Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 14)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 14)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
روکو جیسے سکندر نے کہا امل کے پاوں وہی منجمد ہو گئے اسنے پلٹ کر سکندر کی طرف دیکھا
“جی” امل نے نرم لہجے میں کہا
و۔۔۔وہ ۔میں کہہ رہا تھا کہ مجھے کافی بنا کے لا دو سکندر وہ بات کہہ ہی نہیں پا رہا تھا جو وہ امل سے کہنا چاہتا تھا وہ امل کو روکنا چاہتا تھا لیکن اسکی اعناءپرستی اور غرور امل کے سامنے جھکنے سے روک دیتا اسے ڈر تھا کہ وہ کہی امل کے سامنے خود کمزور محسوس نہ کرے
“ٹھیک ہے ” میں لا دیتی ہوں امل نے شائستگی سے جواب دیا اور کچن کے جانب بڑھ گئ
اف! میرے اللہ اتنی رات کو بھی کافی پتا نہیں اس کافی میں کیا رکھا ہے جو رات دیر تک سکندر کا پیچھا نہیں چھوڑتی خیر ایک دن میں بھی پی کر دیکھوں گی اسنے کافی کا مگ اٹھایا اور کمرے کی طرف بڑھی
“کافی”
او یہاں رکھ دو جیسے سکندر نے کہا اسنے قریب میز پر کافی رکھ دی
میز پر کافی رکھنے کے بعد وہ اپنا سامان پکڑنے کے لیے آگے بڑھی
کیا ہو گیا ہے سکندر تھمیں بیوی ہے وہ تمھاری تم اسے روک سکتے ہو کچھ نہیں کہے گی کچھ نہیں سوچے گی بولو سکندر روکو اسے وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھا اسنے ایک دفعہ پھر ہمت کر کے امل کو روکا
امل ۔۔وہ ۔۔وہ۔پانی کا جگ خالی ہے پانی لا دو وہ دروازے کے عقب پر تھی کہ پھر رک گئ
“جی ٹھیک ہے” امل نے سامان پھر رکھا اور پانی کا جگ لیے باہر کی جانب بڑھی پتا نہیں سکندر کو کیا ہو گیا ہے پہلے کبھی تو ایسے نہیں کیا امل خود حیران تھی وہ پانی کا جگ لیے اندر داخل ہوئی
“پانی”
رکھ دو
امل نے بیڈ کی دوسری سائیڈ پر پانی کا جگ رکھ دیا اور پھر ایک دفعہ اپنا سامان اٹھانے بڑھی
تم سے نہیں ہو پائے گا سکندر یار وہ تمھاری شریک حیات کیا کہہ لے گی وہ تمھیں حیران ہو گی ۔۔بیوی ہے وہ تمھاری سکندر مرتضی سکندر نے پریشانی سے اپنے چہرے کو مسلا اور پھر ایک دفعہ امل کو روکا
وہ۔۔۔وہ۔۔میں ۔کہہ رہا تھا کہ وہ بات کرتے کرتے رک گیا
کہ؟ امل نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا
کہ۔۔۔م۔۔مجھے ایک گلاس گرم دودھ کا لا دو جیسے سکندر نے کہا امل نے چونک کر کہا
دودھ؟
ہاں دودھ کیوں میں دودھ نہیں پی سکتا سکندر نے حیرانگی سے کہا
ن۔۔نہیں میرا یہ کہنے کا مطلب نہیں تھا اس ٹائم
جو میں نے کہا ہے وہ کرو اور ہاں اتنی جلدی نہیں ہے تھوڑا لیٹ بھی ہو جائے تو کچھ نہیں ہوتا
اسنے تیسری دفعہ اپنا سونے کا سامان رکھا اور باہر کی طرف بڑھی
پتا نہیں سکندر کو کیا ہو گیا ہے اس وقت کافی کے ساتھ دودھ کمبی نیشن تھوڑا عجیب نہیں تھوڑا نہیں بہت زیادہ عجیب ہے پتا نہیں سکندر کے دل و دماغ میں کیا چلتا رہتا ہے پہلا بندہ ہے جیسے صرف بلیک بلیک پسند ہے بلیک کافی بلیک ٹوسٹ بلیک کپڑے سکندر کو صرف ایک ہی شخص سمجھ سکتا ہے اور وہ خود سکندر ہے امل نے دل میں سوچتے ہوئے کہا اور دودھ کا گلاس لیے کمرے کی طرف بڑھی اسے معلوم تھا کہ سکندر اسے روکنا چاہ رہا ہے نہیں ہو گا سکندر تم سے
اور سامنے میز پر دودھ کا گلاس رکھا
اور سامان پکڑے جانے لگی اس سے پہلے سکندر کچھ کہتا امل نے اسکی بات
کاٹی
رہنے دو سکندر جو تم کہنا چاہ رہے ہو نہیں ہو گا تم سے ۔
امل نے کہا اور چلی گئ
اف سکندر ۔کتنا پاگل ہے تو ۔۔اسنے ہاتھ میں پکڑی کتاب نیچے رکھی
کیا واقعی محبت بنا پوچھے دل پر دستک دے دیتی ہے کہ مجھ جیسے سنگ دل انسان پر بھی دستک دے دی ۔۔واقعی موہد صیح کہتا ہے یہ محبت بڑی ظالم ہوتی ہے اسکے سامنے انسان کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں ۔۔
وہ لیٹا سوچ رہا تھا ایک دم سے وہ اٹھا
اسے سردی لگ رہی ہو گی
زوہاب کے آنے پر امل کو گیسٹ روم چھوڑنا پڑا ۔
اور وہ اس کمرے میں رہ رہی تھی جس کی کنٹریکشن ابھی چل رہی تھی کمرے کی کھڑکیوں کی مرمت ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی
جیسے وہ اس کمرے میں پہنچا ۔۔تو اسنے دیکھا امل سو رہی تھی
سکندر نے جلدی سے اپنے اوپر اوڑھی چادر اسکے اوپر دی
کتنی دفعہ ماما نے کہا ہے اس سے کہ کھڑکیوں کی ابھی مرمت مکمل نہیں ہوئی کیسی اور کمرے میں چلی جاو لیکں مسسز سکندر اتنی جلدی کہا ماننے والی
سکندر نے اپنے آپ سے بات کرتے ہوئے کہا اور کھڑکیوں والی جگہ پر آگے پردہ ڈالا
مسسز سکندر ۔۔وہ ایک دم خود کی بات پر چونکا
میں تو اسے اپنی بیوی تک تسلیم نہیں کرتا تھا ۔۔۔سکندر وہ تمھاری بیوی ہے اب وہ اسکے سامنے کھڑا تھا کہ اچانک اسکی نگاہ
امل کے ہاتھ پر پڑی اسکے ہاتھ میں زخم تھے جو ابھی تک نہیں بڑے تھے
جیسے سکندر نے دیکھا اسنے قریب پڑی چئر کو گھسیٹ کر امل کے نزدیک کیا
اور اپنے کمرے سے جلدی سے فرسٹ ائیڈ بکس لا کر اسکے ہاتھ پر پٹی کی یہ سکندر کے دیے ہوے زخم تھے
اس کمرے میں اس قدر سردی تھی کہ سکندر کا پورا وجود کانپ رہا تھا
اسنے امل کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور انھیں مسلنے لگا ۔
سردی زیادہ ہونے کے باعث اسنے اپنے کمرے میں موجود کمبل لا کر اس پر اوڑھ دیا کہ اسے ٹھنڈ نہ لگے ۔۔
انسان ایسی مشین ہے جس کے اندر اللہ تعالی نے جذبات ۔احساسات درد تکلیف کے ایموشنز ۔۔ڈال دیے ۔کہ سخت سے سخت دل انسان کو دیکھ کر ہم یہ دعوا نہیں کر سکتے کہ اسکے سینے میں کوئی احساس نہیں کوئی جذبات نہیں ۔ لیکں کہی نہ کہی ان انسانوں میں بھی یہ سب ایموشنز ہوتے ہیں مگر وہ ظاہر نہیں کرتے اور یہی سکندر کرتا تھا جسکی دنیا میں امل کے لیے کوئی احساس جذبات نہیں تھے مگر پھر ںھی اسے تکلیف ہوتی جب امل کے ہاتھ پر چوٹ لگی ۔اسے ہر اس شخص سے نفرت ہونے لگی تھی جو امل کے نزدیک تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے امل اٹھی ۔۔اسنے اپنے ہاتھ پر بندھی ہوئی پٹی دیکھی سکندر کیسا انسان تھا جو اسکے سامنے اتنا غصہ ہوتا اور پیچھے اسکی اتنی کئیر کرتا ۔۔امل کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئ وہ جلدی سے نیچے آئی جہاں زوہاب ارمینہ اور مرتضی بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے
اسلام و علیکم امل نے آگے بڑھ کر مرتضی صاحب سے سلام لی
و علیکم اسلا م اٹھ گئی بیٹا
جی بابا جان
آپ کب آئے
میں کل رات کو ۔۔مرتضی صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ماما آپ نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں میں ناشتہ بنا دیتی ۔امل نے ناگواری انداز میں کہا
کچھ نہیں ہوتا امل گھر میں سروینٹس ہیں کام کرنے کے لیے اور ویسے بھی تم سوئی ہوئی تھی تو میں نے مناسب نہیں سمجھا
امل ابھی پوچھنے ہی لگی تھی کہ ارمینہ نے پہلے ہی اسے بتا دیا
وہ کمرے میں ہے ناشتہ نہیں کیا ابھی تک اس نے ۔
جی میں بنا دیتی ہوں ۔۔امل نے کہا اور فورا کچن کی جانب بڑھی
اور ناشتہ تیار کر ۔۔اوپر کمرے کی طرف بڑھی ۔
۔
“ناشتہ” امل جیسے کمرے میں داخل ہوئی اسنے سکندر کو دیکھا جو آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا
اسنے سامنے ٹیبل پر ناشتے والی ٹرے رکھی اور کمرے میں بیکھری چیزیں اٹھانے لگی
اچانک امل نے سکندر کی طرف دیکھا تو بلاجھجک وہ مسکرا دی
اور سکندر کے قریب بڑھی
چھوڑیں میں کر دیتی ہوں ۔۔امل نے سکندر کے ہاتھ کو پیچھے کیا
اور ٹائی کی گرا باندھنے لگی ۔
شکریہ کل رات والی ہمدردی کے لیے ۔ویسے میں پٹی کرنے والی تھی یاد بھول گیا
تمھیں یاد کب رہتا ہے ۔
رہتا ہے جب آپ کو دیکھتی ہوں تو بھول جاتا ہے
ویسے حیرانگی ہے سکندر مرتضی کو ابھی تک ٹائی باندھنی نہیں آتی
جیسے امل نے کہا سکندر نے امل کو کھینچ کر اپنے نزدیک کیا
“تمھیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا “
“نہیں”
امل آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا
سکندر مرتضی ہوں میں
سکندر نے امل کو اپنے نزدیک کیا ۔۔۔
اور میں سکندر مرتضی کی بیوی ہوں امل نے بلاجھجک جواب دیا
یہ سنتے ہی سکندر خاموش ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کیا کہا تھا کپٹن موہد شادی آپ سے ہی کروں گی
ماہ نے خوشی سے تلملاتے ہوئے کہا
بہت ضدی ہو موہد نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاں بہت ضدی ۔۔آپ کی طرح ۔
ماہ ایک دفعہ پھر سوچ لو ۔۔
کس بارے میں ماہ نے چونکتے ہوے کہا
دیکھو ماہ میں جانتا ہوں تم مجھے پسند کرتی ہو ۔ لیکن ایک فوجی کی زندگی میں یہ سب ممکن نہیں ہوتا ۔ہماری زندگی باڈر پر ہوتی ہے اور باڈر پر ی اپنے وطن عزیز کی حفاظت خاطر قربان ہو جاتی ہے اور بے شک یہ میرے لیے سب سے بہتر ہے کہ میں اپنے وطن کی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کروں
اور میں نہیں چاہتا تم میری وجہ سے ابھی موہد نے کہا ماہ نے اسکی بات کاٹی
اگر مجھے ان سے چیزوں کی فکر ہوتی تو میں تم سے محبت نہ کرتی ۔موہد مجھے اللہ پر پورا پھروسہ ہے وہ مجھے تم سے کبھی علیحدہ نہیں کرے گے سمجھے کپٹن ۔اب ایسی باتیں کبھی مت کرنا ۔
اچھا ۔۔
جی ۔۔ماہ نے بے اختیار قہقا لگایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزے تمھاری شادی ۔
ہاں امل ۔۔تم آو گی نہ
ہاں ضرور کیوں نہیں ۔۔آخر میری بہن کی شادی ہے امل نے چہکتے ہوئے کہا
لڑکا کیسا ہے کیا کرتا ہے ۔امل نے جلدی سے سوال پوچھے ۔۔
ہم ملتے ہیں امل پھر بتاوں گی اتنا عرصہ ہو گیا ہے جیسے شانزے نے کہا
امل فورا بولی ہاں کیوں نہیں ایسا کرو تم میرے گھر آجا
تمھارے گھر شانزے چونکی
کیوں کیا ہوا ۔ امل نے حیرانگی سے کہا
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ٹھیک ہے میں آجاوں گی پرسوں پھر مل لر بتاوں گی
ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا امل نے مسکراتے ہوئے کہا
تم بھی شانزے نے یہ کہتے ہوئے فون بند کیا
رات کے کھانے پر سب موجود تھے ۔۔جب ارمینہ نے سکندر سے کہا
سکندر بیٹا تم امل کو شاپنگ پہ کیوں نہیں لے جاتے جیسے ارمینہ نے کہا
امل کے ہاتھ سے چمچ نیچے پلیٹ میں گر گیا
سکندر پانی پیتے رک گیا
_________
کیا ہو گیا ہے دونوں کو ۔ارمینہ نے حیرانگی سے ان دونوں کی طرف دیکھا کیوں میاں بیوی شاپنگ پہ جا سکتے ہیں بیٹا سکندر
جیسے ارمینہ نے کہا سکندر فورا بولا ۔
جی۔۔۔بی جان ضرور جا سکتے ہیں ۔
ہاں تو ٹھیک ہے کھانا کھانے کے بعد دونوں چلے جاو ۔۔ ارمینہ نے کھانا کھاتے ہوئے کہا
ابھی ؟ امل چونکی
کیوں کیا ہوا ہے ۔۔ارمینہ نے سوالیہ انداز میں امل کی طرف دیکھا
ن۔۔نہیں نہیں ماما میں کہہ رہی ہوں کہ ۔۔کل چلے جائیں گے ۔
امل نے مدھم آواز میں کہا
سکندر چلو ۔۔تم گاڑی نکالو ۔۔امل آتی ہے ۔۔
زوہاب حیرانی سے ساری کفیت کو دیکھ رہا تھا ۔
جی۔۔۔سکندر اٹھا اور باہر کی جانب بڑی ۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ مال میں موجود تھے ۔امل کھڑی ابھی کپڑوں کو دیکھ رہی تھی
پسند کر لو جو لینا ہے ۔۔سکندر نے بنا دیکھے کہا
مجھے پتا نہیں چل رہا آپ میری مدد کر دیں ۔
امل نے سکندر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
مجھے تو وومین کلاتھ کے بارے میں کچھ نہیں معلوم
اسنے ناکامی سے کندھے جھٹکے
ٹھیک ہے پھر میں یہاں پر موجود سیلز مین سے پوچھ لیتی ہوں
جیسے امل آگے بڑھی ۔سکندر نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔
یہ بلیک اچھا ہے ۔
امل بے اختیار مسکرا دی ۔۔
آپ کو اچھا لگا ۔۔
ہاں ۔۔۔سکندر نے سر ہلایا ۔
ٹھیک ہے پھر میں یہی لیتی ہوں ۔۔۔امل نے اپنے سارے کپڑے لے لیے ۔۔وہ سکندر کے لیے کچھ خریدنا چاہتی تھی
سکندر پلیز بلیک مت لیں ۔۔۔وائٹ لے لیں ۔۔
امل نے سکندر سے کہا جو بلیک ٹی شرٹ پیک کروانے لگا تھا
مجھے وائٹ کلر پسند نہیں ۔۔
سکندر ۔۔آپ کے پاس ۔۔بلیک بلیک ہی ہے کوئی اور رنگ ٹرائی کرے آی این شور ۔۔بہت اچھا لگے گا
مجھے تم سے پوچھنے کی کوئی ضروت نہیں ہے ۔۔سکندر نے غصے سے کہا
“زوہاب آپ پر وائٹ کلر بہت سوٹ کرتا ہے” جیسے سکندر کو امل کی وہ بات یاد آئی اس نے فورا ۔امل سے چھپے وائٹ شرٹ پیک کروا لی ۔۔
اگر میرے سامنے بھی ۔پیک کروا لیتے تو زیادہ خوشی ہوتی جیسے ۔امل نے کہا
سکندر چونک گیا
تم گاڑی میں نہیں بیٹھی ابھی تک ۔۔
وہ میں آپ سے گاڑی کی چابی لینے آئی تھی لاک ہے گاڑی ۔۔جیسے امل نے کہا
سکندر وہی خاموش ہو گیا ۔
ہاں۔۔۔و۔۔۔وہ میں نے سوچا ۔وائٹ کلر ٹرائی کر لیتا ہوں ۔۔سکندر نے بات کو سنبھالتے ہوئے کہا
آئس کریم کھاو گی ۔سکندر نے امل سے پوچھا جو مال سے باہر نکل رہی تھی
ہاں ۔۔اسنے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ۔
ایک منٹ روکو ۔میں لاتا ہوں ۔۔سکندر نے کہا اور قریب کھڑے ۔آئسکریم کی دوکان سے دو کارنیٹو لایا
یہ لو ۔۔
تھینک یوں
اٹس اوکے ۔۔
ویسے مجھے آئس کریم بہت زیادہ پسند ہے تمھیں پتا ہے سکندر میں ایک دن میں پتا نہیں کتنی کارنیٹو کھا جاتی تھی ۔وہ اسے دیکھ رہا تھا ٹک نگاہوں سے اسے اچھا لگ رہا تھا اس سے باتیں کرنا ۔۔امل اپنے دھیان باتیں کر رہی تھی کہ اچانک اسکے ہاتھ سے آئس کریم نیچے گر گئ
دھیان سے امل ۔۔۔سکندر نے بلاجھجک کہا
روکو میں اور لا دیتا ہوں ۔۔جیسے سکندر نے کہا امل فورا بولی
نہیں ۔۔کچھ نہیں ہوتا ۔۔وہ یہ کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئ ۔
سکندر جیسے گاڑی میں بیٹھا اسنے اپنی آئس کریم امل کی جانب بڑھائی
لو ۔کھا لو ۔
نہیں ۔۔۔نہیں ۔سکندر ۔۔میں نے کھا لی ہے ۔۔
پکڑو ۔۔سکندر نے اسکے ہاتھ میں تھما دی امل نے چونک کر سکندر کی طرف دیکھا ۔
کیا یہ وہی سکندر ہے ناں ؟ اسنے دل میں سوچا
امل نے تھوڑی سی کھا کر ۔۔۔سکندر کی جانب بڑھائی ۔۔
سکندر نے ڈرئیو کرتے ہوئے ۔۔۔امک کے ہاتھ سے پکڑی ۔اسطرح ان دونوں نے ۔۔ایسے ہی ایک دوسرے سے بانٹ کر ۔۔آئس کریم ۔کھائی….
