Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Last Episode)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Last Episode)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
ہاں میں نے ہی کہا ہے اگر تمھارے ہاتھ پہ لگ جاتی تو وہ تو ایکسپرٹ ہوتے ہیں ایسے کاموں میں اور تم ۔۔ایسے شوق میں تمھیں ہر گز نہیں کرنے دوں گا جس میں ۔۔تمھیں چوٹ لگے
سکندر ۔۔۔امل نے بے اختیار کہا ۔۔
چلو ابھی واپس بھی جانا ہے سکندر نے کہا اور گاڑی کا دروازہ کھولا ۔
__________________________
سکندر یہ کلرز کمبی نیشن اور دیکھو میں کونسے کمبی نیشن کا ڈرس لوں موہد کی شادی پر ۔۔
امل نے فون سکرین اسکے قریب کی اور ساتھ صوفہ پر بیٹھی گئ
سکندر نے کتاب بند کی اور کہا اچھا دیکھا بتاتا ہوں
اسنے فون پکڑا اور کلرز کو دیکھنے لگا
یہ۔۔۔یہ بلیک اور ساتھ جو کلر ہےیہ ٹھیک ہے ۔۔
جیسے سکندر نے کہا امل فورا بولی
بلیک کے علاوہ کوئی بتاو سکندر ۔
اچھا ۔۔
یہ بلیک اور ریڈ کا کمبی نیشن
سکندر خدا کے لیے اس کالے رنگ کی جان چھوڑ دو اور بھی تو کمبی نیشن ہیں نہ ہمیشہ ساتھ بلیک کلر کو ائیڈ کرنا ضروری ہے
امل نے چڑتے ہوئے کہا
اچھا دیکھاو تو سہی اب بتاتا ہوں اسنے پھر فون پکڑا اور تھوڑی دیر بعد بولا
میرا خیال ہے بلیک اور وائیٹ کلر کا کمبی نیشن اچھا رہے گا جب سکندر نے کہا تو امل نے سکندر کو گورتے ہوئے کہا
خدا پناہ ہے اس کالے رنگ سے دو میں خود ہی دیکھ لیتی ہوں
اچھا تمھیں کلر کی پہچان ہے بھی یاں نہیں امل نے چونک کر پوچھا
کیا مطلب؟ تم نے مجھے کیا سمجھا ہے سکندر نے حیرت سے کہا
نہیں میرا مطلب ہے کہ جس حساب سے تمھیں بلیک کلر کا پتا ہے دوسرے کلرز کے بارے میں جانتے بھی ہو
ہاں کیسی بھی کلر کا رنگ پوچھو میں بتا دوں گا سکندر نے فخرائی انداز میں کہا
اچھا ۔۔بتاو گے اچھا یہ بتاو یہ کونسا کلر ہے امل نے نسواری کلر اسے دیکھاتے ہوئے کہا
یہ ۔۔۔یہ ۔۔۔یہ کلر ۔۔سکندر اٹکا
بولو ۔۔امل ہنسی
ہنس کیوں رہی ہو ۔۔بتانے لگا ہوں ۔۔سکندر نے فون سکرین پر کلر کو غور سے گھورا ۔۔
اس میں ہلکا ہلکا بلیک کلر کی شیڈ ہے ۔۔جیسے سکندر نے کہا
امل نے ایک گہرا سانس لیا ۔۔اور کہا
بھاڑ میں جاو تم اور تمھارا بلیک کلر ۔۔۔امل نے کہا اور فون لے کر نیچے چلی گئ ۔
سکندر بے اختیار مسکرایا اور کہا
بتایا تو ٹھیک ہے ناں
________
نہیں نہیں مجھ سے یہ نہیں ہو گا سکندر نے سر جھٹکا
کیا ہو گیا ہے سکندر وہ بیوی ہے تمھاری تم تو ایسے ڈر رہے ہو جیسے میں نے کوئی چاند تارے توڑ کر لا دینے والی بات کر دی ہو
موہد سکندر کے پہلوں میں بیٹھا
تمھیں معلوم ہے موہد میں نے یہ سب پہلے نہیں کیا مجھ سے نہیں ہو گا اور ویسے بھی امل کو میں نے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی
سکندر نے چوکتے ہوئے موہد کی طرف دیکھا جو قریب صوفی پر بیٹھا تھا
ہاہاہاہا بڑے اچھے ماحول میں تم نے بھابی کو اپنے سو کو لڈ دل کی بات بتائی تھی جب ہوسپٹل میں تھی یا تب جب وہ درد میں تھی تو معصوموں کی طرح ان کا ہاتھ پکڑ کر مجھے معاف کردو امل میں نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا ہے میں تمھیں اب خوش رکھوں گا ۔۔۔طوبا سکندر کوئی ایسے بھی کرتا ہے پرپوز بس میں نے ایک سیمپل سا کام ہے بھابی کو کینڈل لائیٹ ڈئینر پہ لے جاو اور ایک اچھے شوہر ہونے کے ناطے ایک گھٹنے کے بل بیٹھ کر ہاتھ میں روز کا ایک پھول لیے ۔۔انھیں پرپوز کرنا دیکھنا وہ کتنا خوش ہوں گی
جیسے موہد نے کہا سکندر فورا بولا
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا ایک فوجی کو ان سب کی بہت اچھے سے ٹرئینگ ہو گی لگتا ماہا کو ایسے ہی منایا ہو گا
سکندر نے طنزا لینے میں کہا
اچھا تم نے جو بھی سوچنا ہے سوچو مگر آج رات کو تم امل کو لے کر جارہے ہو ٹھیک ہے
موہد نے اسے یاد دہانی کروائی
ٹھیک ہے لیکن موہد میں سوچا رہا ہوں کہ اگر ریڈ روز کی جگہ بلیک روز ہو تو اچھا لگے گا نہ
جیسے سکندر نے کہا موہد نے یکایک اسکی طرف ٹک نگاہ سے دیکھا
کچھ دیر تک مسلسل دیکھنے کے بعد اس نے ایک لمبا سانس لیا اور کہا
خدا کے لیے سکندر تم اسے پرپوز کر نے لگے ہو ڈرانے نہیں بلیک روز اچھا رہے گا موہد نے چڑتے ہوئے کہا
اور ہاں پیار بڑھے لہجے میں بولنا ۔۔۔اپنے سکندر مرتضی کو کہہ بند کردینا ۔۔موہد نے جیسے کہا
سکندر اسکی طرف تیزی سے بڑھا
تو رک کمی نے میں بتاتا ہوں تجھے کیسے بولنا ہے میں نے ۔۔جیسے سکندر نے کہا موہد جلدی سے کمرے سے باہر روانہ ہو گیا
__________________________
وہ۔۔۔وہ۔میں امل تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔ارے نہیں سکندر ایسے نہیں بولنا
سکندر کمرے میں موجود ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا آئینے میں پریکٹس کر رہا تھا
امل مجھے پتا ہے میں نے تمھیں بہت دکھ دیا ہے
ارے سکندر اسے پرپوز کرنا ہے دکھی نہیں
کولڈ ڈاون اتنا مشکل نہیں ہے ۔۔بیوی ہے تمھاری
امل تم ہمیشہ یہی کہتی ہو مجھے بلیک کلر کیوں پسند ہے ۔۔جیسے تیسری بار سکندر نے کہا ۔۔اوپر سے امل کمرے میں داخل ہوئی
آپ نے بلایا تھا مجھے ۔۔جیسے امل نے کہا وہ فورا اسکی طرف متوجہ ہوا
آو ہاں ۔۔۔میں نے تمھیں کچھ کہنا تھا سکندر اسکی طرف بڑھا
جی بولیے امل نے شائستگی سے کہا
وہ ۔۔میں سوچ رہا تھا کہ آج رات ڈنر ہم دونوں باہر کریں گے تم رات کو تیار رہنا ۔۔
سکندر نے نرم لہجے میں کہا
اوکے ۔۔۔امل نے ۔مسکراتے ہوئے جواب دیا
تم کچھ پوچھو گی نہیں ۔۔؟
کیا؟ امل نے سکندر کی طرف دیکھا
کچھ بھی ۔۔میں نے نوٹ کیا ہے تم مجھ سے بہت کم بات کرتی ہو ۔۔سکندر ۔نے اٹکتے ہوئے کہا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہے ۔۔
جیسے اامل نے سنا وہ بے اختیار مسکرا دی ۔۔کرتی تو ہوں ۔۔بس آپ آفس ہوتے ہیں ۔۔
آو ہاں یہ بھی ہے ۔۔اچھا پھر تیار رہنا تم ۔۔وہ اپنا آفس کورٹ پہننے لگا
لائیے میں کر دیتی ہوں امل نے آگے بڑھ کر کورٹ پکڑا۔۔
اتنے میں ارمینہ انکے کمرے میں آئی
امل بیٹا۔ ارمینہ کے چہرے پر فکر تھی
کیا ہوا ہے ماما؟ سب کچھ ٹھیک ہے ناں امل آگے بڑھی
وہ نیچے ۔۔۔۔ تمھارے چاچا چاچی آئے ہیں جیسے ارمینہ نے کہا
امل پوری طرح چونک گئ
کیا؟ اور وہ یہ کہتے ہوئے نیچے آئی
جہاں لاونچ میں عالیہ اور اسکے چاچا بیٹھے تھے جیسے انہوں نے ایک کو سیڑھیاں اترتے دیکھا ۔۔وہ دونوں مسکرا کر کھڑے ہو گئے
اسلام و علیکم چاچا جان ۔۔امل نے جلدی سے آگے بڑھ کر سلام لی
و علیکم اسلام میری بیٹی ۔۔اس کے چاچا نے اسے بے اختیار اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔امل کی آنکھوں سے آنسوؤں روا تھے
چاچی جان کیسی ہیں ۔۔امل نے شائستگی سے پوچھا جیسے عالیہ نے سنا ۔۔انہوں نے امل کو اپنے گلے لگا لیا
مجھے معاف کر دو میری بچی ۔۔مجھے معاف کردو میں نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا ہے
نہیں نہیں چاچی جان آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں امل نے عالیہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔
اتنے میں سکندر اور ارمینہ بھی نیچے آگئے
نہیں امل میں نے تمھارے ساتھ ہمیشہ نا انصافی کی ہے ہمیشہ تمھیں بتائیں کی کبھی تمھارے ساتھ پیار سے بات نہیں کی اور اسی کا نتیجہ دیکھو مجھے کینسر ہو گیا یہ سب میرے گناہوں کا نتیجہ ہے امل جو ۔۔ظلم میں نے تمھارے ساتھ کیے انہی کرموں کی سزہ مل رہی ہے
جیسے امل نے سنا اس نے عالیہ کے چہرے سے بہتے آنسوؤں کو صاف کیا
نہیں چاچی جان آپ کو کچھ نہیں ہو گا میں ہوں نہ آپ کے ساتھ کچھ نہیں ہونے دوں گی آپ پلیز بیٹھے ناں
سچ میں امل تمھارے دل بہت بڑا ہے اللہ تمھیں خوش رکھے عالیہ نے خوشی سے کہا
جیسے عالیہ نے سکندر کو دیکھا وہ اسکی طرف بڑھی ۔۔
بیٹا امل نے اپنی زندگی میں بہت دکھ درد دیکھا ہے اور اسے برداشت بھی کیا ہے ۔۔اسکے ساتھ جو بھی ہوا ہے ۔۔بہت برا ہوا لیکن اب اسے تم خوش رکھ سکتے ہو ۔بیٹا امل بہت ہی اچھی لڑکی بیوی ۔۔اور بہین ہے ۔ اسکا ہمیشہ دھیان رکھنا اسے کبھی اکیلا مت چھوڑنا
عالیہ نے جیسے کہا سکندر فورا بولا
آپ فکر مت کریں ۔آنٹی میں ہمیشہ امل کو خوش رکھوں گا آپ بیٹھے ناں
ارمینہ نے آگے بڑھی اور عالیہ کے ساتھ صوفہ پر بیٹھ گئ
چاچی شانے ارحم کیسے ہیں سب ۔۔امل نے خوشی سے پوچھا آج اسکا چہرے پر جو خوشی تھی وہ ناقابل بیان تھی
سب ٹھیک ہیں بیٹا ۔۔۔تم سناو عالیہ نے مسکراتے ہوئے کہا
میں بھی بلکل ٹھیک ہوں ۔۔جیسے امل نے کہا ارمینہ فورا بولی
امل بیٹا کچھ کھانے کو لے کر آو ۔۔۔
جی ماما ضرور امل نے کہا ۔۔اور کچن کی طرف بڑھی
________________________
جیسے امل نے دیکھا وہ وہی دھک رہ گئ ۔۔سارا ریسٹورینٹ کینڈل سے سجایا گیا تھا
ہر طرف ۔۔۔بلیک روز تھے ۔۔جیسے امل نے دیکھا اس نے سکندر کی طرف دیکھا
چلیے مسسز سکندر ۔۔سکندر نے ۔۔اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور ٹیبل کی طرف بڑھے
بیٹھے ۔۔سکندر نے چئیر کو آگے کیا
تھینک یوں ۔۔۔امل نے کہا اور چئیر پر بیٹھی ۔۔
کونسے ۔۔والے گھٹنے کے بل بیٹھنا تھا ۔۔سکندر وہی کھڑا تھا
سکندر تم بھی بیٹھو ناں امل نے کہا
ہاں بیٹھتا ہوں سکندر نے ہچکچاتے ہوئے کہا
کیسے بیٹھنا تھا ۔۔۔۔کمینے نے بتایا بھی نہیں سکندر نے دل میں سوچا
سکندر تم مجھے ویسے بھی پہنا سکتے ہو ۔۔رینگ ۔۔گھٹنے کے بل بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں جیسے امل نے کہا ۔
سکندر فورا بولا
تمھیں کیسے پتا چلا میں یہ سوچ رہا تھا ۔۔
جیسے سکندر نے کہا امل بے اختیار ہنس دی
بیوی ہوں تمھاری چلو پہناو مجھے رینگ امل نے کہا اور ہاتھ آگے کیا
اتنے میں سکندر نے ۔۔اپنے کورٹ کی جیب سے ۔۔رینگ نکالی ۔
اور اسکے ہاتھ میں پہنائی
واہ سکندر ۔۔یہ بہت پیاری ہے ۔۔۔امل نے رینگ کو دیکھتے ہوئے کہا
لیکن تم سے کم پیاری ہے ۔۔۔امل ۔۔میں تمھیں کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔۔
سکندر نے امل کا ہا تھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔
بولو ۔۔امل نے مسکراتے ہوئے کہا
میں جب تمھارے ساتھ ہوتا ہوں تو یہ سنگ دل دھک دھک کرنا شروع ہو جاتا ہے
روکتا ہی نہیں اپنی جگہ ایسا لگتا ہے ۔۔مجھے تم سے محبت ہو گئ ہے ۔۔
جیسے سکندر نے کہا
امل نے بے اختیار کہا
نفرت سے محبت ۔۔۔
ہاں ہو گئ ۔۔نفرت سے محبت ۔۔۔سکندر نے کہا اور امل کو اپنے گلے لگا لیا
مجھے چھوڑو گے نہیں
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
درد تو نہیں دو ۔۔گے اکیلا تو نہیں چھوڑو گے ۔۔
کبھی نہیں ۔۔۔
امل کو ہمیشہ خوش رکھوں گے ۔۔
اپنی جان سے زیادہ ۔۔۔سکندر نے مسکراتے ہوئے کہا
اور ایک ضروری بات ۔۔پلیز بلیک کلر کا راز بتا دو جیسے امل نے کہا
سکندر نے ا زور سے ایسا لگایا
ہاہاہا کوئی راز نہیں ہے ۔۔۔اس بلیک کا مجھے شروع سے اس کلر کی طرف بہت اٹریکشن تھی اچھا لگتا تھا یہ کلر ۔۔
نہیں بتاو گے ۔۔ امل نے سکندر کی طرف دیکھا
____________________________
سارے مہمان آچکے تھے ۔۔سوائے سکندر اور امل کے ۔۔
موہد ۔۔ابھی تک نہیں آئے سکندر اور امل ۔۔دلہن کے لباس میں ملبوس ۔۔ماہا آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
نہیں میں نے کال کی ہے ابھی آجاتے ہیں۔
ویسے مجھے لگتا ہے تمھیں ہماری شادی سے زیادہ سکندر اور امل کو دیکھنے کا شوق ہے ۔۔موہد نے ہنستے ہوئے کہا
تو اور کیا تم نے اتنا کچھ ان دونوں کے بارے میں بتایا مجھے تو تجسس ہے سکندر کیا دیکھتا ہو گا جیسے مایا نے کہا
موہد نے کہا
لو آگئے وہ دونوں
موڑ بلیک اور انکی مسسز
سکندر اور ا۔مل انکی طرف آرہے تھے آج امل نے بھی سکندر کے لیے بلیک کلر کا ڈرا پہنا تھا اور سکندر کی تو ہمیشہ سے چوائس بلیک ہی تھی ۔۔دونوں ایک ساتھ بہت ہی اچھے لگ رہے تھے ایک پرفیکٹ کپل
بہت انتظار کروایا تم دونوں نے موہد سکندر کے گلے ملا
سوری یار آپ کی بھابی تیار ہو رہی تھی ۔۔۔سکندر نے ۔۔امل کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔مزاحقکہ لہجے میں کہا
مایا یہ ہے مسڑ سکندر مرتضی میرا کھڑا دوست اور یہ مسسز سکندر ۔۔نہایت ہی خوبصورت ۔بیوی ہیں مسڑ کی جیسے موہد نے کہا
مایا نے چونک کر ۔۔موہد کی طرف دیکھا
تم سے کم ۔۔جیسے موہد نے کہا سب نے زور سے قہقا
لگایا
ویسے امل ۔۔آپ واقعی میں بہت خوبصورت ہیں آپ دونوں کا کپل پرفیکٹ ہے ۔۔
مایا نے مسکراتے ہوئے کہا
ویسے سکندر ۔اس بلیک کا کیا راز ہے ۔۔جیسے مایا نے کہا سکندر نے فورا موہد کی طرف دیکھا تم نے مایا کو بھی بتایا ہے
ہاں ۔۔۔۔وہد نے کہا
نہیں نہیں مایا ایسی کوئی بات نہیں ہے سکندر نے جلدی سے کہا
امل دھیان رکھنا کیا پتا اس بلیک کے پیچھے کوئی لڑکی نہ ہو ۔۔
جیسے مایا نے کہا امل فورا بولی ۔۔
نہیں اگر ایسا ہوا تو دیکھ لوں گی میں ۔۔
___________________________
پانچ سال بعد
مجتبہ اٹھو بیٹا سکول بھی جانا ہے تمھیں ۔۔آٹھ نیچے آو میں تمھارے ناشتہ بانوں ورنہ تمھارے بابا آج پھر اپنا بلیک والا تمھیں ناشتہ بنا کے دیں گے جس میں ہر چیز سڑی ہوتی ہے اٹھو
امل نے مجتبہ خو اٹھایا اور نیچے لے کر آئی اس سے پہلے وہ کچن میں جاتی سکندر وہاں پہلے سے موجود تھا
لوں مجتبہ بابا نے ناشتہ ریڈی کر دیا لو کھا اور بتا کیسا بنا ہے
جیسے امل نے دیکھا وہ پوری طرح جلا ہوا تھا
نہیں نہیں سکندر ۔۔یہ ناشتہ تم خود ہی کھا میں اپنے بیٹے کو جلا ہوا ناشتہ نہیں کھلاو گی
ماما میں بابا کے ہاتھ کا ناشتہ کروں گا جیسے مجتبہ نے کہا
سکندر بے اختیار ہنسا
آو لائے یہرو یہ ہوئی نہ بات ۔۔۔
نہیں مجتبہ بیٹا بابا تو بلیک بلیک ہے کیا آپ کو بھی انکی طرح بلیک بننا ہے
ہاں میں مجتبہ سکندر ہوں ۔۔۔جیسے بابا ہیں ویسا ہی میں
ہوئے اللہ نہیں اپنے باپ پہ مت جانا ۔۔بہت اکڑو ہے ۔۔ جیسے امل نے کہا
ارمینہ اور مرتضی صاحب نے ایسا لگایا
_____________________
یکھیں جس مسڑ اور مسسز سکندر میں نے آپ دونوں کو ایک اور بات بتانی ہے
آپ دونوں کا بیٹا بہت اچھا پڑھتا ہے میں اسے ایک پروبلم ہے
اس میں غصہ بہت ہے ۔۔۔اپنی کلاس میں جب جھگڑا ہے تو کہتا ہے
میں مجبتبہ سکندر ہوں
جیسے پرنسپل نے کہا امل نے بے اختیار سکندر کی طرف دیکھا
ختم شد
