No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
کھانے کے دوران سبھی باتوں اور ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔ کسی بات پر ہنستے ہوئے زاویان کی نظر نوال پر پڑی۔ جو چہرے پر مدہم سی مسکراہٹ لیے تمام حاضرین محفل کی باتیں اور مذاق سن رہی تھی۔ زاویان کی نظر بلا ارادہ ہی اس ٹیبل پر موجود باقی لیڈیز پر گئی۔ جو محفل کو بھرپور انجوائے کر رہی تھیں اور ہنسی مذاق میں حصہ بھی لے رہی تھیں۔
آئرہ اب بھی اس کی گود میں تھی۔ زاویان نے نظریں پھیر لیں اور باتوں میں مصروف ہو گیا۔
” پھوپھو ہمیں بھی کھانا کھلا دیں۔”
” آؤ۔” نوال نے محبت سے ایک بائٹ اس کی طرف بڑھایا۔
ایک ایک کر کے سبھی بچے اس کے پاس آ گئے اور نوال سب کو محبت سے کھانا کھلا رہی تھی۔
اس نے اس سب میں آئرہ کو اگنور نہیں کیا تھا۔ زاویان کے دیکھتے ہی دیکھتے عنایہ نوال کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ عنایہ نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے بلایا۔ نوال نے اس کی طرف بائٹ بڑھایا۔
” تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں اس لیے آئی ہوں۔” عنایہ نے بائٹ لے کر حیرانی سے پوچھا۔
” میرے دل نے بتایا۔” نوال نے نرمی سے مسکراتے ہوئے بتایا۔
” لیکن تم میری مما نہیں ہو۔” عنایہ نے دبا دبا احتجاج کیا۔
” بالکل مجھے پتا ہے لیکن آپ میری فرینڈ ہو تو اچھے فرینڈز کے بارے میں بھی پتا چل جاتا ہے۔”
” پھر ٹھیک ہے۔” عنایہ مطمئن ہو گئی۔
نوال نے ایک اور بائٹ اس کی طرف بڑھایا۔
” مزے کا ہے؟” نوال نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
عنایہ نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
شاہ رخ گرما گرم بار بی کیو کا پلیٹر لے کر آیا اور نوال کی بڑھایا۔
” یہ لو نیشنل مما اپنے بچوں کو کھلاؤ۔” شاہ رخ نے سبھی بچوں کی طرف اشارہ کیا۔
آئرہ کباب اٹھانے لگی۔ اسی وقت نوال اور شاہ رخ بول اٹھے۔
” ہاٹ ہے۔” آئرہ دبک گئی اور رونے لگی۔
” میرا بےبی رو کیوں رہا ہے؟” نوال نے اس کے گال پر پیار کیا اور نسبتاً ٹھنڈا کباب اس کی طرف بڑھایا۔
” بیٹا مامی کو تو کھانے دو۔ آپ لوگ خود کھاؤ۔” زوباریہ نے مسکراتے ہوئے ٹوکا۔
” ماما مامی مزے کا بائٹ دیتی ہیں۔”
” آج سب بچوں کی عید ہے۔ صبح سے ایک ہی رٹ ہے۔ پھوپھو آئیں گی تو کھانا کھلائیں گی۔ جیسے ہم تو ان پر ظلم ڈھاتے ہیں۔” صائمہ نے ہنستے ہوئے بتایا۔
” یہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں نوال کی بچوں سے اٹیچمنٹ جلدی ہو جاتی ہے۔ میرے بچوں کی اٹیچمنٹ اب تک کیوں نہیں ہوئی؟ کیا کمی ہے؟” زاویان سوچ کر رہ گیا۔
سب بچوں کو کھانا کھلا دینے کے بعد نوال اور شاہ رخ نے کھانا کھانا شروع کیا۔
سبھی بچے کھانا کھاتے ہی کھیلنے چلے گئے۔
سبھی ہنس کھیل رہے تھے۔ نوال کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی لیکن آنکھوں میں دنیا جہاں کی ویرانی تھی۔
” بجھی ہوئی روح۔” زاویان نے جل کر خطاب دیا۔
” کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ کون سے زمانے کے ستم ڈھائے ہیں میں نے اس پر؟”
” زاویان ساتھ دو نوال کا۔” عامر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” میں کھانا کھا چکا ہوں۔ ہر چیز میں نے بہت انجوائے کی ہے۔” زاویان نے خوش اخلاقی سے صاف دامن بچایا۔
” اجی بیگمات کے ساتھ جتنا کھاؤ کم ہوتا ہے۔” کامران نے شرارت سے کہا۔
زوباریہ نے کامران کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔
” میرا مطلب بیگم ہی تھا۔” کامران نے صفائی دی۔
” زاویان بھائی نوال بھابھی کے ساتھ کمپنی تو کریں۔ آپ کو دیکھ کر میں اور شاہ رخ سیکھیں گے موٹیویشن یو نو۔ آپ ہمارے ٹیچر ہیں۔” جبران نے لقمہ دیا۔
زاویان نے نوال کی پلیٹ سے کباب اٹھا لیا۔
محفل میں تالیاں اور ہوٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔
” اب اپنے ہی کباب سے نوال کو کھلا دو تو کیا ہی کہنے محفل زعفران ہو جائے گی۔” کامران نے بھرپور مسکراتے ہوئے اسرار کیا۔
زاویان نے ایک بائٹ نوال کی طرف بڑھایا۔
زاویان کا دل سینے میں ایک زوردار کروٹ لے کر رہ گیا۔
” اس کی زندگی میں یہ سب صرف عرشیہ کا تھا لیکن نوال کے لیے کرنا اسے عجیب سے احساسات سے دوچار کر رہا تھا۔ اسے یہ کرنا برا نہیں لگا لیکن کیوں؟ وہ تو یہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن پھر بھی کر رہا تھا۔”
نوال اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
دونوں کی آنکھیں جھپکنا بھول گئیں۔
دونوں کو لگا جیسے وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ کچھ نہیں تھا۔ صرف وہ دونوں ہیں۔
” نوال کھالو تمہارے لیے ہی ہے۔” زوباریہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
نوال نے آہستہ سے منہ کھولا اور وہ بائٹ لے لیا لیکن اب چبانا محال تھا۔
” یہ اس کی زندگی کا پہلا بائٹ تھا۔ جو اس کے منہ میں اس کے شوہر نے ڈالا تھا۔ آج تک اسامہ نے بھی اس کے یوں ناز نہیں اٹھائے تھے۔” نوال کی پلکیں نم ہوئیں۔ جسے وہ جھپک جھپک کر پیچھے دھکیل رہی تھی۔ جو زاویان کی نظروں سے اوجھل نہ رہا۔
” شوہر کے ہاتھ سے پہلا نوالا جس میں چاہے محبت دور دور تک نہیں تھی لیکن ایک نرم سا جذبہ ضرور تھا۔”
” نوال بھابھی آپ تو یہی نہیں چبا رہیں. زاویان بھائی اور بھی کھلا دیں گے۔” جویریہ کی زبان پھسلی۔
شاہ رخ نے پر شوق نظروں سے جویریہ کو دیکھا۔
زاویان نے اس کی طرف ایک اور نوالا بڑھا دیا۔ یہ زاویان نے میکانکی انداز میں کیا تھا۔
” زاویان کو اس کے جذبات نہیں چھیڑنے چاہئیں۔ جب زاویان نے خود کہا تھا کہ وہ اس میں دلچسپی نہ لے۔ نوال قائم تھی تو پھر زاویان کیوں ایسی عورت کی ذات میں حشر برپا کر رہے تھے۔ جو پہلے ہی شوہر کی محبت سے ٹھکرائی ہوئی تھی۔ شوہر کی ذرا سی محبت اور اپنائیت بھی اسے مٹی کا ڈھیر کر دیتا۔” نوال نے وہ بائٹ بھی لے لیا اور دھیرے دھیرے چبانے لگی۔
” وال تم بھی تھلاؤ۔” آئرہ نے اشارہ کیا۔
نوال نے مسکراتے ہوئے اس کے منہ میں بائٹ ڈال دیا۔
سب نے تالیاں بجا کر سراہا۔
زاویان کو اپنی اولاد کی سب سمجھ آئی تھی۔ وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
——————–
زاویان کی گاڑی مختار ہاؤس کے پورچ سے نکل چکی تھی۔ بچے بہت ایکسائٹڈ تھے۔ بچوں نے مسکراتے اور خوش ہوتے ہوئے بائے کیا۔ بچے ایکسائٹڈ کیوں نہ ہوتے؟ ماموؤں اور نانو نے انہیں گفٹس دیے تھے۔ سبھی بچوں سے ان کی دوستی ہو گئی تھی۔
زاویان اور نوال ہنوز خاموش تھے۔
” آئرو بےبی نانو کے گھر مزہ آیا؟” گاڑی کے گھر سے باہر آتے ہی نوال نے محبت سے پوچھا۔
” وال۔۔”
” یہ سب کیا تھا نوال؟” زاویان دھاڑا۔
نوال بری طرح سہم گئی۔ آئرہ نوال میں دبک گئی۔
” جی؟” نوال نے ناسمجھی سے زاویان کو دیکھا۔
” یہ سب کیا تھا؟ کیا ثابت کرنا چاہتی تھی تم؟ بےعزت کروا دیا۔”
” میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔” نوال نے دبی دبی وضاحت دی۔ اسے لگا وہ عنایہ کی بات کا حوالہ دے رہا ہے۔
” کیسے جان بوجھ کر نہیں کیا؟ تمہیں نہیں پتا تھا کون کون انوائٹڈ ہے؟ کیسی گیدرنگ ہونے والی ہے؟ اپنی ڈریسنگ دیکھی تھی؟ اپنا حلیہ دیکھا تھا؟ ایسا لگ رہا تھا میں مر چکا ہوں۔”
” اللہ نہ کرے۔”
” کس بات کا سوگ منا رہی تھی؟ زوباریہ کو دیکھا تھا؟ اپنی بہن ثانیہ کو دیکھا تھا؟ اپنی بھابھیوں کو دیکھ لیتی۔ کیا لگ رہی تھی تم ان سب کے سامنے؟ تم سے بہتر تو جویریہ لگ رہی تھی۔ تم سے لاکھ بہتر تو ان کی میڈ لگ رہی تھیں۔”
” اب آپ زیادتی کر رہے ہیں۔” نوال نے دبا دبا احتجاج کیا۔
” اور آپ نے جو میری ناک کٹوا کر زیادتی کی ہے اس کا کیا؟” زاویان نے دوبدو جواب دیا۔
” کیا برائی ہے اس ڈریس میں؟” نوال نے ہمت کر کے پوچھا۔
” اس ڈریس میں کیا اچھائی ہے؟ مجھے یہی بتا دو۔”
” مجھے یہ ڈریس صائمہ بھابھی نے دیا تھا۔”
” یہ نہیں کہا ہو گا کہ یہی پہن کر آنا۔”
” کیا یہ ڈریس واقعی ٹھیک نہیں تھا؟ آپ مجھے گھر پر ہی کہہ دیتے۔”
” تم سوئی ہوئی ہو؟ تمہیں نہیں پتا کہ کس طرح کی گیدرنگ میں کیسی ڈریسنگ کی جاتی ہے؟”
” چلو ڈریسنگ کو اگنور کر بھی دو تو اپنا حلیہ دیکھا تھا۔ نہ میک اپ نہ جیولری۔”
” یا یوں کہوں کہ تمہارے سارے ارمان پہلی شادی پر ہی پورے ہو گئے اور اب یہ کہوں کہ میرے لیے تیار ہونا تمہارے شایان شان نہیں تو مسز نوال آپ نے میرے لیے تیار نہیں ہونا تھا۔ میری عزت رکھنے کے لیے تیار ہونا تھا۔”
” ایسی بات نہیں ہے۔”
” میں نے پہلے بھی تمہیں کیا کہا تھا کہ تمہارا ہر عمل مجھے ریپریزینٹ کرے گا لیکن تم نے کیا کیا؟
مجھے دیکھو میں نے کیا ڈریسنگ کی ہے؟ میں نے تمہاری عزت پورے طریقے سے رکھی ہے۔ حالانکہ تم مجھ پر ذرا سی توجہ نہیں دیتی لیکن یہ بات میں نے کسی کو پتا لگنے دی؟ نہیں نا؟”
نوال زاویان کو دیکھ کر رہ گئی۔
” کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کی عزت رکھ رہے تھے۔ جس میں تم بری طرح ناکام ٹھہری۔”
” بچے ٹھیک تھے؟” نوال نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
” ہاں بچے ٹھیک تھے۔ میں تمہاری بات کر رہا ہوں۔”
” بچے ٹھیک تھے تو کیا فرق پڑتا ہے باقی سب باتوں کا۔ بچے ہی تو میٹر کرتے ہیں۔”
” بالکل بچے میٹر کرتے ہیں۔ ہم ان کے پیرنٹس ہیں۔۔۔”
” بابا نوال ہماری مما۔۔”
” سٹاپ اٹ عنایہ۔ میں آپ سے تو بعد میں بات کروں گا۔” زاویان نے غصے سے کہا۔
” ہم کیسے دکھ رہے ہیں؟ اس سے ان کو میٹر کرتا ہے مجھے میٹر کرتا ہے۔”
” میں آئندہ خیال رکھوں گی۔”
” کیا خیال رکھو گی؟ میری تو آج بےعزتی ہو گئی نا۔”
” اسامہ کی باری بھی یہی کچھ کرتی تھی؟ وہ تو پہلی شادی تھی یا دل مر گیا؟”
” اسامہ کا یہاں کیا ذکر؟” نوال نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔
” جہنم میں جائے یہ اسامہ۔” زاویان چلایا۔
” آمین۔” نوال نے فوراً کہا۔
زاویان نے ایک لمحے کے لیے ٹھٹک کر اسے دیکھا۔
” اگر آپ نے ایسا کچھ بھی محسوس کیا تھا تو گھر پر ہی بتا دیتے۔ آپ کو اتنی شرمندگی نہ ہوتی۔”
” اسی طرح بحث کرتی تھی اسامہ کے ساتھ؟ وہ اسی لیے مار پیٹ کرتا تھا؟”
نوال نے شاکڈ سے اسے دیکھا اور پھر چہرہ ونڈو کی طرف موڑ لیا۔ آنسو لڑیوں کی صورت چہرہ بھگونے لگے۔
” اسی طرح کا کچھ کیا تھا؟ اور پھر آگے سے زبان درازی کی۔ جس پر اس نے وہ سب کچھ کیا تھا۔”
” کچھ بکواس کر رہا ہوں میں؟”
” آئندہ خیال رکھوں گی۔” نوال نے روتے ہوئے کہا۔
” میاں بیوی میں کوئی بھی لڑائی ہوئی ہو۔ مار پیٹ کر کے قتل کر کے سڑک پر پھینک دینا۔ بیوی کی کسی بھی بدزبانی کا جواب نہیں ہے۔ یہ شوہر کو اور شوہر کے ظلم کو جسٹیفائی نہیں کرتا۔” نوال نے دکھ سے کہا اور آئرہ کو گود میں اٹھائے گاڑی سے اتر گئی کیونکہ وہ لوگ ہاشمی ہاؤس پہنچ چکے تھے۔
کمرے میں آ کر وہ آئرہ کو چینج کرتے ہوئے زاویان کی باتیں سوچ رہی تھی۔
آئرہ کے کپڑے چینج کر کے وہ ڈریسنگ کے آگے آ کر کھڑی ہو گئی اور اپنا تنقیدی جائزہ لینے لگی۔
” زوباریہ کے گھر اس نے ہی تو اسے طعنہ مارا تھا سجنے سنورنے پر تو اب کیا فرق تھا؟”
” شکر تھا کہ اس دن زاویان نے بعد میں اسے نہیں دیکھا تھا ورنہ اس دن کا جیولری اتار دینے اور بال باندھ لینے کا فیصلہ اسے انتہائی بھونڈا لگ رہا تھا۔”
” آج کا کیا گیا یہ فیصلہ اسے انتہائی فضول ترین لگا۔ اسے تیار ہونا چاہیے تھا۔ خوامخواہ اتنی ذلت اٹھانی پڑی۔”
” اچھا ہے اپنا تنقیدی جائزہ مرر کے سامنے کھڑے ہو کر لو تاکہ پتا چلے کہ تم نے آج میرے ساتھ کیا کیا ہے۔ نہ جیولری نہ میک اپ۔ آنکھوں میں ایسی ویرانی جیسے سارے ظلم تم پر ہی ڈھائے گئے ہیں۔ میں نے یہ رشتہ جھوٹ کی بنیاد پر نہیں کیا۔ نہ میں نے اپنے بچے چھپائے تھے تو آئندہ ایسا سوگوار روحوں جیسا ظاہر مت کرنا۔” زاویان چبا چبا کر کہتا ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔
نوال عنایہ کے کپڑے بدلنے لگی۔
” جیولری پہنی تو تھی ہاں زیادہ بڑی نہیں تھی۔” نوال نے سوچا۔
——————
” آئرہ بےبی سو جاؤ۔” نوال نے اسے تھپکتے ہوئے کہا۔
آئرہ نوال کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی۔
” بابا آپ ناج ہیں؟” آئرہ نے زاویان کی بازو ہلائی۔
” نہیں۔”
” آپ وال شے ناج ہیں؟”
” نہیں۔”
” ہم شو جائیں۔”
” ہاں جی۔” زاویان نے موبائل ایک طرف رکھ دیا۔ سمجھ گیا تھا کہ آئرہ ایسے نہیں سوئے گی۔
آئرہ اس کے اوپر سر رکھ گئی۔
” آ دو وال بابا ناج نہیں ہیں۔” آئرہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
” آپ سو جاؤ میں ابھی آتی ہوں۔”
” نہیں وال پیلے آؤ۔”
نوال تکیے پر سر رکھ گئی اور اسے تھپکنے لگی۔
” بابا۔۔” آئرہ نے مسکراتے ہوئے زاویان کو دیکھا۔
” آپ اب بھی وال شے ناج ہیں؟”
” نہیں میں کسی سے ناراض نہیں۔” زاویان نے آئرہ کے بال پیچھے کیے۔
” پھر پار تریں۔”
زاویان نے انجان بنتے ہوئے آئرہ کو پیار کیا۔
” بابا وال تو بھی تریں۔”
” آئرہ سو جاؤ۔” نوال نے اسے تھپکی دی۔
” بابا پار تریں نا۔” آئرہ نے مان سے کہا۔
زاویان نے نوال کے گال پر بوسہ دیا۔
” اب خوش سو جاؤ۔” یہ جیسے زاویان نے آئرہ سے زیادہ خود کو باور کروایا۔
” وال بابا آرم۔”
” آئرہ بابا نے کل آفس جانا ہے۔ تھک جائیں گے۔”
” تل شندے ہے دی۔ بابا شندے تو آفش نہیں داتے ہے نا بابا۔ (کل سنڈے ہے جی۔ بابا سنڈے کو آفس نہیں جاتے ہے نا بابا)۔” آئرہ نے جیسے کنفرم کیا۔
” بالکل۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے اپنی بیٹی کو دیکھا۔
” آؤ وال۔”
نوال کو ناچار آنا پڑا۔
” یے بابا اور وال تی دوشتی ہو دئی۔ (یے بابا اور نوال کی دوستی ہو گئی).” آئرہ نے کلیپنگ کی۔
” وال بابا شے ناج ہو؟”
” نہیں۔”
” بابا تو پاری ترو۔” آئرہ نے فرمائش کی۔
نوال ںے جھٹ آنکھیں بند کر لیں۔
زاویان دلچسپی سے نوال کے ری ایکشن کا ویٹ کر رہا تھا۔
نوال کے آنکھیں بند کرتے ہی ہنس پڑا۔
” ترو وال۔” نوال کو ٹس سے مس ہوتا نہ دیکھ کر آئرہ نے دوبارہ کہا۔
” وال۔۔” آئرہ نے صدمے سے پہلے نوال کو پھر زاویان کو دیکھا۔
” سو گئی ہے۔” زاویان کی ہنستی ہوئی آواز نوال کو سنائی دی۔
” وال.۔” آئرہ نے اس کے بازو کو ہلایا۔
” رہنے دو آئرہ۔”
” اتھو وال بابا تو پاری ترو۔” آئرہ نے اسے زور سے ہلایا۔
” کوئی بات نہیں سونے دو۔” زاویان نے ہنستے ہوئے کہا۔
آئرہ نے غصے سے مارنا چاہا۔
زاویان نے اس کا ہاتھ فوراً پکڑ لیا اور اس کے ہاتھ پر کس کیا۔
” ایسے نہیں کرتے وال کو پیار کرو۔”
” نہیں تچی وال۔”
زاویان ہنس پڑا۔
وہ آئرہ کی فیلنگ سمجھ رہا تھا۔ اس نے اپنے بابا کو جھکایا تھا اور اب وال کی باری پر وہ سو گئی۔
زاویان کو آئرہ کی ناراضگی ہنسا رہی تھی اور آئرہ کو مزید غصہ آ رہا تھا۔
” تچی بابا۔”
” مجھ سے کیوں تچی؟ میں نے تو دوستی بھی کی اور پار بھی۔ آپ کی وال نے نہیں کیا۔”
آئرہ اپنے بابا کی بات سے متفق ہوئی۔
” دوشتی بابا تچی وال۔” آئرہ نے نوال کے بازو کو ہلا کر بتایا۔
زاویان ہنس پڑا۔
” وال دندی ہے۔”
” پر آپ تو کہہ رہی تھی اچھی ہے۔”
” نہیں دندی ہے۔ بات بھی نہیں شنتی نہ آپ تی بات مانتی ہے۔” آئرہ کو دکھ ہو رہا تھا۔
” سو جاؤ۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے تھپکی دی۔
” بابا آپ اچھے ہیں آپ وال سے تچی تر دیں۔”
” نو آئرہ۔” زاویان نے اسے پیار کیا۔
” وال کو نیند آ گئی ہو گی۔” زاویان نے سمجھایا۔
آئرہ متفق ہوتی زاویان کے سینے پر لیٹ گئی۔
زاویان اسے تھپکنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں آئرہ سو چکی تھی۔
کافی دیر خاموشی محسوس کر کے آئرہ کے سو جانے کی تسلی کرتی نوال نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔
آئرہ بے خبر سو رہی تھی۔
نوال نے گہری سانس لے کر شکر ادا کیا اور بے ساختہ ہی نگاہیں اٹھا کر زاویان کو دیکھا۔ جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
نظروں کے ملتے ہی نوال نے جھٹ آنکھیں بند کر لیں۔
زاویان ہنس پڑا۔
نوال خفت زدہ ہوتی اٹھنے لگی۔
” لیٹی رہو نوال وہ پہلے ہی تم سے ناراض ہے۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے کہا پھر آخر میں دھیرے سے ہنس دیا۔
نوال شرمندہ ہوتی لیٹ گئی۔
——————
رات کے دوسرے پہر زاویان کی آنکھ کھلی۔ اپنے بائیں طرف نظر ڈالی۔ نوال بے خبر سو رہی تھی۔ آئرہ اب بھی اس کے اوپر سو رہی تھی۔
زاویان نے آہستگی سے آئرہ کو اٹھا کر اپنے رائٹ سائیڈ پر لٹایا اور تکیہ رکھ دیا۔
آئرہ کے سونے کی تسلی کرتا وہ اپنے بائیں جانب لیٹی بے خبر سوتی نوال کی طرف متوجہ ہوا۔
کمرے میں لیمپ کی مدہم سی روشنی موجود تھی۔ جو نوال کی سائیڈ پر جل رہا تھا۔
زاویان اندھیرے میں سونے کا آدھی تھا۔
آئرہ کے بعد سے اس نے یہ روٹین بنائی تھی۔ جسے نوال بھی فولو کر رہی تھی۔
لیمپ کی روشنی کا عکس زاویان اور نوال کے چہرے پر تھا۔
زاویان نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی روشنی مزید مدہم کر دی۔
وہ آہستگی سے نوال کی طرف جھکا اور اس کے بند پپوٹوں پر باری باری لب رکھے۔
” آئی ایم سوری میں نے تمہیں کتنا رلایا۔ مجھے اتنا نہیں ڈانٹنا چاہیے تھا۔ غلطی اتنی بڑی بھی نہیں تھی۔ وہ ڈریس اتنا برا نہیں تھا۔ ٹھیک ٹھاک تھا بٹ تم ٹھیک سے تیار نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ سے تم مجھے بہت سمپل لگی۔”
” میں نے ہی تو تمہیں اس دن زوباریہ کے گھر اتنی باتیں سنائی تھیں۔ اس کا ری ایکشن یہی تو نکلنا تھا پھر مجھے اتنا برا کیوں لگ رہا ہے؟ کیوں؟ ٹھیک کہا تم نے بیوی کے کسی بھی رویے پر شوہر کے کسی بھی ظلم کی جسٹیفیکیشن نہیں ہے۔”
” یہ دل اور زاویان ہاشمی پورا کا پورا صرف عرشیہ کا ہے پھر میرا دل تمہاری طرف کیوں مائل ہوتا ہے؟”
زاویان دل میں نوال سے مخاطب تھا۔
زاویان آہستگی سے نوال پر جھکا۔
اس کے لب نرمی سے نوال کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھو رہے تھے۔
اس کا دل اس کی طرف ہمک رہا تھا۔
زاویان کا دل کیا اسے اپنے سینے سے لگا لے۔ وہ بے خود ہوتا اس کی گردن پر جھکا۔
نوال کسی عجیب سے احساس کے تحت کسمسائی۔
نوال کے وجود میں حرکت محسوس کرتا زاویان فوراً پیچھے ہو گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔
نوال نے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھولیں۔
اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔
اس کا ہاتھ بے اختیار اپنی گردن پر گیا اور اس جگہ پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ جہاں ابھی کچھ لمحے پہلے زاویان جھکا تھا۔
” میں نے جو محسوس کیا ہے کیا وہ سچ تھا؟”
” لیکن زاویان تو سو رہے ہیں۔ وہ پوچھ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ جاگ رہا ہے؟”
اس کے گال پتا نہیں کس احساس کے تحت دہکنے لگے۔
نوال سٹپٹا کر اٹھ بیٹھی اور گھبرا کر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کہاں کہاں اسے یہ احساس گزرا تھا۔
وہ نیند میں تھی تو اسے محسوس ہوا کوئی۔۔ نہیں بلکہ زاویان اس کے قریب تھا۔ اتنا قریب کے ہوا کا گزر بھی ممکن نہیں تھا۔
دل کی دھڑکنیں بھی سنی جا سکتی تھیں۔
اس نے آنکھیں کھولنا چاہیں لیکن نیند کا غلبہ اتنا تھا کہ ناکام ٹھہری لیکن۔۔۔
” اسے یہ کیوں محسوس نہیں ہوا؟” نوال نے زاویان کو دیکھا۔
زاویان بے خبر سو رہا تھا۔ آئرہ زاویان کے دوسری طرف تھی۔
” آئرہ بھی زاویان کے اس طرف ہے۔ اسے کیوں نہیں پتا چلا؟ وہ کب گئی؟”
” لیکن یہ کیسے ممکن تھا؟ زاویان ہی تھا۔ شاید شو کر رہے ہوں لیکن کیوں؟ زاویان تو کچھ بھی کریں تو ڈنکے کی چوٹ پر کرنے والا انسان تھا پھر؟”
اس کا دل کیا زاویان کو جگا کر پوچھے لیکن کیا؟
” ان کے بیچ اتنی بےتکلفی نہیں تھی اور وہ سمجھتے شاید وہ یہ چاہ رہی ہے۔”
نوال نے ڈر کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
دل کی تیز ہوتی دھڑکنوں پر قابو پاتی وہ لیٹ گئی اور زاویان کے کندھے پر غیر محسوس طریقے سے ہاتھ رکھا تاکہ جب وہ ہلے تو اسے پتا چل جائے۔
نوال نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں بند کر لیں۔
کچھ لمحوں بعد زاویان نے آنکھیں کھولیں۔
اپنے کندھے پر رکھے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اس کی بند لرزتی پلکوں کو دیکھا۔
وہ جاگ رہی تھی اور سونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ڈری ہوئی تھی۔ اگر وہ ابھی آنکھیں کھول لیتی تو زاویان کی چوری پکڑ سکتی تھی۔
زاویان مسکرا دیا۔
——————
جاری ہے
