Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafrat Sy Muhabbat (Episode 18)

Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan

اچھا سنا ہے ارحم کی کافی کھیچائی کی ہے تم نے موہد نے مسکراتے ہوئے کہا

نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔بس سمجھایا ہے تھوڑا اسے

سکندر نے نرمی سے جواب دیا

اچھا بھابی کیسی ہیں؟ جیسے موہد نے پوچھا سکندر نے فورا اسکی طرف دیکھا

ٹھیک ہیں ۔۔اب بہت ضدی ہے وہ

ہاہاہا آخر بیوی کسکی ہے مسسز سکندر ہیں ۔۔ضدی تو ہوں گی موہد نے مزاحقکہ خیز لہجے میں کہا

ہاں ۔۔۔یہ تو ہے تمھیں پتا ہے ۔آج میں چاہ رہا تھا کہ میں اس کے پاس روکو ۔۔لیکن اسنے مجھے ایک دفعہ بھی پلٹ کر نہیں کہا ۔جیسے سکندر نے کہا ۔۔موہد نے زور سے قہقا لگایا

کیا ہوا؟ سکندر چونکا

لگتا ہے ۔۔سکندر صاھب محبت میں ڈوب گئے ۔۔ارے میرے یار وہ تم سے ناراض ہے ۔وہ کیسے تمھیں روکتی ۔۔ہاہاہاہ ۔۔۔سکندر واقعی تم بہت پاگل ہو ۔

او ۔۔۔چپ کر ۔۔اگر تو میرا دوست نہ ہوتا نہ ۔۔تو مجھ سے برا نہیں ہونا تھا

***************************

امل بیڈ سے اترنے لگی کہ سکندر نے جلدی سے پوچھا

کہا جانے لگی ہو؟

نیچے میرا لان میں گھومنے کو دل کر رہا ہے ۔۔امل نے دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے کہا

ایک ۔۔منٹ روکو ۔میں لے جاتا ہوں ۔۔سکندر فورا اسکی طرف بڑھا

نہیں میں چلی جاوں گی میں ٹھیک ہوں امل نے سکندر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

کہاں ٹھیک ہو ۔۔میں کہہ رہا ہوں میں ساتھ چلتا ہوں ۔۔سکندر نے کہا اور آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما ۔۔

چلو ۔۔امل نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔اور بنا کچھ کہے اسکے ساتھ چل دی

وہ خاموشی سے ۔۔لان میں چل رہی تھی وہ اسکے ساتھ ساتھ تھا ۔۔امل خاموشی سے چل رہی تھی ۔۔

آخر کر ۔سکندر نے خاموشی توڑی ۔

امل ۔۔تمھارا فیوریٹ کلر کونسا ہے ؟ جیسے سکندر نے کہا امل نے چونک کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا

میرا ۔۔فیوریٹ ۔۔وائیٹ ہے ۔اور بلیک سے مجھے سخت نفرت ہے جیسے امل نے کہا ۔سکندر فورا بولا

کیوں بلیک تو اتنا اچھا ہوتا ہے ۔۔

مجھے بلیک کلر ۔۔بلیک ڈرس ۔۔ہر چیز بلیک کرنے والے بھی بہت برے لگتے ہیں امل نے طنزا کہا

او ۔۔مطلب ۔۔آپکو میں بھی زہر لگتا ہوں ۔۔

میں نے یہ کب کہا ۔۔ویسے ایک بات پوچھوں ۔۔آپ کو بلیک کلر اتنا زیادہ کیوں پسند ہے ۔۔کوئی خاص وجہ

نہیں خاص وجہ تو نہیں ہے ۔بس ۔مجھے بلیک کلر بہت زیادہ پسند ہے جب میں امرئیکہ میں تھا تو میرے سارے فرینڈز بھی یہی کہتے تھے لیکن بلیک مجھے بہت پسند ہے اور میں اپنا کلر کبھی چینج نہیں کرتا

سکندر نے ابھی تک ۔۔اسکا ہاتھ تھا ما ہوا تھا ۔۔

او ۔۔۔کپڑوں تک تو ٹھیک تھا ٹوسٹ بھی ۔۔اور اوپر سے کم بخت کافی بھی

آپ کو اچھا نہیں لگتا ۔۔سکندر روکا

نہئں۔۔نہیں مجھے کیوں برا لگے گا ۔۔بلکے مجھے آپ کے ہاتھ کا ناشتہ اتنا پسند آیا تھا

امل نے ۔۔ہچکچاتے ہوئے کہا

چلو میں تمھیں اج کچھ بنا کر کھیلاتا ہوں ۔۔کیا پسند کرو گی

آپ؟ بنائیں گے امل چونکی

ہاں ۔۔چلو ۔۔سکندر اسے اندر کی طرف لے گیا ۔۔ارمینہ اور سکندر ۔۔انھیں اکھٹے دیکھ کر بہت خوش تھے بہت زیادہ

سکندر پیاز کو بلیک کلر کا نہیں کرنا ۔۔اسکا کلر لائیٹ بروان ہوتا ۔۔ہے ۔۔ہر چیز کالی اچھی نہیں لگتی ۔۔۔جیسے امل نے کہا سکندر فورا بولا

نہئں اچھا تو ہے بلیک ایز پرفیکٹ ۔۔سکندر مسکرایا

پیچھیں ہٹیں میں کرتی ہوں ۔۔امل یہ کہتے ہوئے اسکے ساتھ آکر کھڑی ہو گئ

لائیٹ بروان ہوتا ہے پیاز سکندر یہ دیکھیں ۔۔وہ اسے بتا رہی تھی وہ چپ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔مسلسل ۔۔

اوکے لیکب بلیک ہوتا تو بات الگ تھی ۔۔۔سکندر نے نرمی سے کہا

اور پھر آپ ہی بریانی کھاتے

امل نے فورا کہا

***********************

امل اب ۔بلکل ٹھیک ہو چکی تھی ۔۔ہمیشہ کی طرح وہ خود ساراگھر کا کام کرتی ۔۔اور آج بھی وہی کر رہی تھی

جب ارمینہ نے اسے لینچ بکس دیا کہ وہ اسے سکندر کو دے آئے

وہ لنچ بکس لیے آفس کی جانب بڑھی

کتنی دفعہ کہا ہے میں نے ۔۔میرے کام میں دخل اندازی مت کرنا ۔

سکندر نے اسقدر غصے سے کہا کہ سامنے بیٹھا شخص دو قدم پیچھے ہٹا ۔

یہ کیا کہہ رہیں ہیں ہماری کمپنی نے کچھ نہیں کیا

کیا کہا ۔۔تو نے سکندر مرتضی ہوں میں ۔۔مجھ سے کوئی بات نہئں چھپ سکتی سنا تم نے

نہیں سکندر صاحب اپکو کوئی غلط فہمی ہوےی ہے جیسے اس آدمی نے کہا سکندر نے اپنا ہاتھ زور سے اسے مارنے کے لیے اٹھایا

وہ ابھی مارنے ہی لگا تھابکہ اوپر سے امل کمرے میں داخل ہوئی

جیسے سکندر امل کو دیکھا اسنے فورا سے اپنا اٹھا ہوا ہاتھ جلدی سے نیچے کیا

ہاں مقصود صاحب مجھے بھی لگتا ہے ۔غلط ۔۔ف۔۔فہمی ہو گئ ہے مجھے آپ جائیے میں بعد میں بات کرتا ہوں

سکندر نے ہچکچاتے ہوئے کہا

یہ ۔۔میں ۔۔۔میرا مطلب ماما نے کھانا بھیجا ہے ۔۔امل نے ٹیبل پر کھانا رکھا

تھینک یوں ۔۔۔

غصہ ہو رہے تھے اس پر ۔۔۔امل نے ٹیفن کھولتے ہوئے پوچھا

ن۔۔۔نہیں تو میں تو اسے سمجھا رہا تھا سکندر فورا بولا

ہاتھ اٹھا کر ۔۔ سمجا رہے تھے امل نے کھانا سکندر کی طرف بڑھایا

تم نے دیکھ لیا

ہاں ۔۔۔امل نے مختصر سے جواب دیا

اوکے آئیندہ سے نہئں ہو گا ۔سکندر نے کھانا کھاتے ہوئے کہا اسکے دوران فیمیل سیکریٹری اندر داخل ہوئی

سر ۔۔میں نے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔اسنے مسکراتے ہوئے کہا

امل نے جیسے اسکی مسکراہٹ کو دیکھا تو سکندر سے پہلے فورا بولی

آپ کو پتا نہئں چل رہا وہ اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر لنچ کر رہے ہیں آپ بعد میں ائیے گا امل نے غصے سے کہا

سکندرنے بے اختیار اسکا چہرہ دیکھا

تمھین غصہ آرہا ہے

تو اور کیا کہسے ہنس کر باتیں کر رہی تھی آپ سے امل نے جلدی سے کہا

اور پھر اچانک چپ کر گئ ۔

سکندر بے اختیار مسکرا دیا

___________________

سکندر ۔۔گاوں میں کچھ کام ہے ۔۔تم دیکھ کر تو آو ۔۔کیا پرابلم ہے کل مجھے مجیب صاحب نے کال کی تھی

مرتضی صاحب نے ۔ سکندر کو کہا جو انکے سامنے صوفے پر بیٹھا تھا

جی بابا جانی ضروری ۔۔سکندر مسکرایا

تو ساتھ بیٹھی ارمینہ نے جلدی سے کہا

ہاں ۔۔ساتھ میں امل بھی چلی جائے گی۔۔۔جیسے ارمینہ نے کہا ۔۔

امل نے چونک کر کہا

میں؟

ہاں ۔۔اکھٹے چلے جانا اور اسی بہانے ۔۔تم گاوں بھی دیکھ لو ۔۔گی ۔۔ٹھیک ہے سکندر ارمینہ نے سکندر کی طرف دیکھا

جی۔۔بی جان جیسی آپ کی مرضی ۔۔۔سکندر نے امل کی طرف دیکھا ۔۔

*********************

تمھارا دل کر رہا ہے جانے کو ۔۔سکندر نے امل سے پوچھا جو بیڈ پر لیٹی تھئ

کیا مطلب ۔۔ماما نے کہا ہے تو جانا پڑے گا۔۔

مطلب مجبوری میں ۔۔ سکندر نے امل کی طرف دیکھا ۔

ویسے تم ۔لکی ہو امل بی جان ۔مجھ سے زیادہ تم سے پیار کرتی ہے مجھے تو کبھی کبھی ایسا لگتا ہے ۔وہ تمھاری سگی ماں سے زیادہ تمھین چاہتئ ہیں

جیسے سکندر نے کہا

امل بلکل خاموش ہو گئ ۔۔۔اسنے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا ۔۔

اسکی آنکھوں میں بے اختیار آنسووں بہنے لگے ۔

جیسے سکندر نے دیکھا ۔۔وہ فورا اسکے پاس گیا

امل۔۔۔تم۔ٹھیک تو ہو ۔

ہاں۔۔۔امل نے اپنے انسووں کو صاف کیا ۔

نہیں ۔کچھ تو ہوا ہے ۔۔مجھے بتاو کیا بات ہے ۔سکندر کے لہجے مین فکر کی لہر دوڑی

_______

بس تم نے ماما کا کہا تو مجھے اپنے پیرینٹس کی یاد آگئ تمھیں پتا ہے سکندر میں ہمیشہ سے اپنے ماں باپ کے پیار کو ترسی ہوں وہ ماں کے پیار کو ترسی ہوں باپ کے مان کو ترسی ہوں ۔۔جب چھوٹی تھی تب سے میں چاچا چاچی کے پاس ہوں ماما اور بابا کا کار ایکسیڈینٹ ہو گیا جس کی وجہ سے چاچا چاچی نے مجھے اپنے پاس رکھ لیا ۔۔رکھ تو لیا لیکن کبھی دل میں جگہ نہین دی ہمیشہ ایک سوتیلئ والا سلوک کیا گیا ہمیشہ میری خوائشات کو دبا دیا جاتا ۔چاچا عالیہ کا تو دل نہیں کرتا تھا کہ میں انکے گھر میں رہوں پتا نہیں وہ میرا وجود کس طرح برداشت کر رہی تھی اور چاچا جان میرے سامنے ۔اپنا ہونے کا ثبوت دے دیتے اور ایک دو دفعہ سر پر پیار دے کر یہ جتانے کی کوشش کرتے کہ وہ میرا پورا خیال رکھتے ہیں ۔مگر جیسا پیار وہ شانزے اور ارحم سے کرتے تھے کبھی بھی انھوں نے مجھے ایسا نہیں چاہا بس پہسوں کی مشین سمجھا تھا ئب پیسے لا دیتی تو اچھی اور جب نہ لا کے دیتی تو چاچا میری ذات کی تذلیل کرتی ۔۔امل کی آواز اٹک رہی تھی ۔۔اسکا اتنا درد الفاظوں سے جھلک رہا تھا کہ خدا پناہ ۔۔یہ عملی طور پر امل نے کیسے برداشت کیا ہو گا ۔۔ جیسے جیسے سکندر یہ سب سن رہا تھا اسے اپنے وہی الفاظ یاد آ رہے تھے ۔۔۔جو وہ اسکے ساتھ کرتا تھا ۔۔اسکے زخموں کو اور کھورتا تھا ۔۔

اور اسکے بعد راحب میری زندگی میں آئے جنہوں نے مجھے بتایا کہ زندگی کیسے جیتے ہیں ۔میں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کیسی کے لیے جیوں گی مگر چاچی عالیہ ہمارے اور راحب کے رشتے سے نا خوش تھی وہ چاہتی تھی کہ میں کیسی اچھے گھرانے میں نہ جاوں حتی کے راحب میرا ہاتھ مانگنے با قاعدہ گھر بھی ایا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا پھر راحط کے بار بار کہنے پر مجھے انکے ساتھ کورٹ میرج کرنا پڑی ۔۔لیکن وہاں پر ماما اور انکل مرتضی بھی موجود پہلی بار جب ماما نے میرا ماتھا چوما تھا تو مجھے احساس ہوا جیسے وہ میری سگی ماں کا پیار ہو جسکے لیے میں ہمیشہ ترستی رہی سب کچھ ٹھیک تھا اور جب راحب مجھے چھوڑ کر چلے گئے تب میں نے ۔۔سوچنا بند کر دیا کہ کبھی خوشی میرے نصیب میں دستک دے گی ۔۔لیکن پھر کوئی تھا میری زندگی میں جسنے مجھے بہت درد دیا ۔۔بہت درد ۔امل نے اپنی انکھیں بند کر لی ۔۔

آج درد ۔نے اپنا درد بیان کیا تھا ۔۔اپنا سارا درد ۔۔سکندر بلکل دھک رہ گیا اسے پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ امل کو کیا کہے

تمھیں پتا ہے امل میں نے بہت صابر لوگ دیکھے ہین مگر تمھارے جیسا نہیں ۔۔تمھاری زندگی نے تمھیں ہر موقع پر آزمایا خوشیاں دے کر چھین کر ہر موڑ پر آزمایا لیکن کبھی میں نے تمھاری زبان پر اف کا لفظ نہیں سنا ۔۔مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ میں نے تمھیں اتنا درد دیا ۔۔تمھاری زخموں پر مرحم لگانے کی بجائے تمھیں اور تکلیف دی مجھے معاف کر دو ۔۔

امل

سکندر نے امل کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا

میں وعدہ کرتا ہوں میں ہمیشہ تمھیں خوشی دوں گا اور زندگی بھر تمھارا ساتھ دوں گا کبھی تمھیں اکیلا راستے پر نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔

اور

میں تم سے ۔۔۔ب۔۔بہت پیار کرتا ہوں اور پلیز یہ ناراضگی چھوڑ دو جیسے سکندر نے کہا

امل بے اختیار مسکرائی ۔

میں تو ناراض ہی نہیں تھی آپ سے

اچھا اگر نہیں تھی تو مجھے اس دن روکا کیوں نہیں سکندر مسکرایا

تو آپ رک جاتے ۔۔۔امل نے نگائیں نیچے کی

تم نہیں کہو گی ۔۔جیسے سکندر نے کہا امل فورا بولی

کیا؟

جو میں نے کہا ہے ۔۔۔سکندر نے نرم لہجے کہا

اچھا ۔۔آپ کے انداز میں کہو ۔۔کیا ہے سکندر آپ سے صیح سے اظہار بھی نہیں ہوتا ۔صاف کہہ دیتے میں تمھیں پسند کرتا ہوں ۔طوبہ ۔۔بہانے بہانے سے روکتے تھے کمرے میں رکنے کے لیے اور آج بھی کیسے اٹک اٹک کہ کہہ رہے تھے

کہا تو ہے ناں سکندر نے مسکرا کر کہا

میری ایک شرط ہے ۔۔امل نے سکندر کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑا

کیا؟ کہی چاند تارے توڑ کے لانے والی تو نہیں تو پہلے بتا دوں مجھ سے یہ نہیں ہو گا

جیسے سکندر نے کہا امل نے بے اختیار قہقا لگایا

نہیں ۔آپ پلہز اس کالے رنگ کے علاوہ بھی کچھ اور رنگ کے درس پہنے آپکی کیبن میں بلیک کلر سے لے کر بلیک پر ہی ختم ہوتا ہے

امل نے جیسے کہا وہ کچھ دیر خاموش رہا اور کہا

میں کوشش کروں گا ۔۔۔

کیا ہے اس کالے رنگ میں امل چڑچڑاتے ہوئے کہا

بہت کچھ ۔۔۔ہے اس کا لے رنگ میں جب میں یہ کلر پہنتا ہوں تو میرے آفس کی سیکٹری کو بہت اچھا لگتا ہے

اچھا سکندر کو بھی دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔۔۔امل نے جیسے کہا دونوں نے قہقا لگایا

___________________________________

سکندر روکے ۔۔مجھے دیکھنا ہے وہ کیسے تربوز کاٹ رہا ہے امل نے گاڑی رکواتے ہوئے کہا

نہیں رہنے دو امل ۔۔سکندر نے کہا

نہیں پلہز مجھے دیکھنا ہے ۔۔۔امل نے کہا اور گاڑی سے اتری

بھائی صاحب لائیے مین بھی کرتی ہوں امل نے سامنے بیٹھے آدمی سے کہا جو بڑی کاری گر سے ایک بڑے چاقو سے تربوز کو مختلف طریقوں سے کاٹ رہا تھا

نہیں نہیں بی بی آپ سے نہیں ہو گا ۔۔اس آدمی نے نرمی سے کہا

نہیں پلیز ایک دفعہ ٹرائی کرنے دیں امل نے بے چارگی سے کہا میں نے بھی سیکھنا ہے

سکندر گاڑی کے قریب کھڑا تھا اسکے منع کرنے کے باوجود وہ باز نہئں آئی تھی

اسکے ہاتھ پر لگ جائے گی کیسے روکوں اسے ۔۔۔سکندر نے بے چینی سے کہا

امل ۔۔سکندر نے بلند آواز میں کہا

جیسے امل نے سنا وہ جلدی سے پلٹی

“جی”

یہ بی جان کی کال ہے ان سے بات کرنا جیسے سکندر نے کہا امل جلدی سے اٹھی اور سکندر سے فون لے کر ایک طرف ہو کر بات کرنے لگی اتنے میں سکندر اس آآدمی کے پاس گیا اور کہا

اگر میری بیوی کے ہاتھ پر ایک خراش بھی آئی تو پھر دیکھ لینا تمھارے دونوں ہاتھ زخمی کر دوں گا سکندر نے کہا اور جلدی سے گاڑی کی طرف چلا گیا اتنے میں امل دوبارہ اسکے پاس گئ

لایئے دیں جیسے امل نے کہا اس آدمی نے ایک نظر سکندر کی طرف دیکھا اور امل سے کہا

نہیں باجی رہنے دین اپ سے نہیں ہو گا میں نے اپنے ہاتھ نہیں تروانے جیسے اس آدمی نے کہا

امل مایوسی سے اٹھی اور سکندر کے قریب آئی

کیا ہوا نہیں دیا اسنے سکندر نے ہنستے ہوئے کہا

تم نے کچھ کہا ہے ناں اسے ۔۔امل نے شک کرتے ہوئے کہا

نہیں تو میں نے کچھ نہیں کیا میں تو یہاں کھڑا تھا سکندر نے شانے اچکائے

مجھے اچھے سے معلوم ہے سکندر یہ تمھارا ہی کام ہے تم نے ہی اس دھمکایا ہو گا ۔۔امل نے غصے سے کہا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *