Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan NovelR50663 Nafrat Sy Muhabbat (Episode 11)
Rate this Novel
Nafrat Sy Muhabbat (Episode 11)
Nafrat Sy Muhabbat by Iqra Khan
بہت جلد سکندر .تم بهی مکافات عمل کی عدالت میں کهڑے ہو گے لوگوں کے جزباتوں کی توہین کرنے والا بدنصیب انسان کی جب سب کے سامنے اسکی ذات پر انگلی اٹهائی جائے گی تو پهر دیکهنا کتنی تکلیف ہو گی تب تمهیں بتاوں گی میں اور اسوقت تمهارے حق میں کوئی نہیں بولے گا تمهاری اس دنیا کے دستور بهی تم سے پناہ مانگے گے اور کہے گے جہاں صاحب تم دوسروں خے ساتھ ایسا کرتے ہو تو تمهارے ساتھ بهی ایسا ہو
میری محبت کو جهوٹا کہتے ہو …تمهیں پتا بهی ہے سکندر محبت کیسے کہتے ہیں تمهیں کیا پتا محبت کے اصول محبت ظالم دلوں میں بسیرا نہیں کرتی میں دعا کروں گی تم جیسے اعناء پرست اور خود پرست انسان کے دل پر محبت کبهی دستک نہ دے کیونکہ وہ جس دل پر دستک دیتی ہے اسے اپنا بنا لیتی ہے لیکن تمهارے دل میں احساس نام کی کوئی چیز نہیں.وہ خاموش کهڑا تها ..امل نے ابهی تک اسے گریبان سے پکڑ رکها تها .
میری زندگی برباد کر کے رکھ دی ہے ..سکندر مرتضی کیا ہو تم ..تمهاری کیا اوقات ہے خود کو کیا سمجهتے ہو زمین خدا ہو کہ جو بهی تمهارے دل میں آیا وہ بول دیا تم کس قدر چهوٹی سوچ کے مالک ہو کہ تم ہر ایک کو اپنی سوچ کی طرح گندہ تصور کرتے ہو
جیسے امل نے کہا …سکندر نے اسے پیچهے پهینکا اور کمرے سے باہر نکال دیا
آج سکندر نے انتہار کر دی تهی ..امل نور کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تها …اسمے اتنی ہمت نہیں تهی کہ وہ اور اسکا ظلم..برداشت کر سکے
اسکا پورا جسم کانپ ..رہا تها ..وہ خود کو ختم کرنا چاہتی تهی .خود کو مارنا چاہتی تهی ..
مجهے مرنا ہے …مجهے مرنا ہے ..وہ ..پاگلو خی طرح کمرے میں ..کوئی چیز ڈهونڈنا شروع ہو گی ..اور جب ساتھ پڑی فروٹ نائیف کو پکڑا .
بس .اب مجهے اور زندہ نہیں رہنا ..اسکے معصوم چہرے پر .ہر جگہ نیل کے نشان پڑے تهے ..سکندر نے ظلم کی انتہا کر دی تهی .
تم ایک گهر سے بهاگی ہوئی بد چلن اور بد کردار لڑکی ہو ..اسے بار بار سکندر کی وہ ..زہر الودہ باتیں یاد آرہی تهیں اور اسنے اپنے ہاتھ کی نبظ کاٹ لی
*****************************
اکیا ہو گیا ہے تمهیں سکندر .کس گناہ کی سزہ اسے دے رہے ہو ..
وہ سزہ کی مستحق ہے ..اسنے غصے سے کہا
گنہا کیا ہے اسکا صرف یہی کہ اسنے تمهارے بهائی سے پیار کیا صرف اتنا گناہ ہے کہ زندگی کے حادثے میں راحب کی موت کا ذمہ اس پر آگیا صرف یہی کہ وہ تمهارے ظلم کے آگے بے بس ہے اور حقیقت یہی ہے کہ تم اسکی خاموشی کا ناجائز فائدہ اٹهاتے ہو اور اسکی خاموشی کو ہی مجرم سمجھ کر اسکی ذات کی توہین کرتے ہو
ڈرو سکندر !
اگر وہ بولے گی نہ تو قیامت بهرپا ہو جائے گی کہی سر چهاپنے کے لائق نہیں رہو گے تم دعا کرو اسے تم سے نفرت نہ ہو
بلکہ تم سے محبت ہو جائے
جیسے موہد نے کہا سکندر ایک دم خاموش ہو گیا شاید اسکے پاس اب کوئی جواب نہیں تها
تم جو کہہ رہے ہو ..میں اس سے کوئی سرو کار نہیں
تم لوگ پتا نہیں اسے کیوں مظلوم سمجهتے ہو میں اسکا اصکی چہرہ جانتا ہوں موہد .پتا نہیں تم لوگ اسکے اصلی چہرے کو پہچان کیوں نہیں رہے
سکندر ..ہم نہیں تم نہیں اس کے اصلی چہرے کو پہچان پا رہے .
ابهی یہی گفتگو جاری تهی کہ سکندر کے فون کی گهنٹی بجی
اسلام و علیکم بی جان ..خیریت ہے
بیٹا ….جلدی ..آ جاو …ا….ا…امل ..نے
بی جان نے ہڑبڑی میں کہا
کیا ہوا ہے بی جان سب کچھ ٹهیک تو ہے …سکندر نے چونکتے ہوئے کہا
نہیں بیٹا امل نے خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے ہم اسے ہوسپٹل لے کر آئیں ہیں تم فورا آجاو
جی ..میں ابهی آیا ..
کیا ہوا سکندر ..سب کچھ ٹهیک تو ہے ناں ..
نہیں موہد ..امل نے خود کشی کرنے کیو کوشش کی ہے جیسے سکندر نے کہا ..موہد کے منہ سے بے اختیار نکلا .
واٹ؟
او مائی گاڈ ..
جلدی کرو ..وہ یہ کہتا ہوا سکندر کے ساتھ باہر نکل گیا
***********************
اب ڈاکٹر صاحب انکی طعبیت کیسی ہے ..
موہد نے پوچها
اب وہ بلکک ٹهیک ہے شکر کٹ زیادہ گہرہ نہیں تها ..ورنہ بہت پرابلم ہو جاتی
لیکن انہوں نے یہ سب کیوں کیا جیسے ڈاکٹر نے کہا .
وہ ایک دم خاموش ہو گیا .
وہ…وہ انهیں کچھ سٹریس تها ڈاکٹر ..موہد نے بات کو سنبهالتے ہوئے کہا
اچها مس امل کے ہزبینڈ یہاں آئیں ہیں
جیسے ڈاکٹر نے کہا ….موہد اور ارمینہ چونک گئے ..
سکندر پیچهے کهڑا تها .
ارمینہ کو یقین تها کہ سکندر آگے نہیں آئے گا
وہ خود آگے انے لگی تهی کہ اس سے کوئی پہلے آگے بڑها
جی میں انکا ہزبینڈ ہوں ..سکندر کے اس جملے پر موہد اور ارمینہ بلکل چونک گئے یہ وہی شخص تها جو اسے کیسی کے سامنے نہین لے کر جاتا کہ کہی کیسی کو پتا نہ چل جائے
اوکے آپ میری کئیبن میں ائیے میں نے آپ سے کچھ بات کرنی ہے
جی ضرور .سکندر یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر کے ہمراہ انکی کئیبن کی طرف بڑها
______
مسڑ سکندر شاید اپ کو یہ بات پتا نہ ہو لیکن میرا فرض بنتا ہے .آپ کو بتانا
ڈاکٹر نے بڑے تحمل لہجے سے کہا
کیوں ڈاکٹر صاحب سب کچھ ٹهیک تو ہے ناں سکندر نے فکر والے انداز سے کہا
مسڑ سکندر آپکی مسسز کی حالت بہت نازک ہے مطلب وہ بہت زیادہ سڑیس لے رہئ ہیں ..ایسا لگتا ہے جیسے انکے ساتھ بہت برا ہوا ہے .جب وہ بے ہوش تهی تو ..آپ یقین نہیں کریں گے ..انکی آنکهوں سے آنسوں لگا تار نکل جس سے صاف واضح تها وہ بہت درد کے مرحلے سے گزر رہی ہیں
آپ تو انکے ہزبینڈ ہیں آپ بہتر .انهین جانتے ہوں گے اسلیے جتنا ہو سکے انکا خیال رکهیں نہیں تو انکے ذہین پر اثر پر سکتا ہے
جی..ضرور ..سکندر نے کہا اور کئیبن سے بایر آگیا
ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ درد کے مرحلے سے گزر رہی ہوں
ڈاکٹر کی باتیں ابهی تک .اسکے ذہین میں گهوم رہی تهئ
سکندر .کایی سمجهتے ہو تم خود …خدا نہ کرے کبهی تمهیں کیسی سے محبت ہو ..
وہ خود .کو ..سکون ..آور محسوس نہیں کر رہا تها پتا نہیں اسکے دل میں عجیب سی کفیت چهائی تهی وہ خود کو کام مین مصروف کرنے کے باوجود .بهی اسے بار بار امل کی باتیں یاد آرہی تهیں.
*********************
کیوں مجهے بچایا .مرنے کیوں نہیں دیا ..میں مرنا چاہتی ہوں ماما کیوں ..مجهے بچایا .
امل نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا
بیٹا ..میری جان ایسا کیوں کہہ رہی ہو …
تو اور کیا .کروں ماما ویسے بهی تو ہر روز مرتی ہوں میں اچها نہیں ایک دفع ہی مر جاوں .
امل نے روتے ہوئے کہا ..اسکا درد کوئی نہیں محسوس کر سکتا تها کیسی کو امل کے درد کی پروا نہیں تهی .
وہ ہوسپٹل سے ڈسچارج ہو چکی تهی اچها تم ریسٹ کرو .میں تمهارے لیے سوپ لاتی ہوں
اسنے آنکهیں بند کی تهی لیکن وہ سو نہیں پا رہی تهی سکندر کا خوف اسے سونے ہی نہیں دے رہا تها ..اسی ثناء کے دوران وہ اندر داخل ہوا
وہ ہربڑی میں کوئی چیز ڈهونڈ رہا تها اسنے ایک دفعہ بهی امل کی طرف نہیں دیکها تها ..کیا واقعی اسکے دل میں امل کے لیے کوئی احساس نہیں تها .. یان وہ ہے ہی ایسا تها .واقعی سکندر مرتضی ایک سنگ دک بے رحم شخص تها .جسکی دنیا میں صرف اپنی “میں” کے علاوہ کچھ نہیں
کئیبن میں پڑی ہے آپکی فاعل ..جیسے امل نے کہا ..اسنے ایک نظر اسکی طرف دیکها ..اور کئیبن سے فاعل نکالی
فاعل پکڑے وہ باہر نکلنے لگا تها .. کہ اچانک رک گیا .
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا امل نے فورا کہا میں رات کو چلی جاوں گی اس کمرے سے ..وہ کچھ اور کہنا چاہتا تها ..لیکن وہ نہیں کہہ پایا .
اور کچھ کہے بغیر ..چلا گیا
***********************
اہ…..آہ..درد کی شدت سے اسکی جان نکل رہی تهی .اس سے اچهے سے کهڑا ہوا نہیں جا رہا تها .
سکندر کے آنے سے پہلے وہ کمرے میں سے جانا چاہ رہی تهی ..اگر وہ آ بهی جاتا تو خود ہی اسے کمرے سے نکالتا
روکو …
سکندر نے جیسے اسے کہا ..وہ وہی ٹهہر گئ ..وہ اسکے قریب بڑها .
ام کی سانسیں تیز ہو گئ …سکندر کا خوف اسقدر اسکے ذہین میں چهایا .تها کہ جلدی سے اسنے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیے ..
پلہز…سکندر …میں نے کچھ نہیں کیا
وہ اسکے قریب آیا اور اسے اپنے بازوں کی مدد سے اٹهایا .جیسے سکندر نے امل کو اپنی باہوں کی گرفت میں لیا وہ وہی دهک رہ گئ
آو میں تمهیں کمرے تک چهوڑ آتا ہوں
دهڑکنیں تیز ہو گئ ….اسکی پلکیں نہیں جهپک رہی تهی وہ اسکے چہرے کو مسلسل دیکھ رہی تهی اسکی گہری انکهیں جهکی ہوئی تهی اسے سمجھ نہیں آ رہی تهی کہ سکندر کو کیا ہوگیا ہے ..
کیا یہ وہی شخص ہے ..جو میری شکل تک دیکهنا پسند نہیں کرتا تها سکندر نے امل کو گیسٹ روم کے دروزے کے قریب .اسے اتارا
تهینک یوں ..امل نے سکندر کو کہا
وہ اگے سے کچھ کہے وہاں سے چلا گیا
**********************
فون کی گهنٹی بار بار بج رہی تهی امل …نے جیسے فون پر .اسکا نمبر دیکها
اسنے ..فورا اپنا موبائل آف کر دیا .
اور پهر لیٹ گئ ..
بیٹا . آو ناشتہ کر لو ارمینہ نے اسکے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا
جی ماما میں ابهی آئی ..امل نے نرم لہجے میں کہا .
ناشتہ کرنے کے بعد …وہ سارے برتن اٹها رہی تهی …
نہیں ..رہنے دو امل بیٹا سروینٹس ہیں وہ کر لے گے سب
نہیں ..ماما میں کر رہی ہوں نہ
نہیں بیٹا تمهاری طعبیت نہیں ٹهیک کیسے کرو گی یہ سب .ارمینہ نے پریشانی سے کہا
میں اب بلکل ٹهیک ہوں ماما …آپ بلکل بهی فکر نہ کریں
تم نہیں مانو گی
امل نے مسکرا کر ارمینہ کی طرف دیکها اور کچن میں چلی ..گئ
***********************
آو سکندر بیٹا تم بهی بیٹهو ..
ارمینہ نے ..سکندر کو کہا ..جو اپنے کمرے کی طرف جا رہا تها ..
نہیں ماما ..
ارے بیٹا آو تو سہی ..دیکهو آج میری بہو نے کتنے مزے کی کهیر بنائی ہے .ارمینہ کے لہجے میں خوشی کی لہر تهی
امل بهی پاس بیٹهی تهی ..وہ ہچکچائی
لگتا ہے میٹها کم ہے …سکندر نے دیکهتے ہوئے کہا
تم تو رہنے ہی دو سکندر ..کڑوے لوگوں کو ذائقہ کا کیا پتا
جیسے ارمینہ نے کہا
امل ہنسی روک نہ پائی ..
______
ارمینہ بیگم .میں کہہ رہا ہوں اگر یہ سکندر امل کے ساتھ اچهی طرح نہیں رہ رہا تو .پهر اسے کہے کہ وہ اپنی پسند کی شادی کر لے
جیسے مرتضی صاحب نے کہا .ارمینہ چونک کر بولی یہ کیا کہہ رہیں ہیں آپ ؟ سکندر کی دوسری شادی .امل میں کیا کمی ہے اور وہ اسکے ساتھ جیسا بهی ہے لیکن اب اسکا شوہر ہے .
وہ اس سے نفرت کرتا ہے اور یہ بات آپ اچهی طرح جانتی ہیں
ہاں مجهے پتا ہے ان کے تعلقات آپس میں ٹهیک نہیں ہے لیکن خدا کے لیے اب امل پر مزید ظلم مت کریں اس میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ مزید درد برداشت کر سکے معصوم سی تو وہ ہے ..کیا پتا جو دوسری آئے وہ کیسی ہو نا بابا نا ..میں تو ہر گز ایسا نہیں کرنے دوں گی امل کے ساتھ
ارمینہ نے حمایت کرتے ہوئے کہا اور آپ کو کس نے کہہ دیا سکندر اسکے ساتھ اچها نہیں رہتا .مجهے یقین ہے مرتضی صاحب وہ ضرور ایک نہ ایک دن اسے تسلیم کرے گا دل میں وہ پہلے دن سے اپنی بیوی مان چکا تها مگر اپنی اعناء کے باعث وہ سب کے سامنے اسے تسلیم نہیں کرتا مگر اب اسکا مطلب یہ تو نہیں اسکی دوسری شادی کر دی جائے.
آپ کو لگتا ہے .وہ اس سے ٹهیک ہو جائے گا .مرتضی صاحب نے تشویش کرنے والے انداز میں کہا .
جب محبت .اسکے دل پر دستک دے گی ..تو خود ہی دیکھ لیجیے گا .کیا حال ہو گا .سکندر کا .
ارمینہ نے .دعوا کرتے ہوئے کہا ..مرتضی صاحب بلکل خاموش ہو گئے .
اچها ..آپ کی واپسی کب ہے .ارمینہ نے موضوع گفتگو تبدیل کیا
سامان کی پیکینگ کر دی .
جی ساری کر دی ..امید ہے ایک دو ہفتے بعد واپسی ہو .
چلیں ٹهیک ہے ..ارمینہ نے مرتضی صاحب کو کورٹ پہناتے ہوئے کہا
***********************
امی پلیز ایک دفعہ امل کو کال کریں ..بس کر دیں ناراضگی .
چپ کر جا .اب ایک دفعہ تم نے اسکا نام لیا نہ .تو .مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا .
تو کیا کریں کہاں سے پیسے لائیں گی آپ ؟ ابا کی طعبیت بہت خراب ہے .ڈاکٹرز کہہ رہیں تب علاج ہو گا جب پے منٹ ہو گی
پلہز ایک دفعہ آپ نہیں مجهے بات کرنے دیں امل سے .
میں مر جاوں گی لیکن اس بد کردار سے ایک پیسا بهی نہیں لوں گی .
عالیہ بیگم نے غصے سے کہا ..شانزے نے مایوسی سے سر جهٹک دیا
پیچهے کهڑا ارحم ساری باتیں سن رہا تها پچهلے ایک ہفتے سے وہ امل کو کال کرنے کی کوشش کر رہا تها مگر وہ اسکی کال رسیو نہیں کر رہی تهی اسکا خیال تها .کہ وہ پهر اس سے وہی باتیں کرے گا جس سے عالیہ بیگم سخت خلاف تهی .
اسنے آخری دفعہ ..پهر کوشش .کی .
فون کی گهنٹی بج رہی تهی مگر کوئی اٹها نہیں رہا تها .
امل کا فون سکندر کے کمرے میں ہی رہ گیا تها .جیسے فون کی گهنٹی بجی .
سکندر کی نظریں قریب پڑے فون پر گئ … اس سے پہلے وہ فون اٹهاتا .کال اینڈ ہو گئ ..
ارحم نے امل کو ٹیکسٹ کر دیا .
” پلہز آخری دفعہ مجھ سے مل لو بہت ضروری بات کرنی ہے وعدہ کرتا ہوں دوبارہ کبهی کال نہیں کروں گا “
سکندر نے امل کا فون ہاتھ میں پکڑا تها جب میسج فون سکرین پر نمودار ہوا
میسج پڑتے ہی سکندر کے چہرے کے تاثرات بدل گئے
کون ہے یہ؟ جس سے امل بات کرتی ہے .
ابهی وہ اسئ سوچ میں گم تها کہ اسی ثناء کے دوران امل کمرے میں داخل ہوئی .
وہ ..میرا فون ..یہاں رہ گیا تها .
امل نے قریب پڑے میز سے فون اٹها لیا
یہ کس سے ملنے جا رہی ہے ..سکندر نے خود کو قابو پانے کی کوشش کی .
*****************************
کیا تم نے .مجهے بتایا کیوں نہیں ارحم چاچا جان کی طعبیت خراب ہے
میں نے تمهیں بتانے کی کوشش تهی مگر تم نے میرا نمبر بلاک کر دیا ابهی یہ میسج دوسرے نمبر سے کیا .
تم فکر مت کرو میں پیسوں کا نتظام کر لوں گی .تم مجهے اپنا اکاؤنٹ نمنر لکهوا .میں تمهارے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کر دوں گی
تهینک یوں ..امل .
ارے ارحم اس میں شکریہ والی کیا بات ہے ..اور میں معافی چاہتی ہوں میں نے تمهارا نمبر بلاک کر دیا .مجهے لگا تم وہی سے گفتگو کرو گے
ارے نہیں پاگل اب تمهاری شادی ہو چکی ہے میں ابهی بهی وہی باتیں کرتا .
اچها .راحب صاحب کیسے ہیں جیسے ارحم نے کہا امل کی سانسیں تهم گئ ..
وہ خاموش ہو گئ ایسے کیسی سرد لہر نے اسکے پورے جسم کو منجمد کر دیا تها
امل .کہاں کهو گئ
ہوں ….نہیں میں راحب ..بہت لمبی کہانی ہے پهر بتاوں گی اب مجهے دیر ہو رہی ہے بعد میں ملتے ہیں .
امل نے کہا اور وہاں سے فورا ..چل دی .
راحب صاحب کا کیا حال ہے ..ارحم کا جملہ بار بار اسے یاد آرہا تها .
وہ پورے راستے ..خود کو .راحب کی یاد سے بیدار ہونے کی کوشش کرتی رہی .وہ کیوں ٹهہر گئ اسنے کیوں نہیں ارحم کو راحب اور سکندر کے بارے میں بتایا
*********************
آ گئ تم .جیسے وہ داخل ہوئی سکندر نے اسکا راستہ روکتے ہوئے کہا
“جی..” اسنے حیرانی سے کہا
کیا میں پوچھ سکتا ہوں تم کہاں گئ تهی؟
وہ..و..وہ میں
کچھ پوچھ رہا ہوں میں تم سے کہا گئ تهی ..سکندر نے غصے سے کہا .
تم کہا بتاو گی ..میں ہی بتا دیتا ہوں .اپنے عاشق سے ملنے گئ تهی اسنے بلایا جو ہوگا ..
اچها اس سے پہلے کتنی دفعہ ملنے گئ ہو اس سے ..
بهائی کو کتنی دفعہ دهوکہ دیا تم نے ..
نہیں سکندر ایسا کچھ نہیں ہے .میری بات سنیں
بکواس بند کرو …اپنی .کیا بتانا ہے یہی کہ میں کس قدر گری ہوئی انسان ہوں ..جو پیسوں کی خاطر کیسی سے بهی دوستی کر لیتی ہے جیسے سکندر نے کہا
امل نے ایک زور دار تهپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا .
اب ایک اور لفظ تم نے میری ذات کے خلاف بولا نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا .تمهارے جیسا گندہ اور بذن انسان میں نے آج تک نہیں دیکها .
جب سچائی معلوم نہ ہو تو انسان کو اپنی زبان قابو میں رہ کر استعمال کرنی چاہیے لیکن تم میں تو یہ ہے ہی نہیں تمهارے جیسا شخص دوسروں اپنے جیسا گندہ کی تصور کرتا ہے
وہ میرا چهوٹا بهائی ہے سن لیا تم نے میرے چاچا کا بیٹا .شرم کرو سکندر .اتنا گندہ الزام لگانے سے پہلے اپنے اس دماغ سے کچھ سوچ لیا کرو .
میں نے کیسے سوچ لیا .تم بدل گئے ہو .. تم کبهی نہیں بدل سکتے سکندر تم آج بهی وہی اعناء پرست انسان ہو .جسکو صرف دوسروں کی ذات پر انگلی اٹهانی آتی ہے .
امل نے کہا اور وہاں سے چلی گئ
**************************
صیح کیا اسنے تمهیں تهپڑ مارا اگر میں اسکی جگہ ہوتا نہ تو دو اور تهپڑ مارتا
تم دوست میرے ہو یاں اسکے ..
یار سکندر کیا ہو گیا ہے ..تمهیں ایک طرف تم اسے اپنی بیوی تسلیم نہیں کرتے اپنی زندگی سے بے دخل کرتے ہو اور دوسری ہی طرف اس پر شوہر ہونے کا حق بهی جماتے ہو
ایک کام کرو .تمهیں اس سے نفرت ہے بهی یاں
نہیں
کیا مطلب؟
یاں اس نفرت سے محبت ہو گئ ہے .جیسے موہد نے کہا سکندر فورا بولا
بکواس بند کرو .موہد ..مجهے اس سے محبت کبهی نہیں ہو سکتی ہاں میں اسے اپنی بیوی تسلیم نہیں کرتا مگر وہ ہماارے گهر میں رہتی ہے میں نہیں اسکی وجہ سے ہمارے گهر کی عزت خراب ہو
واہ کیا .تمهارے خیال ہیں ..سکندر .خدا کا خوف کرو وہ تمهاری بیوی ہے پہلے اس کی بات تو سن لینی تهی .مگر نہیں تمهارا تو فرض بنتا ہے نہ اسے درد پہچانا
تو اب کیا کروں .
کیا کرنا ہے معافی مانگو .اس سے .
معافئ سکندر چونکا
جی سکندر مرتضی مجهے پتا ہے تمهارے لیے بہت مشکل ہے مگر تمهیں کرنا پڑے گا..
\.
