخص اسے فالو کررہا تھا تھا جسے نظر انداز کردیا تھا اس نے
“ون آ ماسٹر پیس۔۔۔ باوری۔۔۔میری ہونے والی محرم۔۔”
اور جب وہ اپنے گھر میں داخل ہوگئی تھی وہ کچھ دیر وہاں رہنے کے بعد واپس اپنے دوستوں کے پاس چلے گئے تھے
“حنین یہ اگر مذاق تھا تو بہت بُرا مذاق تھا وہ یہاں کی معزز ممبر ہیں اور”
“میری زندگی میں بہت کچھ مذاق ہو سکتا مگر یہ سب نہیں میں اچھے کام میں کبھی دیری نہیں کرتا۔۔ وہ پسند آگئی میں نے پرپوز کردیا۔۔۔ امی ابو سے بات کروں گا رشتہ بھیجوں گا۔۔انشاللہ۔۔۔”
انہوں نے کچھ دیر بعد ہی سب سے اجازت لی تھی سب کو اپنے جواب سے وہ مطمئن تو کر آئے تھے مگر حیران بھی چھوڑ آئے تھے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یونائیٹڈ سٹیٹ امریکہ۔۔۔۔۔”
۔
“مریم بیٹا پریہان کو جلدی سے لے آؤ ریعان کی فیملی آگئی ہے مولوی صاحب بھی آگئے ہیں۔۔۔ تمہارے ابو کہہ رہے ہیں نکاح کا وقت جا رہا ہے جلدی کریں۔۔۔”
والدہ دروازے پر ناک کئیے پیغام دے گئیں تھیں
“پریہان ۔۔؟ تمہاری زندگی کا خوبصورت دن ہے اور تم آج بھی اپنے ناول کی ہیروئن کی فکر میں بیٹھی ہوئی ہو۔۔؟؟”
“آپی کچھ دیر اور۔۔ ہیروئن کی زندگی میں ایک تیز طوفان آکر بہت خاموشی سے چلا گیا
اور وہ سمجھ ہی نہ پائی کچھ بھی اسے ابھی تک کی زندگی پھولوں کا بستر لگ رہی تھی وہ سمجھ رہی تھی سب اسکے کنٹرول میں ہے وہ سب مینیج کرلے گی پر اس باوری کو معلوم نہیں یہ زندگی سے کچھ بھی نہیں دیتی اور۔۔”
مریم نے پہلے پن چھینا اور پھر وہ ڈائری اور پھر گلاسز اتار لی تھی چھوٹی بہن کی آنکھوں سے
“تمہارا نکاح ہے آج۔۔ریعان انتظار کررہا ہے اور تم ایسے بےفکر بیٹھی ہو۔؟ کوئی گھبراہٹ کوئی خوف کوئی ڈر نہیں لگ رہا۔۔؟”
“گلاسز تو دہ دیں نہ پلیز۔۔۔گلاسز پہن کر ان نے وہ ڈریس اٹھایا تھا
“اور ریعان پاپا کے دوست کا بیٹا ہے پاپا جو کریں گے اچھا کریں گے میرے لیے۔۔”
چہرے پر پرسکون مسکان تھی اور وہ بہت خوش بھی تھی آج
۔
کچھ دیر میں بہن جب اسے نیچے لے کر گئیں تھی وہاں صرف فیملی ممبر اور لڑکے والوں کے ماں باپ تھے اور ایسے میں کچھ بھی شروع ہونے سے پہلے وہ شخص وہاں سب کے سامنے ایک ہی بات کررہا تھا جو اس نے کچھ ہفتے پہلے اس لڑکی کو ترکی میں کہی تھی
“آپ کی بیٹی کو میں بہت پسند کرتا ہوں سر۔۔ان سے ایک بار ہی ملاقات ہوئی تھی”
یہ بات سننے کی دیر تھی کہ سب کے دماغوں میں ایک ہی شک ابھرا تھا پریہان کو لیکر مگر اس نے جلدی جلدی میں وہ بھی ختم کردیا تھا
“جیسا آپ سوچ رہے ویسا کچھ نہیں۔۔ ادب کی ایک محفل میں یہ محترمہ جب اپنی کہانی کی ایک باوری کا ذکر کررہی تھیں تب یہ مجھے پسند آئی میں نے انہیں اس وقت سب کے سامنے شادی کا کہا تھا۔۔ آپ میرے احباب سے پوچھ سکتے ہیں۔۔”
ساتھ دو اور لوگ بھی کھڑے تھے وہ تینوں ہی قد کاٹھ میں باڈی فزیکس سے اتنے سنجیدہ اور ویل بلٹ لگ رہے تھے کہ کوئی انہیں لوفر آوارہ یا کچھ اور کہہ نہیں سکتا تھا انکا وجود انکی شخصیت کی گواہی دے رہا تھا
“میں نے اس دن بھی مذاق نہیں کیا تھا پریہان نہ میں دل پھینک ہوں نہ ہی کوئی سرپھرا
میں نے جائز رشتے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا اور آج آپ کے اس خاص دن میں بھنگ ڈالنے آگیا ہوں تاکہ آپ کے ماں باپ سے بھی پوچھ سکوں۔۔
سر۔۔ میم۔۔۔”
وہ ان دونوں کے سامنے نہایت ادب سے سر اٹھائے کھڑا تھا
“آپ کی بیٹی نے مجھے اس دن انکار کردیا تھا۔۔ میں ایک بار باعزت طریقہ سے آپ دونوں سے بات کرنا چاہتا تھا اپنے ماں باپ کے ساتھ۔۔ انکی فلائٹ لیٹ ہوگئی
اور اگر میں اور انتظار کرتا تو شاید نکاح کے بعد کچھ کہہ نہیں پاتا۔۔۔”
وہ پریہان کے سوا ہر ایک کو دیکھ رہا تھا وہ گنتی کے کچھ لوگ جو حیران تو تھے پر غصے میں کوئی نہیں تھا اس وقت۔۔۔
“سہیل میرے خیال سے ہمیں بیٹھ کر بات کرلینی چاہیے تب تک انکے ماں باپ بھی آجائیں گے”
ریعان کے والد صاحب نے پریہان کے بابا سے آہستہ سے کہا تھا اور پریہان ایک غصے کی نظر دیکھ کر واپس روم کی طرف پلٹ گئی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
٭٭۔۔۔۔ایک سال بعد۔۔۔۔٭٭
۔
“میں انڈریس نہیں ہورہی جسٹ گیٹ لوسٹ۔۔۔”
وہ پھر سے اسے کھڑکی کی طرف دھکا دے رہی تھی
“نہیں۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔ ہمارا نکاح ہوچکا ہے اور میری خواہش ہے میں ہماری شادی کے لیے دلہن کے جوڑے میں تمہیں تیار کروں تمہیں سجتے سنورتے دیکھوں پیا۔۔۔”
“حنین کچھ شرم کرلیں۔۔ سجنے سنورنے کی بات الگ ہے میں یہاں آپ کے سامنے انڈرس ہوں۔۔ نووو نیور۔۔۔”
وہ کبھی دوپٹہ ٹھیک کررہی تھی تو کبھی گلاسز
“پیا میرے سامنے نہیں کہہ رہا ڈریس باتھروم میں چینج کرنے کا کہہ رہا باقی۔۔۔”
“باقی۔۔؟؟”
وہ اچھلی تھی جب حنین بیڈ کی اس طرف جانے کو تھا۔۔وہ گھبرا رہی تھی اور حنین اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا
“باقی جیولری رہ جاتی ہے اب میری خواہش ہے اس میں کیا برائی ہے۔۔؟؟ تم تو پہلے ہی اتنے زیور ریجیکٹ کرچکی اب جو سادہ سے دو تین سامنے پڑے ہیں وہی پہنا دوں گا۔۔”
“اور کمر بند۔۔؟”
اس نے سرگوشی کی تھی
“ناؤ ڈیٹس انٹرسٹنگ پارٹ۔۔۔ اسے اتارنے سے پہلے میری بھی ضد ہے تمہیں پہنانے کی ۔۔”
وہ سرخ چہرہ لئیے باتھروم میں بھاگ گئی تھی اپنا ڈریس اٹھائے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“لگا تو نہیں۔۔۔”
ائیرنگ پہناتے ہوئے اس نے دس بار ایک ہی سوال کیا تھا
“حنین چلے جائیں باقی میں پہن لوں گی۔۔۔”
“باقی رہ کیا گیا ہے سوائے اس کمر بند کے۔۔؟”
حنین کی سرگوشی نے پریہان کی سانسوں کو روک دیا تھا اور پیچھے سے گلے میں وہ ہار اسے محسوس ہوا تھا
حنین کے پیچھے ہوجانے سے اسکی سانسیں بحال ہوئی تو تھی مگر کچھ لمحوں کے لیے جب حنین گھٹوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا تھا ڈریسنگ ٹیبل سے وہ کمر بند اٹھا کر۔۔۔
“حنین۔۔۔پیچھے ہوجائیں مجھے سچ میں سانس نہیں آرہا۔۔۔”
“ہاہاہاہا میں بھی حیران ہورہا تھا ابھی تک بےہوش کیوں نہیں ہوئی۔۔”
“حنین۔۔”
اسکی باتین سب ختم ہوگئیں تھیں جب وہ میٹل چین اسکی بئیر بیلی کے ساتھ ٹچ ہوئی تھی
وہ جیسے ہی پیچھے ہونا چاہتی تھی حنین کا ہاتھوں نے اسکی ویسٹ کو مظبوطی سے تھام لیا تھا۔۔
“یہ میں نے خود ڈیزائن کروایا ہے پیا۔۔ یہ سب جیولری میں نے خود تیار کروائی ہے۔۔
بہت سادہ سی تمہاری طرح مگر بہت دلکش۔۔۔
پیا یہ گہنے ہر شام کو پہننے ہیں تم نے جب تک تم سہاگن رہو گی جب تک میں زندہ رہوں گا۔۔میرے لیے ایسے سجا سنوروں گی نا وعدہ کرو۔۔۔؟”
“میں وعدہ۔۔۔”
کمر بند پر حنین کے بوسے نے پریہان کی وہ بات بھی پوری نہ ہونے دی تھی۔۔۔
“دس از نوٹ فئیر حنین۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔بس اب جلدی سے نیچے چلی جاؤ۔۔۔ پھر آرہا ہوں تمہیں لینے کے لیے۔۔۔
اس رات کا انتظار کب سے کررہا ہو مسز حنین عباسی بس اب اس دیوانے کا خواب پورا کردومیرے گھر میں میری دلہن بن کر آجاؤ پیا۔۔۔”
پریہان کے ماتھے پر اپنا سر رکھے سرگوشی کی تھی حنین نے۔۔۔
“صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔۔۔ہر آزمائش کے بعد راحت ہے حنین۔۔”
“وہ تو تمہیں دیکھ کر معلوم ہوگیا تھا کہ اتنا خوبصورت پھل اور۔۔۔”
“ہاہاہا شرم کریں اور جائیں یہاں سے۔۔”
کھڑکی کی طرف دھکیل دیا تھا پریہان نے۔۔۔اور پھر وہ اپنی ڈائری کی طرف جھکی تھی
“ہر آزمائش کے بعد راحت ہے۔۔ اس پیا باوری نے اس ایک طرفہ محبت کو تو دل سے نکال باہر کیا تھا مگر وہ حیران تھی اگر محبت یک طرفہ ہوتی تو کیا زندگی اتنی ہی خوبصورت اور آسان ہوتی اسکی۔۔؟؟”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
