Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 05)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 05)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
ہاں تم کیسے مانو گی ۔۔۔بی بی جتنی چادر ہے ناں اتنے پاوں پیھلاو ۔۔بڑے گھر کا ہے وہ جہاں تمھاری اوقات نوکر جتنی بھی نہیں ۔۔اچھا ہوا ارحم پیچھے ہٹ گیا ورنہ تم جیسی آوارہ لڑکی کو کون قبول کرے ۔۔
آج شانزے بھی چپ تھی وہ بھی کچھ نہیں کہہ رہی تھی
اپم اپنے کمرے میں مایوسی سے بیٹھی اندر ہی اندر خود کو کوس رہی تھی ۔۔۔
وہ چلا رہی تھی خود پر اپنی قسمت پر ۔۔اسکی زندگی میں شاید کبھی خوشیاں نہیں آسکتی تھی
راحب بار بار اسے کال کر رہا تھا
مگر وہ بے جان گھٹنوں میں منہ دھنسے بس رو رہی تھی اور کیا کرتی چاچی جان کبھی بھی اسکی کیسی ایسی جگہ شادی نہیں کرتی جہاں اسے عزت ملے وہ ہمیشہ اسے اسکی ذات کی تزلیل کرتی اور آج تو انہوں نے حد کر دی
دیکھ لیا ۔۔۔اس کے لچھن میں تو اپ سے پہلے ہی کہتی تھی یہ لڑکی ہمارا ایک دن منہ کالا کروائے گی اور دیکھا آج اپنے عاشق کو گھر بلا لیا
عالیہ غصے سے اجمل صاحب کو کہہ رہی تھی
_______
دیکھو عالیہ تم کیا چاہتی ہو وہ لڑکا کونسا غیر ضروری طریقے سے آیا تھا جیسے رشتا لے کر آتے ہیں حسب معمول ویسا ہی تھا
ہاں ۔۔۔ہاں مجھے تو پہلے ہی پتا تھا اسی بدذات کی ہی طرف داری کریں گے کبھی بھی اپنی بیٹا کا نہ سوچنا یہ نہیں سوچنا جو رشتہ امل کے لیے آیا ہے وہ اپنی بیٹی کے لیے سوچ لے لیکن نہیں آپ کو کہاں اپنے سگی اولاد سے پیار آپکے لیے تو بس وہی چریل معنی رکھتی ہے
“تو کیا چاہتی ہو تم ” اجمل صاحب نے اکتاتے ہوئے کہا ۔
تھوڑی دیر وہ خاموش رہی پھر بولی ۔۔۔۔اجمل صاحب میں سوچ رہی تھی کیوں نہ وہ رشتہ اپنی شانزے کے لیے مانگ لے ویسے بھی لڑکا دیکھنے میں اچھا کھاتے پیتے گھرانے سے لگ رہا تھا اور شکل و صورت سے بھی پیارا ہے
کیا کہتے ہیں ؟
تو۔۔۔۔امل کا کیا ۔۔ اجمل صاحب نے پھر سوال کیا
ارے اسکا کیا ہے کوئی بھی رشتہ دیکھ کر کردیں گے میں نے بھائی صاحب سے بات کی ہے انہوں نے بتایا ہے کہ انکی نظر میں رشتہ ہے آدمی پہلے شادی شادہ ہے میں نے کہہ دیا ہے ٹھیک ہے آپ دیکھیں ۔۔۔
وہ پیچھے کھڑی تھی امل سب کچھ سن چکی تھی اسکے پاوں تلے ایسے جیسے کیسی نے زمین کھینچ لی ہو ۔۔۔وہ خود کو سہارہ دے رہی تھی مگر دکھوں اور درد کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ اس سے چلا نہیں جا رہا تھا ۔۔۔چاچا جان جس سے وہ کچھ اچھا کی توقع رکھتی تھی آج وہ بھی میری زندگی کا سودا لگا رہے تھے ۔۔۔کیا یتیم ہونا اتنا گناہ ہے ؟ کہ پرائے کیا اپنے ہی درد دینا شروع ہو جاتے ہیں ۔۔۔آج امل خود کو مارنا چاہتی تھی اسنے اپنی آواز کو دبا لیا تھا درد کو اندر ہی دل کی دیواروں میں قید کر لیا جو زور زور سے اندر ہی اندر چلا رہے تھے ۔
وہ جیسے تیسے کر کے بیڈ پر بیٹھ ۔گئ ۔۔۔سامنے پڑا فون مسلسل پچھلے گھنٹے سے بج رہا تھا ۔۔۔اسنے فون کی طرف دیکھا جس پر راحب کا نمبر شو ہو رہا تھا امل نے فون کی جانب ہاتھ بڑھایا اور فون اٹھا لیا
تمھیں پتا ہے میں پچھلے گھنٹے سے تمھیں مسلسل کالز کر رہا ہوں لیکن تم میرا فون تک نہیں اٹھا رہی اسکی وجہ جان سکتا ہوں میں
امل آگے سے چپ تھی ۔۔۔۔
امل۔۔۔راحب نے ایک دفعہ پھر اسے بھلایا ۔۔۔
امل میری بات تو سنو ۔۔۔
بس کردو راحب بس کر دو ۔۔میں تھک چکی ہوں ۔۔پلہز مجھے اور درد مت دو مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں جھوٹے طعنے برداشت کر سکوں ۔۔
امل مجھے پتا ہے لیکن تم فکر نہ کرو ۔ میں پھر آوں گا
امل نے راحب کی بات کاٹی
نہیں ۔۔اب نہیں کبھی بھی نہیں تم میرے گھر کا رخ کرو گے سن لیا تم نے ۔مجھے اکیلا چھوڑ مجھے نہیں چاہیے تمھاری کوئی حمایت ۔میں جیسی ہوں ویسی ہی رہنے دو
ابھی تم غصے میں ہو میں بعد میں بات کرتا ہوں ۔۔۔۔
راحب نے شائستگی سے کہا
نہیں ۔میں ٹھیک ہوں اور جو بھی کہہ رہی ہوں وہ ہوش و حواس میں کہہ رہی ہو تم مجھے چھوڑ دو راحب میں تمھاری کبھی نہیں ہو سکتی
لیکن میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا راحب نے بڑے نرم لہجے میں کہا
تم مان کیوں نہیں جاتے لڑکوں کے لیے یہ کونسا مشکل ہے
آئیندہ کبھی نہ کہنا امل اور رہی بات میری میں صرف تم سے پیار کرتا ہوں اور تمھیں ہی اپنی زندگی میں داخل کروں گا ۔
ٹھیک پھر میری محبت کے لیے ایک بات مانو
نہیں مانو گا اگر تم نے یہ کہہ دیا کہ مجھے چھوڑ دو تو ہرگز نہیں ۔۔۔
راحب ۔۔۔۔امل نے چڑتے ہوئے کہا ۔
آہ۔۔۔۔۔۔ آہ جیسے امل نے راحب کی آواز سنی وہ فورا بولی کیا ہوا
راحب تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔راحب
جب تک تم روتی رہو گی تو مجھے کہاں سکون ملے گا بہت درد ہو رہی ہے ظالم ۔۔۔۔اب بس کر جاو ورنہ میں آجاوں گا اور سب کئ سامنے تمھیں اٹھا کر لے جاوں گا ۔
تمھیں یہ مذاق لگ رہا ہے امل نے سنجیدگی سے کہا ۔
نہیں ۔تو اسلیے تو کہہ رہا ہوں
کیا؟ امل چونکتے ہوئے بولی
کل ملو تب بتاوں گا راحب نے کہا اور فون بندکر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن گزرتے رہے ۔۔۔امل ابھی تک راحب سے نہیں ملی وہ اسے نہیں ملنے گئ تھی وجہ چاچی جان تھی راحب نے بھی اسے کچھ دیر تک اکیلا چھوڑا تاکہ وہ خود کو اچھی طرح سمجھ سکے
چاچی جان اسے ہر روز کوستی تھی ۔آج وہ اپنے کام پر جا رہی تھی کہ
پیچھے سے کیسی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا وہ جلدی سے پہچھے مڑی وہ راحب تھا
تم؟ اسکے منہ سے بے اختیار نکلا
مجھے پتا تھا تم مجھے ملو گی نہیں اسلیے یہاں آیا چلو بیٹھو گاڑی میں
نہیں ۔میں بزی ہوں
امل میں نے تم سے بات کرنی ہے
لیکن میں نے نہیں کرنی
جیسے امل نے کہا راحب نے اسکے بازو سے پکڑ کر اسے گاڑی کے قریب لے گیا
بیٹھو ورنہ سب کے سامنے اٹھا کے بیٹھاوں گا
زبردستی کر رہے ہو
اسنے امل کو نزدیک کیا مجھے دیر نہیں لگے گی تمھیں اٹھانے مین
اچھا اچھا ۔مجھے ہاتھ مت لگاو خود ہی بیٹھ جاتی ہوں
______
بتاو ۔کیا کہنا ہے تمھیں امل نے غصے سے کہا ۔
پہلے کچھ کھا تو لو ۔۔۔پھر بتاتا ہوں ۔
راھب میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے ۔۔جو تم ایسے سکون سے باتیں کر رہے ہو ۔بتاو کیا کہنا ہے ۔امل کا وہی لہجا تھا
امل میں نے فیصلہ کر لیا ہے ۔
راحب کہتے کہتے رک گیا ۔
امل کی سانسیں تھم گئ اسے لگا کہ راحب نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا اسکی آنکھوں میں آنسو آنے لگے تھے مگ اس نے اپنے آنسوں پر قابو پا لیا
میں نے تو تمھیں پہلے ہی کہا تھا راحب ۔۔کہ تم اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاو تمھیں مجھ سے زیادہ اور بہتر لڑکی ملے گی
امل بولتی جا رہی تھی اسکے لہجے میں صاف جلن تھی راحب اسے دیکھ کر مسلسل مسکرا رہا تھا
ہاں تم صیح کہتی تھی امل
نام کیا ہے اسکا کہاں ملی امل نے جلدی سے پوچھا
وہ مجھے پہلی دفعہ میری گاڑی کے سامنے کھڑی ملی تجی جب وہ غصے سے میرے ڈرائیور سے جھگڑا کر رہی تھی ۔اور میں اسے دیکھتے ہی اسپر فدا ہو گیا جیسے اور اسکا نام امل نور ہے راحب نے کہا
امل چونک گئ ۔۔۔
راحب یہ مذاق تھا ۔
بلکل بھی نہیں ۔۔۔امل
کیا کرو گے یہ صرف خوائش ہے کبھی اسکی تعبیر نہیں ہو گی
امل میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں تمھیں اپنے ساتھ لے جاوں گا اور ہم دونوں اکھٹی کورٹ میرج کریں گے
امل بلکل ہکا بھکا رہ گئ
یہ کیا کہہ رہو ۔راحب تمھیں پتا بھی ہے تم نے کیا کہا ہے ۔۔پاگل ہو گئے ہو کیا
ہاں ہو گیا ہوں پاگل تمھیں پانے کی چاہ میں ۔۔۔
نہیں یہ ٹھیک نہیں ہے میں ایسا نہیں کر سکتی چاچی جان مجھے مار دیں گی
وہ تو ویسے ہی تمھیں ہر روز مارتی ہیں تمھاری عزت نفس پر انگلیاں اٹھاتی ہیں امل تمھاری چاچی کبھی تمھارا ہاتھ میرے ہاتھ میں نہیں دیں گی
تم صرف ہاں کرو امل میں تمھارا ہر موڑپر ساتھ دوں گا ۔
میں تمھیں کھونا نہیں چاہتا امل پلہز مان جاو اسکے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے
تمھارے بابا ماما کا کیا راحب
تم اسکی فکر مت کرو امل ۔۔۔ماما بابا مان جائیں گے جب تک تم جیسی اچھی لڑکی انکی بہو بنے گی ۔
یہ نہیں ہو سکتا۔راحب
ناممکن بھی نہیں
نہیں راحب مجھے ڈر لگتا ہے میں نہیں کر سکتی یہ
امل پلہز میری بات سمجھو تم خود ہی سوچو کبھی تمھارے گھر والوں نے تمھارا بھلا چاہ نہیں ۔ہمیشہ تمھاری چاچی جان تمھیں نیچا دیکھاتی رہی اور صرف تمھیں انہوں نے پیسوں کی مشین سمجھا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے وہ ہمیشہ آگے بھی تمھیں ایسے ہی استعمال کرتی آئیں گی وہاں تمھاری کوئی پروا نہیں کرتا ۔۔۔
راحب کہتے کہتے رک گیا
پر راحب ۔۔۔۔۔۔۔وہ تھک گئ تھی ۔۔۔
امل میں تمھیں لینے آوں گا پرسوں ۔سب تیاری ہے
نہیں ۔
راحب ۔۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے امل نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
راحب نے امل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
تم مجھ سے پیار کرتی ہو نہ ۔امل کی نظریں جھکی ہوئی تھی اسنے بے اختیار سر ہلایا
تو پھر مجھ پر یقین رکھو راحب امل کو کبھی دھوکا نہیں دے سکتا ۔
وہ کیا کرتی وہ اس شخص کی محبت کے آگے ہار گئ تھی اسکی محبت نے راحب کی محبت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ۔۔۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی نہ نہیں کر سکی ۔مگر وہ ہار گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر گاڑی میں اسکا انتظار کر رہا تھا ۔
امل نے خود کو مضوط کیا ۔۔۔وہ بار بار کود کو حوصلہ دے رہی تھی ۔
لیکن زندگی نے اسے ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کر دیا وہ بے بس ہو گئ تھی مگر اسے جانا تھا اپنی زندگی کو ایک نئے طریقے سے شروع کرنا تھا ۔
___________
نہیں مرتضی صاحب میں ہر گز نہیں جاو گی ارمینہ نے غصے سے اٹهتے ہوئے کہا
میں خود مجبور ہوں ارمینہ بڑا بیٹا ہے وہ اگر وہ خود اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے مرتضی نے نرم لہجے میں کہا
میں یہ نہیں کہتی وہ اپنی پسند کی شادی کیوں کر رہا ہے لیکن وہ ایسے کورٹ میرج کیوں کر رہا ہے اتنا بڑے بزنس مین کا بیٹا ہے وہ دهوم دهام سے شادی کرتے اور ویسے بهی میں یہی چاہتی تهی مرتضی صاحب
ہاں میں سمجھ سکتا ہوں مگر وہ کہہ رہا ہے کہ شاید لڑکی کے چاچا چاچی بہت سخت ہیں اس رشتے کے خلاف اسلیے وہ جلد سے جلد کورٹ میرج کرنا چاہتے ہیں بعد میں وہ کہہ رہا تها چاہے فیملی گیدرینگ کر کے ریسپشن کر لیں گے .ارمینہ ہمیں اپنے بیٹے کی خوشی سے بڑهه کر کوئی چیز عزیز نہیں ہے اور مجهے اس پر پورا یقین ہے اس نے جو لڑکی اپنے لیے انتخاب کی ہو گی وہ بہت اچهی ہو گی کیونکہ وہ راحب مرتضی ہے میرا بیٹا ہے وہ ..مرتضی نے فخر والے انداز میں کہا
چلیں اب لیٹ ہو جائیں گے ..مرتضی اور ارمینہ گاڑی کی طرف بڑهه گئے
******************************
وہ چپ بیٹهی تهی اپنے آنسوں کو چهپائے اسکے معصوم سے چہرے پر ڈر کی لہر چهائی ہوئی تهی وہ چهوڑ آئی تجی اس گهر کو جہاں پر وہ اتنے سال رہ رہی تهی وہ یہ نہیں کرنا چاہتی تهی …اسے مجبور کر دیا تها زندگی نے ..وہ کیا کرتی ایک طرف محبت تهی اور دوسری طرف زرف تزلیل جو عالیہ روزانہ اسکی کرتی تهی …
راحب وکیل کے ساتھ تها …وہ سہمی تهی آج وہ راحب مرتضی کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرنے والی تهی اس نے اپنا سب کچھ راحب پر چهوڑ دیا تها اسکے بھروسے اسے یقین تها اپنے سے بهی زیادہ یقین تها راحب کے اوپر
راحب اسکے نزدیک آیا
وہ بے اختیار کهڑی ہو گئ ..راحب مجهے بہت ڈر لگ رہا ہے ..
جیسے امل نے کہا راحب نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے چہرے پر رکهے .گهبراو مت میں تمهارے ساتھ ہوں ..اور دیکهو بابا اور ماما بهی آرہے ہیں
کیا؟ امل نے بے اختیار کہا
گهبراو مت وہ خوش ہیں بہت کیونکہ انهیں یقین ہے مجھ پر اور مجهے یقین ہے وہ تمهیں ایکسپٹ کریں گے
راحب چاچی .
پلیز .چپ کر جاو …وہ ماضی تها بول جاو .اسے . راحب نےب امل کا ہاتھ پکڑا اور اسے باہر لے کر آیا جیسے وہ باہر گئ
وہ ایک دم چونک گئ …سامنے مرتضی صاحب اور ارمینہ بیگم تهے
اسنے راحب کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا وہ مسکرایا .
ارمینہ اور مرتضی اگے بڑهے اور بے اختیار امل کو اپنے گلے سے لگایا اور سر پر پیار دیا …..
میں اس وقت جو محسوس کر رہی تهی شاید اس سے 18 سال پہلے نہیں کیا تها وہ ترس گئ تهی اس چیز کے لیے کہ کوئی اسے اپنا سمجھ کر گے لگائے کوئی اسے باپ کی طرح سر پر پیار دے …اور آج مرتضی صاحب سے امل کو وہ پیار ملا تها .
ماما بابا آپ امل سے ملیں میں ابهی اتا ہوں ..راحب یہ کہتے ہوئے چلا گیا .
وہ چپ کهڑی تهی اس میں حوصلہ نہیں تها …کہ وہ کچھ کہے
بیٹا .امل گهبراو مت ..ہمیں معلوم ہے ہم تمهارے سگے ماں باپ تو نہیں ہے مگر ہم دونوں آپ سے وعدہ کرتے ہیں ہم اپ کو اپنی بیٹی کی طرح ہی رکهیں گے ..گهبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
یہ سنتے ہی .امل کی انکهوں میں بے اختیار آنسو آگئے
انکل آنٹی میں آپ دونوں سے معزرت کرتی ہوں میں خود نہیں چاہتی تهی کہ اسطرح کورٹ میرج ہو مگر راحب اپنی ضد پر قائم تهے …میں نے تو انهیں کہہ دیا تها ..کہ انکا سٹینڈرڈ بہت زیادہ ہے مجھ سے پر وہ معنے نہیں …اور اپنی ضد ہر قائم رہے میں آپ لوگوں کو پہلے بتا دینا چاہتی ہوں
آنٹی میں اپنے چاچا کے ساتھ رہتی ہوں والدیں کی بچپن سے ہی وفات ہو گئ ..ایک ایکسیڈینٹ میں …ابهی امل کہہ رہی تهی ارمینہ نے اسکی بات کاٹی
بیٹا ہمیں راحب نے سب کچھ بتا دیا ہے ..اور ہمیں سٹینڈرڈ سے کوئی فرق نہیں پڑتا …اور جہاں تک راحب کی پسند کا خیال ہے تو ہم دونوں آنکھ بند کر کے کہہ سکتے ہیں وہ کبهی بهی غلط لڑکی کا نتخاب نہیں کرے گا اور مجهے تم میں وہ ساری باتیں تمهیں دیکهتے ہی نظر آگئ .
میں کیسے کہتی کہ راحب ایک اچها انسان نہیں تها جس کے پیچهے ایک اچهی تربیت والے والدین کا ہاتھ ہو …..وہ کیسے غلط ہو سکتا تها ..میں ہمیشہ راحب سے کہتی تهی .کہ تمهیں غصہ کیوں نہیں آتا اور وہ ہمیشہ کہتا کیونکہ ..مجهے اس طرح کی چیزیں سکیهائی نہیں گئ اور میں ہمیشہ اسکی بات کا مذاق اڑاتی تهی …اور واقعی آج دیکھ لیا …
دیکھ لیا کہ دنیا میں .. عالیہ کے علاوہ بهی ارمینہ جیسے سخی اور نرم دل خاتون موجود ہیں …مرتضی صاحب جیسے صابر انسان ہیں ..جو اپنے بیٹے کی خوشی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں .
اتنے میں راحب آگیا
تو ماما بابا بتائیں کیسی لگی آپکو امل …
جیسے راحب نے کہا …
چپ کرو …تم .اب یہ میرا اور میری بیٹی کا معاملہ ہے تمهیں کیوں بتائیں ..تم چلو .
نہ زرا اب امل کی اسکی اچهے سے کهچائی کرنا …یہ بہت بگڑ چکا ہے
ماما؟
ہاں ..ہاں بڑی شرم آرہی ہے بیوی کے سامنے ..چلو ..سب انتظار کر رہے ہیں …وہ سب ..اندر داخل ہو گئے…
