Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 08)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 08)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
ن۔۔۔ن۔۔نہیں ۔۔یہ نہیں ہو سکتا ۔راحب
راحب امل کے ہاتھ سے فون زمین پر گر چکا تھا ۔۔۔وہ زور
زور سے چلا رہی تھی ۔۔اسکی آواز میں اسقدر درد تھا ۔۔کہ ارمینہ ۔اپنے کمرے سے باہر نکل گئ
راحب ۔۔۔۔یہ۔۔۔۔نہیں ہو سکتا ۔۔۔وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ۔
وہ بھاگ رہی تھی ۔۔سر سے دوپٹہ اتر چکا تھا لیکن وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی ۔
سڑھیوں سے اترتے ہوئے ۔۔۔وہ زور زور سے راحب کا نام پکار رہی تھی
امل ۔۔بیٹا کیا ۔ہوا ہے ۔۔بیٹا ۔۔ارمینہ نے امل کو روک لیا
چھوڑیں ۔۔مجھے ۔۔ماما ۔مجھے چھوڑیں
مجھے راحب کے پاس جانا ہے ۔۔
کیا ہوا ہے امل ۔۔۔ارمینہ چلائی ۔۔اسکا دل دہک رہا تھا
امل بے اختیار نیچے زمین پر گر گئ ۔۔
ماما راحب کی ڈیتھ ہو گئ ہے کار ایکسیڈینٹ ہو گیا ۔ہے
یہ کیا کہہ رہی ہو امل ۔۔ارمینہ بوکھلائی
ماما ۔۔راحب مجھے چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔وہ مجھے اکیلا ۔چھوڑ کر چلے گئے ۔
وہ بچوں کی طرح ۔۔بلک بلک کے رو رہئ تھی ۔۔
میں ۔۔۔میں ۔۔راحب کے پاس جاتی ہوں ماما ۔۔مجھے یقین ہے وہ بلکل ٹھیک ہو گا
امل یہ کہتے ہوئے اٹھی اور باہر مین گیٹ کی طرف بھاگی ۔اس سے پہلے وہ دروازہ کھولتی
دروزاہ پہلے کھل چکا تھا ۔۔
ستریچر میں پڑے راحب کی ڈیڈ باڈی کو اندر لے کے آیا جا رہا تھا
مرتضئ سکندر ۔اپنی جوان اولاد کی لاش لیے اندر داخل ہو رہے تھے
اس وقت ۔کا جو پس منظر برپا تھا شاید وہ نا قابل بیان تھا ۔سفید کفن پر جگہ جگہ خون کے دھبے تھے ۔۔
وہ بھاگی ۔۔پاگلوں کی طرح بھاگی ۔۔۔
راحب ۔۔۔راحب ۔۔۔اسنے ۔۔چہرے سے سفید کپڑا ہٹایا ۔۔
آنکھیں بند ۔تھی وہی مہکتا ہوا چہرہ وہی روب ۔۔لیکن فرق بس اتنا تھا کہ آنکھیں بند تھی ۔۔ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔۔
بے جان سڑیچر پر پڑا ۔۔تھا
ارمینہ نے جب اپنے جوان بیٹے کی میت دیکھی ۔تو انکی سسکیوں کی آوازیں بلند ۔ہو گئ
باپ کی کمر ۔پر ۔درد کی لہر چھا گئ ۔۔۔
راحب ۔۔۔اٹھیں ۔۔اٹھیں دیکھیے ۔ ایسا مذاق مت کریں میرے ساتھ آپ کو پتا ہے ناں میں ڈر جاتی ہوں راحب خدا کے لیے ایک دفوہ آنکھیں کھول لیں آپ نے تو وعدہ کیا تھا ۔۔کہ آپ میرا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے پھر اتنی جلدی آپ ہاتھ کیسے چھڑا سکتے ہیں
میرا آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے راحب ایسا مت کریں میرے ساتھ میں مر جاوں گی آپ کے بنا ایک دفعہ تو کچھ کہے راحب کچھ تو بولو ۔۔
ایک دفعہ کہہ دیں امل میں یہاں ہوں ۔۔ایک دفعہ ۔
سامنے بیٹھی عورتیں ۔۔امل کو پیچھے کر رہی تھی ۔۔
جیسے سب لوگ ۔۔امل کی باتیں سنتی انکی سسکیاں بلند ہوتی
خاموش۔۔سب خاموش ہو جائیں رو کیوں رہی ہیں آپ سب ۔
کچھ نہیں ہوا راحب کو
ماما آپ کیوں نہیں ان سب کو چپ کراوتی ۔۔کچھ نہیں ہوا ۔۔دیکھنا ابھی وہ اٹھ جائیں گے ۔۔
سکندر ۔وہی بیٹھ گیا تھا ۔۔دیوار کے ساتھ اس میں ہمت نہیں رہی تھی ۔۔کہ ۔وہ اپنے بھائی کو دیکھ سکے ۔۔
*****************************
جنازے کا وقت ہو چکا تھا ۔مرتضی سکندر اور کچھ لوگ راحب کی میت اٹھانے آئے
ہائے ۔۔اس منظر کی کفیت اس قدر درد ناک تھی کہ درد بھی ۔چلا اٹھا دیواریں بھی ۔۔۔کانپ گئ ۔۔
بابا ۔۔۔۔سکندر ۔۔کہا ں لے کے جارہے ہیں آپ راحب ۔۔کو ۔۔وہ نہیں جا سکتے ۔۔
وہ نہیں جا سکتے ایک منٹ روکیں مجھے آخر ی آخری دفعہ انھیں دیکھ لینے دیں مجھے پتا ہے وہ مذاق کر رہے ہیں
امل پاگل ہو چکی تھی ۔۔اور آج اسکے لیے قیامت سے کن دن نہیں تھا
اسکی پوری دنیا ہی اجڑ گئ تھی ۔۔اسکے جینے کا سہارا ۔اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا
کلمہ شہادت کی آواز نے ۔۔دلوں میں ۔۔ایک سور پھونکنے والی درد کی کفیت پیدا کردی باپ نے جب اپنی جوان اولاد کی میت اپنے کندھوں پر اٹھائی
تو آسمان یہ منظر دیکھ کر چلا اٹھا ۔۔
ماما۔۔۔وہ راحب کو لے کر چلیں ۔۔گئیں ۔۔بابا سکندر راحب کو لے کر چلیں گئے
ارمینہ نے امل کو اپنے گلے لگا لیا
صبر کرو میری جان
کیسے کروں میں صبر ماما ۔۔کیسے کروں وہ میرا سب کچھ تھے میری دنیا ۔میری زندگی تھے راحب ۔ماما میں کیسے صبر کر لوں وہ تو مجھ سے وعدہ کر گئے ۔
کہ وہ اگلے ہفتے آ جائیں گے
آپ کو پتا ہے ۔۔میں ان سے ناراض تھی ۔۔میں ناراض تھی ماما کہ وہ کیوں اسلام آباد جا رہے ہیں
لیکن انہوں ہے کہا کہ وہ جلد ہی آئیں گے
مگر وہ تو مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ اپنا ساتب چھڑا کر چلے گئے
کوئی امل کو ۔سنبھال نہیں سکتا تھا آج اسکی حالت نہیں تھی اسکا دوپٹہ اترا ہوا تھا ۔۔اسے اپنی تک ہوش نہیں تھی
ایک بے جان سہارا بن چکی تھی
راحب کہسے جا سکتے ہیں وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی
جب پہلی بار انہوں نے میری طرف ہاتھ بڑھایا تھا تو واقعی مجھے لگا کوئی تو ہے اس دنیا میں جو میری پروا کرتا ہے مجھے اہمیت دیتا ہے ۔اور وہ میں ہاتھ کبھی نہیں چھوڑ سکتی تھی اور آج وہ کیسے مجھے چھوڑ کر چلیں گئے کیوں وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر گئے ۔۔
وہ راحب کی خون میں لپٹی شرٹ کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی زور زور سے چلا رہی تھی
______
راحب کی موت کے بعد امل نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا نہ کچھ اچھے سے کھاتی اور نہ ہی کیسی سے بات کرتی بس اندھیرے کمرے کے ایک کونے میں لاچار سہاروں کی طرح اپنی قسمت کی لکیروں میں لکھی بدنصیبی کو کوستی رہتی راحب مرتضی اسکی زندگی تھا اور جب جینے کا سہارا ہیناس دنیا سے چلا جائے تو انسان کی کفیت نہ زندہ میں ہوتی ہے نہ مردہ میں ۔۔کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔باہر کی تیز روشنی کمرے میں داخل ہوئے ۔
کوئی کمرے کے اندر داخل ہوا تھا ۔
بیٹا ۔میری جان کیا حالت بنا رکھی ہے ۔۔آپنی ارمینہ امل کے قریب بیٹھی اسکے چہرے کو دیکھا جس کی آنکھوں کے نیچے برے برے ہلکے تھے ۔۔رنگ زردہ تھا
بیٹا اتنے مہینے گزر چکے ہیں راحب کی وفات پہ مجھے پتا ہے میری جان یہ زخم بھلانے والا نہیں ہے لیکن ایسی تو زندگی نہیں گزاری جاتی تمھیں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے میں جانتی ہوں یہ تمھارے لیے بہت مشکل ہے لیکن ناممکن تو نہیں ہے ناں
ماما میار راحب کے بغیر کوئی وجود نہیں ہے میں تو اسی دن دفن ہو گئ تھی جب راحب کو دفنایا گیا تھا بس اب سانسیں پوری کروں گی جو زندگی میں رہ گئ ہیں
نہیں امل ایسے نہیں کہتے ۔۔کیوں اتنا روتی ہو
وہ یاد آتے ہیں ماما بہت یاد آتا ہے راحب میری دنیا تھا جس کے لیے میں نے اس زندگی کا انتخاب کیا اب کیا بچا ہے میرے پاس کچھ بھی نہیں تو رو نہ تو کیا کروں یہ درد اتنا تکیلف دہ ہے ناں کہ میرا پوار جسم چیخ اٹھتا ہے جب اسکا زہر میری رگوں میں دوڑتا ہے ۔۔امل کی سسکیوں نے اسکی آواز کو روک رہی تھی ۔ارمینہ بے بس ہو کر کمرے سے باہر نکل گئ کیونکہ اسے واقعی کوئی سنبھال نہیں سکتا ۔
راحب کی وفات کے بعد ایسے جیسے اس گھر کی خوشیاں کسی نے چھین لی تھی وہ گھر کا بڑا وارث تھا مرتضی صاحب کا فخر انکا کندھا ۔۔مرتضی خود اسی صدمے سے باہر نہیں نکلے تھے کہ راحب انکے درمیان نہیں رہا ۔
ارمینہ ۔۔۔مرتضی صاحب نے اسے آواز دی ۔۔جو چپ سے بیڈ پہ لیٹی تھی
جی ۔
کیسی ہے امل ۔اب جیسے مرتضی صاحب نے پوچھا ۔۔
ارمینہ کے چہرے پر مایوسی جھلکی ۔کیسی ہو گی ویسی ہی ہے جیسے وہ پہلے دن تھی نہ کچھ کھاتی ہے اور نہ ہی کمرے سے باہر آتی ہے بس روتی ہی رہتی ہے مجھے تو بہت ترس آتا ہے مرتضی اس پر ۔۔میرا بیٹا اسکے لیے بہت زیادہ معنے رکھتا تھا ۔میں خود اندر ہی اندر ترپتی رہتی ہوں ۔کس سے اپنے درد کا مداوا کروں وہ خود اس حالت میں نہیں ہے
ارمینہ میں نے ایک فیصلہ کیا ہے ۔۔
کیا مرتضی صاحب وہ چونک گئ ۔۔
تمھیں تو پتا یے ناں گاوں کے اصولوں کا ۔۔کیسی بھی بیوہ کو وہ گاوں میں رکھنا پسند نہیں کرتے اور امل کا اب ہمارے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے میں اسے اسطرح کیسی دوسرے شہر اکیلے چھوڑ نہیں سکتا
تو ارمینہ نے حیرانگی سے کہا
پھر وہ اچانک بولی
نہیں مرتضی صاحب یہ کبھی نہیں ہو گا وہ نہیں مانے گا ۔وہ سکندر ہے آپکو تو اسکے مزاج کا پتا ہے
اسکو مانا پڑے گا ارمینہ یہ گاوں کا اصول ہے
وہ اس سے شدید نفرت کرتا ہے ۔
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں آپ اس سے کل اس بارے میں بات کرین اور بعد میں امل کو بتا دیجیے گا
مگر مرتضی وہ ابھی کچھ کہتی کہ مرتضی صاحب نے اسکی بات کاٹ دی ۔
نہیں ارمینہ اب وہی ہو گا جو میں کہوں گا ۔
ارمینہ وہی چپ ہو گئ ۔۔۔وہ کیا کہتی ۔ساری بات ہی ختم کر دی تھی مرتضی صاحب نے
************************
سکندر یار صبر کر ۔۔اب صبر کرنے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے
موہد نے سکندر کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا
یار کیسے خود کو صبر دوں بھائی تھا وہ میرا ۔جسکے بنا میں ایک خام بھی نہیں کرتا
ہاں یار میں سمجھ سکتا ہوں لیکن یہ سب اختیار تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ناں ہم کیا کر سکتے ہیں ۔
اچھا تو کب آیا سکندر نے موہد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
پرسوں چھٹی ملی تھی جیسے گھر آیا تو امی نے بتا یا تو فورا یہاں چلا آیا
یہ سب کچھ اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے
کونسی لڑکی سکندر؟
وہی جس سے راحب بھائی نے شادی کی تھی ۔۔۔سکندر کی آنکھوں میں نفرت کی آگ تھی
ارے سکندر اس میں امل کا کیا قصور ہے اور اسکا کیا ہاتھ ہے اس میں
تم نہیں جانتے موہد اس مکار لڑکی کو پہلے تو اس نے میرے بھائی کو اپنے جھوٹے پیار میں پھسایا ۔پھر شادی کے لیے منایا
جب اسکے گھر والے نہیں مانتے تھے تو گھر سے بھاگ کر میرے بھائی سے شادی کر لی کس کے لیے صرف او صرف پییسوں کے لیے اسی وجہ سے میرے بھائی کی موت ہوئی ہے
سکندر یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو ۔۔غلط بات ہے یہ تم نے خود اسکی حالت دیکھی ہے کیا حال بن گیا ہے اس بیچاری کا ۔اور تم اس پر اسطرح کے گھٹیا الزام لگا رہے ہو
یار کیا ہو گیا ہے تم سب کو تم بھی اس کی شرافت کے جھوٹے جال میں پھس گئے ۔۔وہ جیسی دیکھتی ہے ایسی ہے نہیں ۔۔بس پیسوں کی حوس ہے اسے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں
تم کیوں اس سے اتنی نفرت کرتے ہو جیسے موہد نے کہا وہ وہی خاموش ہو گیا
*****************
سکندر ۔۔جیسے ارمینہ نے آواز دی وہ وہی رک گیا
میں نے تم سے ضروری بات کرنی ہے
جی کہیے بی جان اسنے تحمل لہجے میں کہا
کمرے میں آو میرے ساتھ ارمینہ نے کہا اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئ
جی بولیں بی جان ۔۔کیا کہنا ہے
وہ حیران ہوا
بیٹا جو میں بات کرنت جا رہئ ہون پلہز اسے دھیان سے سننا اور بعد میں فیصلہ سنانا
وہ ایک دم چونک گیا
_______
یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں بی جان سکندر نے اس قدر غصے سے کہا کہ ارمینہ دھک رہ گئ ۔۔
وہی کہہ رہی ہوں جو تم سن رہے ہو سکندر ۔ارمینہ نے آگے بڑھتے ہوئے کہا
آپکو پتا ہے میں اس سے نفرت کرتا ہوں اسکے علاوہ کچھ نہیں اور بابا نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اس سے شادی کروں بی جان آپ دونوں کو ہوکیا گیا ہے کیا ہے اس لڑکی میں جو آپ اسے گھر رکھنے کے لیے میرا نکاح اس سے کروا رہے ہیں
سکندر تمھارے بابا نے کہا ہے میرے بیٹے تم کیوں نہیں سمجھ رہے
میں نہیں سمجھنا چاہتا اسے اور نہ ہی مجھے کوئی ضرورت ہے اسے سمجھنے کی میں اس سے شادی نہیں کروں گا بی جان وہ لڑکی ہمارے گھر کو کھا رہی ہے پہلے بھائی راھب کو اب مجھے ۔۔نہیں میں اسے ۔۔کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا
امل نے تمھارا کیا بیگاڑا ہے سکندر ۔۔وہ بہت اچھی لڑکی ہے پاک دامن ۔۔ہر لحاظ سے
واہ ۔۔اگر اتنی پاک دامن ہوتی تو اپنے گھر سے بھاگ کر اپنے گھر والوں کے دامن مین کیچڑ نہ اچھالتی ۔۔اسکی سچائی ۔نے آپ کے اور بابا کی آنکھوں میں پٹی باندھ رکھی ہے
اور میں سمجھ سکتا ہوں یہ اس نے ہی بابا کو کہا ہو گا وہ بہت ہی مکار لڑکی ہے بی جان جیسے صرف پیسوں سے غرض جو پہسوں کی خاطر کیسی بھی حد تک جا سکتی ہے
سکندر بہت زیادہ ہو رہا ہے ۔۔تم کیوں اس سے اتنی نفرت کرتے ہو ۔۔
میں اس کے بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔بی جان آپ بابا کو بتا دیں میں کچھ بھی کر لیتا لیکن ۔امل سے شادی ہرگز نہیں ۔۔۔وہ ہماری طرف سے کہی بھی جائے ۔
کون ہے اسکا اب ہمارے علاوہ ۔بیٹا امل کا ہمارے علاوہ اب کوئی نہیں ہے اور تمھیں تو پتا ہے نہ گاوں کے اصولوں کا ۔۔وہ نہیں رہنے دیتے بیوہ عورتوں کو
آپ بابا کو کہہ دیں میں اس سے شادی نہیں کروں گا ۔۔۔وہ پلٹا تھا جب مرتضی صاحب نے اسے روکا
روکو سکندر ۔۔۔
بابا ۔۔میں اسے اپنی زندگی میں کبھی ۔۔داخل نہیں کروں گا ۔
سکندر میں یہ نہیں کہوں گا ۔۔کہ تم صرف اس کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرو بیٹا میں صرف اتنا ہی کہہ رہا ۔ہوں تم امل کو اپنا نام دے دو تاکہ وہ یہاں ہمارے ساتھ رہ سکے چاہے بعد میں تم اپنی پسند سے شادی کر لینا ۔۔۔مجھے نہیں پتا تم اس سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہو لیکن بیٹا ۔۔پلہز ۔میری عزت کے خاطر ۔۔
جیسے مرتضی صاحب نے کہا ۔۔وہ آگے بے بس ہو گیا ۔۔مجبور ہو گیا ۔۔
اور آخر میں اسے ماننا ہی پڑا
مرتضی صاحب ابھی ارمینہ کچھ کہتی کہ مرتضی صاحب نے است روکا
اسکے علاوہ کوئی حل نہیں تھا ارمینہ…
