Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat Sy Muhabbat (Episode 01)

Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan

نفرت وہ ہوائیں ہیں جو ایک دفعہ چلنا شروع ہو جائے تو اپنے بس میں سب چیزوں کو اڑا کر لے جاتی ہیں مضبوط سے مضبوط رشتوں کو کمزور بنا دیتی ہیں اور اگر محبت کی ہواوں میں نفرت کی ہوائیں داخل ہو جائیں تو محبت کی ہواوں کو اپنے شک کے ذرات سے مائیلا کردیتی ہیں اور محبت کو ایک ایسے مور پر لاکر کھڑا کردیتی ہیں جہاں پر صرف دھول ہوتی ہے صرف دھول نفرت کے بچھائے گئے شک کے ذرات کی دھول لیکن ضروری نہیں ہر رشتہ شک کی بنا پر ٹوٹ جاتا ہے کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے وقت لگتا ہے کیونکہ ان میں نفرت ہوتی ہے جو رشتوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتی ہیں جہاں پر محبت کا امکان دور ہوتا ہے جہاں پر رشتہ تو ہوتا ہے مگر پیار کا ،احساسات کا، رشتہ نہیں ہوتا جہاں پر درد تو ہوتا ہے مگر سہنے والا ایک ہوتا ہے محبت کے راستے اور نفرت کے راستے دونوں الگ ہوتے ہیں مگر اگر انکی منزلیں ایک کر دی جائیں تو شاید محبت جیت جائے مگر محبت تو وہ بازی ہے جو جیتی ہوئی بازی کو ہارادیتی ہے اور کچھ داستانیں ایسی ہوتی ہیں جن میں صرف نفرت ہوتی ہے صرف نفرت

وہ لائٹ بلیو فراک میں ملبوث جسکی لمبائی نے اسکے گھٹنوں تک تھی کالے گھنے لمبے بال جو رات کی تاریکی کی مانند اپنی کشش بکھیر رہے تھے جنہیں کندھوں سے نیچے کیسی انچل کی طرح کھلے چھوڑے ہوئے اور کچھ زلفیں اسکے رخ پر پڑتی لیکن وہ اپنے نازک ہاتھوں سے اسے بار بار سمیٹ لیتی بڑی بڑی موٹی آنکھیں جس پر پلکوں کا پہرا تھا تیخے نقوش جن پر شرم و حیاء کا پردہ تھا جلدی ۔جلدی دیکھیں ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے جلدی سب کام کریں کھانا اچھے سے پیک ہونا چاہیے وہ یہ کہتے ہوئے ان عورتوں کو جو بڑئ بڑی دیئگوں سے کھانا نکال کر بکس میں ڈال رہی تھی انھیں دہانی سے پرکھ رہی تھی جیسے وہ عورتیں امل کی آواز سنتی انکے چہروں پر ایک الگ سی مسکراہٹ آجاتی اور اپنے کام میں پہلے سے زیادہ جوش لاتی ۔ دھیان سے شعلہ امل نے ساتھ کھڑی لڑکی کو کہا جو گرم گرم دال بکس میں ڈال رہی تھی جی آپی” شعلہ نے ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کہا امل مسکرائی اور ساتھ انکی مدد کرنے لگی

———————————————————-

لو بیٹا سب کچھ ہو گیا ایک ادھیڑ عمر کی خاتون امل کے نزدیک کھڑی تھی جو اپنی زیر نگرانی سارا کھانے کے بکسسز گاڑی میں رکھوا رہی تھی شکریہ خالہ جان یہ سب آپ لوگوں کی وجہ سے ہوا ہے امل نے مسکراتے ہوئے کہا

ارے بیٹا اس میں شکریہ والی کیا بات ہے جب اتنی اچھی کئیر ٹیکر مینجر ہو کام تو اچھا ہو گا نہ خالہ جان نے سرہاتے ہوئے کہا نہیں نہیں خالہ جان کیوں شرمندہ کر رہی ہیں میں آج جو بھی ہوں آپ سب کی وجہ سے ہی ہوں ویسے بھی ہماری فوڈ فیکڑی میں کام کرنے والا ہر ورکر نہایت ایمانداری اور محنت سے کام کرتا ہے اسی بدودلت اج ہماری فوڈ فیکڑی سب سے زیادہ مشہور مانی جاتی ہے امل اپنے گرد چادر اوڑتے ہوئے کہہ رہی تھی ساتھ ساتھ وہ خالہ جان سے مخاطب تھی اچھا خالہ اب میں چلتی ہوں نہیں تو لیٹ ہو جاوں گی ویسے بھی اج بوس نے نیو کنڑیکٹ دیا ہے کیسی آفس کا انکے ورکرز کو بھی لنچ پہچانا ہے

خوش رہو بیٹا اللہ تمھیں خوش رکھے ۔خالہ جان نے دعا دیتے ہوئے کہا ۔

امل جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کے اندر بیٹھ گئ چلیں خان بابا گاڑی سٹارٹ امل کی ہدایت پر خان بابا نے گاڑی سٹارٹ کردی

****************************

بس کردیں مرتضی صاحب چھوڑ دیں بچارے کو ارمینہ بیگم نے ہمدردی بڑے لہجے میں مرتضی صاحب کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے کہا جو بڑے غصے سے کچھ دیر پہلے فون میں کیسی سے مخاطب تھے

پلیز آپ ان معاملات میں مت پڑئیے آپ نہیں جانتی ان لوگوں کو غریبی کا ڈنڈورا پیٹھ کر کام کرنے آتے ہیں اور آخر میں جس تھالی میں کھاتے ہے اسئ میں ہی تھوکتے ہیں

مرتضی صاحب کی آواز میں غصے کی لہر دوڑی تھی ۔

چوری کا معاملہ ہے ارمینہ نے حیرت سے پوچھا

جی اگر پیسوں کی کوئی چھوٹی موٹی چوری ہوتی تو میں جانے دیتا لیکن آفس کے ریکارڈ کی چوری کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ میں ہرگز برداشت نہیں کر سکتا ہاں یہ تو بہت برا کام کیا ہے اسنے لیکن پھر بھی مرتضی صاحب اسکی فیملی کا سوچ کر اسپر بھوج ڈالیے گا جو وہ برداشت کر پائے ارمینہ نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا

آپ کے لیے چائے لاوں

جی لا دئیں ۔اور راحب نکل گیا ہے نہ

مرتضئ صاحب یقین دہانی کرواتے ہوئے پوچھا

ہاں وہ تو ایک گھنٹے پہلے ہی نکل گیا تھا

سارا سامان دھیان سے لے گئا ہے ناں اور سکیورٹی ساتھ ہے اسکے

ہاں ہاں سارے گارڈز اسکے ساتھ ہیں آپ فکر نہ کریں ارمینہ بیگم کے چہرے پر سکون کی لہر دوڑی اور وہ کمرے سے باہر روانہ ہو گئ

**********************

خان بابا کیا ہوا گاڑی کیوں روک دی امل نے حیرت ست خان بابا کی طرف دیکھا

بیٹا مجھے لگتا ہے ہمیں روکنا پڑے گا خان بابا نے مایوسی سے کہا

مگر کیوں ؟

وہ آگے دیکھیں مرتضی صاحب کی گاڑیاں کھڑی ہے لگتا ہے انکی کوئی گاڑی خراب ہوئی ہے

جیسے امل نے سنا اسے اسقدر غصہ آیا

گاڑی انکی خراب ہے تو ہمارا اس سے کیا لینا دینا

بیٹا دیکھو آگے جانے کی جگہ تو ہے نہیں ساری گاڑیاں انکی پیچھے کھڑی ہیں

ایسے کیسے میں ابھئ دیکھتی ہوں امل غصے سے گاڑی سے نکلی

او بھائی صاحب ۔۔شیشہ نیچے کرو

ڈرایئور نے شیشا نیچے کیا

او بھائی صاحب کیا ہوا ہے آپ لوگوں کو سڑک کیوں ساری ملی ہوئی ہے آپ لوگوں نے پتا ہے بڑے رئیس زادے ہیں

مگر کوئی تمیز ہوتی ہے اب پہچھے کھڑے لوگوں کا کیا قصور ہے گاڑی تم لوگوں کی خراب ہوئی ہے جیلنا ہمیں پڑ رہا ہے اپنی گاڑی پیچھے کروائیں

یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ میڈم لگتا ہے آپکا دماغ ہل گیا ہے

دماغ میرا نہیں تم لوگوں کا ہلا ہے جو اتنی ساری گاڑیاں اٹھا کر لے آئے ہو بندی ایک گاڑی لاتا ہے مگر آپ تو سارا کا سارا شو روم اٹھا لائے

دیکھیے میڈم گاڑیاں تو پیچھے نہیں ہٹیں گئ

ارے کیسے نہین ہٹے گی امل زور سے بولی

میڈم آئستہ آواز میں بات کریں صاحب بات کر رہیں ہیں

کہا ہے تمھارا صاحب بتاو کرتی ہوں اس سے بات میں بھی

وہ گاڑی کے بیک سیٹ پر بیٹھا تھا بلیک پینٹ کورٹ میں ملبوس آنکھون پر کالا چشما جو کیسی سے فون پر بات کرہا تھا

او بوس صاحب زرا ادھر دھیان دئیں جیسے امل نے کہا

راحب نے امل کی طرف جیسے دیکھا اسنے فون نیچے رکھا اور آنکھوں سے چشمے کا پہرا ہٹایا

___________

راحب امل کی طرف متوجہ ہوا جو اب اسکی سائیڈ کے شیشے کی طرف کھڑی تھی

سو بوس ! اگر آپ کی باتیں ختم ہو گئ ہوں تو کچھ یہاں پر بھی توجہ فرمائیں دیکھیں میں نے آپ سے کوئی فضول بحث میں نہیں پڑنا اور نہ ہی میرے پاس وقت ہے بس اتنی ہی عرض ہے یہ جو آپ نے شالامار ٹرین اپنے پیچھے کھڑی کی ہے مہربانی کر کے اسے پیچھے ہٹائیں اور پیچھے کھڑے لوگوں کو آگے آنے دیں ۔اور ویسے بھی یہ کیا تک بنتا ہے اتنی زیادہ گاڑیاں اٹھا لانے کا پتا ہے ہمیں آپکے پاس بڑی گاڑیاں ہیں بندہ ایک ایک کر کے لاتا ہے لیکن نہیں آپ لوگ تو اتالوے ہو گئے کہ پورا شو روم سر پر اٹھا لائے اور دوسرے بیچارے لوگوں کو راستہ روک کے رکھا ہوا ہے

امل مسلسل بول رہی تھی اور راحب مسلسل اسے غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔

ہیں عجیب بندے ہیں آپ بھی میں تب سے آپکو کہہ رہی ہوں گاڑی پہچھے ہٹانے کا اور آپ ۔ہیں کہ خیالوں میں کہی گم ہو گئے ہو ۔

اوکے میں کروا دیتا ہوں راحب کے لہجے میں سکون اوری تھی گہری آواز ۔

جی بہت بہت شکریہ ہو گا اگر آپ یہ احسان کردئیں گے تو ہم اپ کے بڑے شکر گزار رہے گے ویسے بھی آپ لوگوں نے تو جانا نہیں ہے کم از کم ہمیں تو جانے دیں

امل یہ کہتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹی گاڑی کا دروازہ کھولا ۔اسکا ایک قدم گاڑی سے باہر تھا جب وہ ساتھ اپنے کورٹ کو سیدھا کرتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلا ۔یک دم ساری فضا میں خوشبو چھا گئ امل کے منہ کا زاویہ بدلہ ۔

جیسے سارے گارڈز نے راحب کو باہر دیکھا وہ سب اپنی گاڑیوں سے نکل آئے

سب کچھ ٹھیک ہے سر ان میں سے ایک گارڈ نے کہا راحب نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے انھیں گاڑی میں بیٹھنے کا کہا ۔

او مسٹر میں نے آپ کو یہاں الیکشن لڑنے کے لیے کھڑا نہیں کیا پلیز گاڑیاں پہچھے کروادیں ۔میں لیٹ ہو رہئ ہوں ۔اب کی بار امل نے اپنے دوپٹے کی مدد سے اپنے ناک کو ڈھانپا ہوا تھا وجہ راحب کی لگائی ہوئی خوشبو تھی جو اسے بلکل بھی پسند نہیں تھی ۔

جیسے راحب نے امل کی بات سنی وہ ہلکا سا مسکرایا ۔

اوکے جیسا آپ چاہے ۔راحب نے یہ کہتے ہوئے ایک اشارہ کیا ۔کہ سب گاڑیوں نے راستے چھوڑ دیے ۔۔۔

امل نے یہ دیکھتے ہوئے سکھ کا سانس لیا اور وہاں سے جانے لگی تھی کہ پھر رک گئ ۔۔۔

مڑی اور راحب کی طرف دیکھا جو مسلسل اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔شاید اسے یقین تھا کہ وہ اسے پلٹ کر دیکھے گی اسلیے اسکے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ ۔

پلیز ایک میری بات مان لی جئیے ۔اتنی گاڑیاں نہ لے کر نکلا کریں کچھ نہیں ہوتا آپ لوگوں کو جب تک اللہ ساتھ ہو ۔

اور پلیز

اپنے ان نکمے ڈرائیوروں کو بھی کچھ ہدایت دے دیں کہ لڑکیوں سے کیسے باتیں کرتے ہیں امل نے یہ کہا اور اپنی گاڑی کی طرف روانہ ہو گئ ۔

نام بتایا ؟ راب نے نرم دار اور مسکراتے ہوئے لہجے میں ڈرائیور سے پوچھا

جی نہیں سر اسکی اواز میں ہچکچاہٹ تھی ۔

یہ سنتے ہی وہ ایک بار پھر مسکرایا ۔۔۔اور گاڑی میں واپس بیٹھ گیا

(او مسڑ میں نے آپکو یہاں الیکشن لڑنے کے لیے کھڑا نہیں کیا ۔)راحب نے بے اختیار امل کی بات پر قہقا لگایا ۔اور دھیمے لہجے سے کہا

مسڑ ۔۔

*****************************

میں کہہ رہی ہوں اجمل صاحب اب روز روز میں منہوس کی موجودگی یہاں پسند نہیں کروں گی عالیہ بیگم نے غصے سے سبزی کاٹتے ہوئے کہا

دیکھو عالیہ بیگم مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے اسے گھر رکھنے کا آگے گھر کے خرچے پورے نہیں ہوتے اور ویسے بھی وہ کونسا ہم پر بھوج بن رہی ہے خود کا کماتی ہے اور ہمیں بھی لا کر دیتی ہے میں تو کبھی اسے گھر نہ رکھتا اگر یہ بھائی فرقان کی بیٹی نہ ہوتی ویسے بھی جو ہماری سگی اولاد ہے وہ تو کچھ کرتی نہیں ہے ارحم سارا دن اوارہ گردی کرتا رہتا ہے اور شانزے کو سونے کے علاہ اور کوئی کام نہیں ہے ۔

اجمل صاحب کی بات سنتے ہی عالیہ بیگم کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور انھوں نے کاٹی ہوئی سبزی کو نیچے رکھا اور غصے سے اجمل کی طرف دیکھا

مجھے پہلے ہی پتا تھا آپ کو کہاں اپنی سگی اولاد سے لگاو ہے ہمیشہ انکی بکھتویاں کرتے رہتے ہیں اور جانتی ہوں ان سب کے پیچھے اس امل بیگم کا ہئ ہاتھ ہے ۔

************************

کیا یہ مرتضی صاحب کا آفس ہے خان بابا نے آفس کے باہر مین گیٹ پہ کھڑے چوکیدار سے پوچھا

جی یہی ہے کہیے ؟

وہ ہم فوڈ فیکڑی کی طرف سے ڈیلوری کرنے آئے ہیں ۔

خان بابا نے وضاحت دی

او اچھا ۔۔۔چلیں ٹھیک ہیں آپ لوگ اندر آ جائیں ۔

جیسے چوکیدار نے کہا وہ جلدی سے اپنی گاڑی لیے انکے آفس کے پارکنگ میں گاڑی کھڑی ۔

امل گاڑی سے نکلی

خان بابا آپ ایسا کریں یہ سب کھانے کے بکسسز ۔اندر لے آئیں ۔

میں اس آفس کے اونر سے بات کر لیتی ہوں

امل یہ کہتے ہوئے آفس کے اندر داخل ہو گئ ۔۔

آفس کا مینجر ۔امل کو آفس کے اونر کی کیبن کی طرف لے گیا ۔

جیسے ہی امل نے دروازہ کھولا وہ وہی دھک کھڑی رہی گئ

__________

امل کے پاوں وہی منجمد ہوگئے ۔جب اسنے اسی شخص کو اپنے سامنے پایا جس سے کچھ دیر پہلے وہ اچھی خاصی بحث کر چکی تھی اب واپس جانے کا کوئی امکان بھی نہیں تھا تو مجبورا اسے اندر آنا پڑا

راحب نے جیسے امل کو دیکھا وہ بے اختیار اپنی چیر سے اٹھ کھڑا ہوا اور ٹک نگاہوں سے امل کے چہرے کو دیکھنے لگا ۔

کیا میں بیٹھ سکتی ہوں امل نے پہل کی

جی جی ضرور بیٹھیے راحب نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

امل نے اپنے چہرے کے تاثرات کو بدلنا چاہا ۔وہ راحب کے ساتھ فیس ٹو فیس ہو کر بات کرنا چاہ رہی تھی مگر ہر بار وہ ناکام ہو جاتی ۔

راحب اسے مسلسل بغیر پلک جھپک اسے دیکھ رہا تھا ۔

سر میں فوڈ فیکڑی کی طرف سے ہوں

مینجر ہوں میں اس فیکڑی کی تو اسکے مطابق آپکے آفس کا ہماری فیکڑی کے ساتھ جو فوڈ سپلائی کا معائدہ ہوا تھا ۔آج اسکا پہلا دن تھا

میں امید کرتی ہوں کہ اپ کے آفس کے ورکرز کو کھانا اچھا لگے گا ۔تو اس حوالے سے میں آپ سے کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری فیکڑی کا ایک اصول ہے ہم جس بھی کمپنی کے ساتھ کنڑیکٹ کرتے ہیں ان سے ایڈوانس لے لیتے ہیں ۔آپ بہتر سمجھ سکتے ہوں گے میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں

امل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا اسکی نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھی

راحب اسے مسلسل دیکھ رہا تھا ۔۔ اور ساتھ ہلکا سا مسکرا دیتا

ویل آپ مینجر ہیں فیکڑی کی تو پھر مجھے لگتا ہے کوئی پروبلم نہیں ہو گی کھانے میں ۔آپ ایسا کریں یہ ایڈوانس ۔ابھی لے لیں ۔

راحب نے چیک آگے کرتے ہوئے کہا

امل چونکی

سر آپ پہلے دیکھ تو لیں ایک دفعہ کھانا ٹرائی تو کرلیں

امل نے حیرت سے کہا

وہی تو میں کہہ رہا ہوں ۔مجھے آپ پر پورا بھروسہ ہے

وہ تحمل سے بولا

بھروسہ ؟ امل ہنسی ۔5 منٹ کی ملاقعات کو آپ نے بھروسے کا نام دے دیا ۔میرے خیال سے آپ جلدی بھروسہ نہیں کر لیتے ۔

خیر سب پر تو نہیں کرتا ۔سوائے کیسی کیسی کہ ان میں شاید آپکا بھی شمار ہے ۔

راحب نے دھیمے لہجے میں کہا

میں سمجھی نہیں امل پریشان ہوئی ۔

کچھ نہیں راحب نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا ویسے میرے خیال سے ہماری ملاقعات پہلے ہو چکی ہے اسنے اور موضوع گفتگو شروع کیا ۔

میرے خیال سے نہیں ہوئی ہے میں تو آپ کو پہلی دفعہ دیکھ رہی ہوں امل نے بہادری سے کہا

راحب نے اس بات پر قہقا لگائا ۔

لگتا ہے آپ کو یاد نہیں ۔

میرے خیال سے مسڑ ۔۔۔۔۔امل رک گئ ۔ امل کو راحب کا نام ابھی تک معلوم نہیں تھا

وہ بولا ۔راحب

جی مسڑ راحب میں یہاں اپ سے ڈیلنگ کرنے آئی ہوں نہ کہ تعلاقات کی باتیں کرنے کے ہم کہاں ملے تھے ۔ آپ کل تک دیکھ لیں اور اگر کھانا اچھا لگے تو کل ہماری فیکٹری کو ایڈوانس ڈیپوزل کرو دیجیے گا شکریہ

وہ یہ کہتے ہوئے ۔کرسی سے اٹھی ۔

آپ کو برا لگا ہے ؟ جیسے راحب نے سوال کیا وہ وہی رک گئ ۔

میں کچھ نہیں کہہ سکتی ۔کیونکہ میری زندگی میں انجان لوگوں کی اتنی جگہ نہیں ہوتی

امل نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گئ

۔۔۔پاگل ۔یہ کیا کر دیا تو نے راحب نے اپنے دانت پینچتے ہوئے کہا ۔

سر یہ فاعل چیک کرلیں ۔

سر ۔

سامنے کھڑے مینجر نے دو تین دفعہ کہا ۔راحب اچانک اسکی طرف متوجہ ہوا

سر آپ ٹھیک تو ہے نہ

ہاں ۔۔۔لاو ۔مجھے دو میں دیکھ لیتا ہوں راحب نے مینجر کے ہاتھوں فاعل لی پھر کچھ یاد آنے پر اسنے مینجر کو روکا

شاہین روکو راحب کی آواز لگانے پر وہ وہی رک گیا اور پلٹ کر ایک دفعہ پر متوجہ ہوا

جی کہیے سر ؟

وہ ۔۔جو فوڈ فیکڑی سے کھانا آیا تھا ۔کیسا ہے ۔

راحب نے تشویش کی

یس سر سوری میں بتانا ہی بھول گیا سب ورکرز کو کھانا بہت اچھا لگا ہے ۔۔اپ اس فیکڑی کی مینجر سے بات کر لیں ۔

یہ تو بہت اچھی بات ہے اور وہ جو انکی مینجر آئی تھی انکا نام کیا ہے ؟

انکا نام ۔۔انہوں نے اپنا نام امل بتایا ہے امل نور ۔۔

اوکے امل ۔۔۔راحب نے مدھم آواز میں کہا ٹھیک ہے پھر تم جاو میں دیکھ لیتا ہوں

کچھ لوگ ۔کچھ کہے بنا ایسے ہماری زندگی میں قدم رکھ دیتے ہیں جن کے بارے میں جاننا ۔ایک وجہ سی بن جاتی ہے پتا نہیں اس میں ایسی کیا بات تھی جو میری نظر اسکے چہرے سے ہٹتی نہیں تھی میں جتنا بھی اس سے دھیان ہٹانا چاہوں لیکن نہیں ہٹا پارہا کیوں ۔مجھے بار بار اسکی باتیں یاد آرہی ہیں ۔

راحب کچھ دیر اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو گیا ۔۔۔اور بے اختیار اسنے اپنے دل پر ہاتھ رکھا ۔

مجھے محبت ہو گئ ہے اس سے ۔۔۔شاید ۔۔۔پتا نہیں ۔وہ خد کے سوالوں میں الجھ گیا..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *