Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 09)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 09)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
وہ اب بلکل بے جان ہو چکی تھی ۔۔۔۔ایک بے جان پتھر جس کے اندر اب کوئی ۔۔جذبات و احساسات نہیں تھے اب کوئی نئ خوائش کا انتظار نہیں تھا ۔۔۔اسکی زندگی میں اتنا سب کچھ ہو چکا تھا ۔۔۔کہ اب وہ مزید کیسی خوائش کو اپنے دل میں پناہ نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔وہ اب خود کو کاموں میں مصروف کرنے کی کوشش کرتی تھی
امل بیٹا کیسہ ہو ارمینہ نے امل کو کہا ۔۔جو ڈرائینگ کرنے میں مصروف تھی
ٹھیک ہوں ماما
ارے واہ بہت اچھی بنائی ہے ۔۔۔
تھینک یوں ماما
اچھا میری بات سننا ۔امل میں نے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔
جی ضرور ۔۔
وہ ارمینہ کے کمرے میں گئ
جی ماما ۔۔اسنے جیسے کہا ۔۔ارمینہ نے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا کہا
امل ارمینہ کے پہلوں میں بیٹھ گئ ۔۔
جی ماما ۔
بیٹا کیسی ہو ۔۔۔
آپ کو تو پتا ہے ۔۔
بیٹا ۔۔مجھے پتا ہے تمھارے لیے ان زخموں کا بھرنا بہت مشکل ہے ۔لیکن زندگی انسان کو آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے
موقع ۔۔ہا ۔نہیں ماما ۔۔میری زندگی مجھ پر اتنی مہربان نہیں ہے کہ مجھے مزید موقع دے ۔
نہیں بیٹا ایسا نہیں کہتے ۔ارمینہ نے اسکے آنسو کو پونچھتے ہوئے کہا
تو اور کیا کہوں ماما ۔۔۔
بیٹا ۔۔میں نے اورمرتضی نے فیصلہ کیا ہے
کیا ؟
امل چونکی
بیٹا ہم نے سوچا ہے ۔۔کہ تمھارا نکاح ۔سکندر سے ہو جایے جیسے ارمینہ نے کہا ۔
امل کے منہ سے بے اختیار نکلا ۔
سکندر سے ۔۔اسکے پاوں سے زمین کسک گئ اسکی سانسیں اٹک گئ ۔۔ اسے ایک سکینڈ لگا جیسے وہ سانس نہ لے پارہی ہو ۔۔
کیا ؟ نن۔۔۔نہیں ۔۔ماما ۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔سکندر سے میں
اپکو پتا ہے وہ مجھ سئ بہت نفرت کرتا ہے
میں جانتی ہوں ۔۔بیٹا لیکن اب اسکے علاوہ کوئی حل نہیں ہے
ن۔۔نہیں ماما ۔پلہز ۔۔۔مجھ پر یہ ظلم مت کرے ۔۔میں راحب کے علاوہ اور کیسہ کو نہیں سوچ سکتی ۔۔۔وہ ہی میرے زندگی میں پہلے اور آخری شخص ہیں چاہے وہ میرے ساتھ نہیں ہے لیکن انکی محبت میرے ساتھ ہے جسکے سہارے میں جی رہی ہوں
بیٹا سمجھنے کی کوشش کرو ۔یہ گاوں والے نہئں رہنے دیں گے
تو نہ رہنے دیں مجھے ۔۔کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ۔میں راحب کے ساتھ ۔۔بے وفائی نہیں کروں گی بی جان آپ مجھ سے کچھ بھی مانگ لیتی میں ہر چیز خوشی سے دے دیتی لیکن آپ نے تو مجھ سے میری محبت کا مان کی بات کر ڈالی
اسکی سسکیاں بلند ہوئی
_________
امل تم سمجھ کیوں نہیں رہی ارمینہ نے اب اصرار کرتے ہوئے کہا
کیسے مان جاوں ماما میں آپ مجهے اس شخص کے گلے میں باندهنے جا رہے ہیں جس ے نزدیک میری کوئی اوقات نہیں ہے جو مجهے ایک بدچلن گهر سے بهاگی ہوئی بد کردار سمجهتا ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ میں اس سے نکااح کر لوں ..ماما اب نہیں مجھ سے ہو گا میں تهک چکی ہوں تهک چکی ہوں میں زندگی کے درد سے ..اب مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے کہ میں اور درد سہوں ..اسکی آواز ہلک میں اٹک رہی تهی اسکا درد چیخ چیخ کے …بول رہے تهے ..وہ کیسے مان جاتی ..سکندر صرف اس سے نفرت کرتا تها .
ارمینہ خاموشی سے باہر چلی گئ .
کیوں …کیوں راحب آپ مجهے اکیلے چهوڑ کر چلے گئے کیوں ..وہ نیچے گر گئ تهی اور اونچی اونچی آواز میں چلانے لگی .اسکی زندگی میں اتنے زخم تهے ..کہ ابهی اسکا زخم برهتا پهر سے کوئی نیا زخم اسے دے دیا جاتا .
*********************
تو پهر تمهارا فیصلہ کیا تها سکندر .موہد نے سکندر کی طرف دیکهتے ہوئے کہا
کیا کرتا یار ماننا پڑا .بابا نے اپنی عزت کی بات رکھ دی میرے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تها ..
ویسے سکندر ..امل ایک اچهی لڑکی ہے ..اسنے تحمل سے کہا
تمهارے کہنے کا کیا مطلب ہے ..وہ چونکا
مطلب .یہی کہ یہ اچها فیصلہ ہے تمهارا جیسے موہد نے کہا سکندر نے اسکی بات کاٹی
میرا نہیں بابا کا ہے موہد .مجهے اس مکار لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کا کوئی شوق نہیں بس گهر رکهنے کی خاطر .اس سے نکاح کر رہا ہوں اسکے علاوہ کچھ نہیں
یہ نفرت .کب تک رہے گی تمهاری
شاید اب اور زیادہ بڑهے گی …
اچها تم بتاو ..مسڑ کپٹن موہد علی .ماہا کو بتایا .یا نہیں جیسے سکندر نے کہا
موہد نے گہرا سانس لیا .نہیں یار ..میں نہیں چاہتا وہ مجھ جیسے انسان سے شادی کرے جسکی اگلی سانس کا نہ پتا ہو ..فوجی کی زندگی صرف اپنی وطن کے لیے ہوتی ہے
ارے پاگل ہو گیا ہے کیا .وہ تمهیں اتنا چاہتی ہے .اور تم اسے ایسے روڈ ہو رہے ہو ..بتا دو اسے ..یا اسے تب بتاو گے جب وہ کیسی اور سے شادی کر لے گی ..سکندر نے ہنستے ہوئے کہا
اچها سالے تو بجائے مجهے نصحیت کرنے کے ہنس رہا ہے ..موہد اور سکندر نے اکهٹا قہقا لگایا
***********************
وہ کمرے کی صفائی کر رہی تهی جب پیچهے سے کیسی نے اسے زور سے کهینچا .
اسکے ہاتھ کی گرفت بہت مضبوط تهی کہ امل کی درد سے آہ نکلی
واہ ..ویسے داد دینی چاہیے تمهاری کتنی ہوشیاری سے ..تم نے یہ سب کر لیا ..
اسنے ابهی تک امل کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا تها .میرا ہاتھ چهوڑو سکندر مجهے درد ہو رہا ہے .
اچها تم جیسی سنگ دل ..کو درد بهی ہوتا ہے سن کر اچها لگا مجهے .
تم کیا چاہتے ہو کیا بیگاڑا ہے میں نے تمهارا
بکواس بند کرو …سکندر نے اسے زور سے جهٹکا .اسکا سر پیچهے دیوار سے لگا .
سارے گهر کو کها گئ ..ہو اور کہہ رہی ہو کیا بیگاڑا ہے تم نے میرے بهائی کی موت کروادی .میرئ ماما بابا کو اپنے جال میں ایسا پهسایا ہے کہ ..انکو تم سے کوئی شریف اور نظر نہیں آتا .
اور اب ..اب تو ماہرانی ..صاحبہ .نے بابا کو ایسے قائل کیا .کہ میرے ساتھ نکاح کروانے میں کامیابی ہو گئ
وہ اسکے نزدیک آیا ..اسکی آنکهوں میں اتنی نفرت تهی کہ امل کی نظریں نیچے جهک گئ ..امل کی آنکهون سے آنسو جهلک رہے تهے
لیکن یہ بات رکهنا .سکندر مرتضی ہوں میں راحب مرتضی نہیں جو تمهارے جال کا حصہ بن جاوں .میری دنیا میں تم نے قدم تو رکھ لیا ہے اسکا .انجام کیا ہو گا ..یہ تو سوچ بهی نہیں سکتی
اسنے کہا اور وہاں سے چلا گیا ..
وہ اب ..وہی نیچے دیوار کے ساتھ لگ کے بیٹه گئ …اسکا پورا بدن کانپ رہا تها …اور سسکیوں کی رفتار زیادہ ہو گی .لیکن وہ بے بس تهی ..
کچھ نہیں کر سکتی تهی .
وہ ..
________
کہتے ہیں یہ جو زندگی ہوتی ہے یہ انسان سے بہت امتحان لیتی ہے کبھی کبھی ہم سے وہ امتھان پاس کروانے کی کوشش کرتی ہے جو ہماری طاقت کے باہر ہوتے ہیں ۔زندگی میں کچھ لینا ہوتا ہے اور کچھ کھونا پڑتا ہے ۔۔اج ۔وہ لچار ہو گئ تھی ۔بے بس ۔حالات سے ہاری ہوئی لڑکی جسکی قسمت بھی خود ۔۔کبھی ڈگمگا جاتی ۔۔اسکے چہرے کو دوپٹے کے پلوں سے چھپایا جا رہا تھا ۔۔اسکی سانسیں رک رہی تھی ۔۔لیکن خاموش ۔۔۔خاموش تھی وہ ۔اپنے درد کو اپنے اندر ہی رکھ رہی تھی اسکے آنسوں ۔اب اسکا ساتھ دینے نہیں آئے ۔۔وہ بھی ہار گئےتھے وہ بھی اسکی قسمت کے کھیل کے آگے ہار گئے ۔۔آج امل نور اس شخص کی ہونے جا رہی تھی جو اسے کچھ نہیں سمجھتا تھا ۔۔اسکا وجود اسکے سامنے کوئی معنے نہیں رکھتا ۔تھا سکندر کے نزدیک امل ایک بدکردار لڑکی تھی وہ صرف اس سے نفرت ۔کرتا ہے صرف نفرت ۔اور انتہا کی نفرت ۔
یہ وہ کھیل تھا ۔۔جس میں ۔۔امل کے ہاتھ پاوں بندھ چکے تھے ۔
نکاح ۔کی تیاریاں مکمل تھی ۔بس امل کو نیچے لے کے آیا جا رہا تھا ۔۔
وہ نیچے بیٹھا ۔۔تھا ۔۔سکندر کو پتا تھا ۔کہ وہ اس سے شادی صرف اپنے بابا کے کہنے پر کر رہا ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں ۔۔
**********************
وہ کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔سکندر کے آنے کے انتظار میں ۔اسکا دل ڈر رہا تھا ۔۔ڈر کی لہر اسکے بدن پر چھائی ہوئی تھی وہ بار بار اپنے ہاتھ کو مسل رہی تھی ۔۔اسکی آنکھوں میں ۔خوف تھا ۔اتنا ۔خوف جسکا اندازہ لگانا مشکل تھا اسوقت جو امل کی کفیت تھی ۔شاید کوئی اندازہ لگا سکتا ۔وہ اسکی آواز سے ڈر جاتی وہ اسکے طعنوں سے ڈر جاتی ۔وہ خود کو مہربان سمجھے یا بدنصیب جو زندگی نے اسے موقع دیا ۔یہ موقع دیا کہ اسے ایسے شخص کی زندگی کا حصہ بنا دیا جس کی دنیا میں امل کا کوئی دور دور تک امکان تھا ۔۔وہ اچھے سے جانتی تھی ۔اسکا غصہ اب پہلے سے زیادہ ہو گیا تھا
دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔
امل نے اپنی کلائی مضبوطی سے باندھ لی ۔۔اور خود کو مضبوط کیا
وہ اسکے قریب آیا ۔
تو آخر ۔تم کامیاب ہو گئ
لیکن ایک بات تمھیں بتا دوں تمھاری اہمیت میری زندگی میں صرف کاغذ پہ کی گئے دستخط ۔ کے علاوہ کچھ نہیں ہے سمجھئ ۔اور یہ مت سوچنا میں تجھ جیسی مکار لڑکی کو بیوی جیسا مقام دوں گا کیونکہ تم جیسی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی تو بہتر ہے بہت شوق تھا نہ سکندر مرتضخ کی دنیا میں آنے کا تو خود دیکھ لو انجام
اسکی آواز میں اتنی نفرت تھی کہ امل بس وہی بے جان خاموشی چپ سے بیٹھی رہی
اب یہاں بیٹھی رہو گی اٹھو ۔۔
اسنے غصے سے کہا ۔۔
میں کہہ رہا ہوں اٹھو ۔۔
ابکی بار اسکی آواز بلند تھی ۔۔وہ جلدی سے بیڈ سے اتری
سکندر اسکی طرف بڑھا ۔۔اور اسے بازوں سے پکڑ کر بار کی طرف لے کے جانے لگ
س۔۔۔۔س۔۔۔سکندر ۔۔یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔
کہا لے کے جارہے ہیں اس نے سہمتے ہوئے کہا
دفع ہو جاو یہاں سے ۔۔تمھاری کوئی جگہ نہیں ہے یہاں
ن۔۔ن۔۔نہیں سکندر ایسا مت کریں میرے ساتھ میں نے ۔۔کیا کیا ہے ۔۔
تم نے کیا کیا ہے ۔۔بتاوں کیا کیا ہے تم نے ۔۔اسب کچھ برباد کر کے پوچھ رہی ہو ۔کہ کیا کیا ہے ۔۔۔پیسوں کے لالچ میں ڈوبی ہو تم ۔۔اور اس وجہ سے میرے بھائی کو پھسایا ۔اور اپنے گھر والوں کے دامن پر کیچڑ اچھال کر شادی کر لی اور اب میرے ساتھ ۔۔
تم جیسی بدکردار لڑکیوں کو تو میں ۔۔ویسے مار دیتا یوں
سکندر ۔نہیں باہر بہت بارش ہو رہی ہے ۔۔
میں کہہ رہا ہوں نکلو ۔۔
اسنے امل کو پکڑ کر باہر گرایا اور دروازہ بند کر لیا
سکندر ۔۔دروازہ کھولیں خدا کے لیے دروازہ کھولیں ۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔سکندر میں نے کچھ نہیں کیا
بادل زور سے گرج رہے تھے ۔۔بارش اپنی پوری طاقت سے برس رہی تھی
وہ ننگھے پاوں تھی ٹھنڈ کا موسم بنا تھا
وہ ایک جگہ کونے پہ بیٹھ گئ اور اپنی قسمت کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی
کبھی تو خوشی اسکے دروازے پر دستک دے گی ۔
****************
وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی جب گھر کے ملازم نے اسے صبح صبح آکر جگایا
بی بی جی آپ یہاں کیا کر رہی ہیں جیسے ملازم نے کہا اسکی آنکھ اچانک کھولی اور وہ جلدی سے اٹھ گئ وہ دلہن کے لباس میں ملبوس تھی ۔
چاچا دروازہ کھولیں ۔۔۔اسنے ملازم کو کہا تو اسنے ہال کا دروازہ کھولا ۔۔
بی بی اپ باہر کیوں آئی وہ بنا جواب دیے اندر چلی گئ
****************
اسنے رات والے واقع کے بار میں کیسی کو کچھ نہین بتایا اگر وہ بتا دیتی تو کیا ہوتا کوئی کچھ نہیں کر سکتا تھا کہسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ سکندر کو کچھ کہہ
امل بیٹا ۔ ارمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا
جی ۔۔اسنے مختصر سا جواب دیا ۔۔
ارمینہ نے امل کے تاثرات دیکھے ۔۔اور وہ جان گئ کہ امل کیا سوچ رہی ہے
بیٹا ۔مجھے پتا ہے تمھارے لیے یہ بہت مشکل ہے لیکن اب وہ تمھارا شوہر ہے ۔۔تمھارا فرض بنتا ہے اسکی ہر چیز کا خیال رکھنے کا ۔
چاہے وہ تمھاری ساتھ جتنی بھی نفرت کرتا ہے لیکن اب تم اسکی بیوی ہو ۔تم نے اسکے غصے کو مات دینی ہے میری جان ۔
اور مجھے پتا ہے تم یہ سب کرو گی
وہ خاموشی سے ۔۔۔سب باتئں سن رہی تھی وہ کیسی سوال کا جواب نہیں دے رہی تھی
اچھا یہ کافی اسکو دے آو ۔۔جیسے ارمینہ نے کافی کا کپ اسکے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔
وہ چپ سے کافی مگ لے کر اوپر چلی گئ ۔۔
دروازہ پر دستک ہوئی ۔۔
اجازت ملنے پر امل اندر داخل ہوئی
یہ۔۔۔یہ کافی اسنے کافی میز پر کھتے ہوئے
روکو۔۔جیسے اسنے کہا امل کے پاوں وہی رک گئے
_________
وہ وہی رک گئ وہ وہاں رکنا نہیں چاہ رہئ تھی لیکن پھر بھی اسے رکنا پڑا
میں نے کہا تھا تم میرے کیسی کام کو ہاتھ نہیں لگاو گی سکندر اٹھتا ہوا اسکے قریب آیا
وہ۔۔۔وہ۔۔ماما نے کہا تھا
واہ آپ بہت فرمابردار ہئں ویسے داد دینی چاہیے تمھاری اتنی تذلیل کرنے کے بعد بھی تم باز نہیں آتی
کیوں تمھیں اچھا لگتا ہے اپنی ذات پہ انگلیاں اٹھوانا ۔۔او سکندر کیا کہہ رہے ہو کس کو کہہ رہا ہوں میں جیسے سمجھانے کا کیا فائدہ کیوں ٹھیک کہہ رہا ہوں میں
سوری آئیندہ سے نہیں کروں گی
جیسے امل نے کہا
سوری مائی فٹ سکندر نے اتنے غصے سے کہا ہاتھ میں پکڑا ۔کافی کا مگ زمین پر اسقدر زور سے پھینکا
امل سکندر کا غصہ برداشت نہ کر پائی وہ وہی گر گئ ۔اسمیں ہمت نہیں تھی کہ وہ سکندر غصہ مزید برداشت کر سکے
نازیہ ۔۔نازیہ سکندر نے زور آواز سے ملازمہ کو بلایہ
جی صاحب !
یہ انھیں دیکھیں ۔۔سکندر نے کہا اور باہر چلا گیا
وہ سکندر مرتضی تھا جس نے آج تک کیسی کی پروا نہیں کی اسکی دنیا میں سے شروع ہوتی اور میں پر ختم ہوتی اور اسی میں کے اڑے میں اکر وہ دوسروں کی عزت کی دھجیاں بکھیر دیتا تھا ۔۔وہ نہایت سنگ دل بے رحم شخص تھا ۔امل معصوم تھی کتنا اسکے ظلم و ستم برداشت کرتی ۔
