Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat Sy Muhabbat (Episode 13)

Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan

جیسے امل نے سکندر کو دیکها وہ اسکی طرف بڑهی ..لیکن وہ سب کچھ نظر انداز کیے اپنے کمرے کی جانب بڑها .

کم آن سکندر ..کولڈ کچھ نہیں ہوتا تم اس سے نفرت کرتے ہو بس نفرت کرتے مجهے اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے وہ کس کے ساتھ اٹهتی ہے کس سے باتیں کرتی ہیں

آ….آ…اس نے اتنی شدت سے میز پر پڑی چیزوں کو پهینکا کہ کانچ کے ٹکرے کمرے میں پهیل گئے

پهر ..یہ .اس ..کو کیا ہو رہا ہے ..نہیں سکندر تمهیں اس کے ساتھ محبت نہیں ہے یہ بس وقتی احساس ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں

وہ اپنے آپ کو یقین دلا رہا تها ..اسنے اپنا ہاتھ سینے پہ رکها ہوا تها سکندر مرتضی کو کبهی اس سے محبت نہئں ہو گی کبهی نہیں ..

میری دنیا مین ان سب چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہے .. وہ بار بار اس بات سے انکار کر رہا تها لیکن یہ محبت ہے صاحب کیسی سے پوچھ کے نہیں آتی ..اسکی دستک دل پر پوچهے بنا ہوتی ہے اور جب دستک دے دیتی ہے تو انسان کو اپنے بس میں کر لیتی ہے چاہیے وہ رنجا ہو بهلا ہو تو پهر یہ سکندر کیا چیز تها محبت کے سامنے ..محبت کے دستور ہی الگ ہوتے ہیں جس سے نفرت کرو اس سے محبت کروا دیتی محبت کے مجبور ..پهر چاہے جتنا بهی اس بات سے انکار کر لے لیکن .یہ ہو جاتی ہے ..کچھ سنے بغیر کیونکہ “محبت وہ آگ دریا ہے …جو ایک دفعہ لگ جائے تو بجانا مشکل ہو جاتا ہے اور یہی آگ اب سکندر کے دل کو اپنے گهیرے میں لے چکی تهی ..

کیا میں اندر آ سکتی ہوں ..جیسے امل نے کہا ..وہ پلٹا .اسکی آنکهیں سرخ ہو گئ تهی .

جیسے سکندر نے امل کو دیکها اسکے غصے میں خون خولا .کیا لینے آئی ہو .

وہ.. کهانا لگ گیا ہے

وہ …وہ..تمهارا کیا کہوں میں اسے تم خود ہی مجهے بتاو .

سکندر اسکی طرف بڑهه رہا تها

سکندر…پلہز آپ میری بات سنیں ایسا ویسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں

او …واہ .بڑی پاک پاکیزہ ہو تم ..جو ایسا ویسا کچھ نہیں اگر ایسا ویسا کچھ نہئں تها

تو اسکے اتنے نزدیک کیوں تهی ..کیوں بولو .جب میں نے کہا تها کہ اس کے سامنے نہیں جانا تو کس جواز سے تم اسکا کام کر رہی تهی

بولو .سکندر نے اپنے ہاتھ کی مدد سے .امل کے نازک کو اتنے زور سے اپنی گرفت میں لیا تها ک

وہ درد سے چلا اٹهی

انهوں نے مجهے کہا تها …سکندر .

ارے واہ انہوں نے …اب اس کو بهی پهسانے کا چکر ہے تمهارا میں …کیسے بهول گیا تم جیسی بدچلن لڑکیوں کا دامن پاک نہیں ہوتا .ارے جس لڑکی کو اپنے گهر والوں کی عزت کی پروا نہ ہو .اسکے لیے نئے یار بنانا کونسا مشکل ہے بس ..تمهارا اس گندے بنائے ہوئے جال میں میرا بهائی پهس گیا

لیکن میں بدلہ ضرور لوں گا

سکندر خدا کے لیے آپ کیوں ہمیشہ برا سوچتے ہیں میرے بارے میں

کیا جانتے ہو .تم میرے بارے میں ..بولو کیا جانتے ہو .یہی کہ میں ایک بدچلن بد کدار لڑکی ہوں اسکے علاوہ کچھ نہیں کچھ رحم کرو اپنی حالت پہ سکندر .اور سچائی کا سامنا کرنا سیکهو تمهیں کیا لگتا ہے تمهارے نزدیک ہر وہ لڑکی بدکردار ہے .جو میری طرح مجبور ہو ..بس کر دو ..سکندر بس کرو

تم مجه پر وہ الزام لگا رہے ہو جو آج تک میں نے کیا ہی نہیں .کاش تمهاری کوئی بہن ہوتی اگر اسکے ساتھ اسکے ساتھ یہ سب ہوتا نا ..تو تم دیوار پر زور زور سے سر پٹهکتے اور کیسے بهاگتے اپنی بہن کی حمایت کے لیے .اور مجه بدنصیب کا کوئی اس دنیا میں نہیں ہے جو .میری سچائی ثابت کر سکے .

بکواس بند کرو ..اور اپنی ان جهوٹی باتوں کو اپنے پاس رکهو ..

اسنے امل کو زور سے جهٹکا ..

کیسے وہ اسکو بے جان چیزوں کی طرح اس پر ظلم ڈهاتا . وہ کیوں اسکے ساتھ ایسا کر رہا تها امل کو خود نہیں معلوم تها

*********************

یہ محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی اس دنیا میں بس دنیا کا بنایا ہوا ایک فرضی احساس ہے

تم محبت کا مزاق بنا رہے ہو سکندر موہد نے ..طنزا کہا

میں محبت کا مذاق بنا رہا ہوں جو سچائی ہے وہی بتا رہا ہوں

رہنے دو جب تمهارے سنگ دل پر محبت پر دستک دے گی نہ تب دیکهنا کیا ہوتا …موہد نے صوفہ پر بیٹهتے ہوئے کہا

کیا ہوتا ہے میرے یار مجهے بهی بتاو …

تمهیں یہ باتئں مذاق لگ رہی ہین سکندر جب محبت ہوتی ہے تو جس کو آپ چاہتے ہو ..یا چاہنے لگت ہو اگر وہ کیسی اور کے ساتھ ہو ..تو یہاں

یہاں بڑی ہوتی ہے تکلیف موہد نے سکندر کے د پر ہاتھ رکها .

او….ا..اچها …سکندر کی آواز کانپی . کچھ نہیں ہوتی یہ محبت خاص کر سکندر مرتضی کے نزدیک تو اسکا کوئی وجود نہیں…وہ اسکے سامنے ..یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تها لیکن وہ اسکا دوست تها …سکندر کے دل میں چهپ بات کو جان لیتا تها …تو یہ بات اس سے کیسے چهپ سکتی تهی .

محبت ہو گئ اس سے …موہد نے جیسے کہا سکندر نے چونک کر اسکی طرف دیکها

کس سے ؟

تمهیں پتا ہے میں کس کی بات کر رہا ہوں

شٹ اپ موہد ..ایسا کچھ نہیں اور اس بار تم میری بات نہیں سمجھ سکے اچها چل باہر چلتے ہیں .سکندر اور موہد دونوں باہر کے جانب بڑھ گئے

************************

آپ رہنے دیں بی بی صاحبہ ..صاحب نے منع کیا ہے

تو یہ کوفی ..

امل باہر لان میں کهڑی تهی …

رہنے دیں میں لے جاتا ہوں انکو بہت غصہ آتا ہے جب کوئی انکے اس کام مین خلل پیدا کرتا ہے

اچها …

وہ سامنے چئیر پر ارمینہ کے قریب بیٹھ گئ ..اور سکندر کی جانب دیکهنے کے بعد وہ ارمینہ کی طرف متوجہ ہوئی

بابا کب آرہے ہیں واپس ..

اگلے ہفتے …ارمینہ نے نرم لہجے میں کہا

ماما یہ سکندر .بلیکے کپڑے کالی کوفی کالا ٹوسٹ .اور اب اور اور کالا گهوڑا بهی ..

جیسے امل نے کہا وہ پلٹی جیسے پیچهے اسنے سکندر کو دیکها

وہ وہی دهک رہ گئ

ا…و..وہ میں کالی ک..کافی لاتی ہوں ام نے کہا اور جلدی سے چلی گئ

ارمینہ نے بے اختیار قہقا لگایا

________

ہاہاہا ..صیح پکڑا ہے امل نے تم کو کالی کافی ارمینہ نے مزاحقکہ خیز لہجے میں کہا

بی جان اب آپ بهی اسنے اکهڑتے ہوئے کہا

بیٹا ایک بات بولو امل ایک بہت اچهی لڑکی ہے اور بہت اچهی بیوی بهی ہے بس تم نے جو اپنے ذہین میں اسکے لیے خیالات رکهے ہیں وہ مثبت کرو وہ ایسی بلکل بهی نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو .

آپ اسکی بڑی حمایت کر رہی ہیں ویسے بهی یہ کونسی نئی بات ہے سارا گهر امل نور کی تعریفوں کا پل باندهتا ہے سکندر کے لہجے میں جلن تهی

تو اگر تمهیں وہ اتنی بری لگتی ہے تو دوسری شادی کر لو جیسے ارمینہ نے کہا سکندر نے چونک کر انکی طرف دیکها اور جهٹ سے کہا

“مین شادی کیسے کر سکتا ہوں امل میری بیوی ہے “

ایک لمحے کے لیے خاموشی چها گئ .ارمینہ کے چہرے پر خوشی چها گئ اور سکندر کو خود نہین پتا تها کہ وہ کیسے یہ سب بول گیا

دیکها نہ ..مان گئے جو دل میں بات ہوتی ہے سکندر ایک نہ ایک دن زبان پر بهی آجاتی ہے .

نہیں نہیں بی جان ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ غلط وے میں سوچ رہی ہیں سکندر کے الفاظ خود اسکا ساتھ نہین دے رہے تهے .اسے کیا ہو رہا تها .دن با دن جس شخص سے وہ اتنی نفرت کرتا تها اسی سے محبت ..

اچها بی جان میں ابهی آتا ہوں سکندر نے کہا اور وہاں سے چل دیا

*****************************

کس کو ڈهونڈ رہے ہو زوہاب ..سکندر نے صوفہ پر بیٹهتے ہوئے کہا

وہ ..امل سے کام تها ..جیسے زوہاب نے کہا سکندر کو اس قدر غصہ ایا کہ اسکا دل کر رہا تها کہ وہ ابهی اسکا سر پهاڑ دے . یہ کیوں ہمیشہ امل کے پیچهے پیچهے رہتا ہے سکندر نے اپنے تاثرات کو چهپاتے ہوئے کہا

ت…..ت.تم ایسا کرو کیسی اور سروینٹ کو کہہ لو وہ تهوڑا بزی ہے .

کون بزی ہے .زوہاب نے تشویش کی

تمهاری بهابئ .سکندر کے الفاظ ہلک مین اٹک رہے تهے یہ جملہ آج سے پہلے کبهی سکندر نے تسلیم نہیں کیا تها ..

او اچها …زوہاب نے سمجهتے ہوئے کہا

اور ہاں وہ تمهاری بهابهی ہیں ..سمجهے سکندر مرتضی کی بیوی مطلب تمهارے دشمن کی بیوی بهی تمهاری دشمن ہوئی ..

وہ ایسے زوہاب کو کہہ رہا تها جیسے اسے سمجها رہا ہو ..اسے اس بات کا یقین دلا رہا ہو کہ وہ جو سوچ رہا ہے وہ بند کر دے

جیسے سکندر نے کہا ..زوہاب نے زور دار قہقا لگایا .

لین امل بهی آگئ

امل نے ہاتھ میں ..زوہاب کی وائٹ شرٹ پکڑی تهی ..سکندر نے جیسے اسے دیکها وہ دو قدم پیچهے ہٹا اسکی نگائیں صرف امل پر تهی

یہ لیں آپکی شرٹ .

تهینک یوں بهابی .زوہاب نے طنزا کیا

ویسے آپ پر وائیٹ کلر بہت سوٹ کرتا ہے امل نے جان بهوج کر کہا

او اچها بہت بہت شکریہ …

لیکن سکندر نے خود کو مصروف کرنا چاہا ..جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا ..

آپ ایسا کریں کل بهی وائیٹ شرٹ ہی پہنیے گا ..

جی ضرور زوہاب نے کہا اور وہاں سے چلا گیا

جیسے امل نے دوبارہ کہا سکندر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا .

خلیل میری وائٹ شرٹ پریس کرو .اسنے بلند آواز میں

سروینٹ کو کہا

امل نے من ہی من میں زور دار قہقا لگایا جب سروینٹ نے اسے آکر بتایا

“صاحب الماری میں تو سارے کپڑے کالے ہیں”

سکندر وہی خاموش ہو گیا

ہٹو .تمهیں پتا نہیں چلا ..وہ جلدی سے کمرے کی طرف بڑها

*************************

لائیے میں کر دیتی ہوں

امل نے سکندر کے ہاتھ سے بلیک شرٹ کو پکڑنا چاہا

مین اپنا کام خود کر لیتا ہوں ..میں زوہاب جیسا نہیں ہوں

اچها مجهے پتا ہے .لائیے میرا تو فرض ہے آپ کا کام کرنا .

اسنے نرم لہجے میں کہا

میں نے تمهیں کتنی دفع کہا ہے تم میرے کیسی کام کو ہاتھ نہیں لگاو گی

اسنے زور سے امل کو دکهیل کر اپنے نزدیک کیا .

بہت اچها لگتا ہے نہ تمهیں مجهے غصہ دلا کر بولو .

کتنی دفعہ کہا تها کہ.زوہاب کے سامنے نہیں جانا لیکن .نہیں

تم نے نیری بات کو ماننا مناسب نہیں سمجها تو پهر میرا کام کس فرض سے کر رہی ہو

سکندر ..وہ ماما نے کہا تها ..

بکواس بند کرو ..ہر کام کا الزام بی جان پر مت لگایا کرو

تمهارے …اس .ہاتھ کو چهوا تها ..اسنے ..اس ہاتھ کو ناں

سکندر نے .امل کا ہاتھ کو پکڑا

امل کی سانسیں تیز ہو گئ ..اسے بلکل بهی نہیں معلوم ہو رہا تها کہ سکندر کو اس بات پر بهی اتنا غصہ آسکتا ہے

تمهارے بال ..بهی

نہیں نہیں سکندر .یہ کیا کہہ رہیں ہیں آپ

ایک بات کان کهول کر سن لو ..تم میری بیوی ہو .صرف میری اور اگر وہ تمهیں ہاتھ لگائے تو جان سے مار دوں گا میں اسے

جیسے سکندر نے کہا امل ایک دم خاموش ہو گئ .

اتنے سال ..وہ اس جملے کو سننے کے لیے ترس گئ تهی کہ کب سکندر اسے اپنا تسلم کرے گا .

وہ چاہ کر بهی اس سے کبهی نفرت کر نہیں پائی تهی ..وہ چاہے جیسا بهی تها .جو بهی اسکے ساتھ کرتا لیکن اب وہ امل کی زندگی بن چکا تها جسکے بغیر امل جینا تصور نہیں کر سکتی تهی .

وہ…م..میرا مطلب ..کچھ اور ہے ..اسنے لڑکهڑاتے ہوئے کہا .

وہ وہی خاموش کهڑی تهی ..

میری شرٹ پریس کرو .سکندر نے اسے کہا اور باہر کی طرف بڑھ گیا

*****************!***************

مطلب سکندر صاحب کو محبت نے گهیر ہی لیا

نہیں …مجهے اس سے محبت نہیں .. سکندر نے خود کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا

کب تک خود کو جهوٹی تسلیاں دیتے رہو گے .کب تک .سکندر مان جاو .کہ تمهیں امل سے محبت ہو گئ ہے اور سکندر تمهیں

محبت سے نفرت نہئں ہوئی

تمهیں نفرت سے محبت ہوئی ہے اور یہ محبت سب محبتوں سے بڑهه کر ہوتی ہے اور یہی محبت تمهیں امل سے ہوئی ہے

سکندر موہد کو اس بار جواب نہ دے پایا

تمهارے اس دل کی دنیا میں ..امل کی حکومت اگئ ہے میرے یار .

اب مان جاو ..گهٹنے ٹیک دو اسکے سامنے بڑی ظالم ہے یہ

بس کر دو موہد .مجهے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تم کیا کہہ رہے ہو .

وہی کہہ رہا ہوں جو تمهارے دل میں چل رہا ہے

وہ میری نفرت ہے موہد .

وہی تمهاری محبت ہے ..سکندر مان جاو .کہ تمهارے اس سنگ دل میں وہ بس چکی ہے

ن….نہیں موہد .میں اسکے سامنے خود کو کمزور محسوس نہیں کروانا چاہتا سکندر نے غصے سے کہا

چلو دیکهتے ہین محبت بازی لیتی ہے یاں نفرت …

جیسے موہد نے کہا .سکندر فورا بولا

تماپنی فلاسفی اپنے پاس رکهو ..اور خود کی شادی پر دهیان دو اس بات دونوں نے زور سے قہقا لگایا

***************************

باہر بہت سردی ہے وہ اسے روکنا چاہتا تها پر اس کی زبان اسکی اعناءپرستی کے آگے خاموش ہو جاتی .

وہ خاموشی سے باہر چلی گئ ..

وہ ..نہیں بدلہ …میں نے ایسے سوچ لیا .امل نے اپنے دل کو سمجهای…

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *