Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 03)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 03)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
دل لگی کے معاملات رہنے دو ۔۔غالب یہ روگ جس تن کو لگتا ہے وہ برباد ہو کر رہتا ہے ۔۔محبت کچھ نہیں دیکھتی محبت صرف ہوتی ہے ۔۔۔دلوں کو قید کر لیتی ہے یہ وہ جذبہ ہے جو سر چڑھ بولتا ہے جو راتوں کی نیندیں تک اپنے ضبط میں کر لیتا ہے مگر ۔۔نہیں ۔۔کوئی ہے اس دنیا میں جو محبت سے انکار کرے ۔۔۔اگر وہ کرتا بھی ہے تو یہ ہو کر ہی رہتی ہے
مرتضی صاحب جتنی جلدی ہو ۔۔۔آپ راحب سے بات کریں مجھے پتا ہے وہ ایسے ہی ٹالتا رہے گا لیکن اب مجھ سے اور انتظار نہیں ہو گا ۔۔ارمینہ نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا
دیکھیں ۔۔۔آپ اس معاملے میں جلد بازی مت کریں وہ خود سمجھدار ہے اور بہتر جانتا ہے ۔۔اگر اسے کوئی لڑکی پسند ہے تو وہ ہمیں ضرور بتائے گا اپ فکر مت کریں ۔۔مرتضی صاحب بلکل بے فکر تھے ۔۔۔وہ چائے پی کر اٹھے
اچھا اب میں چلتا ہوں ۔۔آج میری میٹینگ ۔۔ہے اور گاوں والوں کے کچھ مسائل ہے جو حل کرنے ہیں وہ یہ کہتے ہوئے راہداری کی جانب بڑھ گئے ۔۔
ارمینہ نے مایوسی سے اپنی جگہ سے اٹھ گئ ۔
****************************
اسلام و علیکم جیسے امل داخل ہوئی بوس کے ساتھ کوئی اور بھی موجود ۔تھا ۔وہ وہی ایک دم سے رک گئ ۔
و علیکم اسلام آئیے مس امل ۔فرزند نے امل کو دیکھتے ہوئے کہا
امل آگے بڑھی ۔۔جی سر آپ نے بلایا ۔اسکی آواز مدھم ہو گئ تھی
ہاں میں نے کہنا تھا ۔کہ یہ مسڑ راحب مرتضی ہیں فرزند کے تعارف کروانے پر ۔امل نے راحب کی طرف دیکھا ۔۔۔
بلیک ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس تھا ۔۔۔
راحب نے مسکراتے ہوئے امل سے ہاتھ ملایا ۔
تو یہ آج کا یہ دن آپ کے ساتھ رہے گے اور دیکھیں گے ہماری فیکڑی کیسے کھانا بناتی ہے ۔وہ ایک دفعہ دیکھنا چاہتے ہیں اور میں نے انھیں بتا دیا ۔کہ جب وہ خود دیکھیں تو خود انھیں بھی پتا چل جائے گا ۔کہ ہماری فیکڑی کا فوڈ سب سے بیسٹ ہے ۔
امل مسکرانا چاہتی تھی مگر وہ مسکرا نہیں پا رہئ تھی ۔
تو ٹھیک ہے مسڑ راحب آئی ہوپ آپ کو اچھا لگے گا ۔۔۔
جی راحب نے ایک بار پھر فرزند سے ہاتھ ملایا اور وہ امل اکھٹے کمرے سے باہر نکل آئے
امل خاموشی سے چلتی جا رہی تھی ۔۔۔راحب بھی اسکے ہمراہ تھا
تو کھانا زیادہ تر یہاں عورتیں ہی بناتی ہیں ۔
جی ۔امل نے مختصر سا جواب دیا ۔
ویسے کتنی اور کمپنیز سے کنڑیکٹ ہے آپ کا ۔۔۔راحب نے گفتگو کا تسلسل برقرار رکھا ۔
انجیوز۔ہیں کچھ ہوسٹلز ۔۔کو بھی کھانا سپلائی کرتے ہیں اب امل راحب کو کچن کی طرف لے کر جا رہی تھی جہاں کھانا تیار ہو رہا تھا ۔
جیسے راحب داخل ہوا وہ حیران رہ گیا سب چیزیں اپنی اپنی جگہ تھی صاف کہی بھی کوئی گندگی کا نشان تک نہیں تھا
اب امل اسے کھانے کے بارے میں تفصیلا ۔بتانے لگی ۔وہ صرف امل کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔صرف اسے شاید اسکی باتوں کو بھی نہیں سن رہا تھا ۔وہ صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس سے نظریں نہیں ہٹا پاتا ۔۔۔
***************************
سب کھانا تیار ہو کر گاڑی میں رکھوایا جا چکا تھا ۔۔
راحب بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا امل بھی گاڑی میں بیٹھ گئ ۔
سڑک پر چڑتے ۔۔۔سامنے سے آتے ہوئے تیز رفتار ٹرک اچانک امل کی گاڑی سے ٹکرایا ۔گاڑی تیز رفتار سے سامنے درخت سے جا روکا ۔
جیسے راحب نے دیکھا وہ جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا ۔
امل ۔۔۔۔۔
امل۔۔۔۔۔۔وہ چیختا ہوا ۔۔۔آگے بڑا ۔۔۔اور جلدی سے کار کا دروازہ کھولا ۔
لیکن ۔خدا ۔کی فضل وہ اور خان بابا بلکل ٹھیک تھے بس انکو ۔ہلکی چوٹیں آئی تھی
امل کا ماتھا بری طرح زخمی ہوا تھا ۔۔۔۔اور ساتھ ہی بازو ہر بھی کچھ خراشیں آئی تھی ۔
امل تم ٹھیک ہو ۔راحب نے امل کو سہارہ دیتے ہوئے کہا ۔وہاں پر موجود ۔لوگوں نے ۔خان بابا کو بھی باہر نکالا ۔
لیکن ۔کھانا ۔سارا ضائع ہو چکا تھا ۔
جیسے امل نے دیکھا ۔۔۔۔وہ وہئ دھک کھڑی رہ گئ ۔۔۔
امل ۔۔۔تم ٹھیک ہو راحب نے ایک دفعہ پھر پوچھا ۔
ک۔۔۔۔۔کھانا ۔۔۔سب ۔برباد ہو گیا ۔۔۔سب برباد ہو گیا ۔۔اسکی آواز اٹکنے لگی تھی
سنبھالو ۔۔خود کو امل ۔۔۔کچھ نہیں ہوتا اس میں تمھاری کوئی غلطی نہیں ہے جو ہونا تھا وہ ہو گیا
کیسے ہو گیا ۔۔۔۔۔کیوں ہوا ۔۔میں ۔۔۔میں کیا کہوں گی سب کو ۔
سب لوگ انتظار کر رہے ہوں گے ۔۔اسکی سسکیوں کی آواز ۔راحب سن رہا تھا
امل۔۔۔۔۔امل۔۔۔ادھر دیکھو میری طرف راحب نے امل کو بازوں سے پکڑ اپنی طرف کیا ۔
جسکا چہرہ آنسوں سے بھیگ چکا تھا
پریشان مت ہو ۔۔کچھ نہیں ہوا میں ہوں نہ تمھارے ساتھ ۔۔کوئی کچھ نہیں کہے گا تمھیں
آج پہلی ۔بار ۔۔۔پہلی بار امل کو احساس ہوا تھا ۔کہ کوئی تو ہے جو پریشانی میں درد میں اپنے ہونے کا یقین دلا رہا تھا
نہیں ۔۔۔راحب ۔۔۔اب کچھ نہیں ہو گا ۔
کیسے نہیں ہوں گے دیکھو سارے بکسسز ضائع نہیں ہوئے ۔۔۔
ایسا کرو خان بابا کو کہو جتنے کھانے کے بکسسز ابھی بیچے ہیں وہ دے ائے جو رہ گئے ہیں
وہ ہم ریسٹورنٹ سے کھانا ریڈی کروا لیتے ہیں
بس پلیز تم رو مت ۔۔۔۔ تمھیں پتا ہے میں تمھیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا
******************************
وہ دونوں ریسٹورنٹ میں موجود تھے تقریبا 40 کے قریب بکسسز ضائع ہو چکے تھے
راحب نے ریسٹورنٹ کی ساری بکینگ کروالی تھی
سر آپ فکر مت کریں بس دو گھنٹے کے اندر سارا کھانا تیار ہو جائے گا
ریسٹورنٹ کے مینجر نے راحب سے کہا ۔
یہ لو ۔راحب نے ٹشو کا پیک امل کے آگے کرتے ہوئے کہا
تھینک یوں ۔ امل نے ٹشو لیے اور اپنے انکھون کو صاف کیا جو آنسوؤں سے بھیگ چکی تھی
کچھ نہیں ہوا امل تم پلیز ایسے نہ رو ۔
راحب نے تسلی دی
تو اور کیا کروں آپکو پتا ہے کتنی محنت سے ہم کھانا تیار کرتے ہیں میں کیا بتاوں گی بوس کو ۔
کچھ نہیں بتاو گی راحب نے تسلی دیتے ہوئے کہا
کیا مطلب ؟
مطلب وہی کھانا ہم بنوا رہے ہیں پھر تم کیوں پریشان ہو رہی ہو امل میں یہ نہیں کہتا کہ تم پرئشان نہ ہو لیکن یہ لائف ہے امتحان سے بھری پری ہے ۔ انسان تب مایوس اور بے بس ہوتا ہے جب وہ امید چھوڑ دیتا ہے امید تب چھوٹتی ہے جب اسکا یقین اللہ سے کمزور ہو جاتا اور جہاں تک میرا خیال ہے امل ایسی نہیں ہے
یہ سنتے ہی امل نے بے اختیار راحب کی طرف دیکھا
_________
یہ لیجیے سر آپ نے جو آڈر دیا تھا وہ تیار ہے آپ پے منٹ کروا دیں ریسٹورنٹ کے مینجر نے راحب کو بتایا
تھینک یوں سو مچ سر جی ضرور آپ بل لادیں راحب نے چئیر سے اٹھتے ہوئے کہا
اوکے سر آپ ویٹ کریں میں آتا ہوں مینجر نے کہا اور ریسپشن کی طرف بڑھ گیا
شکریہ راحب آپ ایسا کریں وہ بکسسز لیں میں تب تک پے منٹ کروا کر آتی ہوں امل نے جیسے کہا راحب نے فورا بات کاٹی ایک منٹ میڈم کیا کہا ؟
پے منٹ کیوں کیا ہوا ؟ امل نے حیرت سے پوچھا
ہوا تو کچھ نہیں ہے لیکن آپ گاڑی میں بیٹھے میں ۔
میں ساری پے منٹ کرواکرآتا ہوں راھب نے نرم لہجے میں کہا
نہیں ۔۔نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے آگے آپ نے میری اتنی مدد کی ہے ویسے بھی نقصان میرا ہوا ہے اسکی بھرپائی بھی میں ہی کروں گی امل نے شایستگی سے جواب دیا ۔
نہیں ۔۔نہیں ۔۔میڈم اچھا ریسٹورنٹ میں آتے سب سے پہلے آڈر کس نے دیا راحب نے مسکراتے ہوئے کہا
آپ نے امل نے الجھتے ہوئے کہا
ہاں تو دن جو آڈر دیتا ہے وہی پےمنٹ کرتا ہے ۔۔۔۔راحب نے ریسپشن پر کھڑے ہوتے کہا
پر ابھی امل کچھ بولتی کہ راحب نے اپنا کرڈیٹ کارڈ مینجر کے ہاتھ میں تھما دیا ۔
یہ لیجیے سر ۔
تھینک یوں سر ۔۔مینجر نے کارڈ سویپ کرنے کے بعد راحب کو پکڑاتے ہوئے کہا
**************************************
آج آپ کو میری وجہ سے بہت تکلیف اٹھانی پڑی اسکے لیے میں بہت شرمندہ ہوں ۔
امل نے راحب کو کہا جو گاڑی چلانے میں مصروف تھا
پلیز امل مجھے بار بار کہہ کر شرمندہ مت کریں میں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا اگر آپکی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو تب بھی میں یہی کرتا
تھینک یوں ۔۔۔امل نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا ۔
آپ پچھلے ایک گھنٹے سے مجھے کئ دفعہ کہہ چکی ہیں راحب نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا آپ کاونٹ کر رہے تھے ۔۔
نہین ایسی کوئی بات نہیں ۔۔ایک بات کہوں راحب نے گاڑی کو ٹرن کرتے ہوئے کہا
جی کہیے امل راحب کی طرف متوجہ ہوئی
آپ مسکراتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہیں ایسے ہی مسکراتے رہا کریں کیونکہ زندگی مختصر سی ہے کیا پتا پھر مسکرانے کا موقع ملے یا نہ ملے ۔
جیسے راحب نے کہا امل مسکراتے ہوئے بولی
اچھا اس سے پہلے کتنی لڑکیوں کو کہہ چکیں ہیں ۔۔۔امل کے اس سوال پر راحب نے
گاڑی روکی اپنی انگلیوں کے پوروں پر گنتے ہوئے کہا
صرف ایک ہی لڑکی کو جو میرے سامنے بیٹھی ہے راحب کی اس بات پر امل نے زور دار قہقا لگایا
جی بس یہاں گاڑی روک دیں ۔امل نے کہا راحب نے گاڑی روک دی ۔
گڈ نائٹ وہ یہ کہتے ہوئے نکلنے لگی تھی کہ ایک بار پھر وہ رک گئ
پلیز اپنا خیال رکھیں اور گھر جاتے ہی ہی بینڈج دوبارہ کر لیجیے گا ۔
راحب کی بات پر وہ ایک منٹ کے لیے بے ساختہ راحب کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے گاڑی سے نکل گئ
اسلام و علیکم جیسے امل اندر داخل ہوئی سامنے عالیہ اجمل صاحب ۔۔۔ارحم بیٹھے تھے جیسے ان سب نے امل کو دیکھا وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے
آگئ ماہ رانی مجھے تو لگتا تھا ساری رات گزار کر آو گی جیسے عالیہ نے طنزا کیا ارحم فورا بولا
امی ایک منٹ آپ چپ کر جائیں ۔۔امل کو بولنے تو دیں ارحم نے آگے ہوتے ہوئے کہا
ہاں ہاں ماں کو ہی چپ کروا اسکو تو کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا اپنی من مانی کرتی ہے عالیہ بڑبڑاتے ہوئے اند چلی گئ
یہ چوٹئیں کیسی آئی بیٹا اجمل صاحب نے امل کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
وہ ۔۔چاچا جان ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا ایسے امل نے سارا واقعہ بتایا
آپ ٹھیک ہے نہ ارحم نے پریشانی سے کہا
ہاں ارحم میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔
اچھا بیٹا اب تم کمرے میں ریسٹ کرو ۔جیسے اجمل صاحب نے کہا امل اپنے کمرے کی طرف چلی گئ
*********************************
آپ آج کام پر نہیں جائیں گی شانزے نے امل کو کہا
نہیں شانزے میں گھر پر رہ کر کیا کروں گی ۔۔۔ویسے بھی اب میں ٹھیک ہوں چلی جاتی ہوں
نہیں امل تم ٹھیک نہیں ہو میں نے تمھارے بوس سے بات کر لی ہے انھیں کوئی پروبلم نہیں ہےشانزے نے روکتے ہوئے کہا
شانزے ضد مت کرو ۔۔۔پیچھے ہٹو جانے دو امل جیسے اگے بڑھنے لگی سامنے ارحم کھڑا تھا
کہاں جا رہی ہیں
کہی بھی نہیں راستہ دو ۔۔۔
نہیں دوں گا ۔۔۔
ارحم شانزے ضد مت کرو ۔۔۔۔جانے دو مجھے
ابا ۔۔۔ادھر آئیے زرا شانزے نے بلند آواز میں کہنے لگی تھی کہ امل نے جلدی سے شانزے کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
اچھا اچھا نہیں جاتی چاچا جان کو مت بلاو ۔
یہ ہوئی نہ بات ۔۔۔۔ارحم نے ہنستے ہوئے کہا اسے مجبورا اپنے کمرے میں واپس جانا پڑا
وہ اپنے کمرے میں لیٹی تھی کہ اچانک اسکے فون کی گھنٹی بجی امل نے جیسے فون سکرین پر کوئی اور نمنر دیکھا
وہ پہلے کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر فون اٹھالیا
اسلام و علیکم کون؟ امل نے جلدی سے کہا
و علیکم اسلام کیسی ہیں آپ جیسے راحب نے کہا امل ایک منٹ کے لیے دھک رہ گئ
اپکو میرا نمبر کہاں سے ملا امل نے چونکتے ہوئے کہا
ہاہاہا مجھے پتا تھا آپ مجھ سے یہی پوچھے گی آپکے بوس سے لیا تھا نمبر کیوں آپ کو برا لگا کیا
نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے جی میں بلکل ٹھیک ہوں
چلیں یہ تو ٹھیک ہو گیا راحب منتظر تھا کہ امل کچھ کہے
لگتا آپ مصروف ہیں میں بعد میں بات کرتا ہوں
راحب نے کہا اور فون بند کردیا
امل کو برا محسوس ہوا کیوں وہ خود سمجھ نہیں پائی
وہ بات کرنا چاہ رہے تھے اور میں نے کیا کیا ۔۔۔۔امل کو اپنی اس ھرکت پر بے حد شرمندگی ہوئی
***********************************
دن گزرتے رہے اب امل ہر روز راحب کی کال کا انتظار کرنے لگی تھی اگر کیسی دن وہ کال نہ بھی کرتا تو وہ ناراض ہو جاتی ۔۔
امل خود نہیں جانتی تھی کہ اسکے ساتھ یہ سب کیسے ہو رہا تھا وہ شخص ناچاہتے ہوئے بھی امل کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا تھا شاید یہ راحب کی اپنائیت تھی جسکی طرف امل کھینچی چلی جاتی تھی…
جاری ہے
