Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 04)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 04)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
مجھے نہیں معلوم تھا وہ میری زندگی کا ایک حصہ بنتا جا رہا تھا میں جتنی بھی کوشش کر لیتی میں کبھی اسکا فون بند نہیں کر سکتی تھی شاید یہ اسکی اپنائیت تھی جو وہ مجھے دیتا تھا میری ہر خواہش کا احترام جو بات ابھی میرے دل میں ہوتی پتا نہیں کیسے راحب کو پتا چل جاتی تھی میری کئ بار اس بات پر اسکے ساتھ بحث ہوتی رہی لیکن وہ ہمیشہ یہی بات کہہ کر ٹال دیتا کہ جب دل لگی کا معاملہ ہو تو اکثر دل میں جو بات ہو پہلے ہی پتا چل جاتا ہے وہ مجھ سے اکثر یہ جاننے کی کوشش کرتا تھا کہ میرے دل میں اسکے لیے کتنی چاہت ہے اور میں ہمیشہ اسکے سامنے خود کو سنگ مرمر ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی لیکن ہر بار ناکام ہو جاتی میں اسکے سامنے خود کمزور محسوس کرنے لگی تھی میں ڈرنے لگی تھی اسکی محبت سے کیونکہ جو وہ سوچ رہا تھا شاید کبھی ایسا نہیں ہو سکتمے گا چاچی جان کبھی نہیں مانے گی میں نہ تو اسے روک سکتی تھی کیونکہ وہ میری عادت بن چکا تھا
امل اپنے کمرے میں بیٹھی ڈائری لکھنے میں مصروف تھی کہ اسکے دروازے پر زور سے دستک ہوئی ۔۔۔
دروازہ کھولو ۔۔۔۔عالیہ زور سے دروازے کو پھٹک رہی تھی امل ڈر گئ کیونکہ دروازے کی دستک سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ کتنے غصے میں ہے امل نے جیسے دروازہ کھولا
کیا ہوا ہے چاچی جان جیسے امل نے کہا عالیہ نے ایک زور دار تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا ۔
کیا ہوا ہے ۔سب کچھ برباد کر کے پوچھ رہی ہے کیا ہوا ہے
می خدا کے لیے امل کا کوئی قصور نہیں ہے شانزے نے عالیہ کو کہا
تو چپ کر تو تو اسکی ہی حمایت کرے گی نہ ۔۔۔ اس جادوگرنی نے تجھ پر جادو کرنے کے ساتھ ساتھ میرے بیٹے پر بھی جادو کر دیا
کیا ہوا ہے چاچی جان آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔
عالیہ اپنا ہاتھ پھر اٹھانے لگی تھی کہ ارحم نے عالیہ کا ہاتھ روک لیا
بس کردیں امی اب آپ نے امل پر ہاتھ اٹھایا نہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔
کیا سمجھتی ہیں آپ اسکو بے جان ہے ۔وہ کیوں اسکے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئ ہیں کیا قصور ہے اسکا ۔۔یہی کہ وہ ہمارے ساتھ رہتی ہے یہی کہ اسکے والدین کی وفات کیوں ہوئی
امی میں آپکو بتا چکا ہوں میں امل سے محبت کرتا ہوں انہوں نے آج تک مجھ سے نہیں کہا اور نہ ہی ایسی ویسی بات کی ہے اگر مارنا ہے تو مجھے ماریے بتایا تو میں نے آپکو ہے
جیسے ارحم نے کہا امل یک دم حیران رہ گی ۔۔۔اور وہ بے اختیار ارحم کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
چاچی جان میں آپکو بتا دوں میں ارحم سے پیار نہیں کرتی اور نہ ہی کروں گی وہ صرف میرا بھائی ہے اور آج تک میں نے صرف اسے ایک چھوٹے بھائی کی طرح ٹریٹ کیا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔
امل جیسے جیسے بول رہی تھی ارحم پر جیسے قیامت کا پہاڑ ٹوٹ گیا ۔اسکی فیلنگز جو وہ امل کے لیے محسوس کرتا رہا تھا وہ ایک سکینڈ میں امل نے اپنے پیروں تلے روند دی ۔
جیسے عالیہ نے سنا اس نے ارحم کو کہا دیکھ لیا اس ڈائن کی اسکی شکل ۔۔بیٹا میں تجھے آگے کہتی رہی تھی اس لڑکی کا دماغ خراب ہو گیا ہے اسکو کہاں ہمارے غریبوں سے پیار ہوتا ہے ۔تو ہی میں کی طرح اسکے پیچھے پیچھے بھاگتا تھا ۔
چل ۔۔۔یہاں سے ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ۔۔۔عالیہ ارحم کو کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئ ۔
امل نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا تھا ۔۔۔۔۔وہ اندر ہی اندر ٹوٹ گئ ۔۔تھی اسے اس بات کا بلکل بھی علم نہیں تھا کہ ارحم اسکے بارے میں یہ سب کچھ سوچتا تھا ۔۔۔وہ آج خود کو سب سے بدنصیب تصور کر رہی تھی آج اس نے ارحم کو بہت بڑی طرح ہرٹ کیا تھا مگر وہ کرتی کیا ۔۔۔اس نے کبھی اس سے پیار نہیں کیا تھا پیار تو اس نے صرف ایک شخص سے کیا تھا بے انتہا کیا تھا ۔۔۔۔جس پر وہ اپنا سب کچھ فنا کر چکی تھی وہ کوئی اور نہیں راحب مرتضی تھا ۔
******************************
وہ آج اکیلی ہی صبح آفس کے لیے چلی گئ کیونکہ اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ کیسے ارحم کا سامنا ۔کرے ۔۔
سارا دن کام کرتے ہوئے بھی اسے صرف رات کو پیش آنے والا واقعہ یاد آرہا تھا وہ خود کو کتنا ہی مصروف کرنے کی کوشش کرتی مگر وہ ہر بار ناکام ہو جاتی
امل کے فون کی گھنٹی بجی اس نے فون اٹھایا ہمیشہ کی طرح وہ راحب تھا
اسلام و علیکم راحب نے اپنے دھیمے لہجے سے پہل کی
و علیکم اسلام امل نے مدھم آواز سے کہا
کیا ہوا ہے امل سب کچھ ٹھیک ہے نہ راحب نے پریشانی سے کہا
ہاں سب کچھ ٹھیک ہے ۔۔۔۔
نہیں امل مجھے نہیں لگتا تم ٹھیک ہو بتا کیا بات ہوئی ہے
راحب ایسے جیسے اسکو ساری دنیا کی فکر لاحق ہو گئ ہو ۔
امل کی آواز بھگینے لگی ۔۔۔
امل کیا ہوا ہے ۔۔۔کچھ تو بتا ۔۔۔پلیز ایسے رو مت ۔۔کیا ہوا ہے
پلیز راحب تم آجاو ۔۔وہ بچوں کی طرح رونے لگی
اچھا ۔تم تم رو مت میں ابھی آتا ہوں راحب نے جلدی سے فون بند کیا
وہ اپنا کورٹ ہیں رہا تھا جب مینجر اسکے کمرے میں داخل ہوا ۔
سر یہ آج کی میٹنگ کا ٹائم ٹیبل ہے ۔جیسے مینجر نے کہا
راحب فورا بولا
کینسل کر دو سب میٹینگز ۔۔۔۔وہ اٹھتے ہوئے جلدی جلدی کہہ رہا تھا
لیکن سر ۔۔۔کیوں
میں کہہ رہا ہوں نہ کینسل کرو
راحب نے غصے سے کہا
__________
راحب نے جلدی سے گاڑی نکالی اور کافی شوپ کی طرف رخ کیا اسکے چہرے پر پریشانی صاف جھلک رہی تھی اسکے لبوں پر ایک نام تھا اور وہ امل نور کا تھا وہ اس دنیا میں اپنے پیرینٹس اور چھوٹے بھائی کے بعد امل تھی جسکے آنسووں کے درد کو خود کا درد محسوس کرتا تھا گاڑی کی سپیڈ اسنے اور تیز کرلی تھی اسے جلدی سے پہچنا تھا جیسے وہ کافی شاپ میں داخل ہوا سامنے ٹیبل پر بیٹھی امل اسکا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی راحب اسکے نزدیک گیا اور اسکے سامنے والی چئیر پر بیٹھ گیا
ایم سوری میں لیٹ ہو گیا راحب نے جلدی سے کہا
اٹس اوکے راحب امل نے مدھم آواز میں کہا اور نظریں جھکا لی
ادھر دیکھو میری طرف راحب نے بےاختیار کہا مگر امل ناکام رہی
امل میں کہہ رہا ہوں میری طرف دیکھو راحب کے دوسری دفعہ کہنے پر امل نے راحب کی طرف دیکھا جب راحب نے امل کو دیکھا اسکی آنکھیں سرخ تھی جس سے واضح تھا وہ ساری رات روتی رہی تھی
کیا ہوا ہے مجھے بتاو راحب نے شائستگی سے کہا امل اس سے پہلے بتاتی اسکی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے
راحب میں تم سے ایک بات کہوں گی کیا تم مانو گے ؟ جیسے امل نے کہا راحب جلدی سے کہا
ہاں ضرور بولو کیا کہنا ہے تمھیں ۔۔
پلیز راحب مجھے چھوڑ دو جیسے راحب نے سنا اسکی سانسیں ایک دم سے رک گئ اسے یوں لگا جیسے کیسی نے اسکے جسم سے روح کھینچ لی ہو وہ دھک رہ گیا
“یہ کیا کہہ رہی ہو امل “
میں جو بھی کہہ رہی ہوں ہم دونوں کے بھلے کے لیے کہہ رہی ہوں پلیز راحب تم سمجھو امل نے روتے ہوئے کہا
کیسے چھوڑ دوں تمھیں ۔کیوں چھوڑو ۔یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ میں تمھیں کتنا چاہتا ہوں ۔اور پتا ہے مجھے آج کتنی تکلیف ہوئی ہے تم کیسے کہہ سکتی ہو مجھے اور تم خود یہ بات اچھے سے جانتی ہو میں تمھارے بنا نہیں رہ سکتا
امل پلہز مجھے بات بتاو کیا ہوئی ہے
مجبورا امل کو ساری بات بتانا پڑی
اسکا حل ہے راحب نے سوچتے ہوئے کہا
کیا؟ امل نے چونکتے ہوئے کہا
میں تمھارے گھرا تمھارا ہاتھ مانگنے آوں گا پھر تو تمھاری چاچی منع نہیں کرے گی
نہیں نہیں راحب خدا کے لیے ایسا مت کرنا آفے میرا اس گھر میں رہنا مشکل ہے پلہز اور مشکل مت بناو وہی میں کہہ رہی ہوں چاچی جان کبھی میرا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں نہیں دیں گی
لیکن کیوں راحب نے حیرت سے کہا
کیونکہ تمھارا سٹینڈرڈ میرے سٹینڈرڈ سے بہت زیادہ ہے اور یہی بات وہ مجھے طعنے کی طرح مارے گی کہ اسلیے میں نے ارحم کو منع کیا گیا
راحب اسلیے تو میں کہہ رہی ہوں میں نہیں چاہتی میری وجہ سے آپ کو تکلیف اٹھانی پڑے ۔کیونکہ میں آپکی کبھی نہیں ہو سکتی ۔۔اور شاید ۔یہی مقدر میں ہے اسلیے راحب ابھی بھی دیر نہیں ہوئی آپ بہت اچھے انسان ہیں آپکے لیے مجھ سے زیادہ اور بہتر اچھی لڑکی مل سکتی ہے جیسے امل نے کہا
راحب نے بات کاٹی بس۔۔۔۔اب اور نہیں اب ایک لفظ تم نے بولا تو مجھ سے کوئی برا نہیں ہو گا تمھیں پتا ہے مرد زندگی میں صرف ایک سے ہی سچی محبت کرتا ہے اور بے انتہا کرتا ہے اور میں کبھی تمھیں ایسے بیچ راستے پہ اکیلا نہیں چھوڑ کر جاوں گا امل ایک بات یاد رکھ لو امل کے علاوہ کوئی ایسی لڑکی موجود نہیں ہے جو راحب مرتضی کے دل میں جگہ بنا لے راحب نے صرف ایک کو چاہا ہے بے پناہ چاہا ہے اور وہ تم ہو اور کوئی نہیں اور رہی بات رشتے کی تو وہ میں خود اوں گا تمھارا ہاتھ مانگنے جب تک راحب مرتضی زندہ ہے کوئی امل کو کچھ نہیں کہہ سکتا
جیسے راحب نے کہا
امل کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب وہ مزید اس بندے سے کیا کہے کیا بات کرے جس سے مجھے چھوڑ دے کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی راحب ایک ایسی لڑکی سے شادی کرے جس کے مقدر میں خوشیوں کا امکان دور ہو
“تم نہیں مانو گے” امل نے مختصر سا کہا۔
آج بھی نہیں اور آگے بھی نہیں امل میں تمھارے ساتھ ہوں تم یہ کیوں سوچتی ہو اس دنیا میں تمھارا کوئی نہیں ہے میں نہیں چاہتا میں تم سے ایسے ملوں میں تمھیں اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں اپنا نام دینا چاہتا ہوں تاکہ تم بغیر کیسی خوف کے میرے ساتھ ہر جگہ جا سکو مسسز راحب بن کے
وہ ہر بار امل کو ہارا دیتا تھا امل ہر بار اسکی محبت کے آگے ہار جاتی تھی
اور پلہز ایسے رویا نہ کرو تمھیں پتا ہے جان نکلنے والی ہو جاتی ہے میری جیسے راحب نے کہا امل بے اختیار مسکرا دی
******************
میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں راحب کہا طئے تھے جو اتنی اہم میٹنگزکینسل کر دی مرتضی صاحب نے افس میں بیٹھے راحب سے پوچھا
کہی نہیں بابا وہ ضروری کام آگیا تھا
کونسا ایسا ضروری کام آگیا تھا جو اپنے اس کام سے بڑھ کر ہو لگتا ہے تمھیں وہ کام سب سے زیادہ عزیز ہے جیسے مرتضی صاحب نے کہا راحب نے انکی طرف دیکھا اور ایک بار پھر مخاطب ہوا
سوری ڈیڈ میں آئیندہ سے احتیاط کروں گا جیسے راحب نے کہا مرتضی صاحب اٹھے اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
بیٹا اسکی کوئی ضرورت نہیں ہر کام ایک ٹائم ہوتا ہے تمھیں پتا ہے اگر میں وقت پہ نا آتا ساری میٹینگز نہ دیکھتا تو بڑا نقصان ہو جاتا تم میرے بڑے بیٹے ہو میرا فخر ہو کم ازکم میں تم سے غلطی کی توقع نہیں کر سکتا مرتضی صاحب نے کہا اور وہ باہر کی جانب روانہ ہو گئے
____________
ارحم پلیز میری بات سنو امل نے ارحم کو روکتے ہوئے کہا
مجھے پتا ہے تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے پر ایسے بھی تو مت کرو میرے ساتھ میں تمھاری فیلنگز کا اھترام کرتی ہوں مجھے نہیں معلوم تھا تم میرے بارے میں ایسا سوچتے ہو میں نے تمھیں ہمیشہ ایک چھوتے بھائی کی طرح سمجھا تھا اور فرض کرو ارحم اگر ایسا کچھ ہوتا بھی تو کیا چاچی جان مانتی ؟ بتاو
نہیں مانتی وہ کبھی بھی اس رشتے سے راضی نہ ہوتی اور اسکی وجہ تم جانتے ہو اسلیے پلیز ارحم میں نہیں چاہتی چاچی جان میری ذات کی اور تذلیل کریں
شاید تم میری بات سمجھ گئے ہو گے امل نے کہا اور وہ خاموش ہو گئ مگر ارحم خاموش تھا اس نے کچھ نہیں کہا امل کچھ دیر اسکے جواب کا انتظار کیا پھر وہ اپنے کمرے میں چلی گئ
زندگی انسان کو کہاں کہاں لاکر کھڑی کر دیتی ہے جہاں پر انسان کے پاس کوئی جواز نہیں رہتا اور وہ اپنی خواہشات کو اپنے دل ہی میں رکھتا ہے اسکو دنیا والوں کے سامنے مار دیتا ہے اور وہ جتنی تکلیف دیتی ہیں اسکا اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے وہ اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہیں ۔۔ان درد میں سے ایک درد محبت کا بھی درد ہوتا ہے اور کوئی شک نہیں یک طرفہ محبت کا درد ناقابل بیان ہوتا ہے جس میں صرف چاہت ہوتی ہے دونوں کی نہیں صرف ایک کی جس میں ایک شخص ہی ترپتا ہے روتا ہے دوسرے شخص کے لیے ۔۔۔اسلیے تو کہتے ہیں
“۔وصال ۔۔۔یار ۔۔۔کوئی دردنہیں ہے اس درد کے سامنے ۔۔۔۔۔۔جیسے یک ۔۔طرفہ محبت نے گھیر ۔۔۔لیا “
امل کے منع کرنے کے باوجود بھی راحب نے اسکئ بات ماننے سے انکار کر دیا ۔۔اور وہ آج امل کے گھر آنے کا کہا تھا
لیکن امل بہت ڈری تھی ۔۔اسے ڈر تھا شاید یقئن تھا کہ چاچی جان اس سے سوال کرے گی طرح طرح کے جن کے جواب وہ نہیں دے پائے گی لیکن شاید راحب یہ سب نہیں جانتا تھا
************
دروازے کی گھنٹی بجی شانزے فورا دروازہ کھولنے کے لیے گئ جیسے شانزے نے دروازہ کھولا ۔
آگے ایک مقبول صورت نوجوان بلیک ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس ہاتھوں میں گلدستہ لیے کھڑا تھا عموما آنکھوں پہ کالے چشمے کا پہرا تھا
شانزے ایک سیکنڈ کے لیے اپنی نظریں نہ ہٹا پائی ۔۔۔
جی کیا میں اندر آ سکتا ہوں راحب نے گہرے لہجے میں کہا
جی ضرور شانزے نے راستہ دیتے ہوئے کہا راحب اندر داخل ہو گیا ۔۔
ارے شانزے کون ایا ہے عالیہ بیگم نے باہر لان میں آتے ہوئے کہا
جیسے عالیہ نے راحب کو دیکھا وہ یکدم خاموش ہو گئ
وہ اب ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔
امل کی سانسیں رک چکی تھی ۔۔وہ اپنے کمرے میں قید ہو گئ
اسلام و علیکم آنٹی میرا نام راحب مرتضی ہے ۔راحب نے شائستگی سے کہا
و علیکم اسلام عالیہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
آنٹی میں دراصل ۔۔۔شاید آپکو برا لگے ۔۔۔ابھی راحب کہہ رہا تاھ کہ عالیہ نے بات کاٹی
نہئں ۔۔نہیں بیٹا مجھے کیوں برا لگے گا ۔تم بولو ۔
(دیکھنے میں تو بہت ہی امیر گھرانے سے لگ رہا ہے لگتا یہ وہی ہے جس کے بارے میں شانزے مجھے بتا رہی تھی مگر اسنے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ کتنا امیر ہے ) عالیہ نے سوچتے ہوئے کہا
وہ آنٹی میں دراصل آپ سے ۔۔۔۔
جی بیٹا
امل کے رشتے کے بارے میں بات کرنے آیا ہوں ۔۔آنا تو پیرینٹس نے ہی تھا ۔مگر وہ کچھ بزی ہیں اسلیے میں خو ایا ہوں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ۔۔میں امل کو بہت خوش رکھوں گا ۔جیسے راھب نے کہا
عالیہ ہکا بھکا رہ گئ ۔۔۔۔اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ امل کے لیے رشتہ ایا ہے اوپر سے اتنے امیر گھرانے کا ۔
یہ کیا ۔کہہ رہو ۔بیٹا تم
آئی نو انٹی یہ آکورڈ ۔ہے لیکن آپ مجھے ضرور بتا دیں
دیکھو بیٹا ۔۔مجھے شرمندگی سے کہنا پڑے گا ۔کہ امل کا رشتہ ہو چکا ہے ۔۔۔ جیسے عالیہ نے کہا
راحب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا جنہوں نے بڑی بہادری سے صاف جھوٹ بولا ۔تھا
اسلیے اسکا ہاتھ میں تمھارے ہاتھ میں کیسے دے سکتی ہوں
عالیہ نے بڑی چالاکی سے راحب کو بھیج دیا لیکن راحب کو پہلے سے سچائی معلوم تھی اور اسے یقین تھا کہ ۔۔۔اسکی چاچی جان یہی کہے گی لیکن اس حد تک یہ کبھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔چاچی جان خدا کے لیے چھوڑ دیں مجھے عالیہ نے بے دردی سے امل کو بالوں سے پکڑتے ہوئے باہر لے ائی
جہاں شانزے موجود تھی
چاچی جان خدا کے لیے مجھے چھوڑ دیں
کیسے چھوڑ دو تجھے ۔۔آوارہ ہمارے منہ پر کالک لگا کر کہہ رہی ہے چھوڑ دیں میں تبھی کہوں یہ راتوں کو اتنی اتنی دیر سے کیوں آتی ہے ۔
اپنے یار سے ہی ملنے جاتی ہو گی
نہیں ۔۔نہیں چاچی جان ایسی کوئی بات نہیں ہے
تو اور کیسی بات ۔۔۔تو نے ہی بلایا تھا نہ اپنے عاشق کو آج کہ جا مانگ رشتہ ۔۔
نہیں میں نے نہیں کہا….
