Muhabbat Akhri Manzil By Arfa Khan Readelle50207 Last Episode Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 1
” کامران بیٹا ایک بار تم آئے تھے ہمارے گھر نوال کے لیے سوال لے کر۔ آج ہم آئے ہیں تمہارے گھر تمہاری بہن جویریہ بیٹی کے لیے سوالی بن کر اور ہماری ضد ہے کہ ہمیں جواب ہاں میں ملے۔” مختار صاحب نے بات کا آغاز محبت سے کیا اور آخر میں مان کی آمیزش تھی۔
آج زاویان اور مختار صاحب کی فیملی کامران کے گھر شاہ رخ کا جویریہ کے لیے رشتہ لے کر آئے تھے۔
آج زاویان مختار صاحب کی طرف سے تھا۔
” انکل شاہ رخ ہمارا پڑھا لکھا شریف النفس ہے۔ اپنا کاروبار سنبھال رہا ہے۔ ہاں تھوڑا شرارتی ہے۔” عامر نے بات کرتے ہوئے اختتام پر شوخ ٹکڑا لگایا۔
جویریہ کے والدین کامران جبران زوباریہ سب وہیں موجود تھے۔
” بھائی صاحب جویریہ آپ کی ہی بیٹی ہے لیکن ہمیں سوچنے کا کچھ وقت چاہیے۔” جویریہ کے والد نے سہولت سے وقت مانگا۔
” بالکل جویریہ ہماری ہی بیٹی ہے۔ ہم اپنی بیٹی کے ہاتھ پر شگن رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا شاہ رخ آپ کی بیٹی جویریہ کو پسند کرتا ہے۔” عامر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” عامر آپ لوگوں کی بات بالکل ٹھیک ہے لیکن ہم ہتھیلی پر سرسوں نہیں جما سکتے۔” کامران نے تحمل سے کہا۔
” کامی یار ہم گھر کیسے جائیں گے؟ اس نے ضد کی ہے کہ ہم شگن کے پیسے رکھ کر آئیں ورنہ وہ گھر میں گھسنے نہیں دے گا اور خود رکھنے آ جائے گا۔” احمر نے ہنستے ہوئے کہا۔
” تو تم سیدھے طریقے سے شگن کے پیسے رکھنے دو۔” احتشام نے بھی حصہ لیا۔
” زاویان آپ ہی کچھ کہیں۔ وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے۔ میرے بھائی کا رشتہ پکا کروائیں ورنہ میں بھی ان کے ساتھ ہی رہوں گی۔” نوال نے زاویان کو ٹہوکا دیا۔
” سن لیا کامی؟ کیوں میرے بسے بسائے گھر کے پیچھے پڑ گئے ہو؟” زاویان نے شرارت سے پوچھا۔
” یار زاویان تم نے بھی پارٹی بدل لی؟” کامران نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
” بالکل جب سے نوال میری زندگی میں ائی ہے میری پارٹی بھی بدل گئی ہے۔” زاویان نے ہنستے ہوئے اعتراف کیا۔
جویریہ کے والد نے زوباریہ کو اشارہ کیا جو مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلا کر چلی گئی۔
کوثر بیگم اٹھ کر کچن میں چلی گئیں اور ملازمہ کو خاص ہدایات دینے لگیں۔
کچھ دیر بعد جویریہ سکائے بلو کلر کا شرٹ ٹراؤزر پہنے سر پر دوپٹہ ٹکائے نیوڈ سا میک اپ کیے داخل ہوئی۔
عظمیٰ بیگم نے جویریہ کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔
نائمہ نے ریڈ کلر کا دوپٹہ اس کے سر پر اوڑھایا۔
مختار صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں۔
عظمیٰ بیگم نے اسے ساتھ لگایا اور پیار کیا۔ انہوں نے جویریہ کے ہاتھ میں شگن کے پیسے رکھے اور اس کا منہ میٹھا کروایا۔
باری باری سبھی نے جویریہ کا منہ میٹھا کروایا اور شگن کے پیسے رکھے۔
سبھی کے چہرے سچی خوشی سے چمک رہے تھے۔
——————–
” بھائی پلیز جلدی چلیں۔” نوال نے گاڑی میں بیٹھتے ہی جلد بازی میں ڈرائیور سے کہا۔ آواز میں خوف اور نمی واضح تھی۔
” کیا ہوا ہے باجی؟ سب خیریت ہے؟” ڈرائیور از حد پریشان ہوا۔
” کچھ ٹھیک نہیں ہے بس جلدی چلیں۔” نوال نے گھبرائی اور لڑکھڑاتی آواز میں کہا۔
” زاویان۔۔۔ پلیز زاویان کے آفس لے چلیں پلیز جلدی۔” نوال نے روتے ہوئے کہا۔
نوال کی حالت پر وہ از حد پریشان تھا۔ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس نے اپنی گن قریب کر لی تھی۔
نوال دو تین دن سے اپنی طبیعت میں تبدیلی محسوس کر رہی تھی۔ اسی لیے وہ زاویان کے آفس چلے جانے کے بعد ہاسپٹل آئی تھی۔
ہاسپٹل میں چیک اپ کروایا۔ ٹیسٹ رپوٹ شام تک ملنی تھی۔ شام کو آ کر لینے کا سوچتی گھر جانے کا ارادہ کرتی جب وہ ہاسپٹل سے باہر نکلی تو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس کی بلا ارادہ ہی نظر اطراف پر گئی تو نظر آنے والا چہرہ وہ اپنی آخری سانس تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ شخص بھی نوال کو دیکھ چکا تھا۔
اس نے مکروہ مسکراہٹ نوال کی طرف اچھالی۔ جس پر نوال حواس باختہ ہوتی گاڑی میں بیٹھ گئی اور ڈرائیور کو جلد بازی میں زاویان کے آفس چلنے کا کہا۔
وہ شخص گاڑی کے کبھی رائٹ سائیڈ پر آتا تو کبھی لیفٹ سائیڈ پر آ کر نوال کو ہراساں کر رہا تھا۔
گاڑی کے زاویان کے آفس کے باہر رکتے ہی نوال تیزی سے گاڑی سے اترتی سیدھا اندر بھاگی۔
دوپٹہ اس کے سر سے ڈھلک چکا تھا۔
اسے اپنی حالت کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
نوال نے رک کر یہ بھی نہیں دیکھا تھا کہ وہ شخص اب بھی اس کے پیچھے تھا یا نہیں؟
وہ جلد از جلد زاویان تک پہنچنا چاہتی تھی۔
” زاویان۔۔ زاویان کا آفس؟” نوال نے ریسیپشنسٹ سے پوچھا۔
” آپ کون؟” ریسیپشنسٹ نے پروفیشنل انداز میں پوچھا۔ وہ اس لڑکی کا گھبرایا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
نوال اس لڑکی کو جواب دیے بغیر اندر کی طرف بھاگی۔
” رکیں میم۔۔”
” آپ اندر نہیں جا سکتیں۔۔”
” آپ کون ہیں؟۔۔۔ سر میٹنگ میں ہیں آپ مجھے بتا دیں۔۔۔ سر ناراض ہوں گے۔۔۔ سیکیورٹی کو بلاؤ۔” وہ لڑکی نوال کے پیچھے تھی۔
نوال بھاگتی ہوئی میٹنگ روم کا دروازہ کھول کر تیزی سے اندر آئی۔
زاویان پروجیکٹر کے سامنے کھڑا کچھ اہم پوائنٹس کو ایکسپلین کر رہا تھا۔
جب اندر آتی کسی شخصیت کو دیکھ کر زاویان کے ماتھے پر تیوریاں چڑھی۔ اس سے پہلے وہ آنے والے کو جھاڑ دیتا۔
نوال تیزی سے جا کر اس کے ساتھ لگی۔
زاویان ہکا بکا نوال کو دیکھ رہا تھا۔
” زاویان۔۔۔ زاویان۔۔” نوال کو دیکھ کر زاویان کا غصہ لمحوں میں ہوا میں تحلیل ہوا۔
” نوال سب ٹھیک ہے؟” زاویان اس کے سر کو سہلاتے ہوئے پریشانی سے پوچھ رہا تھا۔
نوال نے روتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔
” جینٹلمین پلیز ایکسکیوز اس۔” زاویان نے پروفیشنل انداز میں میٹنگ برخاست کی۔
وہ تمام لوگ اپنی فائلز اٹھا کر نکل گئے۔
” آئی ایم سوری سر میں نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی۔” ریسیپشنسٹ نے صفائی دی۔
” اس کی ضرورت نہیں ہے۔ وائف ہیں میری۔” زاویان نے نرمی سے بتایا۔
” اوہ سوری میم آپ مجھے پہلے بتا دیتیں تو میں آپ کو سر کے آفس میں بٹھا دیتی۔” اس لڑکی نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔
نوال روتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔
” اٹس اوکے مس آپ جائیں اور جب تک میں نہ کہوں مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔” زاویان نے پروفیشنل انداز میں اس لڑکی کو جانے کا کہا۔
نوال زاویان کے ساتھ لگی بے تحاشہ رو رہی تھی۔ اس نے زاویان کے کوٹ کو مٹھیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ جیسے اس کے دور ہو جانے کا ڈر تھا۔
زاویان نے اس کے گرد بازو حمائل کیے۔
” نوال میری جان کیا ہوا ہے؟ کیوں رو رہی ہو؟ سب ٹھیک ہے؟” زاویان نے محبت سے پوچھا۔
” کچھ ٹھیک نہیں ہے زاویان۔ سب ختم ہو جائے گا۔۔ تباہ ہو جائے گا۔ وہ مجھے خوش نہیں رہنے دیتا۔ جب میں خوش ہوتی ہوں وہ میری خوشیاں نوچنے آ جاتا ہے۔ بہت ظالم ہے وہ۔۔۔ اب بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔ میرا گھر میری فیملی میرے بچے سب کچھ ختم کر دے گا۔” نوال زار و قطار رو رہی تھی۔
” کون؟” زاویان نے پریشانی سے پوچھا۔
” اسامہ۔۔” نوال نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
” وہ بہت ظالم ہے۔ وہ۔۔ وہ واپس آ گیا ہے۔۔۔ مار دے گا وہ مجھے۔۔ سب کچھ ختم کر دے گا۔” نوال نے کانپتے ہوئے کہا۔
” وہ تو جیل میں ہے۔” زاویان نے جیسے اس سے تصدیق چاہی۔
” وہ واپس آ گیا ہے۔ وہ کسی جیل میں نہیں ہے۔۔ میں نے اسے خود دیکھا ہے۔” نوال نے چلاتے ہوئے یقین دلانا چاہا۔
” ہو سکتا ہے نوال تمہیں غلط فہمی ہوئی ہو۔ سم ٹائم ہم ایک جیسے چہرے دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ وہی شخص ہے۔” زاویان نے قائل کرنا چاہا۔ وہ خود پریشان ہو گیا تھا۔
” نہیں وہ وہی شخص ہے۔” نوال نے چلاتے ہوئے کہا۔ اس کے آنسوؤں میں شدت تھی۔
زاویان نے اسے ساتھ لگایا اور اسے اپنی موجودگی کا احساس کا دلایا۔
زاویان نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔
اس کے آنسو صاف کیے۔ جو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
” کس کے ساتھ آئی ہو؟”
” ڈرائیور کے ساتھ۔۔ باہر ہی ہے۔” نوال نے انگلی سے باہر کی طرف اشارہ کیا۔
” تم نے اسامہ کو کہاں دیکھا ہے؟”
” مال کے باہر میں جب گاڑی میں بیٹھ رہی تھی تب دیکھا۔ اس نے بھی مجھے دیکھا ہے۔ وہ میرا پیچھا کرتے یہاں تک آیا ہے۔” نوال نے روتے ہوئے بتایا۔
” وہ ابھی بھی باہر ہے؟” زاویان کے ماتھے پر بل پڑے۔
” ہاں۔۔”
زاویان نے آگے بڑھ کر میٹنگ روم میں موجود ونڈو کے آگے سے پردہ سرکا کر باہر دیکھا۔
اس کا ڈرائیور وہیں موجود تھا۔ اس کے علاوہ اسے باہر کچھ بھی غیر معمولی پن محسوس نہ ہوا۔
” تم پریشان مت ہو۔ میں دیکھ لوں گا۔”
زاویان نے گلاس میں پانی ڈالا اور اس کی طرف گلاس بڑھایا۔
نوال نے ایک دو گھونٹ پی کر گلاس واپس رکھ دیا۔
” زاویان ڈرائیور کو بولیں وہ عنایہ کو پک نہ کرے۔” نوال نے خوف زده ہوتے ہوئے کہا۔
” اوکے ریلیکس۔” زاویان نے اس کے آنسو صاف کیے۔
زاریان نے موبائل نکال کر آن کیا۔ ڈرائیور کی دو مسڈ کالز تھیں۔ یقیناً وہ میٹنگ میں تھا۔ یہ تب کی بات تھی۔
زاویان نے سکرین پر ٹچ کر کے ڈرائیور کو کال ملائی اور فون کان اور کندھے کے درمیان پھنسایا۔
ایک ہاتھ سے وہ نوال کے کندھے پر تسلی آمیز انداز میں ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔
” ہیلو تم گھر چلے جاؤ۔”
” سر عنایہ بےبی؟”
” اسے میں پک کر لوں گا۔”
” اسے گھر مت بھیجیں۔ وہ اس کا پیچھا کرے گا۔” نوال نے پریشانی سے کہا۔
” آئرہ گھر پر ہے آنٹی بھی ہیں۔ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔” نوال بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی۔
” شش نوال ریلیکس۔” زاویان نے اسے ساتھ لگایا۔
” ڈونٹ وری نوال وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ میں ہوں نا۔” زاویان اسے ساتھ لگائے تسلی آمیز انداز میں ٹھپک رہا تھا۔
” وہ ایک بار پھر سب تباہ کر دے گا۔ سب ختم ہو جائے گا۔ میرا آشیانہ بکھر جائے گا۔” نوال کے لہجے میں ٹوٹے کانچ سی چبھن تھی۔
” ایک بار پھر میرے ہاتھ خالی رہ جائیں گے۔” نوال نے کرب سے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھا۔
” اس بار میں ایسا کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا۔” زاویان نے اس کے خالی ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا۔
” اس بار خسارہ صرف اسامہ کے حصے میں آئے گا۔” زاویان نے کٹیلے لہجے میں کہتے نوال کے ماتھے پر نرمی سے بوسہ دیا۔
” کچھ کھایا ہے تم نے؟” زاویان نے محبت سے اس کے گال سہلاتے ہوئے پوچھا۔
” مجھے کچھ نہیں کھانا۔” نوال نے بےبسی سے کہا۔
وہ اسے کیا بتاتی کہ پچھلے دو تین دنوں سے اس کی طبیعت کچھ اپ سیٹ تھی۔ وہ کچھ بھی کھاتی تھی تو اسے وومٹنگ ہو جاتی تھی۔ وہ اسی لیے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے ہاسپٹل آئی تھی۔ اگر وہ یہ بات زاویان کو بتاتی تو وہ پریشان ہو جاتا اور وہ اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ کچھ بھی کنفرم ہونے کے بعد ہی زاویان کو بتانے کا ارادہ رکھتی تھی۔
” جوس تو پیو گی۔” زاویان نے انٹرکام اٹھاتے ہوئے کہا اور اس کے لیے جوس کا آرڈر دے دیا۔
—————-
زاویان کی گاڑی عنایہ کے سکول کے قریب تھی۔ اس کے آفس سے نکلتے ہی نوال وقتاً فوقتاً گردن دائیں بائیں موڑ کر اسامہ کو تلاش رہی تھی۔
زاویان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور لبوں سے لگایا۔
” وہ کہیں نہیں ہے۔ تم ریلیکس ہو جاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں۔” زاویان نے انتہائی نرمی سے نوال کو کہا۔ جتنی نرمی اس وقت اس کے لہجے میں نوال کے لیے تھی اس سے کئی زیادہ غصے کا ابال اسامہ کے لیے اٹھ رہا تھا۔
نوال ایک لمحے کو مطمئن ہو جاتی اور دوسرے ہی پل وہ دوبارہ بے چینی کا شکار ہو جاتی۔
زاویان کی گاڑی عنایہ کے اسکول کے باہر پارک ہوئی۔ سکول کی چھٹی کو ابھی کچھ منٹ باقی تھے۔
زاویان نے ایک بار پھر نوال کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا اور تسلی دی۔
” میں نے تمہیں تنہا تب نہیں چھوڑا تھا جب تم میری کچھ نہیں تھی تو آج کیسے ممکن ہے کہ میں اپنی دنیا کو بے آسرا چھوڑ دوں؟” زاویان نے نرمی سے پوچھا۔
نوال پھیکا سا مسکرا دی۔
عنایہ کی چھٹی ہو چکی تھی۔
ڈرائیور کی جگہ بابا کی گاڑی اور اس میں بیٹھے بابا اور مما کو دیکھتے ہوئے وہ اس طرف بھاگی آئی۔
عنایہ کو دیکھتے ہی نوال نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اس کے لیے بازو وا کیے۔
عنایہ اس میں آ سمائی۔
” مما بابا آپ لوگوں نے کتنا اچھا سرپرائز دیا ہے۔” گرمی کی شدت سے سرخ ہوتے عنایہ کے گالوں کو نوال نے دوپٹے سے اس کے پسینے کو صاف کیا۔
” عنایہ بیٹا کیا حال کیا ہوا ہے آپ نے اپنا؟” نوال نے محبت سے کہا۔
عنایہ زاویان کو فائو دے کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔
گاڑی گھر کے راستے پر گامزن تھی۔
” بابا آپ لوگوں نے کتنا اچھا سرپرائز دیا۔ آپ لوگ روز مجھے لینے آیا کریں۔” عنایہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
” اس کے لیے آپ کی مما کو روز میرے آفس آنا پڑے گا۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” مما پلیز آپ بابا کے آفس روز جایا کریں۔” عنایہ نے نوال کے گلے بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔
نوال نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ چوم لیے۔
” بابا لنچ باہر کریں؟”
” بیٹا آئرہ گھر پر ہے۔ اس کے بغیر تو نہیں کر سکتے نا؟”
” بابا پلیز پلیز۔” عنایہ نے زاویان کے گلے میں بانہیں ڈالیں۔
” اوکے ایسا کرتے ہیں کہ ابھی گھر چلتے ہیں۔ آرڈر کر لیتے ہیں اور ہم سب مل کر لنچ کرتے ہیں۔” زاویان نے حل پیش کیا۔
” یس۔۔” عنایہ پرجوش ہوئی۔
عنایہ کے آتے ہی نوال کے چہرے سے اسامہ کی گھبراہٹ معدوم ہوتی گئی۔
زاویان نے انہیں گھر چھوڑا اور ان کے ساتھ ہی لنچ کیا۔ لنچ سے فارغ ہوتے ہی وہ آفس کے لیے نکل آیا۔
—————-
زاویان گاڑی کی طرف بڑھتا کچھ یاد آنے پر رکا اور ڈرائیور کے پاس آیا۔
” کیا ہوا تھا؟”
” سر میں میم کو ہاسپٹل لے کر گیا تھا۔” ڈرائیور نے پوری بات بتا دی۔
” کہاں لے کر گئے تھے؟”
” ہاسپٹل سر۔”
” کون سے؟”
ڈرائیور نے نام بتا دیا۔
زاویان سوچ میں پڑ گیا۔
نوال تو اسے شاپنگ مال کا کہہ رہی تھی۔ وہ ہاسپٹل کیوں گئی تھی؟ اس نے زاویان سے کیا جھوٹ بولا تھا؟ اس نے زاویان سے جھوٹ کیوں بولا تھا؟ کیا وہ ڈر گئی تھی یا وہ خود بھول گئی تھی اور روانی میں اس کے منہ سے مال نکل گیا۔
زاویان بہت کچھ سوچ رہا تھا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
مین روڈ پر گاڑی ڈالتے ہی زاویان نے اپنا موبائل نکالا اور کال ملائی۔
” ہیلو کامی کیسے ہو؟”
رسمی علیک سلیک کے بعد زاویان مدعے پر آیا۔
” کامی تمہارا ایک دوست کمشنر ہے۔ مجھے اس کا نمبر سینڈ کرو۔”
” تمہیں کمشنر کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟”
” یار بعد میں بتاتا ہوں پہلے نمبر سینڈ کرو۔”
” ہم شریفوں کو پولیس والوں سے کیوں کام پڑ گیا ہے؟”
” اسامہ واپس آ گیا ہے۔ اسی کے بارے میں بات کرنی ہے۔” زاویان نے دھماکہ کیا۔
” اسامہ نوال کا۔۔۔” کامران نے بات دانستہ ادھوری چھوڑ دی۔
” ہاں وہی۔” زاویان نے موڑ کاٹتے ہوئے کہا۔
” میں تمہیں سینڈ کرتا ہوں۔ تمہاری اس سے جو بھی بات ہو مجھے ضرور بتانا۔ مجھے بھی فکر ہو رہی ہے۔” کامران نے پریشانی سے کہا۔
اسی لمحے موبائل پر میسج ٹیون ہوئی۔ کامران کی طرف سے نمبر آ چکا تھا۔
زاویان نے سکرین پر ٹچ کر کے کال ملائی۔
” ہیلو کمشنر میں زاویان ہاشمی بات کر رہا ہوں۔ کامران نے مجھے آپ کا نمبر دیا ہے۔ کچھ ٹائم پہلے نوال مختار پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور یہ اس کے سابقہ شوہر نے کیا تھا۔ جس پر کیس چلنے سے اس کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔ اب وہ انسان دوبارہ نوال مختار کے آس پاس دکھائی دیتا ہے۔ مجھے یہ پتا کروانا ہے کہ وہ جیل سے بھاگا ہے یا رہا ہوا ہے؟ اس کی جیل سے رہائی کیسے ممکن ہوئی؟” زاویان نے مختصراً ساری بات بتائی۔
” زاویان صاحب آپ مجھے اسامہ کی پکچر اور اس کیس کی ڈیٹیلز سینڈ کر سکتے ہیں؟” کمشنر نے ساری بات تحمل سے سنی اور مزید کاروائی کے لیے تفصیلات چاہیں۔
” ہاں بالکل میں آپ کو تھوڑی دیر میں اپڈیٹ کرتا ہوں۔” زاویان نے کال منقطع کرتے ہی عامر کو کال ملائی ۔
” اسامہ کی پکچر اور اس کیس کی ساری ڈیٹیلز مجھے سینڈ کرو۔”
عامر سے رسمی علیک سلیک کے بعد زاویان نے سنجیدگی سے کہا۔
” کیوں کیا ہوا سب خیریت؟” عامر نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
” نہیں اسامہ جیل سے باہر آ چکا ہے۔ وہ آج نوال کو ملا تھا اور اس کا پیچھا بھی کیا ہے۔” زاویان نے سنجیدگی سے بتایا۔
” یہ کیسے ممکن ہے؟ اس کو عمر قید ہوئی ہے۔” عامر نے پریشانی سے کہا۔۔
” یہی پتا کروانا ہے۔ تم ڈیٹیلز سینڈ کرو۔”
” اوکے میں تمہیں سینڈ کرتا ہوں۔”
کال ڈسکنیکٹ کر کے زاویان نے موبائل سیٹ پر پھینکا۔
نظریں سڑک پر مرکوز تھیں۔
گرفت اسٹیرنگ پر سخت تھی۔
زاویان آفس آ چکا تھا لیکن اس کا کسی بھی کام میں دھیان نہیں لگ رہا تھا۔
آدھے گھنٹے کے بعد عامر کی طرف سے اسامہ کی پکچر اور کیس کی کمپلیٹ فائل آ چکی تھی۔ جو اس نے کمشنر کو سینڈ کر دی تھی۔
کمشنر نے زاویان کو کچھ دیر میں اپڈیٹ کرنے اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔
——————–
” مسٹر ہاشمی میرے پاس آپ کے لیے بہت بری خبر ہے۔” کمشنر نے سنجیدگی سے بات کا آغاز کیا۔
زاویان کی بھنویں تن گئیں۔
” مسٹر ہاشمی آپ کا شک بالکل ٹھیک نکلا ہے۔ دو مہینے پہلے جیل سے چھ قیدی فرار ہو گئے تھے۔ جن میں اسامہ بھی تھا اور اس وقت وہ اسلام اباد میں موجود ہے۔ وہ آپ کی وائف کو تنگ کر رہا ہے۔” کمشنر نے افسوس سے بتایا۔
” آپ لوگ اتنی بڑی لاپرواہی کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ کو اندازہ ہے یہ چھ مجرم کتنی زندگیاں خراب کریں گے؟ ان کے کیا جرائم تھے؟ اور یہ مزید کس کس کو نقصان پہنچائیں گے؟” زاویان نے غم و غصے کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔
” مسٹر ہاشمی میں سمجھتا ہوں آپ کی فیلنگز۔ ہماری ٹیم نے اسامہ کی تلاش شروع کر دی ہے۔ آپ کی وائف کا بیان چاہیے ہو گا۔” کمشنر نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا۔
” میں ہر طرح کا کورپریٹ کرنے کو تیار ہوں لیکن اسامہ میری فیملی میں سے کسی بھی فرد کو نقصان نہ پہنچائے۔ اگر میری فیملی کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو۔۔۔”
” آپ بے فکر رہیں آپ کی فیملی کی پروٹیکشن کے لیے ہم ہیں۔ ہمیں بس آپ کی کورپریشن کی ہی ضرورت ہے۔” کمشنر نے مطمئن کرنا چاہا۔
” بس آپ کی فیملی محتاط ہو جائے۔ آپ کی وائف اکیلے بلا ضرورت نہ نکلیں اور اگر کوئی بھی ان یوژول چیز آپ یا آپ کی وائف دیکھیں تو ہمیں ضرور انفارم کریں۔” کمشنر نے مزید کہا۔
زاویان نے الوداعیہ کلمات ادا کیے اور کال منقطع کر دی۔
کال کے منقطع ہوتے ہی زاویان نے موبائل ٹیبل پر پٹخنے کے سٹائل میں رکھا اور سیٹ سے ٹیک لگا لی۔
زاویان کا دماغ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔
” یہ سب کیا ہو گیا تھا؟” زاویان نے بے بسی سے دونوں ہاتھ سر پر پھیرے۔
” ابھی تو زندگی پرسکون ہونا شروع ہوئی تھی۔ یہ ایک نئی مصیبت کہاں سے آ کر کھڑی ہو گئی تھی؟” انہیں سوچوں کو سوچتے ہوئے اس کے دماغ میں ایک سپارک ہوا اور وہ جھٹکے سے سیدھا ہو بیٹھا۔
ٹیبل سے موبائل اٹھا کر ایک نمبر ڈائل کیا اور موبائل کان سے لگایا۔ بیل جا رہی تھی۔
اس کا چہرہ انتہائی سنجیدہ تھا۔
——————–
” زاویان آفس میں بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر تیزی سے ٹائپنگ کر رہا تھا۔
اس نے مصروف سے انداز میں مطلوبہ فائل کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کھینچا۔
اس نے لیپ ٹاپ پر نظر ڈالے ہی فائل کھولی۔ نظر جیسے ہی فائل پر گئی تو وہ چونکا۔
سامنے ہی فائل کے اندر ایک اینویلپ پڑا ہوا تھا۔
وہ حیرت سے اس اینویلپ کو دیکھ رہا تھا۔
اس نے وہ اینویلپ اٹھا کر کھولا۔ اندر سے چھوٹا سا سوکس کا پیس نکلا۔
زاویان حیران ہوا۔
” یہ کیا تھا؟”
” اتنی چھوٹی سوکس کس کی تھی؟” زاویان کو جیسے کلک ہوا۔
اس نے مسکراتے ہوئے اینویلپ کے اندر دیکھا۔ جہاں ایک چھوٹی سی چٹ تھی۔
” آئی ایم کمنگ بابا۔ عنایہ آپی اور آئرہ کی ٹیم سٹرانگ کرنے کے لیے۔” زاویان کو خوش گوار حیرت ہوئی۔
اس نے خوشی سے سوکس چوم لی۔
زاویان نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے موبائل اٹھایا پھر سر نفی میں ہلایا۔
” نوال تم نے مجھے ایسے نہیں بتایا تو پھر میں بھی تمہیں اپنے انداز میں بتاؤں گا۔” زاویان آنکھوں میں چمک لیے کھڑا ہوا۔ اس کے قدم باہر کی طرف تھے۔
نوال صبح سے موبائل اٹھا کر دیکھ رہی تھی کہ شاید کوئی میسج یا کال آئی ہو۔ زاویان کا ابھی تک کوئی میسج یا کال نہیں آئی تھی۔
” کیا انہیں پتا نہیں چلا ہو گا؟”
” شاید فائل ہی نہ کھولی ہو۔”
” یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے لیے اتنی خوشی کی بات نہ ہو یا شاید انہیں سمجھ نہ آیا ہو لیکن دو بچوں کے بعد سمجھ تو آنا چاہیے یا شاید فرسٹ ٹائم کی خوشی الگ ہوتی ہے۔”
” یہ بھی تو کہا تھا کہ مجھے مزید اولاد نہیں چاہیے تو شاید میرے لیے ایسا سٹیپ لیا ہو۔” نوال ٹہلتے ہوئے سوچ رہی تھی۔
” مجھے بیٹا چاہیے۔ تمہیں بھی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب باپ بیٹیاں مل کر نکال دیں؟ تو تمہاری پوزیشن سٹرانگ ہونی چاہیے۔ تاکہ تم ریلیکس ہو سکو۔ مجھے اب اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔” زاویان نے نرمی سے کہا۔
نوال کو زاویان کی بات یاد آئی۔
” یا پھر عرشیہ کی بات اور تھی۔” نوال نے پھر سوچا۔
” کوئی بات نہیں شام میں جب آئیں گے۔ تب بات کر لیں گے۔” نوال موبائل ہاتھ میں تھامے ٹہل رہی تھی۔ جب جھٹکے سے کمرے کا دروازہ کھول کر زاویان اندر آیا۔
اس کے چہرے پر حد درجہ سنجیدگی تھی۔
” یہ کیا ہے؟” زاویان نے انتہائی سنجیدگی سے ہاتھ میں پکڑا اینویلپ لہرایا۔
” زاویان۔۔” نوال کا دل ڈوب کر ابھرا۔
” میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟”
” زاویان۔۔۔”
” ایسے کون کرتا ہے یار؟ ایسی باتیں ایسے کون بتاتا ہے؟” زاویان اس کے گلے لگ گیا۔
نوال بے یقینی سے اس کے ساتھ لگی تھی۔ کچھ لمحے لگے اسے سنبھلنے میں۔
” آئی ایم سو سو ہیپی۔” زاویان نے اسے سامنے کیا اور اس کا چہرہ دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی چمک رہی تھی۔
” نہیں نوال یہ وقت رونے کا نہیں ہے۔ یہ ٹائم خوش ہونے کا ہے۔ ہمیں اس کو بہت اچھے سے ویلکم کرنا ہے۔” زاویان نے محبت سے اس کے آنسو اپنی پوروں پر چنے۔
” ڈرا دیا تھا آپ نے۔” نوال نے خفگی سے کہا۔
” تم نے مجھے چونکا دیا۔ پہلے میں کال کرنے لگا تھا پھر میں نے سوچا خود تمہارے پاس آنا چاہیے۔” زاویان نے اسےایک بار پھر ساتھ لگایا۔
” اتنی ٹینشن میں یہ خبر میرے لیے کوئی معجزہ ہے۔” زاویان نے اس کا پیشانی چومی۔
” اتنی تیز ڈرائیونگ کرتا آیا ہوں۔ دو بار تو ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا ہے۔” زاویان نے ہنستے ہوئے بتایا۔
” ارام سے کرنی چاہیے تھی۔” نوال نے مصنوعی گھوری سے نوازا۔
” خبر تھی آرام سے آنے والی؟” زاویان نے مسکراتے ہوئے اس کی آنکھوں پر لب رکھے۔
” عنایہ اور آئرہ ایکسیپٹ کر لیں گی؟” نوال کے لہجے میں ڈھیروں اندیشے تھے۔
” ان کا باپ ایکسیپٹ کر چکا ہے تو انہیں کیوں اعتراض ہو گا؟” زاویان نے حتمیہ کہا۔
” لیکن میں تمہیں اپنی عنایہ اور آئرو بےبی کے چکر میں
اپنے بیٹے کی حقوق تلفی نہیں کرنے دوں گا۔ ” زاویان نے جیسے وارن کیا۔
نوال دھیرے سے ہنس دی۔
” آپ ان سب کا خیال رکھ لیجیے گا۔” نوال نے مسکراتے ہوئے اس کا کالر ٹھیک کیا۔
” زاویان اگر بیٹا نہ ہوا اور بیٹی ہوئی تو؟” نوال نے اس کی آنکھوں میں کچھ کھوجنا چاہا۔
” اس کا کوئی چانس نہیں۔” زاویان نے حتمیہ کہا۔
” کیونکہ تب تمہیں بھی اس دل کی چابی مل جائے گی۔” زاویان نے محبت سے اس کے گال سہلائے۔
” کم آن یار کیا بیٹیوں کے ماں باپ انسان نہیں ہوتے؟ یا بیٹیاں اس معاشرے کا حصہ نہیں ہیں؟ تم اتنی ٹیپیکل سوچ مت رکھو کیونکہ میں تم سے یہ ایکسپیکٹ نہیں کر رہا۔” زاویان نے اس کے سر سے اپنا سر ٹکایا۔
” بیٹا ہو یا بیٹی صحت مند ہو، گول مٹول ہو اور شرارتی بھی ہونا چاہیے۔ ہمیں باقی باتیں نہیں سوچنی۔” زاویان نے اسے ایک بار پھر خود میں بھینچا۔
” میں بتا نہیں سکتا کتنا خوش ہوں۔” زاویان نے اس کی گردن پر لب رکھے۔
نوال نے بھی مسکراتے ہوئے اس کے گرد بازو حمائل کر دیے۔
” گھر میں سب کو بتایا تم نے؟”
” نہیں سب سے پہلے آپ کو بتایا ہے۔”
” بتایا نہیں ہے ہنٹ دی ہے۔” زاویان نے باور کروایا۔
” خود ہی تو کہا تھا محبوبہ چاہیے۔” نوال نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” اوہو محبوبہ بننے کی تیاریاں ہیں؟” زاویان نے شرارت سے چھیڑا۔
” مجھے نہیں پتا محبوبہ اور کیا کیا کرتی ہے؟” نوال نے اس کی ٹائی کی ناٹ ٹھیک کی۔
” کوئی بات نہیں میں خود بتا دوں گا اپنی محبوبہ کو۔” زاویان نے اس کی کمر میں بازو حمائل کیے۔
” تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ ابھی تک کسی کو نہیں بتایا ورنہ میں نے تم سے ناراض ہو جانا تھا۔” زاویان نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
” ایک تو یہ ناراضگی اور غصہ اسی ناک پر بیٹھا رہتا ہے۔” نوال نے اس کی ناک کھینچی۔
” میں مٹھائی لایا ہوں آؤ سب کا منہ میٹھا کرواتے ہیں۔”
” تم اب سے اپنا بہت زیادہ خیال رکھو گی۔” زاویان نے اس کی گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
” کچھ بھی کھانے کا دل کرے مجھے بتانا۔”
” اور آئرہ کو گود میں نہیں اٹھاؤ گی۔” زاویان اسے ہدایات دے رہا تھا۔
” یس سر۔” نوال نے سر خم کیا۔
” تمہیں کب پتا چلا؟”
” میں اس دن مال نہیں گئی تھی ہاسپٹل گئی تھی۔” نوال نے نگاہیں جھکاتے ہوئے کہا۔
” یہ تو مجھے پتا ہے لیکن تم نے مجھ سے ہاسپٹل جانے کے بارے میں چھپایا کیوں؟” زاویان نے اس کی ٹھوڑی اوپر کی۔
” میں کچھ کنفرم ہونے کے بعد آپ کو بتانا چاہتی تھی۔” نوال نے اس کی شرٹ کے بٹن چھیڑتے ہوئے کہا۔
” آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں مال نہیں گئی؟”
” وقت آنے پر بتاؤں گا۔” زاویان نے اس کی ناک سے ناک ٹکرائی۔
——————–
نوال ٹیرس میں آ کر کھڑی ہوئی۔ ٹھنڈی ہوا نے اس کا استقبال کیا۔ باہر ہمیشہ کی طرح جامد خاموشی تھی۔ وہ جس سیکٹر میں رہتے تھے وہاں رات کے اس وقت خاموشی کا راج ہوتا تھا۔ زاویان صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر بزی تھا۔ وہ بور ہو رہی تھی تو باہر ٹھندی ہوا میں آ گئی۔ وہ ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی۔ جب اس کی نظر سڑک پر کھڑے ہیولے پر گئی۔
نوال ٹھٹکی۔
وہ اس جگہ دیکھنے لگی۔ اسی وقت وہ ہیولا قدم قدم چلتا روشنی کی طرف آیا۔ اس ہیولے کا چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے آیا۔ اسامہ کو دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ اڑا۔
اسامہ اور نوال کی نگاہیں ملتے ہی اسامہ پراسرار سا مسکرایا۔
سٹریٹ لائٹ کی مدہم روشنی کے باوجود اسے اسامہ کو پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی۔ وہ بھی اسے دیکھ چکا تھا اس لیے مسکرا رہا تھا۔
نوال کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔
وہ گھبرا کر اندر بھاگی۔
نوال نے تیزی سے اندر آ کر گلاس ونڈو زور سے بند کی۔
زاویان کو نوال کے انداز چونکا گئے۔
اسے لگا نوال کسی چیز سے ڈر کر اندر آئی ہے۔
اس کے وجود میں خوف واضح نظر آ رہا تھا۔
” کیا ہوا ہے نوال؟ کون ہے باہر؟” زاویان نے لیپ ٹاپ وہیں رکھا اور اس کی طرف بڑھا۔
” کوئی بھی نہیں۔” نوال نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا۔
” ایسے کیسے کوئی بھی نہیں ہے؟ اپنا چہرہ دیکھو۔” زاویان باہر کی طرف بڑھا۔
” نہیں زاویان اسے ہمارے گھر کا بھی پتا چل گیا ہے۔ وہ آ گیا ہے۔” نوال نے حواس باختہ ہوتے ہوئے کہا۔
” باہر اسامہ ہے۔” نوال نے ڈر کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
” ریلیکس نوال۔” زاویان نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور باہر کی طرف بڑھا۔
” پلیز نہیں وہ کچھ بھی کر دے گا۔ وہ پاگل ہے۔” نوال نے روتے ہوئے اس کا ہاتھ پھر پکڑ لیا۔
” میں اس سے بڑا پاگل ہوں اسے پتا ہونا چاہیے کہ تم نے مجھ سے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں چھپایا۔ تم اب وہ نوال نہیں ہو جس کے ساتھ وہ جیسا چاہتا تھا سلوک کیا۔ تم میرے ساتھ باہر چلو اور اس کا مقابلہ کرو۔ اسے بتاؤ کے تم زاویان ہاشمی کی بیوی ہو اور اب کمزور نہیں رہی۔ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔” زاویان نے تنے ہوئے چہرے سے کہا۔ آخر میں اسے تسلی دینے کے لیے ساتھ لگایا۔
” آؤ۔” زاویان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر ٹیرس میں لے آیا۔
وہ دونوں باہر آ گئے۔
نوال نے زاویان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔
وہ دونوں ٹیرس کی ریلنگ کے پاس کھڑے ہو گئے۔
زاویان نے ارد گرد کا جائزہ لینے کے لیے نگاہیں گھمائیں۔
اسے وہاں ایک ہیولہ اندھیرے کا حصہ بنتا نظر آیا اور پھر وہ اسی اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
شاید وہی اسامہ تھا۔ جو زاویان کو دیکھ کر فوراً چلا گیا تھا۔
” ریلیکس نوال وہ چلا گیا ہے۔” زاویان نے تسلی آمیز کہا۔
” موسم تو بہت اچھا اور رومینٹک ہو رہا ہے۔ یہ بھی اچھا ہو گیا اسامہ ہمارے رومانس کی وجہ بنا۔ نہ وہ آتا نہ تم مجھے بلاتی اور نہ میں اس خوبصورت سے رومینٹک موسم کو انجوائے کر پاتا ہے نا؟” زاویان نے شرارت سے چھیڑا۔
” تو اور کیا گھر کو آفس بنا لیا ہے۔”
” اوہو اتنا غصہ؟ تو تم مجھے کہہ دیتی کہ آفس کو آفس میں چھوڑ کر آیا کرو۔” زاویان نے اسے اپنے حصار میں لیا۔
” ہر بات کہنا ضروری ہے؟” نوال نے بھنویں اچکائیں۔
” نہیں ہر بات کہنا ضروری نہیں ہے۔ بس محبت سے دیکھنا ضروری ہے تاکہ پتا چل جائے کہ بیگم صاحبہ کا موڈ رومینٹک ہو رہا ہے۔” زاویان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔
زاویان اس کی آنکھوں پر جھکا۔
” زاویان ہم ٹیرس میں ہیں اور کیا پتا وہ اسامہ نامی مصیبت گئی ہی نہ ہو۔” نوال نے اسے جگہ کا احساس دلایا۔
” یہ تو اور اچھی بات ہے۔ اسے بھی تو پتا چلے کہ نوال اب مجھ سے محبت کرتی ہے۔” زاویان اس کے بالوں میں چہرہ چھپا گیا۔
نوال نے اس کے گلے میں بانہیں ڈال لیں۔
——————–
زاویان اور نوال کچن میں موجود تھے۔ زاویان آج نوال کی فرمائش پر برگرز بنا رہا تھا کیونکہ رات کے اس پہر اسے برگرز کی کریونگ ہو رہی تھی اور اس وقت کوئی ڈلیوری نہیں ہونی تھی۔ نوال شیلف سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔
وہ محبت پاش نظروں سے زاویان کو دیکھ رہی تھی۔ جو چکن پیٹیز فرائی کر لینے کے بعد سائیڈ پر کر چکا تھا۔ اب کولزلو بنانا تھا اور برگرز اسیمبل کرنا تھا۔
نوال سے پوچھ پوچھ کر وہ برگرز کی تیاری کر رہا تھا۔
اب کولزلو بھی تیار تھا۔
زاویان نے کولزلو ٹیسٹ کیا۔
اس کے سامنے کھڑی اس کی خوبصورت زندگی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر وہی فنگر اپنے منہ میں لی اور ٹیسٹ کرنے کے ساتھ اس کی انگلی کاٹ بھی لی۔
” آہ۔۔” مقابل بلبلا اٹھا اور جھٹکے سے ہاتھ کھینچا۔
” جنگلی بلی پچھلے جنم میں چڑیل رہی ہو کیا؟” زاویان اپنی انگلی منہ میں لیے سہلا رہا تھا۔
” آپ نہیں جانتے ہم ہم ذات تھے۔” نوال نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا۔
” تم یہاں صرف مجھے پوائنٹ آؤٹ کرنے آئی ہو؟ اور کچھ نہیں کرو گی؟” زاویان نے دلچسپی سے پوچھتے ہوئے اس کے کان کی لو لبوں میں دبائی۔
” کروں گی آپ کو ڈھیر سارا تنگ اور خوب سارا پیار۔” نوال نے ایک ادا سے کہتے ہوئے اس کے گلے میں بانہیں ڈالیں اور اس کی ناک سے ناک مس کی۔
زاویان کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
زاویان نے اپنی جنگلی بلی کے گرد حصار تنگ کیا۔
اس کے دونوں گالوں پر شدت سے بوسہ دیا۔
دودھیا رنگت لمحوں میں سرخ ہوئی۔
” کیا خیال ہے کھانے پینے کا پلان کینسل کر دیں؟ میں تمہیں کھا لیتا ہوں اور تم مجھے خوب سارا پیار کر لینا۔” زاویان نے نوال کی گردن میں منہ چھپایا۔
” نہیں پہلے پیٹ پوجا بعد میں کام دوجا۔” نوال نے اپنے ہینڈسم کو ٹریک چینج کرتے دیکھا تو فوراً اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر ٹوک دیا۔
زاویان قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
” چلو پھر جلدی سے کھاؤ کیونکہ میں اب بعد میں ہی کھاؤں گا۔” زاویان نے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو محبت سے چھوا۔
” زاویان۔۔” نوال نے ہنستے ہوئے آنکھیں دکھائیں۔
” جی میری جان حکم کریں غلام حاضر ہے۔” زاویان نے اس کے آگے پلیٹ رکھی۔
نوال نے برگر اٹھا کر بائٹ لیا۔
” زاویان اتنا مزے کا برگر میں نے اپنی زندگی میں نہیں کھایا۔” نوال نے اس کا دھیان بٹانا چاہا۔
” اس لیے کے یہ میں نے اسپیشلی تمہارے لیے بنایا ہے۔” زاویان نے محبت سے اس کی ناک پر بوسہ دیا۔
نوال گڑبڑا گئی۔
زاویان اسے لو دیتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” آپ ایسے دیکھیں گے تو میں کیسے کھاؤں گی؟” نوال نے منہ بناتے ہوئے پوچھا۔
” منہ سے۔” زاویان کا جواب فوری آیا۔
تھوڑی دیر پہلے وہ اسے تنگ کر رہی تھی۔ اب زاویان کی باری تھی۔
نوال بہت سست روی سے کھا رہی تھی۔
” تم نے جتنا کھانا تھا کھا لیا۔ اب میری باری ہے۔” زاویان نے اس کے ہاتھ سے پلیٹ لے کر سائیڈ پر رکھ دی اور اس کی طرف جھکا اور اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیا۔
نوال کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اب وہ اپنی مرضی سے ہی چھوڑے گا۔ شرم کے احساس سے نوال نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
نوال نے اس کے کندھوں کو پکڑ لیا۔
زاویان نے اس کی کمر کے گرد حصار باندھا۔
وہ دونوں کچھ دیر یونہی کھڑے ایک دوسرے میں گم رہے۔ جبھی باہر سے گلا کھنکھارنے کی آواز پر وہ دونوں ہڑبڑا کر ہوش میں آئے۔
زاویان پیچھے ہوا اور اس کی کمر سے ہاتھ ہٹائے۔
نوال رخ موڑ کر کھڑی ہو گئی۔
اس کا چہرہ سرخ اور سانسیں بے ترتیب تھیں۔
وہ خوامخواہ ہی خود کو مصروف ظاہر کرنے لگی۔
” جی بابا آپ کو کوئی کام تھا؟” زاویان نے سنبھلتے ہوئے پوچھا۔
” پانی لینے آیا ہوں۔” نصار صاحب نے عام سے انداز میں کہا۔
” میں ابھی دیتا ہوں۔” زاویان تیزی سے آگے بڑھا اور فریج سے پانی نکالنے لگا۔
” تھینک یو بیٹا نوراں شاید رکھنا بھول گئی تھی۔” نصار صاحب کہہ کر نکل گئے۔
نصار صاحب ابھی کچن سے نکلے ہی تھے کہ نوال نے تیزی سے مڑ کر ایک زوردار مکا زاویان کی کمر پر جڑا۔
” سس ہائے۔۔” زاویان بلبلا اٹھا۔
کچن سے اپنے روم کی طرف بڑھتے نصار صاحب زاویان کی آواز پر دھیرے سے مسکرا دیے۔ وہ اپنے بچوں کی دائمی خوشبوں کے دعا گو تھے۔
” حد ہے یار اپنے بچوں کے بابا کو کون مارتا ہے؟” زاویان نے تڑپنے ہوئے پوچھا۔
” بچوں کے بابا انکل نے دیکھ لیا ہے۔” نوال نے خفگی سے کہا۔
” نہیں یار وہ اسی لیے تو کھنکھارے تھے۔” زاویان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔
” وہ اسی لیے کھنکھارے تھے کہ انہیں اپنے بیٹے کی سکلز کا پورا اندازہ ہے کہ وہ کب کہاں کچھ بھی کر دے۔” نوال نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
زاویان نے قہقہہ لگایا۔
” کوئی بات نہیں یار ہم بھی ایسے ہی آئے ہیں۔” زاویان نے اسے ریلیکس کیا۔
” میں کس منہ سے ان کے سامنے جاؤں گی؟” نوال نے شرمندگی سے پوچھا۔
” ابھی میرے سامنے تو آؤ۔” زاویان نے اسے اپنی طرف کھینچا۔
وہ اس کے سینے سے آ لگی۔
زاویان نے اس کی کمر میں بازو حمائل کیے اور حصار تنگ کیا۔
” زاویان نہیں۔۔۔”
زاویان نے اس کے باقی کے الفاظ وہیں دبا دیے اور اس پر چھا گیا۔
——————–
زاویان نوال کے ساتھ اس کے ریگولر چیک اپ کے لیے ہاسپٹل آیا تھا۔ ہاسپٹل کے کوریڈور سے نکلتے ہوئے زاویان ایک دم سے رکا۔ اس کے ساتھ چلتی نوال نے رک کر اس کی طرف دیکھا۔
” اوپس۔۔ میں اپنی کیز تو ڈاکٹر کے ٹیبل پر ہی چھوڑ آیا ہوں۔ تم گاڑی تک چلو میں ابھی آتا ہوں۔” زاویان نے عجلت میں کہا۔
” لیکن زاویان۔۔۔”
” بس دو منٹ میری جان میں یوں آیا۔ تم گاڑی تک چلو۔” زاویان نے اس کا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
” اوکے۔” نوال مسکرا دی۔
” آرام آرام سے جانا کوئی جلدی نہیں ہے۔” زاویان نے اسے پیچھے سے ہدایت دی۔
نوال سر اثبات میں ہلاتی آگے بڑھ گئی۔
زاویان لمبے لمبے ڈگ بھرتا ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھ گیا۔
نوال ہاسپٹل کی پارکنگ میں آئی۔ وہاں کافی رش تھا۔
نوال کو دور سے ہی گاڑی کھڑی نظر آ گئی تھی۔
نوال دھیرے دھیرے چلتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جب اچانک ایک سفید رنگ کی وین آ کر تیزی سے رکی۔
نوال فوراً پیچھے ہوئی۔ اگر نوال بروقت پیچھے نہ ہوتی تو اس کا ایکسیڈنٹ پکا تھا۔
وین کا دروازہ کھول کر ایک نقاب پوش تیزی سے اترا اور نوال کو گھسیٹتے ہوئے وین میں پھینکا۔
نوال کے ہاتھ سے اس کی فائل چھوٹ کر زمین پر گر گئی۔
نوال کی چیخیں پارکنگ ایریا میں گونجنے لگیں۔ اتنے رش کے باوجود کوئی بھی نوال کی مدد کو آگے نہ بڑھا۔
نوال شیشے پیٹ رہی تھی۔ کوئی بھی نہیں تھا جو اس کی مدد کر سکتا اور جو مدد کر سکتا تھا وہ وہاں موجود نہیں تھا۔
نوال نے چلتی گاڑی سے آخری منظر جو دیکھا وہ اپنے پیچھے بھاگ کر آتے زاویان کا چہرہ تھا اور شاید یہ چہرہ وہ آخری بار دیکھ رہی تھی۔
نوال ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی۔
زاویان جب واپس آیا تو نوال کی چیخیں سنتے ہی وہ تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف آیا۔
گاڑی سے پہلے ہی ایک وائٹ کلر کی وین میں موجود ایک نقاب پوش نے نوال کو دھکے سے بٹھا کر تیزی سے وین کا دروازہ بند کر دیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دوسرے نقاب پوش نے گاڑی تیزی سے آگے بڑھا لی۔
نوال نے اپنا آپ چھڑوانے کی بہت کوشش کی۔ وہ مسلسل شیشہ پیٹ رہی تھی۔
زاویان کے آتے تک وہ وین وہاں سے نکل گئی تھی۔
زاویان نے تیزی سے کال ملائی۔
” ہیلو کمشنر تمہاری ٹیم کہاں ہے؟ وہ خبیث میری بیوی کو لے گیا ہے۔” زاویان نے چلاتے ہوئے کہا۔
دوسری طرف کی بات سن کر اس نے پریشانی سے کال کاٹی اور نوال کی زمین پر بکھری فائل اٹھائی۔ وہ تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
——————–
جاری ہے
