Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 16)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 16)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
وہ پسند تھا تو مجھے پہلے بتا دیتی میں تمھین اپنی زندگی سے آزاد کر دیتا جیسے سکندر نے کہا امل نے چونک کر اسکی طرف دیکھا
یہ کیا کہہ رہے ہو سکندر اور کس کی بات کر رہے ہو امل نے ہچکچاتے ہوئے کہا
میرے سامنے یہ ناٹک کرنے کی کوئہ ضرورت نہئں ہے سمجھی تم اگر مجھ سے اتنا دل بڑھ گیا ہے تو مجھے بتا دو میں طلاق دے دوں گا تمھیں ۔جیسے سکندر نے یہ کہا
امل کی سانسیں وہی رک گئ ایسا لگا جیسے کیسی نے اسکے جسم سے روح کھینچ لی ہو
اس میں اتنی سکت نہیں رہی تھی کہ وہ سکندر سے کچھ پوچھ سکے
اور ہاں میں نے ایک فیصلہ کیا ہے
کہ میں دوسری شادی کرنے والا ہوں
وہ خود کو سہارا دے رہی تھی کہ وہ کھڑی ہو سکے
“اور جس دن میں دوسرا نکاح کروں گا اس دن تمھیں طلاق دے دوں گا یہ میرا آخری فیصلہ ہے “
نہیں سکندر خدا کے لیے ایسا مت کرین مجھے بتائیں تو سہی میں نے کیا کیا ہے مجھے جو مرضی سزہ دے دیں مین خوشی خوشی قبول کر لوں گی لیکن خدا کے لیے مجھے اپنی زندگی سے مت نکالو چاہے آپ د۔۔۔دوسری شادی کر لیں لیکن مجھے مت نکالین اپنی زندگئ سے میں مر جاوں گی سکندر ۔ایسا ظلم مت کریں مجھ پر ا۔۔۔اتنی ہمت نہیں ہے مجھ میں
امل کے سکندر آگے بھیک مانگ رہی تھی لیکن وہ اسے چھوڑ کر باہر جا چکا تھا
سکندر خداکے لیے ایسا مت کریں وہ وہی گر گئ تھی اور بے سہروں کی طرح وہ ایسے چھوڑ کر چلا گیا
امل کیسی بے جان چیز کی طرح وہی گر گئ
مرد ذات ایسی کیون ہوتی ہے کیوں وہ اپنی اس طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر لڑکی کی زندگی کو تباہ کردیتے ہیں آج امل کے بس میں کچھ نہیں تھا وہ لچار ہو گئ تھی ۔۔وہ کیسے اسے روک سکتی تھی سوائے اپنی قسمت پر پچھاتنے کے علاوہ
________
اب وہ مزید درد برداشت نہیں کر سکتی تھی اسکی ہمت نے جواب دیے دیا تھا وہ سب کچھ چھوڑ کر چلی جانے لگی تھی ۔امل نور نے آج ہار مان لی تھی وہ تھک گئ تھی ۔کوئی اسکی سچائی سننے کو تیار نہیں تھا کوئی نہیں ۔
امل بیٹا کہا جا رہی ہو ۔ارمینہ نے جیسے امل کو دیکھا وہ جلدی سے نیچے آئی
پلہز ماما مجھے مت روکیے گا مجھے جانے دے
امل نے اسے روکتے ہوئے کہا
نہیں میری جان مجھے بتاو تو سہی ہوا کیا ہے ایسے گھر کیوں چھوڑ رہی ہو ۔
ارمینہ نے امل کا ہاتھ پکڑ لیا
اسنے کہا ہے کہ وہ مجھے طلاق دے دے گا ماما اور دوسری شادی کرنے لگا ہے مجھ مین اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں یہان رہ کر اپنی بربادی کا تماشہ نہیں دیکھوں گی ویسے بھی وہ سکندر مرتضی ہے اسکے دل میں میرے لیے صرف نفرت کے علاوہ کچھ نہیں ہے کچھ بھی نہئں تو میں کیسے انکے ساتھ رہوں
نہئں امل بیٹا ایسا کچھ نہئں کرنا تم نے میں سکندر سے بات کرتی ہوں جیسے ارمینہ نے کہا امل فورا بولی
نہیں ماما رہنے دیں آپ چاہتی ہیں نہ کہ میں سکون سے زندگی بسر کروں تو پلہز مجھے مت روکیے گا
کہاں رہو گی امل نہیں میں تمھیں نہیں جانے دوں گی
اسسے پہلے ارمینہ کچھ کرتی
امل نے اپنا ہاتھ ارمینہ کے ہاتھ سے چھڑایا اور باہر کی طرف بڑھ گئ
__________________________
چلی گئ ہے وہ سکندر خوش ہو جاو اب جیسے ارمینہ نے کہا
سکندر نے چونک کر ارمینہ کی طرف دیکھا
کیا ہوا ہے بی جان مجھے بتائیں کہاں گئ ہے امل ۔
چاہے سکندر تم دوسری شادی کرو جو بھی کرو لیکن مجھے امل گھر چاہیے ابھی اسی وقت جہاں سے مرضی اسے ڈھونڈ کر لاو مجھے شرم آتی ہے کہ تم میرے بیٹے ہو کیا بیگاڑا ہے اسنے تمھارا
ارمینہ نے چلاتے ہوئے کہا
آپ ۔۔روکیے میں ابھی آتا ہوں فکر مت کریں میں امل کو گھر لے کر آتا ہوں
سکندر نے کہااور جلدی سے گاڑی نکالی
گاڑئ مین بیٹھو امل ۔۔۔۔سکندر نے امل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
میرا ہاتھ چھوڑیے ۔میں گاڑی میں نہیں بیٹھو گی امل نے غصے سے کہا
میں تم سے کچھ کہہ رہا ہوں امل گاڑی میں بیٹھو جیسے سکندر نے امل کا ہاتھ پکڑ کر اسے دھکیلا
سامنے سے آتے ہوا زور دار ٹرک امل سے ٹکرایا
امل۔۔۔۔۔۔۔سکندر نے بلند آواز میں اسے پکارا
لوگوں کا مجمع بڑھنے لگا ۔۔وہ زمین پر بے جان سہاروں کی طرح پڑی تھی
اسکے دماغ کے پچھلے حصے خون کی دھاریں نکل رہی تھی
وہ سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔لیکن درد کی شدت اسقدر تھی کہ اسکی آنکھیں بند ہو گئ
ایمبولینس بلائے کوئی ۔۔۔
امل آنکھیں کھولو ۔۔امل سکندر نے امل کو کو پکڑا ہوا تھا
____________________________
ارمینہ موہد سکندر سب ہوسپٹل میں موجود تھے امل اپریشن تھیڑ میں تھی جب ایک ڈاکٹر باہر نکلا
سکندر صاحب آپکی وائف کا خون بہت بہہ چکا ہے ہمیں خون کی ضرورت ہے آپ کا خون مسسز سکندر کے خون سے ملتا ہے تو آپ کو خون دینا ہو گا
جی ڈاکٹر پر پلیز میری وائف کو بچا لیں اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے آج وہ بھی بھیک مانگ رہا تھا اسنے خود اپنے ہاتھوں سے امل کو آگے دھکیلا تھا
جدوبی ضرور آپ دعا کریں آپ میرے ساتھ آئے سکندر ڈاکٹر کے ساتھ چل دیا
دے آئے خون موہد نے سکندر کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے کہا
ہاں سکندر نے اپنی آنکھوں کو مسلتے ہوئے کہا
موہد میں نے خود اسے اپنے ہاتھوں سے دھیکلا تھا یار میں کبھی خود کو معاف نہیں کر سکوں گا
سکندر کی آواز اٹک رہی تھی
ڈوب کر مر جاو سکندر مرتضی میں نے آج تک تم جیسا سنگ دل انسان نہیں دیکھا جو اپنے ہاتھوں سے اپنی محبت کو درد دیتا ہے کونسی تیری محبت ہے سالے بتا کونسی تیری انوکھی محبت ہے جو اس بیچاری کو اتنا درد دیتے ہو
پہلے میں چپ رہتا تھا ۔لیکن اب تو تم نے حد پار کر دی ہے سکندر اسے طلاق کا کہہ آئے تمھیں زرا سا بھی اندازہ ہے سکندر ایک عورت کے لیے یہ کتنا تکلیف دہ جملہ ہوتا ہے جب اسکا شوہر اسے طلاق کا کہتا ہے
لیکن تمھیں کیا ۔تمھیں اس سے کیا غرض کیونکہ تمھارا تو کام ہی اسے نیچا دیکھانا دوسروں کی باتوں پر یقین کرنا اچھا مجھے بتا مجھے
تو ہمیشہ دوسروں کی باتوں پر یقین کر کے اسے درد دیتے آئے ہو کبھی اس کی بات پر یقین کیا تونے بتا مجھے سکندر کبھی اس سے پوچھنے کی کوشش کی تم نے
چپ کیوں ہو بولتے کیوں نہیں ۔۔
تم کہا بولو گے کیونکہ تن نے آج تک سچ کا سامنا ہی نہیں کیا ہمیشہ ایک طرفہ بیان پر تم نے آنکھ بند اعتبار کر کے اسے درد دیتے رہے ۔
میں داد دیتا ہوں امل کو جو بیچاری تم جیسے سنگ دل انسان کے ساتھ رہ رہی ہے ۔کس بنیاد پر تم نے اسے اپنی زندگی سے نکالنے کا کہا ۔
ہمیشہ آنکھوں دیکھا سچ نہیں ہوتا کبھی کبھی یہ آنکھیں بھی دھوکہ کھا جاتی ہیں پھر تم نے امل کو زوہاب کے ساتھ دیکھ کر یہ اندازہ کیسے لگا لیا ۔کیسے تم نے سوچ لیا کہ وہ اسکے ساتھ کیسی دوسرے مقصد سے کھڑی تھی
تمھیں سچائی سننی ہے تو سنو ۔۔موہد نے کہا اور زوہاب کو اواز دی
________
سکندر کے حواس بوکھلائے ہوئے تھے اسے نہیں معلوم تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے جب موہد نے زوہاب کو پکارا تو اسے اپنے نزدیک زوہاب کھڑا ہوا معلوم ہوا ۔سچ کی اتنی طاقت ہوتی ہے کہ انسان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
تمھیں پتا ہے سکندر زوہاب کے ساتھ اس دن امل کیوں کھڑی تھی چلو آج تمھیں سچ بتاتا ہوں اور دھیان رکھنا چہرے پر شکن نہ آئے سچائی سن کر ۔اور پچھتانا مت کیونکہ وقت گزر گیا ہے میرے دوست تم نے کبھی سچائی کو پریکھا نہیں افسوس تمھاری دنیا میں یہ سچائی کا کوئی امکان موجود نہیں تھا ورنہ تم بھی سیکھ لیتے
امل اس دن اس شخص کے ساتھ زبر دستی کھڑی تھی کیونکہ زوہاب نے اسے جان بھوج کر کھڑا کیا تھا اس بات پر کہ وہ تمھیں چھوڑ دے اور مجھ سے شادی کر لے اور پتا ہے امل نے آگے سے کیا جواب دیا زوہاب کو اسنے اس شخص کے منہ پر دو تھپڑ رسید کیے اور بڑے مان سے تم جیسے سنگ دل انسان کا مان رکھا کہا “سکندر چاہے جیسا بھی ہے جو بھی وہ میرے ساتھ سلوک کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ میرا شوہرہے اور اسکے علاوہ میں کیسی کا سوچ بھی نہیں سکتی” یہ الفاظ تھے امل کے اور تم نے کس بنا پر اسے طلاق کا کہا یہی دیکھ کر بھڑک اٹھے تھے ناں مجھے حیرانگی ہوتی ہے سکندر تم ایک منٹ وہان رکتے تو تمھیں پتا چلتا پھر شاید تمھیں پڑنے والے تھپڑوں کی آواز بھی سنائی دیتی مگر تم تو سکندر مرتضی ہو اپنی میں کا مالک آنکھوں دیکھے سیراب کو سچ مان لیا اور اس بے قصور پر ظلم کی انتہا کر دی ۔بولو زوہاب کیا میں جو کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے ؟
موہد نے اسکی طرف دیکھا
ہا۔۔۔ہاں سکندر موہد سب ٹھیک کہ رہا ہے ان فیکٹ امل تو مجھ سے بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی وہ تو میں نے جان بھوج کر اسے اپنے پاس کھڑا کیا جیسے یہ الفاظ سکندر نے سنے اسے دھجکا لگا اور وہ دو قدم یچھے لڑکھڑایا
اسے بے اختیار اپنےالفاظ یاد آنے
“مجھے پہلے بتا دیتی اگر وہ تمھیں اتنا پسند تھا تو میں تمھینں آزاد کر دیتا “
“ن۔۔نہیں سکندر یہ کیا کہہ رہے ہیں
جس دن میں نکاح کروں گا اس دن امل نور میں تمھیں طلاق دے کر آزاد کر دوں گا”
کیسی تیخ کی سلاخوں کی مانند یہ الفاظ سکندر کے کانوں کو تکلیف دینے لگے اسے اپنے ہی الفاظون سے جو اسنے امل کو کہے تھے نفرت ہونے لگی اپنے کیے پر شرمندگی ہونے لگی
سکندر مجھے معاف کر دو میں نے یہ سب کچھ اسکے کزن کے کہنے پر کیا تھاارحم اسکے چاچا کا بیٹا وہ میرا دوست ہے اسی نے مجھے کہا تھا یہ سب کرنے کو ۔۔ مجھے نہیں پتا میں نے یہ سب کیسے کر دیا لیکن یہ سب ارحم کا قصور ہے اسی کے کہنے پر میں نے کیا
جیسے زوہاب نے کہا سکندر نے آگے بڑھ کر اسکا گریباں پکڑ لیا
بدلحاظ گندے ۔۔۔تو نے میری بیوی ر گندی نظر رکھی ۔۔میں چھوڑوں گا نہیں تمھیں تمھاری ہمت کیسے ہوئی سکندر مرتضی کی بیوی کو آنکھ اٹھا کر دیکھنی کی وہ میری ہے صرف میری امل نور کو دیکھنے کا صرف ایک شخص کو حق ہے اور وہ اسکا شوہر سکندر مرتضی کا ہے سن لیا ۔تو نے
سکندر چھوڑے اسے اب کیا فائدہ ہے یہی اگر پہلے کرتے تو آج امل کے ساتھ یہ سب نہ ہوتا چھوڑے اسے قصور تو اسکا بھی ہے لیکن زیادہ ہاتھ تو اس ارحم کا ہے وہ تو امل کا سگا چاچا کا بیٹا تھا سوچ اگر امل کو پتا چلے گا تو اسے کتنا درد ہو گا ۔تم اس سے مل اور پوچھ اس کمینے سے کیوں ایسا کر رہا ہے
موہد نے سکندر کے ہاتھوں سے زوہاب کا گرئیبان چھڑایا ۔
مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے جیسے شانزے نے کہا موہد اور سکندر نے پلٹ کر اسے دیکھا
اگر آپ کو سچائی کا پتا ہے تو یہ بھی پتا ہو کہ امل نور خود گھر سے نہیں بھاگی تھی اسے مجبور کیا تھا راحب نے ۔اتنا مجبور کہ اسے ۔۔واقعی اسکی بات ماننی پڑی اور جس دن وہ جانے لگی تھی مجھے اس بات کا علم تھا آپ کو پتا ہے سکندر ۔امل تو جانے کے لیے تیار نہیں تھی اسنے راحب کو یہ تک کہہ دیا کہ وہ کیسی اور سے شادی کر لے وہ تو میں نے ۔انھیں مجبور کر دیا ۔۔اسلیے وہ گھر چھوڑ کر جانے پر مانی ۔اور آپ اسے کیا کیا نہیں کہتے تھے کہ اسنے دولت کی حوس میں راحب سے شادی کی سکندر مرتضی اگر اسے دولت کی اتنی حوس ہوتی تو وہ اس دن راحب کے ساتھ بھاگ جاتی جب وہ اسے منانے آتا تھا اور وہ ہر بار ٹال دیتی ۔۔لیکن آپ نے کبھی اسکی سنی نہیں ہمیشہ دوسروں کی سنی سنائی باتوں کو سچ مان پر اس پرظلم کا پہاڑ توڑتے رہے آپکو پتا ہے ۔۔امل نور کے والدین کی بچپن میں ہی ڈیتھ ہو گئ اور وہ اسوقت کے بعد ہمارے ساتھ رہ رہی تھی ۔۔میری امی ہمیشہ امل کو آپ کی طرح طعنہ زنی کرتی تھی ۔۔لیکن مجال ہے وہ آگے سے اف بھی کر جائے اگر وہ اتنی بدچلن تھی تو جہاں اس نے 10 سال فیکڑی میں کام کیا ہے جائے جا کر ابھی پوچھ لے ۔۔وہاں پر مجود ہر فرد امل نور کے کردار کی زمانی خود لے گا ۔
اور آپ کیسے ایک سیکنڈ میں اسکے کردار کی دھجیاں بیکھر دیتے تھے اتنا ظلم کرتے ۔۔کہ یہ تک بھول جاتے کہ وہ بھی ایک انسان ہے لیکن میں داد دیتی ہوں اتنا کچھ سہنے کے بعد وہ آپکے بارے میں ایک لفظ نہیں کہتی وہ تو اسکے زخموں نے سب کچھ بتلا دیا ورنہ مجھے تو کبھی پتا نہ چلتا
سچائی کے بیان میں اتنی طاقت تھی کہ سکندر ۔۔۔کو سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی آج سکندر مرتضی جیسے انسان کے چہرے پر ۔خوف کی لہر طاری ہو گئ اسکے پاوں وہی زمین پر منجمد ہو گئے ۔۔ایسے جیسے کیسینے جسم سے روح کھینچ لی ہو ۔۔وہ اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھنے لگا جن ہاتھوں سے وہ اسے پھیچے پھینکتا تھا اسے اپنے وہی الفاظ یاد آنے لگے کہ وہ کیسے ۔اس پر طعنہ زنی کرتا تھا
اسی ثناء کے دوران اپریشن تھیٹر کا دروازہ کھولا ۔۔سب بے اختیار کھڑے ہو گئے سب کی نگائیں ۔۔باہر نکلنے والے ڈاکٹر پر تھی ۔
سکندر جلدی سے بھاگ کر ڈاکٹر کی طرف لپکا
۔امل۔۔۔کیسی ہے ڈاکٹر ۔۔سکندر نے جلدی سے کہا ۔
مس امل اب بلکل ٹھیک ہے آپ ایک گھنٹے تک اس سے مل سکتے ہیں جیسے ڈاکٹر نے کہا سب نے سکون کا ایک گہرا سانس لیا
سکندر نے سکون سے اپنے آپ کوسنبھالا ۔۔
*********************
اسکے قدموں میں لرزش تھی اج سکندر مرتضی کے قدم لرلرز رہے تھے وہ شخص جسکی اعناء پرستی اور غرور اسے جھکنے نہئں دیتا تھا آج وہی انسان امل نور کے پاس جانے سے ڈر رہا تھا اسے ڈر تھا کہ وہ کہئ اسے چھوڑ نہ دے جو وہ کچھ اسکے ساتھ کر چکا تھا اسکے بعد امل کے لیے اب یہئ راستہ بچا تھا
امل نے انکھیں بند کی ہوئی تھی جیسے اسنے سکندر کے قدم کی اہٹ محسوس کی اسنے آنکھیں فورا کھول لی وہ اسکے قریب آرہا تھا آج سکندر مرتضی اپنی محبت سے گناہوں کی تلافی کرنے لگا تھااپنی اعناءپرستی کو چھوڑ کر ایک عام انسان بن کر دل میں جذبات اور احساس لے کر وہ جرات کر کے اسکے پاس آیا تھا
سکندر سٹریچڑ کے ساتھ پڑی چئیر پر بیٹھ گیا کچھ دیر تک خاموشی رہیاسے پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیسے پہل کرے وہ کیا کہے اسنے اب تک اسے اتنا درد دے چکا تھا کہ وہ کس کس گناہوں کی معافی مانگیں
ا۔۔۔۔ا۔۔امل مجھے پتا ہے میں نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا ہے جیسے سکندر نے کہا امل نے بے اختیار درد سے اپنی آنکھیں موند لی آج بے حس انسان کہ منہ سے یہ الفاظ سن کر وہ خود سنبھال نہ سکی امل کی بند آنکھوں سے آنسو گرنے لگے
امل مجھے پتا ہے میں کیسے پہل کروں کس کس گناہوں کی تلافی پہلے مانگوں میں نے تمھیں بہت درد دیا ہے اتنا درد کہ جسکی کوئی شاید تلافی نہ ہو لیکن سکندر مرتضی کو ایک آخری موقع دے دو مجھے معاف کر دو امل میں نے تمھارے سکردار پر ہر روز کیچڑ اچھلتا تھا تمھیں ہر روز ان گناہوں کی سزہ دیتا جو تم نے کیے ہی نہیں تھے تم کیوں اتنا سب کچھ سہتی رہی ایک دفعہ مجھے بتا دیتی ۔۔مجھے معاف کر دو تم صیح کہتی تھی کہ میرے سینے میں ایک سنگ دل ہے لیکن تمھئں پتا ہے اس سنگ دل میں بھی احساس جذبات چھپے ہیں اور یہ جذبات اور احساس تمھسری محبت نے پیدا کیے ہیں امل ۔۔میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں بہت زیادہ مجھے نہیں پتا کہ تم زوہاب کے ساتھ دوسرے مقصد سے نہیں کھڑی تھی لیکن پتا نہیں مجھے بہت تکلہف ہوتی ہے جب کوئی دوسرا تمھارے قریب بھی ہوتا ہے میں ہر چیز بانٹ سکتا ہوں لیکن اپنی محبت نہیں بانٹ سکتا ۔۔یہ نفرت کب محبت میں بدلی ۔مجھے معلوم نہین پڑا ۔۔میں ہمیشہ یہی سمجھتا رہا تم میرے بھائی کی موت کی ذمدار ہو ۔میں غلط تھا امل ۔پلیز مجھے معاف کر دو
سکندر کے الفاظ کیسی گہرے مرحم کی طرح اسکے زخموں پر لگے تھے وہ کچھ نہیں بول رہی تھی اسنے اپنی دفاع میں ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا وہ بلکل خاموش تھی ۔اسنے اپنی آنکھین موندی ہوئی تھی
پلہز امل ۔رو مت ۔۔سکندر نے اسکے چہرے سے آنسوں کو صاف کیا
امل ایک دفعہ کہہ دو کہ تم نے مجھے معاف کیا ۔۔سکندر نے امل کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا
وہ گر گرا رہا تھا
میں نے تمیں معاف کیا سکندر جیسے امل نے کہا ۔سکندر کا دپ چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر ۔روئے ۔۔انسان کا دل کتنا بڑا ہوتا ہے کہ وہ ظالم سے ظالم شخص کو چاہے معاف کردیتا ہے
اسنے بے اختیار امل کو اپنے گلے لگا لیا وہ بے ھس تھی کچھ نہیں بول رہی تھی شاید اب اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ کچھ بولے
لیکن مجھے اب تم سے محبت نہیں رہی سکندر جیسے امل نے کہا سکندر نے چونک کر اسکی طرف دیکھا…
جاری ہے
