52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

اسے آہستہ آہستہ ہوش آ رہا تھا۔ اس نے بھاری پپوٹے کھولنے کی کوشش کی۔ اس کا جسم بہت نڈھال تھا۔ لاشعور سے شعور کی منزل غائب دماغی سے طے کرتے ہوئے اس نے ادھر ادھر دیکھا تو اپنے آپ کو ایک ہاسپٹل کے کمرے میں پایا۔
آہستہ آہستہ اسے سب یاد آتا چلا گیا۔
وہ کہاں تھی؟ کون لایا تھا اسے یہاں؟ وہ ایک بار پھر بچ گئی تھی لیکن کیوں؟
اسامہ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
کیوں نہیں کر سکتا؟ وہ اس سے پہلے بھی بہت بار مار پیٹ کر چکا ہے۔ نوال کے اندر سے آواز آئی۔
جب اسامہ نے اسے سیڑھیوں سے دھکا دیا تھا تو نوال نے اپنی اولاد کھو دی تھی حالانکہ وہ یہ جانتا تھا کہ وہ امید سے ہے۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
آج بھی اسامہ نے اسے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی اور آج بھی تو وہ۔۔۔
آنسوؤں کا سیلاب اس کی آنکھوں سے رواں تھا۔ آنسوں اس کی کنپٹی سے اس کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔
اسامہ کو اس ایک سال کی رفاقت میں بھی اس سے محبت نہیں ہوئی تھی۔ اس نے تو اس شادی کو نبھانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ کیا کمی رہ گئی تھی اس میں اور اس کی محبت میں کہ وہ شخص دو بار اپنی ہی اولاد کا قاتل بنا تھا۔ اسامہ نے خود ہی یہ رشتہ ختم کر دیا تھا۔ جب ایک رشتہ دو لوگوں کی باہمی رضا مندی سے بنتا ہے تو ایک مرد کیسے اکیلے اس رشتے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
ماما بابا کتنا دکھی ہوں گے۔ کیسے بتاؤں گی انہیں؟ وہ لوگوں کو کیا بتائیں گے کہ ان کی بیٹی کو کیوں ڈیورس ہوئی ہے؟ کوئی بھی اس کی بات کا یقین نہیں کرے گا۔ سب کو یہی لگے گا کہ میری طرف سے ہی کوئی کمی رہی ہے۔ جو یہ شادی نہ چل سکی۔
سوچوں اور آنسوؤں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔
نرس جو اس کی ڈرپ دیکھنے آئی تھی۔ اس کو ہوش میں آتا دیکھ کر ڈاکٹر کو بلانے کے لیے باہر کی طرف لپکی۔
” ڈاکٹر اس پیشنٹ کو ہوش آ رہا ہے۔” نرس نے آ کر بتایا۔
وہ ڈاکٹر جو اس وقت راؤنڈ پر ہی تھی۔ نرس کی بات سن کر فوراً نرس کے ساتھ آئی سی یو کی طرف بڑھی۔
” آپ کیسا فیل کر رہی ہیں؟” ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیا۔
” ٹھیک۔۔ مجھے یہاں کون لایا؟”
” کوئی راہ گزر تھا۔ آپ کو سڑک پر بے ہوش پڑے دیکھا تو وہ بھلا مانس آپ کو ہاسپٹل لے آئے۔”
” ابھی پولیس آئے گی آپ کا سٹیٹمنٹ لینے۔”
” پولیس۔۔۔”
” ہاں آپ پر اٹیمپٹ ٹو مرڈر ہوا ہے سو جو بھی ہوا جیسے بھی ہوا بنا خوف اور ڈر کے بتا دیجیے گا۔”
اس نے سر اثبات میں ہلایا۔
ڈاکٹر پلٹ کر جانے لگی۔
” ڈاکٹر۔۔” اس کے پکارنے پر ڈاکٹر اس کی طرف مڑی۔
اس نے ڈاکٹر کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں پر لکھی تحریر ڈاکٹر نے پڑھ لی۔
” آپ کا ابارشن ہو گیا ہے۔” ڈاکٹر نے آہستگی سے بتایا۔
اس کی آنکھوں سے آنسوں تیزی سے بہنے لگے۔
اس کا دل دھک سے رہ گیا۔
تو اسامہ تم اس بار بھی قتل کرنے میں کامیاب ٹھہرے۔

ڈاکٹر اس کا ہاتھ تھپک کر چلی گئی۔

مختار ہاؤس میں اس وقت گھر کے سبھی افراد موجود تھے سوائے شاہ رخ کے۔ بچے سبھی سکول جا چکے تھے۔
شاہ رخ تیزی سے سیڑھیاں پھیلانگتا نیچے آیا۔ ڈائننگ ہال سے اشتہا انگیز پراٹھوں اور انڈوں کی خوشبو آ رہی تھی۔
” اسلام و علیکم۔” شاہ رُخ نے آہستہ آواز میں سلامتی بھیجی اور چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
” بھابھی چائے۔” شاہ رخ نے صائمہ بھابھی سے کہا۔ جو سب کو چائے سرو کر رہی تھیں۔ شاہ رخ کی آواز پر فوراً اس کے لیے چائے ڈالنے لگیں۔
شاہ رخ صائمہ اور نائمہ کا لاڈلا دیور تھا۔ دونوں بھابھیوں اور دیور کی خوب بنتی تھی۔ مختار ہاؤس میں شرارتوں اور مسکراہٹوں کی وجہ شاہ رخ ہی تھا۔ شاہ رخ کی موجودگی میں بچوں کی بھی عیش ہو جاتی تھی۔
” ناشتہ کرو۔” صائمہ نے اس کی طرف ناشتے کی پلیٹ بڑھائی۔
” اوںہوں بھوک نہیں ہے بھابھی۔” شاہ رخ نے چائے کا کپ اپنی طرف کھسکایا۔
سب نے شاہ رخ کی طرف دیکھا۔ جس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔
” کیوں بھوک نہیں لگی؟” نائمہ بھابھی نے پریشانی سے پوچھا۔
” ایسے ہی۔” شاہ رخ نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
” بابا میں آج کراچی جا رہا ہوں نوال سے ملنے کے لیے۔” کچھ لمحوں کے توقف کے بعد شاہ رخ نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے مختار صاحب کو مخاطب کیا لیکن وہاں بیٹھے سبھی افراد پر بلاسٹ کیا۔
” کیوں خیریت ہے؟” مختار صاحب سے پہلے عامر نے سنجیدگی سے پوچھا۔
” بھائی میں نے کل رات کو خواب میں نوال کو بہت تکلیف میں دیکھا ہے۔ اسے ہماری ضرورت ہے۔ میں جانا چاہتا ہوں تاکہ خود دیکھوں اور تسلی کر لوں۔ وہ بہت زیادہ تکلیف میں ہے۔ وہ ٹھیک نہیں ہے۔” شاہ رخ نے سرخ آنکھیں لیے کہا۔
سبھی لوگ ازحد پریشان ہو گئے۔
” ماما آپ کی نوال سے لاسٹ ٹائم بات کب ہوئی تھی؟” احمر نے فکرمندی سے پوچھا۔
” یہی تو مسئلہ ہے پچھلے ایک ہفتے سے نوال سے بات نہیں ہوئی۔ اسامہ نے کہا تھا کہ اس کا موبائل خراب ہے اس لیے بند ہے۔ جب کہتی ہوں تم بات کروا دو تو کوئی نہ کوئی بہانا کر دیتا ہے۔ اب دو تین دنوں سے اسامہ بھی کال نہیں اٹھا رہا۔”
” دیکھا وہ تکلیف میں ہے اسے ہماری ضرورت ہے۔ آپ نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا؟ میں تو پچھلے دنوں ایک پروجیکٹ میں مصروف تھا اس لیے اس سے بات نہیں ہو سکی۔” شاہ رخ نے پریشانی اور بیتابی سے کہا۔
” شاہ رخ بیٹا میری بھی ٹکٹ بک کرواؤ۔ میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گا۔” مختار صاحب نے پریشانی سے کہا۔
” نہیں بابا ہم بھائیوں کے ہوتے ہوئے آپ کیوں تکلیف کریں گے؟ میں جاؤں گا شاہ رخ کے ساتھ۔ شاہ رخ میری بھی ٹکٹ بک کرواؤ اپنے ساتھ۔” عامر نے سنجیدگی سے کہا۔
شاہ رخ موبائل لے کر سائیڈ پر ہو گیا۔
عظمیٰ بیگم پریشانی سے رونے لگیں۔
” ماما اللہ بہتر کرے گا۔ ہماری نوال انشاءاللہ ٹھیک ہو گی۔ آپ دعا کریں۔ ماں کی دعا عرش تک پہنچتی ہے۔” احمر نے انہیں تسلی دی۔
اندر ہی اندر پریشان وہ بھی ہو گیا تھا۔ نوال کا لائن سے ہٹ جانا اور اوپر سے اسامہ کا سرے سے کال ہی پک نہ کرنا ٹھکانے کے لیے کافی تھا۔
مختار صاحب نے ایک بار پھر اسامہ کا نمبر ڈائل کیا اور اس بار بھی مایوس ٹھہرے۔
شاہ رخ نے آ کر ایک بجے کی فلائٹ کا بتایا۔
” صائمہ میرا بیگ پیک کر دو۔” عامر نے صائمہ سے کہا۔
صائمہ نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
” شاہ رخ بیٹا ناشتہ کرو۔” مختار صاحب نے محبت سے کہا۔ اندر سے پریشان تو وہ بھی تھے۔
” بابا اب میرے حلق سے کچھ بھی نوال کو صحیح سلامت دیکھ کر ہی اترے گا۔” شاہ رخ نے اپنے لہجے میں آئی نمی کو چھپانے کے لیے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور کچھ بھی کہے بغیر ڈائننگ ہال سے نکل گیا۔

شاہ رخ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتا آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

” سر زاویان ہاشمی کے بارے میں پتا چل گیا ہے۔” کانسٹیبل نے آ کر انسپیکٹر امجد کو اطلاع دی۔
” کیا پتا چلا ہے شروع ہو جاؤ۔” انسپیکٹر امجد کانسٹیبل ناصر سے مخاطب تھا۔ اس نے سیٹ کی بیک سے ٹیک لگا لی۔
” سر زاویان ہاشمی اسلام آباد کا رہنے والا ہے۔ بہت بڑا بزنس مین ہے اور کروڑ پتی ہے۔ شریف آدمی ہے اور شادی شدہ ہے۔ دس سال پہلے اس کی شادی ہو گئی تھی۔ محبت کی شادی تھی۔ دو بیٹیاں ہیں۔ تقریباً دو سال پہلے ایک کار ایکسیڈنٹ میں اس کی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے دوسری شادی نہیں کی۔”
” اس کے گھر میں کون کون ہے؟” انسپیکٹر امجد نے پوچھا۔
” ماں باپ اور ایک بڑی بہن ہے جو شادی شدہ ہے۔ اس کے علاو زاویان ہاشمی اور اس کی دونوں بیٹیاں ہیں۔”
” کراچی کیا کرنے آتا ہے؟”
” سر بزنس کے سلسلے میں آتا ہے۔ ایئرپورٹ سے سیدھا متعلقہ جگہ پر اور پھر اسی دن شام کو اسلام آباد واپس چلا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں وہاں کے آفس سٹاف سے بھی پتا کیا ہے۔ کسی سے فالتو بات نہیں کرتا۔ نہ کسی سے آسانی سے ملتا ہے۔ بہت ہی سنجیدہ مزاج، مغرور اور کردار کا بہت مظبوط ہے۔”
انسپیکٹر امجد نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
” پھر یہاں یہ اس بار اسی لڑکی کے لیے آیا ہو گا۔” انسپیکٹر امجد نے اندازہ لگایا۔
” نہیں خبر پکی ہے یہ لڑکی حادثاتی طور پر ہی اسے ملی ہے۔”
” ابھی اس پر نظر رکھو۔ قاتل کوئی نہ کوئی سراغ ضرور چھوڑتا ہے۔” انسپیکٹر امجد نے سنجیدگی سے کہا۔
کانسٹیبل ناصر نے سر اثبات میں ہلایا اور انسپیکٹر امجد کے کمرے سے نکل گیا۔
انسپیکٹر امجد اپنے کام میں مگن ہو گیا۔ اسی وقت اس کے فون پر رنگ ہوئی۔
” ہیلو انسپیکٹر امجد سپیکنگ۔”
” انسپیکٹر امجد چاقو پر فنگر پرنٹس زاویان ہاشمی کے نہیں ہیں۔”
انسپیکٹر امجد ٹیک چھوڑ کر سیدھا ہوا۔

” پھر کس کے ہیں؟”

وہ ہاسپٹل پر اپنا زخمی وجود اور دل لیے اپنے سود و زیاں کے شمار میں محو تھی۔ تاروں میں جکڑا وجود لیے ذہنی اور جسمانی اذیت حد سے سوا تھی۔ اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ اس کے جسم پر زخم زیادہ ہیں یا دل پر۔ اسامہ نے اس کی یہ اولاد بھی چھین لی تھی۔ وہ ہر بار اسے دوہری تکلیف میں مبتلا کرتا تھا۔ شادی کا یہ تجربہ کم از کم نوال مختار کے لیے خوش گوار نہیں تھا۔

وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی جب کوئی شخص گلا کھنکار کر کمرے میں داخل ہوا۔

جاری ہے
Aj ki episode kesi lagi?