No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
زاویان ہاشمی اپنے پیرینٹس کامران اور زوباریہ کے ساتھ مختار ہاؤس پہنچ چکے تھے۔ عنایہ اور آئرہ زوباریہ کے بچوں کے ساتھ جویریہ کے پاس ٹھہر گئے تھے۔
مختار ہاؤس میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
ڈرائنگ روم میں مختار صاحب عظمیٰ بیگم تینوں بھائی دونوں بھابھیاں ثانیہ اور احتشام بھی موجود تھے۔
رسمی علیک سلیک کے بعد نصار صاحب مدعے پر آئے۔
” ہمارا زاویان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم تشریف لائے ہیں۔”
” دو سال پہلے عرشیہ اور زاویان کا کار ایکسیڈنٹ ہوا۔ بہت سوئیر ایکسیڈنٹ تھا۔ آئرہ کی پری میچور ڈیلیوری ہوئی۔ عرشیہ زخموں کی تاب نہ لا سکی اور ہمیں چھوڑ کر چلی گئی۔ زاویان کے ظاہری اور دلی زخم کو مندمل ہونے میں بہت وقت لگا۔ بالآخر اس ضرورت کو سمجھا ہے کہ بچوں کو ماں کی اشد ضرورت ہے۔ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ اگر اللہ نے ان دونوں کا ساتھ لکھا ہے تو ان کا ساتھ باعث برکت اور خوشحالی ہو۔”
” آمین۔۔” سب نے اپنے اپنے تیئں کہا۔
” ہماری نوال کی شادی ایک سال ہی رہی ہے۔ ایک سال پہلے ڈیوورس ہوئی ہے۔” مختار صاحب نے بات کا آغاز کیا۔
” نوال کے سابقہ شوہر کا نام اسامہ تھا۔ مار پیٹ گالی گلوچ کرتا تھا۔ آغاز میں سب ٹھیک ہی لگا۔ شادی کے بعد آہستہ آہستہ اس نے اپنے اصل رنگ ڈھنگ دکھانے شروع کیے۔ دو بار جان سے مارنے کی کوشش بھی کر چکا ہے۔ طالاق دے کر اور مار پیٹ کر سڑک پر پھینک دیا۔ کسی اللہ والے نے مدد کی اور کسی نہ کسی طرح روتی دھوتی زخمی حالت میں گھر پہنچی۔ ہم نے اسامہ پر کیس بھی کیا اور پکڑا بھی گیا۔ عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں نوال اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرے۔ اس کا گھر بسانا چاہتے ہیں۔”
سب کے چہرے تاسف سے بھر گئے۔
” ہم نے آپ سے کچھ بھی نہیں چھپایا کہ ماضی کی کوئی بات بھی اس کے مستقبل پر اثرانداز نہ ہو۔ نوال بہت رحم دل اور صابر ہے۔ اپنی اسی صابر طبیعت کے باعث اس نے ہم سے چھپائے رکھا۔ دو بار اپنی اولاد بھی کھو چکی ہے۔ اسامہ کے باعث ہی اس نے اپنی اولاد کھوئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اگر یہ رشتہ ہوا تو نوال ان بچوں کو ماں جیسی محبت ضرور دے گی۔” مختار صاحب نے سنجیدگی سے ساری بات کر دی۔
” پھر بھی آپ چاہیں تو تحقیقات کروا کر اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔” مختار صاحب نے فیصلہ ان پر چھوڑا۔
” انکل مجھے کچھ کہنا ہے۔۔۔”
مختار صاحب اور ان کی فیملی زاویان کی طرف متوجہ ہوئے۔
” انکل میں یہ شادی صرف بچوں کے لیے کر رہا ہوں۔ مجھے مزید اولاد نہیں چاہیے۔ میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں کروں گا کہ میں بہت اچھا اور آئیڈیل شوہر ثابت ہوں گا۔”
” بھائی صاحب اس کے بچوں کو لے کر کافی خدشات ہیں۔ اس لیے تھوڑا جذباتی ہو رہا ہے۔ بہت بار ایسا دیکھا ہے دوسری شادی میں بہت بہت قلابیں مارنے والے اولاد بھی لے لیتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے یہ باتیں بہت ثانوی ہیں۔ بچوں اور ماں کی سیٹنگ اگر آ جاتی ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھ جاتے ہیں تو یہ سب باتیں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔” نصار صاحب نے سنجیدگی سے سے کہا۔
” نوال ہمارے لیے زوباریہ کی طرح ہے۔ جس طرح عرشیہ کو ہمارے گھر میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ اسی طرح نوال کی عزت میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اس کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جائے گی۔” نصار صاحب نے مزید کہا۔
” آپ نوال بیٹی کو بلائیں۔” نصار صاحب نے کہا۔
” ثانیہ بیٹا جاؤ۔” مختار صاحب نے اشارہ کیا۔
سبھی باتوں میں مصروف ہو گئے۔
زاویان کا موبائل رنگ ہوا۔ عنایہ اسے کال کر رہی تھی۔
” ایکسکیوز می۔” زاویان کال پک کرتا ٹیرس کی طرف بڑھا۔
” یس پرنسس۔۔” زاویان کے لہجے میں بےانتہا محبت تھی۔
کچھ دیر بعد نوال لائٹ پنک کلر کے سادہ سے سوٹ میں سر پر دوپٹہ جمائے ثانیہ کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔
” آؤ نوال یہاں بیٹھو۔” زوباریہ نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بٹھایا۔
گوری دمکتی رنگت آنکھوں کے نیچے پڑے حلقے روتے رہنے اور جاگتے رہتے کی چغلی کھا رہے تھے۔ کسی بھی ظاہری آرائش و زیبائش سے پاک وجود اپنی طرف مائل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
” کیسی ہو بیٹا؟” کلثوم بیگم نے محبت سے پوچھا۔
” جی ٹھیک۔۔۔”
” زاویان کی دو بیٹیاں ہیں عنایہ اور آئرہ۔”
” زاویان بزنس مین ہے۔ زاویان کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔ ہمیں تمہارے بابا نے تمہارے بارے میں سب کچھ بتایا۔ بہت دکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آگے آسانیاں پیدا فرمائے آمین۔۔ اگر اللہ نے تمہارا ساتھ زاویان کے ساتھ لکھا ہے تو تمہیں ہماری فیملی کے کسی بھی فرد سے ایسی تکلیف نہیں پہنچے گی۔
ہمارے گھر میں نصار زاویان اور اس کی دونوں بیٹیاں ہیں۔ زوباریہ اپنے گھر بار والی ہے اور اس کا روز روز آنا مشکل ہے اور اسی لیے ہم یہاں سوالی بن کر پہنچ گئے ہیں۔”
نوال خاموشی سے سنتی رہی۔
ڈرائنگ روم میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
” نوال بیٹا چائے بھیجو۔” عظمیٰ بیگم نے نوال کو بھیج دیا۔
نوال نے ڈرائنگ روم سے باہر قدم بڑھائے۔
زاویان نے ٹیرس سے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا۔ اس نے نوال کو جاتے دیکھا۔ وہ نوال کا چہرہ نہ دیکھ سکا۔
کچھ دیر بعد صائمہ ملازمہ کے ساتھ چائے کی ٹرالی گھسیٹتی ڈرائنگ روم میں آئی۔
سینٹرل ٹیبل انواع و اقسام کے لوازمات سے بھری ہوئی تھی۔
” آپ لوگوں نے بہت تکلف کر لیا۔” کلثوم بیگم نے محبت سے کہا۔
” بھابھی رشتہ ہونا نہ ہونا اللہ کے ہاں طے ہے۔ ان بچوں کے بہانے سے ہی سہی ہمیں اکٹھے چائے پینے کا موقع مل گیا تو ہاتھ آیا موقع کیوں گنواتے۔” مختار صاحب نے مسکراتے ہوئے ادب سے کہا۔
” بھائی صاحب ہمیں آپ کی نوال بہت پسند آئی ہے۔ گھر جا کر مشاورت کریں گے تو فیصلہ بتائیں گے۔”
” اس سے پہلے ہم چاہتے ہیں آپ سب بھی ہمارے غریب خانے میں تشریف لائیں۔” نصار صاحب نے محبت اور کھلے دل سے دعوت دی۔
” جی ضرور۔” مختار صاحب نے دعوت قبول کی۔
” اور بھئی تم لوگ اپنے بچوں کو لے کر آنا۔ چھڑا چھانٹوں کی طرح منہ لٹکائے مت آنا۔” نصار صاحب نے شرارت سے ان تینوں کو چھیڑا۔
” انکل میری تو شادی ہی نہیں ہوئی تو کیا آپ کے گھر کے دروازے مجھ آوارہ کے لیے کھلے ہیں؟” شاہ رخ شرارت سے کہا۔
سبھی کا قہقہہ گونجا۔
” ہاں تم بھی آ سکتے ہو۔ زاویان اور نوال کو نمٹا لیں پھر تمہیں بھی دیکھتے ہیں۔” نصار صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔
” میرے گھر کے دروازے آوارہ اور کنواروں دونوں کے لیے کھلے ہیں روز آ جاؤ۔” کامران نے شرارت سے کہا۔
” کامران بھائی اتنا فریکوئنٹلی انسان سسرال ہی جاتا ہے۔”
سبھی ہنس پڑے۔
” آنٹی آپ کا لڑکا پہلے ہی ہاتھوں سے نکلا ہوا ہے۔ اس بیچاری کو کچھ نہ کہیے گا۔” کامران نے ہنستے ہوئے عظمیٰ بیگم کو بھی گھسیٹ لیا۔
” بیٹا جی اس کو سر پر اس کی بہنوں اور بھابھیوں نے پہلے ہی چڑھا رکھا یے۔ یہ اس کو چڑھا لے گا تو کوئی بڑی بات نہیں۔” عظمیٰ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا۔
سبھی ہنسنے لگے۔
سبھی خوشگوار ماحول میں چائے سے لطف اندوز ہوئے۔
” زاویان نوال سے ملنا چاہتے ہو؟” کامران نے سرگوشی میں پوچھا۔
” میری طرف سے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر اسے کچھ پوچھنا ہے تو وہ اور بات ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ اس کی ضرورت ہے۔” زاویان نے لاپرواہی سے کہا۔
کامران اسے گھور کر رہ گیا۔
زاویان نے کندھے اچکا دیے۔
” عامر اگر نوال زاویان سے ملنا چاہتی ہے تو مل سکتی ہے۔” کامران نے بالآخر خود ہی عامر کو کہنے میں پہل کی۔
عامر نے سر اثبات میں ہلایا اور صائمہ کو اشارہ کیا۔
کچھ دیر بعد صائمہ نوال کے سر پر موجود تھی۔
” تمہیں زاویان سے کچھ پوچھنا ہے؟ کوئی بات کرنی ہے تو بتا دو عامر تمہارا انتظار کر رہا ہے۔”
” بھابھی آپ لوگوں کو جو بہتر لگے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”
” نوال تم انہیں دیکھنا چاہتی ہو؟”
” بھابھی جو سب کا فیصلہ ہو گا وہی میرا ہے۔”
کچھ ہی دیر میں صائمہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی اور عامر کو اشارے سے نوال کا جواب بتایا۔
زاویان نے بھی صائمہ کا اشارہ دیکھا تھا۔
ایک اچھی شام کے بعد نصار صاحب کی فیملی کھڑی ہوئی۔
” بھائی صاحب اب ہم آپ کے منتظر ہوں گے۔” نصار صاحب نے بغل گیر ہوتے ہوئے کہا۔
الوداعی کلمات کے بعد وہ لوگ وہاں سے نکل گئے۔
——————-
آج مختار صاحب کی فیملی نصار صاحب کے گھر آئی تھی۔
” آپ نوال اور بچوں کو کیوں نہیں لائے؟”
” نوال نے یہ فیصلہ ہم پر چھوڑا ہے۔ اس لیے نہیں آئی اور بچے وہ نوال کے ساتھ بہت اٹیچڈ ہیں۔ اس لیے وہ نوال کے بغیر آنے کو تیار نہیں تھے۔”
ہلکی پھلکی باتوں کے ساتھ چائے کا دور چلا۔
” بھائی جان ہمیں آپ کی نوال اپنے زاویان کے لیے قبول ہے۔”
” ہمیں بھی آپ کا زاویان پسند آیا اور پھر عامر کی تسلی اور گارنٹی کے بعد تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ تینوں بھائیوں کی نوال میں جان بستی ہے۔ ” مختار صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” اسی بات پر منہ میٹھا ہو جائے۔” کامران نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھا اور زوباریہ کو اشارہ کیا۔
نصار صاحب نے مختار صاحب کا منہ میٹھا کروایا۔
مبارک سلامت کا شور مچا۔
نصار صاحب نے ان دونوں کی اگلی زندگی کی خوشیوں کے لیے دعا کروائی۔
” انکل میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔”
مختار صاحب کے ساتھ سبھی زاویان کی طرف متوجہ تھے۔
” انکل میں یہ شادی نہیں صرف سادگی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ نہ کوئی رسم نہ کسی قسم کا شور شرابہ۔ میں یہ نکاح اپنے بچوں کے لیے کر ریا ہوں۔”
نصار صاحب اور کامران نے زاویان کو بری طرح گھورا۔
” اصل میں بھائی صاحب یہ بچوں کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہا ہے۔ اس لیے کوئی شور شرابہ نہیں چاہ رہا لیکن جو آپ چاہیں وہ رسومات کی جائیں گی۔”
” بھائی صاحب نوال بھی یہی چاہتی ہے۔ سادگی سے نکاح صرف گھر کے کچھ لوگوں میں۔ ہماری بچی نے اپنے پچھلے تلخ تجربے کے باعث جینے کی تمنا ہی چھوڑ دی ہے۔ اسے شادی کے لیے منانا بہت مشکل عمل رہا ہے۔ وہ اسی شرط پر مانی تھی کہ کوئی دھوم دھڑکا نہیں ہونا چاہیے۔” مختار صاحب نے بھی سہولت سے کہا۔
نصار صاحب نے سر تائید میں ہلایا۔
” تو بس پھر جب دلہا دلہن راضی تو کیا کرے گا قاضی۔” نصار صاحب نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
” تو پھر انکل اس جمعے کو نماز جمعہ کے بعد نکاح کیسا رہے گا؟” زاویان نے تجویز پیش کی۔
نصار صاحب نے ایک بار پھر زبردست گھوری سے نوازا اور کامران نے پہلو بدلا۔
” برخوردار وہ تو پرسوں ہے اتنی جلد بازی؟” مختار صاحب تھوڑا پریشان ہو گئے۔
” انکل یہ شادی ہم دونوں کی پہلی بھی تو نہیں ہے۔ جو تمام ارمان پورے کرنے کی چاہ ہو۔”
عامر نے پہلو بدلا۔
مختار صاحب سوچ میں پڑ گئے۔
” کیا وہ انہیں جتا رہا تھا کہ ان کی بیٹی کی دوسری شادی ہے؟”
” بیٹا دوسری شادی ہی سہی لیکن سنت عمل ہے۔ نوال ہم پر بوجھ نہیں ہے۔ جو ہم کل کے بجائے آج ہی اسے رخصت کریں پھر بھی ہم مشاورت کر کے بتائیں گے۔”
” دراصل انکل مجھے اپنے بچوں کی ماں کے آنے کی جلدی ہے۔ باقی جیسے آپ کو مناسب لگے۔ میں آپ کے لیے عامر جیسا ہی ہوں۔ آپ جو حکم کریں گے ویسے ہی ہو گا۔” زاویان نے تابع داری سے کہا۔
” جیتے رہو خوش رہو۔” مختار صاحب مسکرا دیے۔
——————-
” یہ تم کیا کر رہے تھے زاویان؟” نصار صاحب نے خفگی سے پوچھا۔
” میں نے کیا غلط کہا؟ در حقیقت یہ شادی بچوں کے لیے ہی ہو رہی ہے تو اس اعتراف میں کیا حرج ہے ؟”
” زاویان ہاشمی حرج یہ ہے کہ تم ان کی بیٹی کو بے قدرا شو کر رہے ہو۔”
” بے قدرا نہ سہی پر میری نظروں میں اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ۔ وہ مجھے صرف اپنے بچوں کے لیے چاہیے اور اگر انہیں یہ حقیقت پتا ہو گی تو ان کے لیے بھی فیصلہ کرنا آسان ہے۔”
” انہیں کسی چیز کی کمی بھی نہیں ہے زاویان۔ تم ان کا گھر دیکھ آئے ہو۔ اس کے ماضی کے بارے میں تم جان چکے ہو۔ تم نہیں تو کوئی اور سہی۔ وہ اپنی بیٹی کو ایسے پھینک کر بھی نہیں دیں گے۔”
” اور تم اس بات کو یاد رکھنا کہ اسامہ کے بار کی غلطی وہ اس بار نہیں دہرائیں گے۔” کامران نے بھی مداخلت کی۔
زاویان نے سر جھٹکا۔
” زوباریہ بیٹا کل تم آ جانا شاپنگ پر چلیں گے۔”
” کس چیز کی شاپنگ؟ یہاں کوئی بری تیار نہیں کی جائے گی ۔”
” زاویان ایسے نہیں ہوتا۔”
” ماما ہم دونوں کے ارمان پورے ہو چکے ہیں۔”
” بات ارمان کی نہیں رواج کی ہے۔”
” یہ ضروری ہوتا ہے۔ اس کے نکاح کا جوڑا تو بھجوائیں گے نا؟”
” عامر لوگ اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ وہ اپنی بہن بیٹی کو ایک جوڑا بھی نہ پہنا سکیں۔”
” بات صرف ایک جوڑے کی نہیں ہے۔ یہ نکاح کا جوڑا ہے اور ہم بھی اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ ہم اپنی بہو کو ایک نکاح کا ڈریس نہ بھیج سکیں۔”
” لیکن یہ عرشیہ نہیں ہے اور اسے نکاح کا ڈریس نہیں جائے گا۔” زاویان نے اٹل لہجے میں کہا۔
” زاویان بچوں کی برین واشنگ کرو۔ تاکہ نوال کو آتے ہی اپنا آپ منوانا نہ پڑے۔ تم نے اتنا کم وقت لیا ہے۔ اپنے لیے خود مصیبت مول لی ہے۔” کامران نے سمجھایا۔
” وہ خود آ کر دیکھ لے گی۔ سنا نہیں تھا اس کی فیملی اس کے کتنے گن گان گا رہی تھی۔ اسی بہانے ٹیسٹ بھی ہو جائے گا۔”
” یہ کیا کر رہا ہے؟” کامران نے دکھ سے زوباریہ کو دیکھا۔
” یہ تو اس کے لیے کانٹوں کا گھر بنائے بیٹھا ہے۔”
” کامی وہ بچوں کے لیے ہی لائی جا رہی ہے۔ نہ کہ میرے دل پر حکومت کرنے کے لیے۔”
” زاویان وہ ماں بنا کر لائی جا رہی ہے نہ کہ ملازمہ۔ ماں کا کوئی رتبہ ہوتا ہے یار۔” کامران برہم ہوا۔
” شیورلی کہتا ہوں بچوں سے زیادہ ٹف ٹائم یہ اسے دے گا۔ عرشیہ کے کھونے کا بدلہ تم نوال سے مت لو۔ اس نے تم سے عرشیہ نہیں چھینی۔ وہ بھی اپنا بہت کچھ چھوڑ کر تمہارے پاس آ رہی ہے۔ یار تم دو زخمی دل ہو۔ ایک دوسرے کو سنبھا لو گے تو سنبھل جاؤ گے زندگی اچھی ہو جائے گی۔”
” مجھے اس کے ساتھ اچھی زندگی گزارنے کی کوئی تمنا نہیں ہے۔ اچھی زندگی میرے بچوں نے گزارنی ہے وہ میرے بچوں کے ساتھ ٹھیک رہے گی تو یہاں پر رہ سکے گی۔”
” بچوں کو ماں باپ کا بونڈ چاہیے ہوتا ہے۔ تمہیں اپنے بچوں کے لیے ماں کی نہیں ایک میڈ کی ضرورت ہے۔ تمہیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ “
زاویان نے سر جھٹکا۔
کامران نے تاسف سے زاویان کو دیکھا۔
——————-
آج جمعے کا دن تھا۔ آج کے دن زاویان اور نوال کا نکاح تھا۔
مختار صاحب نے نکاح کی رسم کے لیے زاویان کی خواہش کے مطابق نکاح کی رضامندی دے دی تھی۔
نوال کے روم میں دروازہ ناک کر کے صائمہ اور نائمہ داخل ہوئیں۔
” نوال تیار ہو گئی؟”
” ہو جاتی ہوں بھابھی۔” نوال کسل مندی سے بیٹھی ہوئی تھی۔
” کب تیار ہو گی؟ ان کے آنے کا ٹائم ہونے والا ہے۔” نائمہ نے فکر مندی سے کہا۔
” بھابھی میں نے کون سا کوئی بہت زیادہ تیار ہونا ہے۔”
” نوال بچے آج تمہارا نکاح ہے۔ اٹھو شاباش تیار ہو اور اپنی زندگی کو ویلکم کرو۔ زاویان کیا سوچے گا کہ تمہیں اپنی پہلی شادی بھولی نہیں۔”
” بھابھی یہ بہت فینسی ہے۔ میں یہ نہیں پہنوں گی۔” نوال نے بیڈ پر پڑے ریڈ کلر کے کام والے ڈریس کی طرف اشارہ کیا۔
” نوال پھر کیا پہنو گی؟” صائمہ نے پریشانی سے پوچھا۔
” ریڈ کلر کا ڈریس ہی پہننا ہے نا؟ یہ پہن لیتی ہوں۔” نوال نے وارڈروب سے ریڈ کلر کا ایمبرائیڈری ڈریس نکالا۔
” نوال یہ؟” صائمہ نے اس ڈریس کو دیکھا۔
” یہ میں نے کبھی نہیں پہنا۔ یہ ٹھیک رہے گا۔”
صائمہ اور نائمہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔
کچھ دیر بعد وہ تیار ہو کر باہر آئی۔
” نوال یہ پارٹی ویئر ہے۔ تمہارا آج نکاح ہے۔” نائمہ نے سمجھانا چاہا۔
” اچھا لاؤ تمہارا میک اپ کر دیں۔” نائمہ نے پھر کہا۔
” نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔”
” کیوں ضرورت نہیں ہے؟ نوال اچھا نہیں لگتا۔” نائمہ نے ٹوکا۔
نوال نے لپ ٹنٹ لگا لیا۔
” بس بھابھی اتنا بہت ہے۔ مجھے شرمندگی ہو رہی ہے۔”
” نوال اس میں شرمندگی کی کیا بات ہے؟” صائمہ نے اسے سمجھانا چاہا۔
دروازہ ناک کر کے مختار صاحب اور عظمیٰ بیگم اندر آئے۔
” یہ اب تک تیار نہیں ہوئی؟” عظمیٰ بیگم نے ناراضگی سے پوچھا۔
” ہو گئی ہوں ماما۔” نوال نے عام سے لہجے میں کہا۔
” صائمہ بیٹا اس کو وہ پہنانا تھا۔ جو تم دونوں لے کر آئے تھے۔”
” کہا تھا میں نے امی پر مان نہیں رہی۔” صائمہ نے بیچارگی سے کہا۔
” اچھا میک اپ بھی نہیں کیا جیولری بھی نہیں پہنی۔” عظمیٰ بیگم نے بجھے دل سے کہا۔
” ماما لپ سٹک لگا تو لی ہے۔ لوگ میرا مذاق اڑائیں گے کہ دوسری شادی میں بھی اس کے ارمان ختم نہیں ہو رہے۔” نوال نے افسردگی سے کہا۔
” یہ شادی صرف بچوں کے لیے ہے۔ کہا تو ہے زاویان نے بار بار۔”
” نوال بیٹا کہنے اور ہونے میں فرق ہوتا ہے۔ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔”
” خیر صائمہ بیٹا یہ جیولری اسے پہنا دو۔ یہ میرے اور تمہارے بابا کی طرف سے گفٹ ہے۔ اس کو انکار مت کرنا ۔” عظمی بیگم نے محبت سے کہا۔
انہوں نے ایک باکس صائمہ کی طرف بڑھایا۔
جس میں گلے کو چھوتا ایک چھوٹا سا پینڈنٹ اور دو ٹاپس تھے ساتھ ایک انگوٹھی تھی۔
نوال نے بے دلی سے پہن لیا۔
تھوڑی ہی دیر میں زاویان کی فیملی آ گئی اور نکاح کی رسم سادگی سے ادا کی گئی۔ مرد حضرات سیدھا مسجد ہی پہنچے تھے۔ خواتین کا انتظام گھر پر تھا نکاح کے بعد سوائے زاویان کے مرد حضرات گھر آ گئے۔ اس طرح نوال نے ماں باپ اور بھائیوں کی دعاؤں کے سائے تلے رخصت ہو گئی۔
——————-
جاری ہے
