Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 02)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 02)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
آگئ تو ماہ ررانی
امل جیسے گھر داخل ہوئی سامنے کھڑی عالیہ نے اتے ہی جملہ کستے ہوئے بولا
اسلام وعلیکم چاچی جان ۔
و علیکم اسلام کہاں تھی اتنی دیر ۔عالیہ نے غصے سے کہا ۔
آپ کو بتایا تو تھا کہ کام زیادہ ہوتا ہے اس وجہ سے تھوڑا لیٹ ہو جاتی ہوں ۔
کام ہی لیٹ ہوتا ہے یا پھر آتے ہوئے لیٹ ہوتی ہے ۔عالیہ نے تشویش کرتے ہوئے پوچھا
چاچی جان آپ کے کہنے کا کیا مطلب ہے ؟ میں آتے ہوئے لیٹ کیوں ہوں گی امل نے حیرت سے کہا
اچھا اچھا چپ کر بڑی ائی سکھی سواتری ۔دیکھا ہوا ہے میں نے تمھیں آئی بڑی زبان چلانے والی
عالیہ یہ کہتے ہوئے کمرے میں چلی گئ ۔
امل نے زہر کا ایک گونٹ پیا اور اپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گئ ۔
وہ ہر روز ہی عالیہ کے طعنوں کےزہر کا گھونٹ خاموشی سے پی لیتی تھی اسکے سوا اسکے پاس کوئہ حل نہیں تھا بچپن سے اسکے والدین کی وفات کے بود وہ اپنے چچا اجمل کے گھر رہ رہی تھی اس دن سے لے کر آج تک نہ چاچی نے اسے تسلیم کیا ہمیشہ اسے اسکی زات کی تذلیل کرتے ارہی تھی اسلیے اب اسے برا نہیں لگتا تھا اور نہ ہی آنسو اب اسکا ساتھ دیتے تھے کیونکہ شاید اب وہ حالات کی بازی کو جان چکے تھے ۔
تو بیٹا صیح سے سامان پہنچ گیا نہ مرتضی نے کھانے کے ٹیبل پر راحب سے سوال کیا
جی بابا سب کچھ اچھے سے ہو گیا بس گاڑی کی تھوڑی پروبلم ہوئی تھی لیکن بعد میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا
راحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
چلو یہ تو اچھا ہو گیا ویسے بیٹا اب تمھیں چاہیے کہ اپنے ابائی گاوں میں بھی کوئی ایسا کام شروع کرو جس ست تمھارا نام اور ہمارے خاندان کا نام مسقبل تک پکارا جائے اور ویسے بھی ہمارا گاوں شہر سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے جہاں ہماری عزت کی جاتی ہے ہمیں لوگ ایک مرتبہ سے جانتے ہیں
مرتضی صاحب اب ایسے سمجھا رہے تھے کہ ارمینہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا
یہی سب کچھ سمجھاتے رہے اسکو یہ مت کہے گا کہ اب شادی بھی کرلے
راحب مجھے بتا دو اگر کوئی لڑکی ذہین میں ہے ورنہ پھر میں نہیں روکو گی
راحب نے بے اختیار مرتصی صاھب کی حمایت مانگنا چاہیے مگر اس معاملے مین مرتضی صاحب کو کوئی حق نہیں تھا بولنے کو
نہ بیٹا اس معاملے مین تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا
راحب ادھر دیکھو ۔ارمینہ نے دباو ڈالا
اچھا ماما مجھے تھوڑا وقت تو دیں جب کوئی لڑکی پسند آئے گی تو آپ کو سب سے پہلے بتاوں گا
اچھا اپ یہ بتائیے آپکے چھوٹے لاڈلے کی کال آئی کے نہیں
راحب نے موضوع تبدیل کرتےہوئے کہا
ہاں ائی تھی کچھ دیر پہلے تمھارے بارے پوچھ رہا تھا کال کرلینا اسے ارمینہ نے وضاحت دی
**************************
عجیب شخص تھا شانزے عجیب نہیں اور ہی مخلوق سے لگ رہا تھا
ایسے گھور گھور کر مسلسل دیکھ رہا تھا
اور پتا ہے کیا کہتا ہےہم پہلے مل چکیں ہیں لیکن میں نے بھی انجان بنتے ہوئے کہہ دیا مجھے نہیں معلوم
ہائے ہائے ایسا کیوں کیا امل شانزے نے چڑتے ہوئے کہا
تو اور کیا کہتی میں
امل نے بھی چڑتے ہوئے کہا
تمھیں معلوم ہے امل پچھلے ایک گھنٹے سے تم ایک شخص کی گفتگو رہی ہو اور وہ اور کوئی نہیں
مسڑ راحب ہے شانزے کی بات امل ایک دم
خاموش ہو گئ
____________
ارحم اٹهہ جاو امل نے ارحم کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا ارحم جلدی کرو مجهے لیٹ ہو رہا ہے وہ اب سکے کمرے میں بیکهری چیزوں کو سمیٹ رہی تهی ارحم کے بچے میں تم سے کچھ کہہ رہی ہوں دیکهو اگر اج میں پهر لیٹ ہوئی نہ تو آئیندہ میں کبهی تمهارے ساتھ نہیں جاوں گی جیسے امل نے کہا ارحم جهٹ سے بستر سے اٹهہ کهڑا ہوا روکو ..آرہا ہوں امل نے بے اختیار قہقا لگایا یہ ہوئی نہ بات چلو آو .
امل یہ بات اچهی نہیں ہے تم مجهے ایسے بلیک میل نہیں کر سکتی جانا تم زرا میرے بغیر ارحم نے بال سنوارتے ہوئے کہا
کیوں .جی کیا کرو گے تم .جو ایسی دهمکیاں دے رہے ہو .
امل بهی ڈهٹ کے کهڑی ہو گئ ….
ابهی وہ کچھ بولتا کہ امل نے کہا اچها بس بس بہت ہو گیا جلدی سے آجاو میں باہر تمهارا انتظار کر رہی ہوں .
ارحم کی بات ادهوری رہ گئ وہ کچھ کہنا چاہتا تها مگر .پهر چپ ہو گیا .
***********************************
تمهیں پتا ہے ارحم کل شانزے کی برتهڈے ہے امل نے چہچہاتے ہوئے کہا
تو؟
تو کیا گفٹ دو گے اسے امل نے تیخے ہوئے الفاظ مین کہا
گفٹ میں .کبهی نہیں میں تو نہ دوں اس چڑیل کو گفٹ
ارحم نے چڑتے ہوئے کہا
شرم کرو ارحم وہ تمهاری چهوٹی بہن ہے اور تم اسے گفٹ دے رہے ہو سن لیا تم نے
امل نے اسے یقین دہانی کروائی ا
اچها میری ماں ارحم نے اپنی بائیک کو روکتے ہوئے کہا لو تمهاری فیکڑی اگئ . جائیں مس کئیر مینجر اپنا کام شروع کریں امل اب اسکے سامنے کهڑی تهی اچها سر احم اب آپ بهی اچهے بچوں کی طرح کیسی نوکری پر ٹک جائیں ورنہ چاچا جان کا جوتا کم نہیں ہے …
او اچها مجهے تو نہیں پتا تها ابا کا جوتا اتنا خطرناک ہے ارحم نے مسکراتے ہوئے کہا .
ویری فنئ .اچها اب میں چلتی ہوں اللہ حافظ .امل یہ کہتے ہوئے فیکڑی کے اندر داخل ہو گئ
وہ اپنے دهیان چلتی جارہی تهی اسکے دونوں ہاتھ مصروف تهے ایک ہاتھ کی گرفت سے اسنے اپنے ہینڈبهیگ کو پکڑا تها اور دوسرا ہاتھ بیگ کے اندر تها جس سے وہ کوئی چیز نکالنے میں مصروف تهی وہ اپنے اپ میں مگن آگے چلتی جارہی تهی کہ اچانک وہ کیسی سے ٹکرائی امل نے بےاختیار اس شخص کو دیکها اور ساتھ ہی اسکے چہرے کے تاثرات بدل گئے اسکی آنکهیں وہی رک گئی کیونکہ سامنے راحب مرتضی تها
ایم ..سوری امل نے نگاہوں کو نیچے کرتے ہوئے کہا .
اٹس اوکے میں نے برا نہیں مانا راحب کی آواز مین گہرائی تهی .میٹها لہجا جیسے راحب نے جواب دیا وہ کچھ کہے بنا آگے بڑھ گئ شاید راحب کو توقع تهی کہ وہ کچھ کہے گی مگر راحب کی سوچ کے برعکس ہوا وہ خاموش سے اندر کی جانب بڑھ رہی تهی کہ پیچهے سے ایک آواز نے اسے ایک دفعہ پهر رکنے پر مجبور کر دیا سنیے مس امل
امل نے پلٹ کر دیکها جو وایٹ شرٹ جسکی آستینیں کہنیوں تک کی ہوئی اور بلیک جینز میں ملبوث تها انکهوں پہ کالا چشما جو اب اسنے ہٹا دیا تها
میرا خیال ہے ہمیں ناراضگی ختم کر لینی چاہیے
ناراضگی؟ کونسی ہمارے درمیان تو نہ اتنی ملاقات ہوئی ہے جو نارضگی کا سبب بنے امل نے حیرت سے کہا
جیسے راهب نے سنا وہ ہلخا سا مسکرایا لگتا ہے آپکو یاد نہیں مجهے لگتا ہے ہمیں کافی پہ جانا چاہئیے تاکہ میں اپو بتا سکوں ناراضگی کا
جی نہیں میرے پاس اتنا فری ٹائم نہیں ہے کہ میں کافی پہ جاتی رہوں
امل نے کہا اور اندر چلی گئ
وہ مسلسل ٹک نگاہوں سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تها
امل انجیوز میں کهانا دے رہی تهی تب سے مسلسل وہ کیسی کو اسکا پیچها کرتے ہوئے نوٹ کر رہی تهی اور ایسا کون کرہا تها وہ یہ بهی بہتر جانتی تهی …اب سارے کام سے فارغ سے ہونے کے بعد وہ شانزے کی برتهڈے کا گفٹ لینے کے لیے گفٹ سینٹر میں داخل ہوئی
وہ ابهی گفٹس دیکھ رہی تهی کہ راحب اسکے نزدیک ایا
اور کہا
او آپ بهی یہاں رwhat a coincidence دیکھ لیں ہم بار بار ایک جگہ پر اکهٹے مل رہے ہیں اسنے حیرت سے کہا
اچها مجهے تو نہیں لگا کہ ہم اچانک پهر مل رہے ہیں اچها خاصا پیچها کرتے ہوئے آپ یہاں تک آئے ہیں
او آپ نے دیکھ لیا؟ امل نے مسکراتے ہوئے کہا
صرف دیکها نہیں مشاہدہ بهی کیا امل نے غصے سے کہا
یہ تو بہت اچهی بات ہے کہ آپ ہمیں اپنے زیرِ مشاہدہ رکهتی ہیں
.
آپ …آپ کیا چاہتے ہیں مطلب حد ہوتی ہے میں پورا دن نوٹ کر رہی تهی میں جہاں جا رہی ہوں آپ میرا پیچها کر رہے ہیں کوئی شرم ہوتی ہے تہزیب ہوتی ہے انسان میں مگر نہیں مجهے تو لگتا ہے ان تینوں کی کمی ہے آپ میں .
امل کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرا دیا
میں آپکو کچھ کہہ رہی ہوں اور آپ اگے سے مسکرا رہئے ہیں
اللہ واقعی یہ پاگل ہے .امل نے دانت پینچتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئ ..
*********************************
اب یہ سب روز ہونے لگا تها راحب باقاعدگی سے جہاں سے وہ گزرتی اس سے پہلے وہ وہی گاڑی لیے کهڑا ہوتا .
امل کی دن وہ اسے اگنور کرتی رہی …
آپ کیا چاہتے ہیں امل نے راحب سے پوچها
بیٹھ کے بات کر سکتے ہیں کیا؟ اسنے مسکراتے ہوئے کہا
___________
مجھے سمجھ نہیں آتی آپ ایسی حرکتیں کیوں کر رہے ہیں مطلب اتنے بڑے بزنس مین ہو کر بھی امل کہتے کہتے رک گئ ۔
آپکا مطلب ہے بڑے بزنس مینز انسان نہیں ہوتے ۔اسنے طنزا کیا
میں نے یہ تو نہیں کہا آپ کیوں اپنی ضد پر قائم ہیں ہماری درمیان ایک سرسری سی ملاقات ہوئی ہے اسکی بجائے آپ کس جواز سے ملاقات کا کہہ رہے ہیں ۔ امل نے کچھ الجتے ہوئے کہا
بہرحال یہ ضد تو نہیں چاہت کا نام آپ دے سکتی ہیں اور دوسری طرف آپ سے ملاقات کا جواز وہ میں آپ کو کافی پی کر بتاوں گا راحب نے مسکراتے ہوئے کہا اور گاڑی میں بیٹھ کر ساتھ والا دروازہ کھول دیا
امل مجبور تھی اور مجبورا اسے گاڑی میں اسکے ساتھ بیٹھنا پڑا کیونکہ اسکے علاوہ اب اسکے پاس کوئی حل نہیں تھا
**********************************
بتائیں مسڑ راحب آپ کیا چاہتے ہیں امل نے شائستگی سے کہا جو راحب کے سامنے چیئر پر بیٹھی تھی ۔
میں؟
راحب نے چائے کا سپ لیتے ہوئے مختصر سا سوال کیا ۔
جی آپ امل نے طنزا کہا ۔
میں ۔۔راحب رکا اپنے گلے کو صاف کیا اور پھر بولا ۔
میں آپ کو چاہتا ہوں جیسے راحب نے کہا امل ایک دم خاموش ہو گئ اسنے لمبا سانس لیا اور راحب کی طرف دیکھا جو اسکے جواب کا منتظر تھا ۔
ارے واہ آپ بھی ہر گلی کے دوسرے کونے میں ملنے والی عاشقوں کی فہرست میں نکلے جن کو لڑکی دیکھی نہیں اور پیار کا بھوت چڑھ جاتا ہے لگتا ہے آپ بھی اسی بیماری میں لاحق ہیں
امل نے صاف طنزا کیا ۔
یہ بات تو آپ نے غلط کہہ دی مس امل میں ان گلی میں ملنے والے عاشقوں جیسا نہیں ہوں ویسے بھی ان بچاروں میں سے ضروری نہیں سب ایک جیسے ہوں کچھ سچے بھی ہوتے ہیں ۔
راحب نے حمایت کی وہ ابھی بھی نرم لہجے میں گفتگو کر رہا تھا
میں کیسے مان لوں کہ آپ ان جیسے نہیں ہے ایک سرسری سی ملاقات ٹھیک دس یا بیس منٹ کی ہوئی وہ بھی ایک جانے انجانے میں اور آپ ایسے مجنو نکلے کہ وہی چاہت کا سمندر آپ کے دل میں آگیا
امل طنزا پر طنزا کر رہی تھی ۔۔۔۔
مطلب آپ اپنی بات پر قائم ہیں اسے مذاق سمجھ رہی ہیں ۔
شاید مذاق سے بھی گھٹیا ۔
پلیز میری چاہت کو گھٹیا مت کہے ۔۔۔اور ویسے بھی ۔ آپ جس ملاقات کو سرسری کہہ رہی ہیں وہ بیس منٹ کی ملاقات میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے اس بیس منٹ کا ہر سکینڈ میرے دل میں اتر چکا تھا اس بیس منٹ میں پہلی بار میرا دل دھڑکا تھا ۔۔۔جو آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا
وہ اب بھی ویسے ہی بول رہا تھا
ارے واہ کیا فلاسفی ہے ۔۔اچھا اس سے پہلے کتنی لڑکیوں کو کہہ چکیں ہیں ۔۔ امل نے ہنستے ہوئے کہا ۔
کتنوں ۔کو ۔۔اسنے سوچا ۔۔۔اوپر دیکھا ۔۔۔
امل نے بے اختیار کہا لگتا لسٹ کافی لمبی ہے ۔۔
پھر راحب نے ۔۔اسکی طرف دیکھا ۔ اس لسٹ میں صرف ایک ہی کا نام ہے امل نور سے شروع ہوتا ہے امل نور پر ختم ۔
راحب کی بات سن کر وہ بلکل دھک رہ گئ ۔۔۔اب وہ بلکل سیریس تھی وہ سمجھ رہی تھی کہ شاید راحب مان جائے گا کہ وہ مذاق تھا ۔۔مگر ابکی بار اسے کچھ عجیب لگا ۔۔
وہ کچھ دیر بعد بولی
دیکھیے راحب میں آپ کی فیلگنز کا احترام کرتی ہوں ۔ مین یہ نہین کہوں گی مگر پلہز اپ جو سوچ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے اور نہ ہی ہو گا ۔۔۔
اسکی وجہ میں آپ کو نہیں بتا سکتی اور نہ ہی بتاوں گی اسلیے پلیز آپ جو بھی میرے بارے میں سوچ رہے ہیں اسکو ختم کر دیں
وہ یہ کہتے ہوئے اٹھی
لیکن کیوں امل ۔میری کوئی غلطی ہے یا میرا انداز سے آپ کو ہرٹ ہوا ہے اسکی آواز میں پریشانی تھی
نہیں ۔۔آپکی کوئی غلطی نہیں ہے سو پلہز اب میرا پیچھا کرنا چھوڑ دیں ۔۔۔ویسے تین ہفتے آپ ضائع کر چکے ہیں اور ہفتے مت ضائع کریں ۔۔۔
وہ راحب کا جواب سنے بغیر وہاں سے چلی گئ تھی وہ جاتے ہوئے امل کو دہکھ رہا تھا وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا تھا مگر امل نے پہلے ہی جواب دیا
*********************
دیکھیے مسڑ آپ کیا چاہتے ہیں ۔۔۔۔
میں ۔۔۔میں آپکو چاہتا ہوں ۔
وہ اپنے بیڈ پر لیٹی صبح کو ہونے والی ملاقات کے بارے میں سوچ رہی تھی وہ جب سے راحب سے مل کر آئی تھی وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسکی باتوں کو بھلا نہیں پا رہی تھی وہ بیڈ سے اٹھی اور اپنی کیبن سے ڈائری نکالی ۔۔میز کے قریب چیئر کو پیچھے کیا اور اس پر بیٹھ کر وہ ڈائری لکھنا شروع کر دی وہ اکثر ایسا ہی کرتی تھی جب وہ پریشان ہوتی تو اپنا درد ڈائری کے صفحوں پر لکھ دیا کرتی تھی اج بھی وہ ایسا ہی کر رہی تھی ۔
جس چیز کی چاہت میں نے پچھلے 20 سالوں سے کی تھی ۔وہ آج کوئی غیر شخص نے کہہ دیا میں کیسے یقین کر لوں میرے خدایا ۔۔جو پیار جو چاہت مجھے میرے گھر والوں سے نہیں ملی ۔تو میں یہ کیسے کیسی دوسرے شخص سے ایسپکٹ کر سکتی ہوں ۔۔۔نہیں ۔۔۔میں کبھی بھی اسکے سامنے کمزور نہیں بنوں گی ۔میں نہیں چاہتی پھر چاچی جان میری ذات کی تذلیل کریں آگے وہ میرا وجود برداشت نہیں کرتی میں نہیں چاہتی وہ پھر مجھ پر کوئی الزام لگائیں وہ ابھی ڈائری لکھ رہی تھی کہ عالیہ امل کے کمرے میں داخل ہوئی
میڈم جی ارام کر لیا ہو تو باہر بھی آکر کوئی ہاتھ بٹا دو ۔یا صرف مفت کے کھانے کا شوق ہے ۔۔۔
جی چاچی جان میں آتی ہوں ۔۔وہ اپنی چئیر سے اٹھی ۔
چلو ۔آو جلدی باہر ۔۔برتن دھونے والے پرے ہے وہ صاف کرو ۔
عالیہ یہ کہتے ہوئے باہر چلی گئ ۔
امل نے ایک لمبی سانس لی اور کمرے سے باہر چلی گئ
تو یہ بات ہے ۔۔۔۔اسنے منع کر دیا ۔فون میں سے کیسی نے کہا
ہاں یہی سمجھ لو راحب نے گہراہ سانس لیا
کیا مطلب آپ پھر اسکو کہے گے ۔فون مین سے پھر کیسی نے سوال کیا
ہاں کروں گا اور مجھے یقین ہے وہ مان جائے گی راحب نے اطمینان سے کہا
بھائی اپکو کیسے یقین ہے وہ مان جائے گی
ارے میرے جونئیر یہ سالی محبت بڑی کمینی ہے یہ منوا کر چھوڑتی ہے ۔۔۔اس نے ہنستے ہوئے کہا
مطلب آپ بھی ضد پر قائم ہیں ۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔
اچھا اسکا سٹینڈرڈ تو ہمارے جتنا ہے مطلب اپ کے لیول کی ہے ناں
جیسے اسکے چھوٹے بھائی نے کہا راحب چونکا ۔
میرے بھائی مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور تو ایسی باتین کیوں کر رہا ہے اتنا پڑھ لکھ کر بھی
میں تو صیح کہہ رہا ہوں بابا جان بھی یقینا یہی کہے گے
اچھا اب میں سونے لگا ہوں فون رکھ دے راحب نے یہ کہا اور فون بند کر دیا۔۔۔۔
جاری ہے
