Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 15)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 15)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
تم اس کمرے میں رہ سکتی ہو جیسے سکندر نے کہا
امل نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔
ن۔۔۔نہیں میں چلی جاتی ہوں امل نے حیرانگی سے کہا
نہیں ۔۔تم اس کمرے میں نہیں جاو گی ۔۔اس کمرے میں بہت سردی ہے ٹھیک ہے ۔۔تم اسی کمرے میں رہو گی ۔
سکندر نے کتاب شلف میں رکھتے ہوئے کہا
وہ بلکل حیران تھی سکندر کا بدلتا ہوا رویہ ۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔
“مجھے اب خود سے ڈر لگنے لگا تھا کہ کہی مجھے اس شخص سے محبت نہ ہو جائے جس سے میں نفرت کرتی تھی”
آپ کو کتابیں پڑھنا اچھا لگتا ہے ۔۔امل نے لمبی خاموشی کے بعد کہا
ہاں ۔تمھیں ۔؟
ناولز پڑھنے کا بہت شوق ہے ۔امل نے چہکتے ہوئے کہا آپ کو شوق ہے جیسے امل نے کہا
سکندر نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور کہا
“نہیں “
او پھر تو آپ بہت بورینگ ہیں ۔۔آپ کو پتا ہے سالار سکندر اور جہان سکندر ۔میرے فیوریٹ ہیں ۔۔کیا ہیرو ۔دیکھائیں ہیں عمیرہ اور نمرہ احمد نے ۔آپ ضرور پڑھنا یہ دونوں ناول دیکھنا آپ ںھی فین ہو جاو گے ان دونوں کے
اور۔۔۔ عمر جہانگیر بھی لیکن افسوس وہ مر جاتا ہے آپ کو پتا ہے جب میں نے یہ ناول پڑا تھا تو میں کتنا روئی تھی
سکندر پچھلے آدھے گھنٹے سے اسکی باتیں سن رہا تھا ۔۔
اور پھر آخر کار اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا
میرے خیال سے آپ باہر ہی زیادہ اچھی تھی ۔۔جہسے سکندر نے کہا
امل فورا خاموش ہو گئ
واقعی وہ کچھ زیادہ ہی بول گئ تھی
_______________________
یار میں جس کام کے لیے آیا تھا وہ ہو ہی نہیں رہا ۔۔زوہاب نے کیسی سے بات کرتے ہوئے کہا
وہ دونوں آپس میں ٹھیک ہو رہے ہیں
_________
کیا مطلب وہ آپس میں ٹھیک ہو رہے ہیں فون میں سے کوئی بات کرتے ہوئے چونکا ۔
ہاں یار میں دیکھ رہا ہوں سکندر امل کے ساتھ اب ویسا رویہ نہیں رکھتا جیسے پہلے تھا ۔زوہاب نے بے چینی سے جواب دیا
تو اب ؟ کیا کرو گے ۔فون کالر نے سوال کرتے ہوئے کہا
کیا کرنا ہے امل سے ایک دفعہ اپنے دل کی بات کروں گا اسے منانے کی کوشس کروں گا ۔جیسے زوہاب نے کہا فون کالر فورا بولا
مجھے نہیں لگتا وہ مانے گی بہر حال کوشش کر لینا ۔
ٹھیک ہےبعد میں کال کرتا ہوں زوہاب نے کہا اور فون بند کر دیا
***********************
۔۔وہ بدل گیا ہے شانزے امل کے چہرے پر خوشی تھی
کیا سکندر ؟ واقعی شانزے نے حیرانگی کے عالم میں کہا
ہاں سچ کہہ رہی ہوں شانزے وہ بہت بدل چکا ہے کافی حد تک کہہ سکتے ہیں وہ چھپاتا ہے مگر چھپا نہین پاتا وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں پاتا لیکن پھر بھی ۔مجھے اس چیز کا احساس ہو جاتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اس شخص کو اسقدر جان پاوں گی وہ غصہ کرتا ہے لیکن اسکے سینے میں سنگ دل بھی دھڑکتا ہے شاید سکندر سے میں اب ناچاہتے ہوئے بھی کبھی نفرت نہیں کر سکی پہلے بھی اور اب بھی وہ جیسا بھی ہے جو بھی لیکن وہ میری زندگی ہے شانزے میری ساری دنیا اسی سے شروع ہوتی ہے اور اسی پر ختم ۔۔
امل نور آج اتنے سالوں کے بعد اپنے دل میں چھپے ہوئے جذباتوں کو بیان کر رہی تھی اتنے سالوں بعد آج اسکی زندگی پر خوشیوں کی لہریں گھومنے لگی تھی آج وہ کھل کھلا کر اپنی اس خوشی کو محسوس کر رہی تھی
مجھے بہت خوشی ہوئی یہ دیکھ کر امل کہ تم اپنی زندگی میں خوش ہو پتا ہے تم بہت ہی اچھی بہن دوست اور بیوی ثابت ہوئی ہو ۔اچھا بہت دیر ہو گئ ہے اب میں چلتی ہون جیسے شانزے نے کہا
اور ہاں ۔دلہے میاں تو آپکے رشتہ دار ہیں عالیہ چاچی کی خالہ کا اکلوتا بیٹا تو شادی کے بعد پھر دبئی جانے کا ارداہ تو نہیں بنا لیا امل نے مزاحقکہ خیز لہجے میں کہا
ہاں ۔۔۔شاید چلی جاوں روہان یہی چاہ رہے ہیں ۔۔شانزے نے نیم مسکراہٹ میں کہا
اچھا اب میں چلتی ہوں ۔۔شانزے یہ کہتی ہوئی امل کے گلے لگی ۔اور باہر مین گیٹ کی جانب بڑھ گئ ۔
**************************
تو سکندر صاحب کیسا ہے ۔تو موہد نے ساتھ چیر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
کب آرہا ہے وہ تمھارا کلائینڈ
بس ایک دو گھنٹے تک یہاں پہنچ جائے گا ۔سکندر نے فاعل کو بند کرتے ہوئے ٹیبل پر رکھا ۔
ویسے تمھیں کیا ہوا ہے اتنا خوش کیوں ہے اپنی شادی کی خبر سن کر تو نہیں سکندر نے طنزا کہا
یہی سمجھ لو ۔۔اس خوشی کا راز کچھ اور بھی ہے جیسے موہد نے کہا سکندر جھٹ سے بولا
کیا؟
آپ کی ظالم بڑی محبت ۔۔
بکواس بند کر ۔۔سکندر نے اکھڑتے ہوئے کہا
ہم نے تو اپنی زبان کو بند ہی رکھا ہے ۔جو سچ ہے وہی بتا رہا ہوں ۔ہو گیا ناں ۔ٹیک دیے گھٹنے ۔قائم ہو گئ حکومت اسکی تمھارے اس سنگ دل پہ
موہد نے سوال پہ سوال کرتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا
یہ ۔۔جو بھی تم کہہ رہے ہو میری سمجھ سے باہر ہے ٹھیک ہے سکندر نے موضوع کو ختم کرتے ہوئے کہا
آپ ۔۔بتائیں تو صیح سکندر مرتضی کو امل نور سے محبت ہے یاں نہیں بولیے بتائیں ۔۔مجھے کہ ہم بھی دیکھیں نفرت بڑی محبت کی داستان
ہاں ۔۔پسند کرنے لگا ہوں میں اسے ۔۔بس سن لیا اب چپ کر جاو۔پلہز موہد ۔ہاں چاہنے لگا ہوں اسے ۔۔
سکندر نے ہار مانتے ہوئے کہا
پتا نہیں کیسے ہو گیا مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا پتا نہیں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوتا ہے جب وہ نطر آتی ہے ۔ایک تکیلف درد کا احساس ہوتا ہے جب وہ کیسی کے پاس ہوتی ہے میں محبت نہیں کرنا چاہتا تھا میں اس سے نفرت کرنا چاہتا تھا پھر پتا نہیں
یہ ۔۔سالی محبت نفرت کو مات کر گئ۔۔۔سکندر نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا
**************************
آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مجھے امید ہے ہماری کمپنی کو آپکے ساتھ کام کرنے کا مزہ ائے گا
ویسے سکندر صاحب میں نے سنا کہ آپ کے بڑے بھائی کی موت انکی بیوی کی وجہ سے ہوئی جنہیں وہ گھر سے بھگا کر لائے تھے بہت افسوس ہوا یہ سن کر بھلائی کا ت زمانہ نہیں رہا یہ چھوٹے گھروں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں ویل ۔اب جو ہو گیا ۔کچھ نہیں کر سکتے ہم اس آدمی کے الفاظوں میں چھپے طنزا سکندر کے پورے بدن میں لرزش پیدا کر گئے تھے اس کے دل و دماغ میں پھر ماضی کی یادیں دوڑنے لگی وہ خود کو ان سے نکالنے کی کوشش کرتا رہا لیکن نہیں ۔وہ اپنی کوشش میں نکام تھا
چلیں اب میں چلتا ہوں ۔۔اس آدمی نے کہا اور آفس سے نکل گیا ۔
غصہ اس قدر تھا کہ شاید امل آج اسکے سامنے ہوتی تو اسے مار ڈالتا ۔اسنے ساتھ میز پر پڑی چیزوں کو اپنی پوری قوت سے نیچے پھینکا ۔
آئی ہیٹ امل ۔۔آئی ہیٹ یوں ۔اسنے اپنے ہاتھوں کو زور سے مسلتے ہوئے کہا ۔اور آفس کے باہر مین گیٹ کی جانب بڑھا
**********،*****************
وہ جیسے گھر داخل ہوا بنا دیکھے اوپر سڑھیوں کی جانب بڑھ گیا
خلیل یہ شرٹ تم رکھ لینا ۔اور۔میری بلیک شرٹ پریس کرو اسنے جاتے ہوئے بلند آواز میں کہا
جیسے امل نے دیکھا وہ فورا اٹھی اور اوپر کی جانب بڑھی
اسنے دروازے کو زور سے بند کیا ۔امل بنا پوچھے اندر داخل ہوئی
وہ اپنی کیبن سے اپنے کپڑے نکال رہا تھا
ک۔۔۔۔۔کافی لاوں آپ کے لیے جیسے امل نے کہا سکندر نے نفرت بڑھی نگاہ اس پر ڈالی
میرے کمرے میں تم پوچھے بغیر کیوں آئی ۔وہ یہ کہتا ہوا آگے بڑھا
ک۔۔۔۔کیا مطلب ؟ امل کے قدم پیچھے کی جانب بڑھنے لگے
میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے ۔تمھیں کیا لگا میں تمھارے ساتھ کچھ ہمدردیاں کیا کر لی تو سر پر چڑھ جاو گی
وہ اسکے قریب تھا ۔۔ابکی بار سکندر نے امل کو زور سے اسکے بازو پکڑ کر کمر کے بل کیا
وہ دود سے چلا اٹھی میں قاتلوں کو اتنی جلدی معاف نہیں کرتا اور تم میرے بھائی کے قتل کی ذمہ دار ہو ۔مجھے نفرت ہے تم سے سن لیا تم نے ۔
اسنے اتنی زور سے امل جھٹک کے پیچھے کیا
میرے گناہوں کی فہرست اتنی لمبی ہے کیا جسکی سزہ کبھی ختم نہ ہو امل کی اواز میں درد تھا اسکی پیشانی پر کافی گہری چوٹ لگی تھی لیکن وہ وہی کھڑی اس سے اپنی ان گناہوں کے بارے میں پوچھ رہی تھی جو اسنے کیے ہی نہیں تھے
“گناہوں کی فہرست گر ختم بھی ہو جائے لیکن نفرت اتنی ہی رہے گی”
جواب بے رخی سے ملا
مطلب سزہ پھر بھی ملے گی ۔۔اسکی آواز اٹک رہی تھی سکندر کی پشت اسکی طرف تھی ۔وہ بنا دیکھے جواب دے رہا تھا
ہاں جب انسان ایک دفعہ چوری کرتا ہے چاہے وہ بعد میں خود کو کتنا کہہ لے کہ وہ اب چور نہیں ہے لیکن کہی نہ کہی لوگ اسے چور ہی سمجھتے ہیں ۔۔
سکندر کبھی بھی کیسی کے جذباتوں کی قدر نہیں کرتا تھا اسے غصے میں پتا ہی نہیں چلتا تھا ۔۔امل یہ سنتے کمرے سے باہر چلی گئ
________
میں کچھ نہیں کہہ سکتی اسے کیا کہوں تمھیں سکندر بس یہی کہوں گی مجھے تم سے محبت کیوں ہو گئ ۔۔وہ پیشانی پہ آئے زخم پر مرحم لگا رہی تھی اب آنسو بھی اسکا ساتھ نہیں دے رہے تھے شاید اب وہ بھی جان چکے تھے
کیا میں اندر آ سکتا ہوں جیسے زوہاب نے کہا امل نے چونک کر اسکی طرف دیکھا جو باہر دروازے میں کھڑا تھا
جی ضرور وہ ہچکچاتی ہوئی کھڑی ہوئی ۔
پلہز امل بیٹھ جائیں ۔اور اپنے زخم پر مرحم لگائیں یہی تو کر سکتی ہیں آپ اسنے قریب صرفہ پر بیٹھتے ہوئے کہا
آپ طنزا کر رہے ہیں اسنے فرسٹ ایڈ بکس بند کیا
نہیں طنزا تو نہیں کر رہا حقیقت بتا رہا ہوں آپکو آخر کب تک امل کب تک آپ اتنا ظلم سہتی رہے گی ۔زوہاب نے بات کو بڑھاوا دیا
کیا مطلب میں سمجھی نہیں ۔۔امل نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا
سمجھ تو آپ گئ ہیں کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں کیوں اپنے آپ درد دیتی ہیں وہ انسان ہر روز آپ کی ذات کی تزلیل کرتا ہے اور آپ پھر بھی اسکی ہر بات کو نظر انداز کر جاتی ہیں اور مظلوموں کی طرح اپنے زخموں پر مرحم لگا دیتی ہیں کیون ایسا کرتی ہیں ۔۔
آپ کو کوئی گلط فہمی ہے سکندر ایسا بلکل بھی نہیں ہے امل نے کہا اور چئیر سے اٹھی
روکو امل ۔۔زوہاب اسکئ طرف بڑھا ۔
پلہز امل میں تمھیں ایسے نہیں دیکھ سکتا تم ایسے شخص سے کے ساتھ زندگی کیوں گزار رہی ہو جس کو تمھاری کوئی پروا نہیں ۔میری بات مانو تو تم سکندر سے طلاق لے لو
جیسے زوہاب نے کہا امل نے ایک زور دار تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا ۔
بکواس بند کرو زوہاب اور تمھیں کس نے حق دیا میری نجی زندگی میں دخل اندازی کرنے کا اپنا مشورہ اپنے پاس رکھو سن لیا تم نے اور رہی بات سکندر کی تو میں اس سے محبت کرتی ہوں چاہے وہ جیسا بھی ہےغصہ کرے جو بھی کرے لیکن وہ میرا شوہر ہے اور میں ابھی اتنی بدذات نہیں ہوئی کہ طلاق لے لوں ۔آپ مہمان ہیں ورنہ میں آپکو اچھے سے سمجھاتی
امل یہ کہہ کر باہر جانے لگی تھی کہ زوہاب نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا
میری بات سنو امل میں تمھیں چایتا ہوں وعدہ کرتا ہوں تمھیں سکندر سے اچھا رکھوں گا
تمھیں پتا ہے زوہاب میں سکندر کو کہتی تھی کہ تم دنیا میں واحد انسان ہو جیسے عورت کی عزت نہیں کرنی آتی لیکن نہیں دنیا میں اور بھی کئ بے غیرت لوگ موجود ہیں جو دوسروں پر گندی نظریں رکھتے ہیں اور ان میں سے ایک تم ہو ۔چھوڑو میرا ہاتھ ۔
امل نے اپنا بازو کھینچا ۔
بی جان کہا ہے آپ جیسے سکندر آگے بڑھا اسکے پاوں وہی منجمد ہو گئے جب اسنے امل اور زوہاب کو اکھٹے دیکھا ۔اسے ایسا لگا جیسے کیسی بھاری چیز نے اس پر وار کیا ہو ۔۔
وہ یہ دیکھتے ہی پیچھے ہٹ گیا ۔
امل نے ایک اور تھپڑ اسکے چہرے پر تھپڑ رسید کیا ۔بھاڑ میں جاو تم اور تمھاری محبت ۔ امل نے کہا اور وہاں سے باہر آگئ
اسنے بڑی مشکل سے اپنے آنسوں کو قابو میں کیا تھا ۔آج جو بھی اسکے ساتھ ہوا تھا اسکی وجہ سکندر تھا اگر وہ اسکی حفاظت کرتا تو کیسی غیر مرد کی جرات نہ ہوتی ایسی حرکت کرنے کی ۔ وہ جلدی سے نیچےاگئ ۔
اور خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا ۔
آ۔۔۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔امل زور سے چلا رہی تھی وہ اپنے ہاتھوں کو زوروں سے مسل رہی تھی ۔جس سے زوہاب نے اسے پکڑا تھا وہ تھک چکی تھئ وہ ہار گئ تھی زندگی کے امتحانات سے وہ اپنے ہاتھ کی لکیروں میں خوشی کی لکیریں ڈھونڈ رہی تھی لیکن ان بدنصیب کے ہاں خوشی زرا دیر سے دستک دیتی ہے ۔
اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا وہ کیسی سے اپنا دکھ بانٹ نہیں سکتی تھی کیا کہتی کیا بتاتی وہ ارمینہ کو امل وہئ نیچے ایک کونے میں بیٹھ گئ شاید یہ تنہائی اسکا مقدر تھی
______________________________________
مجھے نفرت ہے کہ مجھے اس سے محبت ہے سکندر نے ہاتھ میں پکرا کانچ کا گلاس توڑا ۔جیسے موہد نے دیکھا وہ جلدی سے اسکی طرف بھاگا
کیا ہوگیا ہے سکندر پاگل مت بنو کیوں خود کو اذیت دے رہے ہو بتاو تو صیح کیا ہوا ہے موہد نے اسکے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے کہا مجھے لگتا ہےوہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی سکندر نے اپنے ہاتھ میں خوبی کانچ کی کرچیوں کو نکالتے ہوئے کہا ہ
ہوا کیا ہے امل نے کچھ کہا ہے تمھیں موہد جلدی سے فرسٹ بکس لایا
تمھیں پتا ہے موہد میں نے بہت کوشش کی ۔بہت سمجھایا لیکن اس سالے دل کو بھی اس انسان سے محبت ہو گئ جس سے میں نفرت کرتا تھا کیوں مجھے کیسی اور محبت نہئں ہوئی آج اسے زوہاب کے ساتھ دیکھ کر آیا ہوں ۔
وہ اسکے نزدیک تھا یار بہت نزدیک اور امل کا ہاتھ اس سالے نے پکڑا تھا اسکو تو نہین چھوڑوں گا میں ۔۔سکندر نے اپنے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا
مت کرو سکندر خون بہت زیادہ نکل رہا ہے کیوں ایسا کرتے ہو خود ہی تو اسے اپنی زندگی سے نکالتے ہو اور اسے جانے بھی نہیں دیتے اور جو تم دیکھ کر آئے ہو کیا پتا جیسا تم سوچ رہے ہو ایسا کچھ نہ ہو جیسے موہد نے کہا سکندر نے بلند آواز میں کہا
وہ اسکے نزدیک تھا یار اور تم اب بھی میں ہی غلط لگ رہا ہوں میں کیسی کو اتنی اجازت نہیں دوں گا کہ کوئی بھی امل کو ہاتھ لگائے
اچھا تو پھر اسے درد کیوں دیتے ہو جیسے موہد نے کہا وہ وہی چپ ہو گیا…
جاری ہے
