Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat Sy Muhabbat (Episode 10)

Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan

میں جاوں گی ۔سکندر چاہے تم جو بھی کہو لیکن اب تمھارا کام کرنا مجھ پر فرض ہے وہ اسکے کمرے کی ساری صفائی کر رہی تھی جب اسنے کیبن کا دروازہ کھولا ۔وہاں بلیک کلر کے علاوہ اور کیسی رنگ کے کپڑے موجود نہیں تھے اسے بلیک کلر بہت زیادہ پسند تھا ۔تبھی وہ ناشتے میں جلا ہوا ٹوٹسٹ بلیک کافی ۔لیتا ۔کبھی کبھی خود امل پریشان ہو جاتی تھی ۔۔لیکن اس شخص کو سمجھنے سے قاصر رہی

اسکے سارے کمرے کی صفائی کرنے کے بعد جب وہ باہر نکلی تو سامنے سے سکندر اور موہد آتے ہوئے معلوم ہوئی

وہ آگے بڑھنے لگی جب موہد نے اسے روکا

اسلام و علیکم بھابھی جیسے موہد نے کہا ۔امل نے چونکتے ہوئے ایک نظر سکندر کو دیکھا اور پھر دبی ہوئی آواز میں سلام کا جواب دیا ۔اور آگے جانے لگی ۔۔تھی کہ پھر موہد نے سوال کیا

بھابی ۔آیے آپ بھی ہمیں جوائین کریں

ن۔۔نہیں ۔۔میں تھوڑا مصروف ہوں

ارے بھاھی آجائیں ایسے موقعے روز آتے ہیں آجائیں آج آپکو اپکے شوہر سکندر مرتضی کے بلیک کپڑے سے لے کر ہا کالی چیز کی وجہ بتاوں گا

وہ ہنسا ۔سکندر نے بات کاٹی

چپ کر ۔۔جا ۔سالے

ن۔۔نہیں مجھے کام ہے وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئ ۔۔وہ اسکے بارے میں کیا جانتی جو اس شخص کے بارے میں جان چکی تھی ۔وہ کم تھا ۔وہ اس پر روز ۔جو انگلی اٹھاتا ہر دفعہ اسے نیچا دیکھتا یہ تھا سکندر مرتضی ۔

مجھے اسکے بارے میں کچھ نہیں جاننا بس فرق یہ ہے کہ میں اس سنگ دل شخص کی زندگی کا حصہ بن چکی ہوں ۔

وہ اسکے کمرے میں پانی کا مگ رکھ رہی تھی ۔جب سکندر اس سے مخاطب ہوا

ویسے تمھارئ زبان کچھ زیادہ نہیں چلنی شروع ہو گئ مس امل

وہ خاموشی سے اپنا کام کر رہی تھی

کیسے موہد کے سامنے بھولی بننے کا ناٹک کر رہی تھی یہی دیکھانا چاہ رہی تھی کہ دیکھو مجھ پر کتنا ظلم ہو رہا ہے میں بہت بیچاری ہوں

یہی بات ہوہ اس بار بھی خاموش تھی

میں تم سے کچھ پوچھ رہاں ہوں ۔۔

اسنے آگے بڑھ کر اسکے بازو سے زور سے پکڑا ۔زیادہ اکڑ دیکھا رہی ہو مجھے ہوں بولو ۔کیا ہو تم ۔؟ کیا سمجھتی ہو خود کو ۔

تمھاری اوقات یہی ہے گھر سے بھاگی ہوئی بد کرادر لڑکی جس کے دامن میں کیچڑ کے علاوہ کچھ نہیں ۔یہ یاد رکھنا سکندر کو attitude دیکھانے والے شخص سے شدید نفرت ہے ۔اور تم پر تو یہ جھجتا بھی نہیں ہےایک سکینڈ بھی نہیں لگنا تمھیں اپنی زندگی سے نکالتے ہوئے اور دوسرئ شادی کرتے ہوئے ۔تم صرف ایک کاغذ کے ٹکرے پہ موجود سیاہی ہو جس کا کوئی وجود نہیں میرے نزدیک خاص کر تمھاری طرح لڑکیوں کا

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھئ

تمھیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا جیسے سکندر نے کہا وہ مسکرائی اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

تمھیں پتا ہے سکندر مجھے تم پر ترس آتا ہے کیا حال ہو گا تمھارا جب حشر کے روز تمھارا گریبان میرے ہاتھ میں ہو گا

جیسے امل نے کہا

کیا بیگاڑا ہے میں نے تمھارا سکندر تم ہر روز میری ذات کی تذلیل کرتے ہو اپنے غصے سے دوسروں کو نیچا دکھانا خود پرستی اور سنگ دلی کو اپنی طاقت سمجھنا یہ ہے تمھارا خوف سکندر اسکے علاوہ تم کچھ نہیں ہو ۔

پتا ہے تم جیسے لوگوں کے ہاں اللہ بیٹی کیوں نہیں دیتا کیونکہ جن حیوانوں کو دوسری عورتوں کی قدر نہ ہو اللہ انکے ہاں رھمت نہیں کرتا سکندر

یہ سنتے ہی سکندر وہی خاموش ہو گیا

******************

میں تم سے نہیں ملوں گی ۔۔خدا کے لیے مجھے بخش دو امل فون پہ بات کرتے ہوئے کیسی کو کہہ رہی تھی میری آگے زندگی بہت مشکل ہو گئ ہے پلہز مجھے چھوڑ دو

اسنے یہ کہتے ہوئے فون بند کیا

ماما سکندر کا ناشتہ تیار ہے وہ آج خود سب کچھ کر رہی تھی ارمینہ حیران رہ گئ کیونکہ وہ پہلے خود اسے کہتی تھی لیکن آج وہ خود سارا اسکا کام کر رہی تھی

ماما پلیز ٹوٹسٹ کو تھوڑا اور جلا دیں اسے جلا ہوا ٹوسٹ پسند ہے

اسنے سارا اسکا ناشتہ تیار کیا اور اسے کمرے میں دینے چلی گئ

وہ خاموشی سے اسکے قریب ناشتہ رکھنے بعد کمرے میں بیکھری چیزیں سمیٹ رہی تھی وہ اسےآج کچھ نہین کہہ رہا تھا

_______

میرے کل کچھ کلائینڈ آرہے ہیں سکندر کے کہنے پر اسکے قدم وہی منجمد ہو گئے وہ پلٹی

ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔کچھ کہا ہے میں نے اور بتانے کی وجہ یہ ہے کہ کل تم ان کے سامنے نظر نہیں آو گی میں نہیں چاہتا تمھاری وجہ سے میری ڈیل پر کوئی اثر پڑے کیونکہ تم جیسی لڑکیوں کواپنی عزت کی پرونہیں ہوتی کم ازم مجھے تو اپنی عزت کا پاس ہے سمجھ گئ ہو نہ کیا کہہ رہ ہوں میں سکندر کے الفاظ کیسی خنجر کی مانند اسکے دل میں کھوبے تھے اسنے اپنے آنسووں کو اندر ہی اندر ضبط کرلیا اور بغیر کچھ کہے وہ جانے لگی تھی ۔۔۔

تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا

وہ اسکے قریب آیا ۔

امل کی سانسیں تیز ہو گئ ۔۔میں ۔۔نے کیا کیا ہے سکندر ۔آواز ہلک میں اٹک رہی تھی خوف نے چہرہ جھکا دیا یہ سنتے ہی سکندر کو اس قدر غصہ آیا ۔۔کہ وہ امل کے اور نزدیک بڑھا ۔

کیا کہا تم نے ۔۔ایک دفعہ پھر بولو ۔

امل ڈرکے مارے پہچھےبڑی ۔

میں تم سے کچھ کہہ رہا ہوں کیا کہا تم نے سکندر نے اسکو بازو سے اسقدر زور سے پکڑا کہ اسکی آہیں نکل گئ

ک۔۔۔کچھ نہیں کہا میں نے

بکواس بندکرو ۔۔۔الفاظ میں اس قدر خوف تھا کہ اسکی لرزش امل کے پورے جسم میں چھا گئ ۔

ک۔۔۔کہ میںرا قصور کیا ہے ۔۔امل نے کانپتے ہوئے کہا

ارے واہ ۔۔۔کیا کہنا ہے تمھارا مس امل نور ۔خود گناہ کر کے پوچھ رہئ ہے کہ مجھے کس گناہ کا ارتقاب کی سزا مل رہی ہے پتا ہے تم کس قدر گری ہوئی لڑکی ہو میں بتا نہیں سکتا اور مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ تمھارا قصور کیا ہے میرے بھائی پر اپنے پیار کا جھوٹا جادو چلایا ۔اور پھر پیسے کے لالچ میں اپنے گھر سے بھی بھاگ گئ ۔۔اور پھر میرے گھر کو تباہ کر دیا ۔۔اور اب میرے ساتھ کرنے لگی ہو یہ ہے تمھارا قصور ۔جس کے کردار پر صرف بد چلن کا داغ لگا ہے ۔جو ساری زندگی نہیں دھل سکتا ۔میرے بھائی کے خون کا ذمہ بھی تم ہو ۔

سکندر اسے تکلیف دے رہا تھا وہ اسے ہر روز اسی درد میں مبتلا کرتا ہر روز اسکی عزت کا تماشہ لگایا

بس کردو ۔سکندر ۔اس خدا سے ڈرو ۔جس نے تمھیں پیدا کیا ہے اسنے تمھیں یہ حق نہیں دیا کہ زمینی خدا بن کر تم لوگوں کی عزت نفس پر کیچڑ اچھالو انکے جذباتوں کو پیروں تلے روند دو پتا تم جیسے انسانوں کے دلوں پر خدا مہر لگا دیتا ہے جنہیں اپنی” میں”کے علاوہ کیسی سے کوئی غرض نہیں ہر روز میری ذات کی تذلیل کرتے ہو اور بد قسمتی کی بات ہے تم اسی اعناپرستی کو اپنی طاقت سمجھ بیٹھتے ہو کاش تم میری جگہ ہوتے اور خود کو دہکھتے پھر تمھیں پتا چلتا کہ تم کس قدر گرے ہوئے انسان ہو

امل نے چلاتے ہوئے کہا ۔۔جیسے سکندر نے سنا اسنے امل کوبازو سے پکڑا اوراپنی طرف کھینچا میں اس سے بھی گرا ہوا انسان ہوں کیونکہ تم جیسی مکار لڑکیوں کے لیے گرنا پڑتا ہے تاکہ تم جیسی بدچلن لڑکیوں کو اپنی اوقات پتا چل سکے ایک بات یاد رکھنا میں سکندر مرتضی ہوں راحب نہیں جو تمھاری ہر بات کو مان لے میں تمھاری ہر غلطی پر تمھیں درد دوں گا ہر پہر درد دوں گا اسکی آنکھوں میں غصے کی وحشت چھائی تھی نکل جاو یہاں سے ورنہ مجھ سے برا نہیں ہو گا اسے کمرے سے باہر نکال دیا

دفع ہو جاو ۔یہاں سے اپنی شکل مت دیکھنا مجھے سکندر نے بے جان چیز کی طرح اسے باہر پھینک دیا

وہ لچار ہو گئ تھی اسکے ہاتھ بدنصیبی کے عالم میں بندھ چکے تھے وہ باہر اکیلے کونے مین بیٹھی خود کو کوس رہی تھی اپنی ہاتھ کی لکیروں مین کہی خوشی دیکھ رہی تھی لیکن اس بدنصیب کی قسمت اتنی اچھی کہا تھی ارمینہ نے جیسے امل کو دیکھا وہ جلدی سے اسکی جانب بڑھی

بیٹا تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔ارمینہ نے اجنبی بنتے ہوئے کہا

یہ سنتے ہی امل نے ارمینہ کی طرف دیکھا

میں تو یہاں ہر روز بیٹھی ہوتی ہوں ماما لگتا آپنظر انداز کر دیتی ہیں

ارمینہ نے شرمندگی کے مارے نظریں جھکا لی ۔

بیٹا ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو ۔

ماما جب انسان بے بس ہو جائے جب اسکو آگے اندھیرے کے علاوہ کچھ دکھائی نہ دے ۔۔تو وہ ایسی ہی باتیں کرتا ہے

بیٹا وہ تمھارا شوہر ہے ۔۔

یہی بات تو مجھے روک دیتی ہیں ماما یہی بات تو مجھے ہر روز مارتی ہے کہ میں ایسے سنگ دل انسان کی زندگی کا حصہ بن چکی ہوں جس کے نزدیک میرا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے ۔جو اپنے خوف سے مجھے میری اوقات یاد دلاتا ہے اسی بات کا تو دکھ ہے ۔۔کہ وہ اپنی دنیا میں اسقدر کھو چکا ہے کہ اسے انسانوں کے جذبات کی کوئی قدر نہیں ۔اسے اپنے علاوہ کیسی کے احساسات کا احساس نہیں کیونکہ جن لوگوں کے سینے میں دل ہوتا ہے وہ ہر گز ایسا نہیں کرتے اور خدا نے سکندر کو اس چیز سے محروم رکھا ہے

بیٹا تم اسکی بیوی ہو ۔

آپ کو لگتا ہے وہ مجھے بیوی مانتا ہے بتائیں مجھے ۔۔امل نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا

ارمینہ خاموش ہو گئ

پتا تھا مجھے آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا میں تو مجبوری کے عالم میں اسکے گلے باندھی گئ ایک بے جان سی چیز ہوں جیسے وہ انسان سمجھتا نہیں ہے وہ ہر روز میری ذات کی تذلیل کرتا ہے ماما ہر روز میرے کردار پر انگلی اتھاتا ہے

اور اسکی مردانگی کا عالم دیکھیں کوئی اسے کچھ نہیں کہتا ۔کیسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ اس سنگ دل شخص کے منہ پر تھپڑ مارے ۔۔اور آپ سب کچھ جانتے ہوئے بھی سب کچھ نظر انداز کرتی ہیں ۔لیکن میں نے بھی اسے اپنا مقدر مان لیا ہے

امل زور زور سے ۔۔اپنے دکھوں کا مداوا کر رہی تھی ۔۔اسکے درد میں اسقدر شدت تھی کہ ارمینہ نا چاہتے ہوئے بھی اسے تسلی نہیں دے سکتی تھی ۔۔وہ چپ سے وہاں سے چلی گئ

راحب۔۔۔۔۔۔۔کیوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔دیکھیں میں کیسے اکیلی ہو گئ ہوں ۔۔یا خدا کیا قصور ہے میرا ۔آج وہ ٹوٹ گئ تھی امل نور بکھر چکی تھی ۔۔اس شخص کو کوئی پروا نہیں تھی وہ اسے ہر روز درد دیتا ۔ہر روز اسے اس جرم کی سزہ دیتا جو اسنے کیا ہی نہیں ہے ۔

***************************

کتنی مکار نکلی وہ اپ سے شکایت لگائی میری وہ غصے سے اٹھا

بس کر دو سکندر کیوں اس بیچاری کو ہر روز درد دیتے ہو بیوی ہے وہ تمھاری

وہ میری بیوی نہیں ہے بی جان کتنی دفعہ بتا چکا ہوں میں وہ صرف حالات کے شکنجے کے گھیرے میں میرے ساتھ باندھ دی گئ ۔۔اور میں ایسی بد چلن کڑکی کو اپنی بیوی کبھی تسلیم نہیں کرتا

اگر بیوی نہیں ما تے تو درد کیوں دیتے ہو ۔اسے ۔۔اتنی اذیت کس جواز ۔۔سے اسے دیتے ہو

بی جان جو اسنے درد ہمیں دیا ہے بھائی کی موت کا درد ۔وہ اتنا درد لینے کی حق دار ہے

بیٹا اس میں امل کا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔

بی جان سارا قصور ہی اس کا ہے ۔۔جب سے وہ ہمارے گھر میں آئی ہے ہمارے گھر کو کھا گئ ہے ۔۔وہ ۔اور اپ لوگوں کو تو اپنے بس میں کر رکھا ہے اس نے ۔

بیٹا اب جو بھی ہے حقیقت یہی ہے کہ تمھاری بیوی ہے اور دھیان سے ۔یہ نہ ہو کہ آگے تمھیں اس نفرت سے محبت ہو جائے

جیسے بی جان نے کہا ۔۔وہ وہی دھک رہ گیا ۔

اسکے صبر کی انتہا دیکھو اتنا ظلم سہنے کے بعد بھی وہ تمھارا ہر کام کرتی ہے خدا کے لیے اس پر تھوڑا رحم کرو

بی جان نے کہا اور وہاں سے چلی گئ

بیٹا دھیان سے یہ نہ ہو تمھیں اس نفرت سے محبت ہو جائے

اسنے سانس لینے کی کوشش کی اور خود کو سنبھلا

**************************

سکندر ۔۔خدا کے لیے مجھے چھوڑ دیں ۔۔

میں نے کچھ نہیں کیا

وہ اسے گھسیٹا ہوا کمرے کے اندر لے کر جا رہا تھا ۔۔۔

کیا چاہتی ہو تم

بی جان سے میری شکایت لگاو گی

اسنے اسے زور سے نیچے زمین پر پھینکا ۔

ن۔۔نہیں ۔۔میں نے ماما کو کچھ نہیں کہا

اپنی زبان بند کرو ۔۔تمھیں پتا ہے ناں مجھے جھوٹ سے کتنی نفرت ہے ۔ بڑا ظلم کرتا ہوں تم پر ہاں بولو ۔

ن۔۔ن۔۔نہیں میں نے کچھ نہیں کیا

جیسے امل نےکہا سکندر نے ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر رسید کیا

ایک لفظ اور نہیں ۔۔

میں کس قدر تم پر ظلم کروں گا یہ تم سوچ بھی نہیں سکتی

اسنے اسکے منہ سے پکڑا تھا درد کی انتہا سے وہ کرہا رہی تھی

__________

چلاو جتنا چلانا ہے کوئی تمهیں بچانے نہیں آئے گا کوئی تمهاری اب بیتی نہیں سنے گا تم جیسی بد کردار لڑکیوں کے ساتھ اس سے بهی بدتر سلوک کیا جائے تو کم ہے اسنے امل کے چہرے کو اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لے لیا اور اسقدر زور سے دباو ڈالا کہ امل کی اس درد کی شدت سے چیخیں نکل گئں..

بڑا ظالم ہوں نہ میں ..بڑا ظلم کرتا ہوں تم پر بیچاری مظلوم بی جان سے اپنے گناہوں کی تلافی مانگنے گئ کہ کہی وہی سے کچھ خیرات مل جائے ..لیکن ایک بات یاد رکهنا تم ایک بد کردار گهر سے بهاگی ہوئی اور بذات لڑکی ہو جسکی میرے نزدیک تم لوگوں کی یہی عزت ہے تمهیں پتا ہے تم کس قدر گری ہوئی لڑکی ہو جسنے صرف پیسے کے لیے میرے بهائی سے شادی کی بولو ٹهیک کہہ رہا ہوں میں ..زور سے اسکا چہرہ پیچهے پٹهکا .بے جان چیزوں کی طرح .وہ جاکر .دیوار سے لگئ ..

ن…ن.نہیں ..سکندر .میں نے ماما کو کچھ نہیں کہا

بکواس بند کرو .تمهیں پتا ہے ناں مجهے جهوٹ سے کتنی نفرت ہے ..اسنے آگے ہو کر ..امل سے کہا سکندر کہ چہرے پر اسقدر غصہ تها کہ اسکی آنکهیں غصے سے وحشی ہو گئ ..امل ڈر کے خوف سے پہچهے ہٹی .اگر پهر تم نے جهوٹ بولا .تو اور درد دوں گا اتنا درد کے ..تم پناہ مانگو گی .بہت درد ہوتا ہے ناں ایسے ہی مجهے درد ہوا تها جب میرے بهائی کی لاش میرے بابا اپنے کندهوں پر اٹها کر لائے تهے صرف تمهاری وجہ سے میرے بهائی کی موت ہوئی تم نے ہی انہیں اپنے جهوٹے پیار کے جال میں پهسایا .اور وہ .آج ہمارے درمیان نہیں ہے اسکی وجہ صرف او صرف تم ہو ..اور اب بڑا رونا آتا ہے اپنے درد پر …تم نے ابهی میرا .ظلم دیکها کہا ہے ..بولو کیوں میرے بهائی کے ساتھ ایسا کیا

وہ بے جان ہو گئ تهی ….جس کی سانسیں تو چل رہی تهی مگر ..احساس جذبات .سب کچھ مر گیا تها ..

بولو .تمهارا پیار .بهی میرے بهائی کے لیے جهوٹا تها نہ .

ابکی بار اسنے بلند آواز سے کہا

بکواس بند کرو سکندر ..جیسے امل نے کہا .سکندر نے ایک اور زور دار تهپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا ..جیسے سکندر نے امل کو تهپڑ مارا وہ اٹھ کهڑی ہوئی اور اسکا گریبان پکڑ لیا

مارو ..مجهے سکندر ..مارو … مارتے کیوں نہیں ..مجهے

ختم کر دو .اس گندگی کو ..ہاں ..ہوں میں بدکردار گهر سے بهاگی ہوئی بدذات لڑکی .. مار دو ..مجهے ویسے بهی تو تم مجهے ہر روز میری ذات کو مارتے ہو تو اس سے بہتر نہیں امیں ایک دفعہ ہی مر جاوں کم از کم مجهے اس زہر کو برداشت نہ کرنا پڑے جو تم ہر روز مجهے پلاتے ہو ..مارو ..رک کیوں گئے امل نور تمهارے سامنے ہے تمهارے بهائی کی قاتل سامنے ہے سکندر مرتضی دکهاو اپنی مردانگی پهر ہاتھ اٹهاو تاکہ پتا تو چلے سکندر مرتضی جیسا انسان عورت پر ظلم ڈهانا .اپنی طاقت سمجهتا ہے .بڑا خود .کو .انسان سمجهتے ہو ..تو کبهی مرد پر ہاتھ اٹهانا ..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *