Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 12)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 12)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
میں کیوں اسکے بارے میں اتنا سوچ رہا ہوں .سکندر نے ٹیبل پر فاعل رکهی کیا واقعی میں نے اسے برا کہا تها وہ تو اپنے گهر والوں سے ملنے گئ تهی .لیکن کیسے مل سکتی ہے اسنے تو گهر سے بهاگ کر شادی کی ہے
وہ اسی سوچوں میں گم تها جب امل آفس میں داخل ہوئی .
“کیا میں اندر آ سکتی ہوں”
سکندر اسے دیکھ کر چونک گیا
“تم یہاں کیا کر رہی ہو “
میں اندر آ کر بتاوں ..وہ بلیک ڈرس میں ملبوس تهی ..کالے گهنے لمبے بال اسنے کهولے کندهوں پر چهوڑے ہوئے تهے
ماما نے بتایا تها کہ آپ ناشتہ نہیں کر کے آئے تو میں نے سوچا آپ کو لنچ دے آوں اسنے کهانے کا ٹیفن ٹیبل پر رکها
مجهے بهوک نہیں ہے .اور تمهیں کیا ضرورت تهی یہ سب کرنے کی . میں نے تم سے کیا کہا تها میرا کام کرنے کی تمهیں کوئی ضرورت نہیں ہے
یہ ٹیبل پر رکھ دیا ..ہے کها لیجیے گا .امل نے کہا اور باہر کی جانب بڑهنے لگی .
روکو ..
سکندر نے اسکے ہاتھ میں ٹیفن تهما دیا .یہ نوازشیں کر کے تم میرے دل میں وہ مقام کبهی نہیں بنا سکتی جسکی توقع تم کر رہی ہو .دنیا والوں کے سامنے ہمارا بس نام کا رشتہ ہے اور یہ بیویوں والے کام کرنے کی کوشش نہ ہی کرو تو اچها .ہے
سکندر نے کہا اور وہ آفس سے روانہ ہو گیا
**********************
اسنے نہیں لیا ماما ..میں نے کہا تها ..وہ مجھ سے کبهی ٹهیک نہیں ہو گا اور آپ ہیں مانتی نہیں .
امل ..مجهے پتا ہے ..لیکن تم اسکی بیوی ہو میری جان
افسوس ہے مجهے اس بات کا ..ماما
یہ سکندر کو کوئی بیماری ہے .
کیا مطلب ؟
مطلب میں نے آج تک اس سے کهڑوس بدتمیز .اڑیل ضدی شخص نہئں دیکها ..بچپن میں کوئی حادثہ ہوا تها کیا کیسی لڑکی کا تو معاملہ نہیں تها جو وہ ایسے ہو گیا ہے
ہاہاہہہا نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا اسکے ساتھ اور شوہر کی عزت کرو ..امل
وہی تو کرتی ہوں لیکن مجازی خدا کا خود دل نہیں کرتا .امل نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا
تم ہنستی ہوئی بہت اچهی لگتی ہو ..ارمینہ نے اسکی پیشانی کو چوما
اب میں نے سیکهه لیا ہےدرد میں مسکرانا
بہت جلد .یہ سب کچھ ٹهیک ہو جائے گا .
اچها ماما میں سکندر کے کمرے کو دیکھ لوں ..سروینٹس بلکل اچهی صفائی نہیں کرتے وہ اٹهی اور سکندر کے کمرے کی طرف روانہ ہوئی
اللہ یہ دیوار کے اوپر کتنا جالہ لگا ہے ..اسنے سٹول رکهتے ہوئے کہا .
اور خود .اسپر چڑهه گئ ابهی وہ صاف کرنے ہی لگی تهی .کہ زور سے چلاتی ہوئی نیچے اتری اور دروازے کی جانب بهاگی تب ہی اسکا ٹکراو سکندر سے ہو گی ڈر لے مرے امل نے آنکهیں بند کر دی تهی اسے یہ نہیں معلوم تها کہ جس کےگلے وہ لگی ہے …وہ سکندر ہے
لیکن پهر بهی اسکی زبان پر ..ایک شخص کا نام تها اور وہ کوئی اور نہیں سکندر تها ..
س…س.سکندر …چهپکلی …جیسے اسنے کہا سکندر کے چہرے پر ناچاہتے ہوئے بهی ہنسی آگئ .
کہا ہے ..جیسے اسنے کہا جب اسنے دیکها تو واقعی وہاں .سکندر ہی کهڑا تها وہ ہڑبڑا کر پیچهے ہٹی ..
ایم ..سو…سوری مجهے نہیں پتا لگا .
اچهس پتا نہ چلا لیکن نام تو میرا لے رہی تهی ..سکندر نے دل میں سوچا
وہ کچھ کہے بنا ..آگے بڑهنے لگا تها ..کہ پهر اچانک رک .گیا
جب اسنے ..امل کے ہاتھ پہ بہتا ہوا خون دیکها
یہ کیا ہوا ہے .
جیسے سکندر نے کہا اسنے فورا ..اپنے ہاتھ کی طرف دیکها ہے
وہ وہی خاموش ہو گئ .
اسپر مرحم لگاو ..بہت گہرا زخم ہے درد دے گا . .
اسے یہ بلکل بهئ امید نہیں تهی سکندر اسے یہ کہے گا .
ہوں ..وہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑهی
ہوں نہیں ابهی لگاو .. درد نہئں ہو رہا تمهیں
نہیں ہو رہا اب اتنے گهاو لگ چکے ہیں کہ یہ زخم بهی درد نہیں ہوتا
مگر درد دینے والے کو درد ہو رہا ہے . جیسے سکندر نے کہا
امل نے چونک کر .سکندر کی طرف دیکها .. یہ چوٹ سکندر کی وجہ سے امل کو لگی تهی جہاں پر وہ ایک زخم بن گیا تها جو بینڈیج نہ کرنے پر اس میں سے خون نکلنا شروع ہو جاتا اور امل نے اسکی طرف دهیان ہی نہیں دیا جو کافی گہرا ہو گیا تها
ن…نہیں میرے کہنے کا مطلب ہے ..بینڈیج کرو اور کل ڈاکٹر کے پاس جاو .اسنے موضوع گفتگو تبدیل کرتے ہوئے کہا
امل یہ سنتے ہی وہاں سے چلی گئ
یہ کیا ہو رہا ہے مجهے ..مجهے درد ..کیوں ہر رہا تها …ن..نہیں ..سکندر مرتضی .تم یہ کبهی نہیں کر سکتے تم اس سے نفرت کرتے ہو وہ میرے بهائی کی قاتل ہے ..
**********************
موہد ..جیسے جنرل جلال نے فون پر کہا .
موہد کے منہ سے بے اختیار نکلا .
یس سر .
کیسی چهٹیاں گزر رہی ہیں .
بہت اچهی …
چلو یہ تو بہت اچهی بات ہے .اچهے سے انجوائے کرو چهٹیاں
تهینک یوں سر .
موہد میں نے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے .
جی سر بولیں ..
نہیں .تم میرے گهر جاو پشاور …وہاں آپ سے آپکی آنٹی بات کرین گی
میں سمجها نہیں سر ..
ہاہاہا وہ ماہ کی ماما نے ..آپ کو دعوت پر بلایا ہے جب انهیں پتا چلا کہ تم .یہاں ائے ہو ..تو انهوں نے سوچا چلو اسی بہانے تم سے باتیں بهی ہو جائیں گی
جی ضرور سر شکریہ میں جاتا مگر
اگر مگر کچھ نہیں یہ میرا آڈر ہے ..جیسے جنرل جلال نے کہا وہ آگے سے خاموش ہو گیا
لگتا ہے ..ماہ نے سر کو بتا دیا ہے ….اسنے فون رکهتے ہوئے کہا
اسنے فون سامنے رکها اور گاڑی کا یو ٹرن لیا .
کہ اچانک سامنے شانزے کا ٹکراو .اسکی گاڑی سے ہو جاتا ہے
ایم ..سوری ..مجهے پتا نہیں چلا .موہد نے گاڑی سے نکلتے ہوئے کہا
ارے نہیں ..نہیں اس میں سوری والی کیا بات ہے ..یہاں کهڑی ہوں
اور ماریں ..نشانہ لگائیں اور دے مارے مجهے .شرم تو آپ میں ہے ہئ
شانزے نے غصے سے کہا
دیکهیے میں آپ سے جهگڑنا نہیں چاہتا لیکن .اگر آپ کا دل کر رہا ہے تو یہ میرا کارڈ رکهه لیں جب فارغ ہوں گا تو صیح طرح جهگڑا کریں گے
ہاں ضرور لایے دیں ..ساتھ چهیدے ..گنڈے کو بهی ساتھ لاوں گی
شانزے نے موہد کے ہاتھ سے کارڈ پکڑتے ہوئے کہا
لفنگے ..کہی کے
کیا کہا …آپ نے
میں نے ..
جی آپ نے .ابهی کچھ دیر پہلے کیا کہا
آپ کو کہا تها
جی ..مجهے ہی
چلیں بہر حال اپ نے سن ہی لیا میں نے آپ کو کیا کہا ہے اسلیے میں رپیٹ نہیں کروں گی وہ یہ کہتے ہوئے ٹیکسی میں بیٹھ گئ
نہایت ہی بدتمیز لڑکی ہے یہ موہد گاڑی میں بیٹھ گئ
************************
ارمینہ کی جان …بہت انتظار کروایا تم …نے ارمینہ نے سامنے کهڑے مقبول صورت نوجوان کو گلے لگایا
______
اسلام و علیکم خالہ جان زوہاب نے ارمینہ کے گلے لگتے ہوئے کہا
و علیکم اسلام .خالہ کی جان بہت انتظار کروایا تم نے
“بس خالہ ماما کا تو آپکو پتا ہے . “
ہاں ہاں پوری طرح واقف ہوں میں ترنم سے ..وہ ایسے ہی کرتی ہے ہر کام میں دیری
اچها تم آو بیٹهو .ارمینہ نے نشست گاہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
جی ضرور .زوہاب ارمینہ کے نقش قدم چلتا ہوا نشست گاہ میں داخل ہوا
انکل کہاں ہین وہ دیکهائی نہیں دے رہے زوہاب نے اردگرد دیکهتے ہوئے کہا
ہاں بیٹا مرتضی صاحب اسلام آباد گئے ہیں کام کے سلسلے میں ارمینہ نے نرم لہجے سے جواب دیا .
بزنس تو سکندر سنبهالتا ہو گا ..سوال جهٹ سے پوچها
ہاں بیٹا ظاہر ہے وہی سنبهال رہا ہے راحب کے جانے کے بعد .ابهی یہی گفتگو جاری تهی کہ اسی دوران امل ٹرے میں چائے بسکٹ وغیرہ لیے کمرے میں داخل ہوئی .
جیسے وہ کمرے میں داخل ہوئی .وہ اپنی نظریں نہیں ہٹا پایا
ایسا لگا جیسے .ساری دنیا کی چیزیں یک دم ساکت ہو گئ ہوں .
وہ ہلکے ٹی پینک فراک اور چورے دار پاجمے مین ملبوس تهی کالے گهنے بالوں کی کچھ لٹیں .اسکے ماتهے کے سامنے آرہی تهی ..نظریں جهکی ہوئی اسنے ایک مرتبہ بهی زوہاب کی طرف آنکھ اٹها کر نہیں دیکها تها .
آ گیا ..میرا دشمن .جیسے سکندر نے کہا ..زوہاب .مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا ..اسکا دهیان امل سے اوجهل ہوا .
امل اتنی دیر تک سب چیزیں میز پر رکھ رہی تهی . “بچپن میں تهے دشمن سکندر اب تو ہم بہت اچهے کزن ہیں کیوں خالہ زوہاب نے مذاق کرتے ہوئے کہا .
ہاں ..ہاں پتا ہے ..مجهے کتنے اچهے کزنز ہو تم دونوں ..ارمینہ نے قہقا لگایا ..
چائے ..امل نے جیسے کہا .زوہاب اسکی طرف متوجہ ہوا
تهینک یوں ..
امل نے ارمینہ کو چائے کا کپ پکڑانے کے بعد سکندر کو چائے کا کپ پکڑانے کے لیے اسکی طرف بڑهی
“کافی ” سکندر نے چونک کر اسکی طرف دیکها ..
“کافی” اور مدهم آواز میں کہا
جی مجهے لگا آپ کہاں چائے پیتے ہوں گے .
آپ کا تعارف ..
زوہاب نے ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو توڑتے ہوئے کہا
وہ جهٹ سے پلٹی
او یہ امل سکندر ہے ..سکندر کی وائف جیسے ارمینہ نے کہا
زوہاب نے بڑے غور سے اسکی طرف دیکها ..
سکندر .اسکی انکهوں کو مشائدہ کر رہا تها جیسے وہ امل کو ٹک نگاہ سے دیکھ رہا تها .
او ائے امل آپ بهی ہمارے ساتھ بیٹهے ..
زوہاب کے اصرار کرنے پر اسے مجبورا قریب صوفہ پر بیٹهنا پڑا
سوری میں آپ کو پہچان نہیں پایا .
وہ مسلسل اپنے ہاتهوں کو مسل رہی تهی کیونکہ اسے معلوم تها سکندر کو بہت غصہ آ رہا تها
اٹس اوکے اسنے مدهم آواز سے کہا
اینی ویز ..آپ چائے بہت اچهی بنا لیتی ہیں ..
اور مجهے تو لگتا ہے کہ آپ کو ..ابهی زوہاب کہنے ہی لگا تها کہ سکندر نے بات کاٹی
ہاں امل کو بہت کچھ بنانا آتا ہے بہت کچھ بنا لیتی ہے یہ ..اور اگر اچها نہ بنے تو ..ہمت نہیں ہارتی کوشش جاری رہتی ہے
سکندر نے طنزا کہا .
سکندر صاحب ..انکا خیال رکها کریں جیسے زوہاب نے کہا وہ مسلسل اسکی طرف دیکه رہا تها ..
سکندر کا دل کر رہا تها کہ وہ زوہاب کی آنکهوں کو کہی گم کر دیں .
پتا نہیں اسے کہوں برا لگ رہا تها ..زوہاب کا امل کو دیکهنا
ا..امل سکندر نے اٹکتے ہوئے کہا
جی .
کمرے میں آنا ..میری کچھ فاعلز ہیں وہ کہاں رکهی ہیں بتا دو مجهے
فاعلز ..امل نے زور دیتے ہوئے کہا ..کیونکہ سکندر نے آج تک اسے کام کرنے کے لیے نہیں کہا تها ..پهر وہ ایسے کیوں بول رہا تها
جی میں آئی ..وہ یہ کہتے ہوئے آٹھ گئ
******************
کیا لینے گئ تهی تم وہاں
سکندر نے کهینچ کر اسے اپنے نزدیک کیا
کیا ہوا ہے سکندر
میں نے کچھ پوچها ہے انجان بننے کا ناٹک مت کرو میرے سامنے کیوں گئ تهی زوہاب کے سامنے بولو .
سکندرنےاپنی گرفت مضبوط کی .
وہ ..ماما نے چائے کا کہا تها .
اچها ..سارے گهر کے سروینٹس مر گئے تهے جو تم ہر کام کرتی پهر رہی ہو ..کوئی سروینٹ بهی لے جا سکتا تها
میں سمجهی نہئں
تم سمجهو گی بهی نہیں ..
کیا ہوا ہے سکندر .آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ..
بکواس بند کرو میرے آگے سوال مت کیا کرو ..اور ایک بات زوہاب کے سامنے اگر پهر گئ نہ تو مجه سے برا کوئی نہیں ہو گا
سکندر نے اسے پهیچے کیا .جیسے سکندر نے امل کو جهٹکا . اسکا سر پیچهے میز سے لگا
اور وہ بنا کچھ کہے باہر چلا گیا
*************************
کر آئے رشتہ پکا اپنا
نہیں تو ..بس بات ہوئی ہے ..موہد مسکرایا
اچها .بڑا خوش ہو رہا ہے سالے تو بهی آ اس شادی کی زنجیر میں پهر دیکهنا کیا ہوتا ہے
ہاہاہا میں تمهارے جیسا نہیں ہوں جو اتنی اچهی بیوی ہونے کے باوجود اسکے ساتھ اسطرح کا سلوک کرہے ہو
تم ہر بات میں اسے کیوں لے کے آتے ہو
سکمدر نے غصے سے کہا
اچها بابا نہیں کرتا امل کی بات علی نے چہچہاتے ہوئے کہا
سکندر تمهیں پتا ہے آج میری کار کا ایکسیڈنٹ ہوا کیسی لڑکی سے اور تم سوچ بهی نہیں سکتے وہ لڑکی کس قدر بدتمیز .تهی
ہاتها پائی ہوئی
نہیں گفتگو جنگ ہوئی تهی ..موہد نے تجسس سے کہا .
اچها
جی بلکل ایسا ہوا تها
***************************
ایک منٹ یہ میری شرٹ کا بٹن دیکھ دیں پلیز زوہاب نے نرمی سے کہا
وہ ہچکچا رہی تهی
آپ کو اگر نہیں آتا تو نیور ماینڈ میں خالہ سے کہہ دیتا ہوں
ارے نہیں زوہاب میں کر دیتی ہوں
وہ مسکراتے اسکی طرف دیکه رہا تها ..اسی دوران سکندر داخل.ہوا جہاں اسنے امل کو زوہاب کے قریب دیکها اسکے قدم وہی منجمد ہو گے…
