Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663

Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Last updated: 4 May 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan

آگئ تو ماہ ررانی
امل جیسے گھر داخل ہوئی سامنے کھڑی عالیہ نے اتے ہی جملہ کستے ہوئے بولا
اسلام وعلیکم چاچی جان ۔
و علیکم اسلام کہاں تھی اتنی دیر ۔عالیہ نے غصے سے کہا ۔
آپ کو بتایا تو تھا کہ کام زیادہ ہوتا ہے اس وجہ سے تھوڑا لیٹ ہو جاتی ہوں ۔
کام ہی لیٹ ہوتا ہے یا پھر آتے ہوئے لیٹ ہوتی ہے ۔عالیہ نے تشویش کرتے ہوئے پوچھا
چاچی جان آپ کے کہنے کا کیا مطلب ہے ؟ میں آتے ہوئے لیٹ کیوں ہوں گی امل نے حیرت سے کہا
اچھا اچھا چپ کر بڑی ائی سکھی سواتری ۔دیکھا ہوا ہے میں نے تمھیں آئی بڑی زبان چلانے والی
عالیہ یہ کہتے ہوئے کمرے میں چلی گئ ۔
امل نے زہر کا ایک گونٹ پیا اور اپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گئ ۔
وہ ہر روز ہی عالیہ کے طعنوں کےزہر کا گھونٹ خاموشی سے پی لیتی تھی اسکے سوا اسکے پاس کوئہ حل نہیں تھا بچپن سے اسکے والدین کی وفات کے بود وہ اپنے چچا اجمل کے گھر رہ رہی تھی اس دن سے لے کر آج تک نہ چاچی نے اسے تسلیم کیا ہمیشہ اسے اسکی زات کی تذلیل کرتے ارہی تھی اسلیے اب اسے برا نہیں لگتا تھا اور نہ ہی آنسو اب اسکا ساتھ دیتے تھے کیونکہ شاید اب وہ حالات کی بازی کو جان چکے تھے ۔
تو بیٹا صیح سے سامان پہنچ گیا نہ مرتضی نے کھانے کے ٹیبل پر راحب سے سوال کیا
جی بابا سب کچھ اچھے سے ہو گیا بس گاڑی کی تھوڑی پروبلم ہوئی تھی لیکن بعد میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا
راحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
چلو یہ تو اچھا ہو گیا ویسے بیٹا اب تمھیں چاہیے کہ اپنے ابائی گاوں میں بھی کوئی ایسا کام شروع کرو جس ست تمھارا نام اور ہمارے خاندان کا نام مسقبل تک پکارا جائے اور ویسے بھی ہمارا گاوں شہر سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے جہاں ہماری عزت کی جاتی ہے ہمیں لوگ ایک مرتبہ سے جانتے ہیں
مرتضی صاحب اب ایسے سمجھا رہے تھے کہ ارمینہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا
یہی سب کچھ سمجھاتے رہے اسکو یہ مت کہے گا کہ اب شادی بھی کرلے
راحب مجھے بتا دو اگر کوئی لڑکی ذہین میں ہے ورنہ پھر میں نہیں روکو گی
راحب نے بے اختیار مرتصی صاھب کی حمایت مانگنا چاہیے مگر اس معاملے مین مرتضی صاحب کو کوئی حق نہیں تھا بولنے کو
نہ بیٹا اس معاملے مین تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا
راحب ادھر دیکھو ۔ارمینہ نے دباو ڈالا
اچھا ماما مجھے تھوڑا وقت تو دیں جب کوئی لڑکی پسند آئے گی تو آپ کو سب سے پہلے بتاوں گا
اچھا اپ یہ بتائیے آپکے چھوٹے لاڈلے کی کال آئی کے نہیں
راحب نے موضوع تبدیل کرتےہوئے کہا
ہاں ائی تھی کچھ دیر پہلے تمھارے بارے پوچھ رہا تھا کال کرلینا اسے ارمینہ نے وضاحت دی
عجیب شخص تھا شانزے عجیب نہیں اور ہی مخلوق سے لگ رہا تھا
ایسے گھور گھور کر مسلسل دیکھ رہا تھا
اور پتا ہے کیا کہتا ہےہم پہلے مل چکیں ہیں لیکن میں نے بھی انجان بنتے ہوئے کہہ دیا مجھے نہیں معلوم
ہائے ہائے ایسا کیوں کیا امل شانزے نے چڑتے ہوئے کہا
تو اور کیا کہتی میں
امل نے بھی چڑتے ہوئے کہا
تمھیں معلوم ہے امل پچھلے ایک گھنٹے سے تم ایک شخص کی گفتگو رہی ہو اور وہ اور کوئی نہیں
مسڑ راحب ہے شانزے کی بات امل ایک دم
خاموش ہو گئ
ارحم اٹهہ جاو امل نے ارحم کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا ارحم جلدی کرو مجهے لیٹ ہو رہا ہے وہ اب سکے کمرے میں بیکهری چیزوں کو سمیٹ رہی تهی ارحم کے بچے میں تم سے کچھ کہہ رہی ہوں دیکهو اگر اج میں پهر لیٹ ہوئی نہ تو آئیندہ میں کبهی تمهارے ساتھ نہیں جاوں گی جیسے امل نے کہا ارحم جهٹ سے بستر سے اٹهہ کهڑا ہوا روکو ..آرہا ہوں امل نے بے اختیار قہقا لگایا یہ ہوئی نہ بات چلو آو .
امل یہ بات اچهی نہیں ہے تم مجهے ایسے بلیک میل نہیں کر سکتی جانا تم زرا میرے بغیر ارحم نے بال سنوارتے ہوئے کہا
کیوں .جی کیا کرو گے تم .جو ایسی دهمکیاں دے رہے ہو .
امل بهی ڈهٹ کے کهڑی ہو گئ ....
ابهی وہ کچھ بولتا کہ امل نے کہا اچها بس بس بہت ہو گیا جلدی سے آجاو میں باہر تمهارا انتظار کر رہی ہوں .
ارحم کی بات ادهوری رہ گئ وہ کچھ کہنا چاہتا تها مگر .پهر چپ ہو گیا .
تمهیں پتا ہے ارحم کل شانزے کی برتهڈے ہے امل نے چہچہاتے ہوئے کہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *