Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat Sy Muhabbat (Episode 17)

Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan

امل پلہز ایسا مت کہو ۔سکندر نے امل کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑا

سن آئے میرا سچ ۔اور آگیا ترس مجھ پر یہ ہے پیار تمھارا سکندر مرتضی جب گندی تھی ۔۔تو نفرت اور اب سچائی کا ٹھپا لگا تو ۔۔محبت کے دعوے کرنے لگے ہو ۔۔اگر اتنی محبت تھی تو تب کرتے محبت مجھ سے جب میرے کردار پر انگلی اٹھاتے تھے ۔۔اسوقت کرتے جب مجھے طلاق کا کہا تھا

سکندر ابھی کچھ کہتا کہ ارمینہ آ گئ ۔۔

کیسی ہو میری جان ارمینہ نے جلدی سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا سکندر خاموشی سے باہر چلا گیا

___________________

کیا کہا اسنے نے موہد نے تجسس سے ہوچھا

کہا ہے اب اسے مجھ سے محبت نہیں رہی سکندر کے الفاظ مین درد صاف جھلک رہا تھا

موہد پتا نہیں جب اسنے مجھے کہا تو کس قدر درد ہوا مجھ کو ۔میں بتا نہیں سکتا یار

میں تو اس سے نفرت کرتا تھا پھر محبت کیسے ہو گئ ۔۔سکندر نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ دیا

ہوتا ہے میرے یار دیکھ کیسے آج محبت نے سکندر مرتضی کو اپنا فقیر بنا دیا ۔۔میں نے کہا تھا تمھیں سکندر یہ محبت بڑی ظالم شے ہے اسکے اگے سب کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں ۔

اگر اسنے مجھے چھوڑ دیا موہد ۔۔تو میں مر جاوں گا ۔۔سکندر نے اپنے چہرے کو ہاتھون سے مسلا ۔

محبت کرتے ہو موہد نے بے اختیار پوچھا

ہاں ۔۔بہت زیادہ ۔۔ جواب شدت سے تھا

تو پھر اسے طلاق کا کیوں کہا ۔۔موہد نے کڑوا سوال کیا

کوئی تھی تمھاری زندگی میں ۔۔جو اسے طلاق کا کہہ دیا

نہیں ۔۔موہد میری زندگی میں صرف ایک لڑکی آئی اور وہ صرف امل تھی ہے اور رہے گی پتا نہیں تب میں غصے میں تھا ۔۔مجھے نہیں معلوم میں کیا کہہ گیا مجھے ایسے نہیں کہنا چاہے تھا لیکن ۔۔پتا نہیں امل کو زوہاب کے ساتھ دیکھ کر مجھے بہت برا لگ رہا تھا بہت زیادہ پھر کب میں نے یہ بول دیا ۔۔دھیان نہیں رہا سکندر نے بے چینی سے کہا

یہی بات سکندر خدا کے لیے اس غصے پر تھوڑا قابو رکھو جیسے کما ن سے نکلا تیر واپس نہیں آتا ایسے ہی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ۔۔اور تمھیں اندازہ بھی ہے کس قدر تکلیف ہوئی ہو گی امل کو ۔۔جب تم نے اسے کہا

کہہ رہا ہوں نہ ہو ۔۔۔گیا ۔۔۔اسنے فکرایا انداز میں الجھتے ہوئے کہا

کیا ہو رہا ہے سکندر ۔۔الجھے کیوں ہو؟

اسے مجھ سے محبت نہیں ہے میری محبت کو مجھ سے محبت نہں ہے ۔۔۔موہد اور تم کہہ رہے ہو کیا ہوا ہے مجھے ۔جب ماہا تمھیں یہ کہے نہ تو پھر دیکھنا ۔۔سکندر نے غصے سے کہا

موہد نے بے اختیار قہقا لگایا

اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے ۔۔جیسے موہد نے کہا ۔سکندر فورا بولا

کمینے تو میرا مذاق اڑا رہا ہے

___________________

آپ چلی جائیں میں امل کے پاس رہوں گا ماما ۔۔۔ارمینہ نے بولنا چاہا لیکن سکندر نے انھیں منع کر دیا

ٹھیک ہے بیٹا لیکن امل کا دھیان رکھنا

جی ۔۔سکندر نے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔

اور روم میں داخل ہوا ۔۔وہ سوپ پینے کی کوشش کر رہی تھی ۔

روکو میں مدد کرتا ہوں ۔۔۔جیسے سکندر نے کہا امل فورا بولی

نہیں مجھے نہیں پینا ۔۔

ارے ابھی تو تم پینے لگی تھی لاو مجھے دو ۔سکندر نے آگے ہاتھ کیے

نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔ امل نے غصے سے کہا

مسسز سکندر کافی غصہ کر لیتی ہیں ۔۔لیکن اچھا نہیں لگتا اپ پر ۔۔اوکے اگر سوپ نہیں پینا تو ۔۔۔کالی کافی لاوں ۔۔جو آپ میرے لیے بناتی تھی

جیسے سکندر نے کہا ۔۔امل نے سکندر کو غورا

آپ میری کافی کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔۔

نہیں تو میں نے کب کہا ۔۔۔اسنے مزاحقکہ خیز لہجے میں کہا

آپ ہی پیے اپنی کالی کافی ۔کالے ہی کپڑے کالا کمرہ کالا ٹوسٹ ۔۔۔امل نے سڑے ہوئے انداز میں منہ کے زاویے بناتے ہوئے کہا

ارے واہ ۔۔۔آپ کو میری ہر چیز کے بارے میں بخوبی پتا ہے ۔جیسے سکندر نے کہا امل فورا بولی

آپ کی بیوی ہوں میں واقف نہیں ہوں گی تو اور کون ہو گا جیسے امل نے کہا

اسنے فورا ۔۔ بات بدلی ۔۔

ن۔۔نہیں میرے کہنے کا مطلب دوسرا ہے ۔۔

سکندر من ہی من میں مسکرایا

جی میں پچھلا ۔۔جملہ سن چکا ہوں ۔۔جیسے سکندر نے کہا ۔۔اسنے غصے سے آنکھیں بند کر لی

وہ سو چکی تھی ۔۔۔سکندر ابھی تک ۔ اسکے سرہانے چئیر پر بیٹھا ۔۔اسے مسلسل دیکھ رہا تھا

اسنے آگے ہو کر اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا

دیکھتا ہوں آپ کب تک ۔۔مجھ سے ناراض رہیتی ہو ۔۔ویسے حیرانگی کی بات ہے سکندر مرتصی تم ۔۔۔تم ؟ واقعی ۔سکندر نے سوچتے ہوئے خود کو کہا

_____________________

ایک نوجوان ڈاکٹر ہاتھ میں امل کی فاعل پکڑے ۔۔جلدی سے اسکی وارڈ میں آیا ۔۔

آپ مس امل ہیں ؟ ڈاکٹر مسکرایا ۔

جی یہ مسسز سکندر ہیں ساتھ بیٹھے سکندر نے فورا جواب دیا

وہ ڈاکٹر نے حیرانگی سے سکندر کی طرف دیکھا ۔۔ وہ امل کی طرف اسے چیک کرنے کے لیے بڑھا

اپنا ہاتھ دیکھائے ٹمریچڑ تو نہیں ۔۔جیسے اس ڈاکٹر نے کہا

سکندر فورا اٹھا

جی میں دیکھتا ہوں اسنے جلدی سے امل کا ہاتھ پکڑا نہیں نارمل ہے جیسے سکندر نے کہا

ڈاکٹر نے چونک کر سکندر کی طرف دیکھا اور کہا

لیکن آپ مجھے نارمل نہیں لگ رہے ۔

وہ میری بیوی ہے دھیان سے ۔۔اوکے سکندر نے غصے سے کہا

پلہز مجھے اپنا کام کرنے دئین ۔ڈاکٹر نے غصے سے کہا

امل حیران تھی سکندر کے اس رویے کو دیکھ کر

_________________________

خلیل ۔۔۔وہ گھر اتے ہی زور سے چلایا

جی صاحب ۔۔

وہ امل بی بی کے سارے کپڑے گیسٹ روم سے میرے روم میں شفٹ کرو ۔۔ابھی فورا جیسے سکندر نے کہا

وہ فورا بولا

جی ابھی رکھ دیتا ہوں ۔۔۔

جیسے وہ آگے بڑھا ۔۔اسے ہوسپٹل سے کال آئی امل کے ڈسچارج کی ۔

_________

صاحب لائیں میں بھی مدد کر دیتا ہوں سروینٹ نے آگے بڑھ کر کہا

آئیں گی بی بی صاحبہ ۔جیسے اس نے امل کو کہا ۔۔سکندر جلدی سے گاڑی سے نکلا

نہیں ۔۔تم یہ سامان لے کر جاو اندر میں امل کو خود لے آتا ہوں

جی ٹھیک ہے سروینٹ نے کہا اور سامان پکڑ کر اندر کی طرف بڑھ گیا

آو باہر آو سکندر نے اپنا ہاتھ آگے کیا

امل نے ایک نظر سکندر کو دیکھا اور پھر اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا

روکو ایک منٹ ۔۔سکندر نے بے چینی سے کہا اور کار میں سے امل کی چادر باہر لے کر آیا

یہ لے لو تمھاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔بخار ہو جائے گا اس نے جلدی سے چادر امل کے کندھوں پر اوڑھ دی ۔۔۔

وہ اسے دیکھ رہی تھی مسلسل ٹک نگاہوں سے ۔۔سکندر مرتضی سے میں کبھی نفرت نہیں کر سکی لیکن کیوں یہ میری زندگی کا ایک اہم شخص بنتا جا رہا ہے جسکے بغیر اب میں نہیں رہ سکتی ۔۔۔اس نے دل میں سوچا ۔

میں گیسٹ روم میں رہوں گی ۔۔امل نے دروازے کے قریب رکتے ہوئے کہا

نہیں ۔۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تم اب اس کمرے میں رہو گی

سکندر نے ہچکچاتے ہوئے کہا

لیکن میں اس کمرے میں نہیں رہنا چاہتی ۔۔امل نے ضد سے کہا

لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم اس کمرے میں رہو ۔

سکندر نے ترک بہ ترک جواب دیا

سکندر ۔۔مجھے پلیز کوئی بحث نہیں کرنی آپ مجھے گیسٹ روم میں چھوڑ کر آئیں

نہیں کرنی بحث ۔؟

نہیں ۔۔امل نے غصے سے منہ بناتے ہوئے کہا

اوکے جیسے تمھاری مرضی جیسے سکندر نے کہا امل نے حیرانگی سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا

سکندر نے ۔۔۔امل کو اپنے بازوں میں اٹھایا

بہت بھاری ہو ۔۔۔تم ۔۔سکندر نے مسکراتے ہوئے کہا

سکندر مجھے نیچے اتارو ۔۔سکندر ۔۔میں کہہ رہی ۔۔میں تمھارے ساتھ نہیں رہوں گی ۔

سکندر ۔۔۔نظر انداز کیے بغیر ۔اسے اپنے کمرے میں لے گیا

یہاں پر رہے گی آپ سکندر نے اسے بیڈ پر بٹھایا

سکندر ۔۔ابھی امل کچھ بولتی ۔۔۔سکندر نے امل کے لوگوں پر ہاتھ رکھ ۔دیا

چپ بلکل چپ اب ایک اور لفظ نہیں سنوں گا دشمنی کرنی ہے تو یہاں رہ کر کرو ۔۔۔مسسز سکندر ۔

سکندر نے ۔۔کہا اور باہر چلا گیا

____________________________

آو بھائی صاحب ٹیکسی کیوں روکی ۔۔۔۔ارحم نے چونک کر کہا

صاحب وہ سامنے دیکھیں آگے اتنی گاڑیاں کھڑی ہیں ۔۔

ڈرائیور نے باہر کی طرف اشارہ کیا

کون ہیں وہ؟ روکو میں دیکھتا ہو ں ارحم نے کہا اور گاڑی سے اترا

آو بھائی صاحب ۔۔۔۔اپنی گاڑیاں پیچھے کرو یہ سڑک تمھارے باپ کی نہیں ہے جیسے ارحم نے کہا

گاڑی ۔۔۔۔سے وہ نکلا

بلیک شلوار قمیض ۔میں ملبوث آنکھوں میں کالے چشمے کا پہرا اور ہاتھ میں ریوالور پکڑے گاڑی سے باہر نکلا

وہ سکندر مرتضی تھا جیسے دیکھ کر ارحم دو قدم پیچھے ہٹا

جیسے ۔۔۔وہ اسکے قریب آرہا تھا ۔۔ارحم کی پیشانی پر پسینے کی دھارئیں اسکے چہرے پر آنے لگی ۔۔

وہ ٹیکسی کی طرف بھاگنے لگا تھا لیکن اس سے پہلے ہی ٹیکسی والا نکل گیا۔

روکو سالے صاحب کہاں دوڑ رہے ہیں ۔۔۔۔آئیے ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں گھر ہی جانا ہے ناں آپکو ۔۔۔

اب وہ اسکے نزدیک کھڑا تھا

ڈر کیوں رہے ہیں ۔۔سالے صاحب ارے ۔۔ہم آپ کے جیجا جی ہیں ہم سے کیا ڈرنا ۔۔

ن۔۔۔نہیں ۔۔۔مجھے گھر جانا ہے ۔۔ارحم کی آواز ڈر کے مارے ہلک میں اٹک رہی تھی

اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔۔۔آو آپ کو پسینہ آرہا ہے ۔۔۔

یہ ۔۔۔یہ ٹشو ۔۔لیں

اب اچھے بچوں کی طرح بتاو امل کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟

زوہاب کو بھیجنے کی کیا وجہ تھی؟

جلدی سے میرے ان سوالوں کے جواب دو ۔ اور یہاں سے چلے جاو ۔

کون زوہاب میں کیوں زوہاب کو نہیں جانتا ۔۔جیسے ارحم نے کہا

سکندر نے زور دار تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا

اب یاد کرنے کی کوشش کرو ۔۔ آ جائے گا ۔۔اگر پھر نہ آئے تو ۔۔یہ دماغ میں ماروں گا ۔۔پھر تو سب یاد آئے گا کیوں چلاوں

جیسے سکندر نے گن اسکے سامنے کی ۔۔۔وہ جلدی سے بولا

بتاتا ہوں ۔۔پلیز سکندر شوٹ مت کرنا

وہ ۔دراصل ۔۔۔میں ۔۔امل سے محبت کرتا تھا جیسے ارحم نے یہ جملہ بولا۔

سکندر نے ایک اور تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا

۔

محبت صرف اس سے ایک ہی شخض کرتا ہے اور وہ میں سکندر مرتضی ہوں ۔۔اسکے علاوہ کیسی کو حق نہیں ہے امل کی طرف گندی نظر اٹھا کر دیکھنے کی ۔۔آگے بول

میں نے بہت بار اسے بتانے کی کوشش کی لیکن وہ ہمیشہ ناں کر دیتی ۔وہ ہمیشہ یہی ّکہتی کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی اسکے زندگی میں صرف ایک ہی شخض ہے جس کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہتی ہے اور وہ میں نہیں تھا سکندر مرتضی تھا ۔۔جو اسکے ظلم سہنے کے باوجود اس سے ہی پیار کرتی تھی ۔

میں نے بہت دفعہ اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔لیکن وہ نہیں مانتی تھی تو میں نے بدلہ لینے کی اڑ میں زوہاب کو منایا کہ ۔۔وہ ایسا کرے ۔۔

بس اسکے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔۔۔اور جیسے ارحم نے کہا سکندر نے ایک اور تھپڑ ۔اسکے چہرے پر رسید کیا

تم امل کے رشتہ دار ہو تو چھوڑ دیا ورنہ تیرے ٹکرے ٹکڑے کر کہ ۔۔ایسی جگہ پھینکتا ۔۔کہ ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا

اور ہاں ۔۔۔امل سکندر ۔کی زندگی میں ایک شخض ہے اور وہ سکندر مرتضی ہے ۔۔۔اور میرے ہوتے ہوئے اگر تم ناں کیسی نے بھی اسکی طرف دیکھنے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے برا نہیں ہو گا۔سمجھے تم

_________________________

یہ ۔۔ لو امل تمھارے ناشتہ جیسے سکندر نے ٹرے اسکے سامنے رکھی

وہ چونکہ گئ ۔۔

جب اس نے ٹرے میں موجود ناشتے کو دیکھا

فل ۔۔جلا ہوا ٹوٹسٹ اور بلیک کافی ۔۔۔اور انڈا ایسے فرائی کیا کہ ۔۔پہچانا مشکل تھا

یہ ۔۔۔۔ناشتہ ہے؟ امل نے چونک کر پوچھا

ہاں کیوں ۔۔اچھا نہیں لگا ۔۔میں نے خود تمھارے لیے بنایا ہے جیسے سکندر نے کہا

امل فورا بولی

آپ نے بنایا ہے ؟ (میں تبھی سوچوں ہر چیز کالی کیوں ہے)

امل نے مدھم آواز میں کہا

کیا کہا ؟ سکندر نے فورا کہا

نہیں ۔۔کچھ نہیں ۔۔بہت اچھا بنا ہے ۔۔اور یہ بلیک کافی بھی

تھینک یوں ۔۔سکندر مسکرایا

امل نے پتا نہیں کیسے لیکن اس نے ۔۔سکندر کے ہاتھ کا بنا ناشتہ کھا لیا

وہاں الماری میں ہے آپکی فاعل امل نے سکندر کو کہا

جو کچھ ڈھونڈ رہا تھا

او یاد آیا وہ جلدی سے الماری کی طرف بڑھا ۔۔

یہ مجھے روک کیوں نہیں رہی ۔۔کہہ بھی تو سکتی ہے نہ آج کا دن میرے پاس رہیئے ۔۔۔اس نے اپنے دل میں کہا

اب وہ اپنا کورٹ پہن رہا تھا نہیں روکے گی ۔۔۔۔سکندر وہ بھی تمھاری بیوی ہے ۔۔۔

اچھا اب میں چلتا ہوں ۔۔

ٹھیک ہے ۔۔امل نے سرسری سا جواب دیا ۔۔

روکیں ۔۔جیسے امل نے کہا وہ فورا پلٹا ۔۔ہ

ہاں ۔۔؟

وہ آپ کی فاعل ۔۔یہی رہ گئ ۔۔جیسے امل نے کہا سکندر نے جلدی سے بولا

آو ہاں فاعل تو یہی ہے ۔۔اور اس نے میز سے فاعل اٹھائی

نہیں کہے گی ۔۔۔سکندر نے کہا اور باہر چلا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *