No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
” وال بھوت لدی۔” آئرہ نے سوئی ہوئی نوال کو جھنجھوڑ کر اٹھایا۔
نوال نے ٹائم دیکھا۔ جہاں پونے آٹھ بج رہے تھے۔
نوال نے زاویان کی طرف دیکھا۔ جو تکیے میں منہ دیے بےخبر سو رہا تھا۔ وائٹ ٹی شرٹ اور بلو پینٹ پہنے وہ عام سے حلیے میں ماتھے پر بکھرے بال چہرے پر نرمی کے تاثرات لیے وہ وجیہ لگ رہا تھا۔
رات کا منظر یاد آتے ہی نوال کا دل زور سے دھڑکا۔
وہ اس کے قریب آیا تھا بہت قریب۔ اسے یقین تھا کہ وہ زاویان ہی تھا لیکن چوری کیوں؟
” وال بھوت لدی۔”
آئرہ نے ایک بار پھر جھنجھوڑا۔ نوال ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔
” آؤ میں اپنے بے بی کو کچھ کھانے کو دوں۔” نوال تیزی سے اٹھی اور کندھوں پر دوپٹہ لیا۔
” نوال بھوک لگی۔” عنایہ بھی آ چکی تھی۔
نوال نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
” بابا۔۔” عنایہ زاویان کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھی۔
” عنایہ نہیں بابا کو سونے دو۔ وہ تھکے ہوں گے۔ انہوں نے آج آفس بھی نہیں جانا۔”
” تم اپنے آپ میں رہا کرو میرے بابا ہیں۔ میرے اٹھانے سے ان کی نیند خراب نہیں ہوتی۔” عنایہ نے غصیلے لہجے میں کہا۔
” عنایہ آرام سے بیٹا بابا اٹھ جائیں گے۔” عنایہ کے چلانے پر نوال نے فوراً ٹوکا۔
” نایہ نہ ترو بابا تو تے ہیں (عنایہ نہ کرو بابا سو رہے ہیں)۔”
” تم تو چپ ہی کرو وال کی چمچی۔” عنایہ نے آئرہ کو ڈپٹا۔
نوال نے وارڈروب سے آئرہ اور عنایہ کے کپڑے نکالے اور ان دونوں کو لیے عنایہ کے روم میں چلی گئی۔
ان دونوں کو فریش کر کے خاموشی سے ان دونوں کو نیچے لے گئی۔
کلثوم بیگم اور نصار صاحب بھی نیچے ہی موجود تھے۔
ان سب کے لیے بریک فاسٹ بنایا۔ سب نے مل کر بریک فاسٹ کیا۔
” عنایہ آئرہ آپ دونوں شور مت کرنا اور نیچے ہی کھیلنا۔ بابا سو رہے ہیں۔ جب وہ اٹھیں گے تو تب ان کے ساتھ کھیل لینا۔” ناشتے کے بعد نوال نے عنایہ اور آئرہ کو کہا۔
” تھیت ہے وال۔” آئرہ فوراً چہکی۔
” تم زیادہ شوخی نہ ہو۔ ہمارے بابا ہیں۔ ہم جو مرضی کریں۔ تمہیں کہا ہے نا مجھ سے بات مت کیا کرو۔” عنایہ نے بدتمیزی سے کہا۔
نوال چپ کر گئی۔
” عنایہ بہت بری بات ہے۔ ہم نے آپ کو یہ سکھایا ہے؟ وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ بابا آپ کے ہیں تو آپ کو زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔” نصار صاحب نے فوراً ٹوکا۔
” دادا یہ سر پر ہی چڑھ گئی ہے۔ نہ جاتی ہے نہ جان چھوڑتی ہے۔” عنایہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” اوںہوں اب میں بدتمیزی کرتے نہ دیکھوں۔” نصار صاحب نے سنجیدگی سے پھر منع کیا۔
نوال خاموشی سے جا چکی تھی۔
نصار صاحب اور کلثوم بیگم اٹھ کر لاؤنج میں آ گئے۔
وہ دونوں کھیلنے لگیں۔
نوال کچن میں چلی گئی اور لنچ کی تیاری کرنے لگی۔
زاویان کی آنکھ کھلی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر آئرہ پر رکھا۔ اس کی جگہ خالی تھی۔
اس نے نوال کی سائیڈ پر ہاتھ رکھا۔ شاید وہاں چلی گئی ہو لیکن وہاں بھی نہ پا کر وہ سیدھا ہو کر لیٹا۔
” یہ لوگ کہاں گئے؟”
بیڈ کو خالی پایا تو بے اختیار ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا اور ٹائم دیکھا۔ جہاں بارہ بج رہے تھے۔
” بارہ بج گئے اور مجھے اٹھایا بھی نہیں۔” زاویان اٹھ کر بیٹھا۔
عنایہ کا خیال آتے ہی وہ اٹھ کر اس کے روم میں گیا۔ وہاں عنایہ بھی نہیں تھی۔
” یہ دونوں تو آٹھ بجے اٹھنے کی عادی ہیں۔” زاویان پریشانی سے بڑبڑایا۔
زاویان نے انٹرکام اٹھایا۔
” ہیلو شازیہ۔۔”
” جی۔۔”
” عنایہ اور آئرہ کہاں ہیں؟”
” وہ دونوں کھیل رہی ہیں جی۔”
” ان دونوں کو اوپر بھیجو۔”
” جی بہتر۔”
” عنایہ بےبی آئرہ بےبی زاویان صاحب بلا رہے ہیں آپ کو۔”
” بابا اٹھ گئے۔”
وہ دونوں چہکتی ہوئیں اوپر چلی گئیں۔
” بابا۔۔”
” بابا۔۔”
” بابا کی جان آپ لوگ کہاں تھے؟”
” ہم نیچے تھے۔” عنایہ نے زاویان کے گال پر پیار کرتے ہوئے کہا۔
” یار آپ لوگوں نے مجھے اٹھایا ہی نہیں۔”
” آپ تھتے ہوئے تھے۔” آئرہ نے لہکتے ہوئے بتایا۔
” کس نے کہا میں تھتا ہوا تھا؟” زاویان نے آئرہ کو پیار کرتے ہوئے پوچھا۔
” وال نے۔”
” جی نہیں تمہاری وال نے نہیں کہا۔ ہم نے خود سوچا تھا ہمارے بابا سو جائیں۔ ہر جگہ تمہاری وال نہیں ہوتی۔ ہم خود بھی کچھ سوچتے ہیں۔”
” بری بات نوال آپ کی۔۔” زاویان نے نرمی سے ٹوکنا چاہا کہ عنایہ نے جھٹ کہہ دیا۔
” بابا وہ مما نہیں ہے۔ وہ مجھے اچھی نہیں لگتی۔”
” کیوں اچھی نہیں لگتی؟ وہ آپ دونوں کا اتنا خیال رکھتی ہیں۔”
” بس وہ مجھے آپ کے ساتھ اچھی نہیں لگتی۔ اسے آپ واپس بھیج دیں۔”
” عنایہ بیٹا ایسے کیسے بھیج دوں؟”
اتنے میں شازیہ زاویان کے لیے چائے لے آئی۔
” صاحب یہ آپ کی چائے۔”
” صاحب آپ کیا ناشتہ لیں گے؟”
” آپ دونوں نے ناشتہ کر لیا؟”
” جی۔۔” آئرہ نے لہکتے ہوئے کہا۔
” ہاں۔۔” عنایہ نے فوراً کہا۔
” کیا کھایا؟”
” ایگ بریڈ۔” دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
” لنچ ریڈی ہے؟” زاویان نے شازیہ سے پوچھا۔
” جی تھوڑی سی دیر ہے۔”
” چلیں ہم لنچ ہی کریں گے۔ میں ریڈی ہو کر آتا ہوں۔”
” جی۔۔” شازیہ چلی گئی۔
زاویان نے چائے کا سپ لیا۔ چائے نوال نے ہی بنائی تھی۔ وہ روز بروز نوال کی چائے کا فین ہو رہا تھا۔
” یہ نہیں کہ خود لے آئے چائے۔ ایک بار کہا تھا۔ محترمہ نے سوچا جان چھوٹی۔” زاویان نے بدمزہ ہوتے ہوئے سوچا۔
اسی وقت نوال کمرے میں داخل ہوئی اور آئرہ کے پاس آئی۔
” آئرو بے بی ادھر آؤ۔”
” نہیں میں بابا پاش۔”
” ڈائپر چینج کروا لو پھر بابا پاش چلی جانا۔ میرے بےبی میں سے سمیل آئے گی۔” نوال نے زبردستی اسے پکڑا۔
” یہ تمہارا بےبی نہیں ہے۔ یہ ہمارے بابا کا بےبی ہے۔” عنایہ نے غصے سے کہا۔
” عنایہ نو۔” زاویان نے نرمی سے ٹوکا۔
” میں بابا بےبی۔” آئرہ تڑپ گئی۔
” یہ بےبی میں بھی لے لوں؟”
” نہیں۔۔”
” پلیز تھوڑا سا؟”
” نہیں میں بابا تا۔”
” اتو سا لے لوں پلیز؟” نوال نے پیار کیا۔
” وہ تمہارا بےبی نہیں ہے۔ ہم نہیں دیں گے۔”
” نہیں لیش وال۔”
نوال آئرہ کے ساتھ کھیلتی عنایہ کی بات پر سنجیدہ ہوئی۔
” اوکے جاؤ بابا پاس بابا کا بےبی۔” نوال نے اسے اٹھا کر زاویان کے آگے کھڑا کر دیا تھا۔
” کہہ دو میں آپ کا بھی ہوں۔” زاویان نے آئرہ کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
” نہیں۔۔” آئرہ نے زاویان کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
” نہیں بابا آئرہ ہماری ہے۔” عنایہ تڑپ گئی۔
” اچھا آپ دادو کے پاس جاؤ۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔” زاویان نے ان دونوں کو نیچے بھیجا۔
نوال بھی خاموشی سے نیچے چلی گئی۔
زاویان چاہ رہا تھا کہ وہ اسے کچھ کہے۔ کوئی بات کرے لیکن وہ بے وقوف تو خود چلی گئی۔ زاویان ٹھیک ٹھاک تپ گیا اور فریش ہونے واش روم چلا گیا۔
——————-
” یار ماما بابا کہاں ہیں؟ نظر نہیں آ رہے؟”
زاویان لاؤنج میں آ کر بیٹھا۔ کلثوم بیگم سے ادھر ادھر کی باتیں کر رہا تھا۔ نصار صاحب کو نہ پا کر بالآخر پوچھ لیا۔
” وہ تمہارا انتظار کرتے کرتے تھک گئے اور بالآخر سو گئے۔ کہہ رہے تھے لگتا یے ہم نے زاویان کو بہت تھکا دیا ہے۔” کلثوم بیگم نے ہنستے ہوئے محبت سے بتایا۔
” دادو بابا پولے ویت تے تھتے ہوئے۔ اب بابا فیش ہو دے (دادو بابا پورے ویک کے تھکے ہوئے۔ اب بابا فریش ہو گئے)۔” آئرہ نے آ کر توتلی زبان میں کہا۔
زاویان نے آئرہ کو گود میں اٹھا لیا۔
” بابا ہر وقت فریش ہیں اپنی پرنسس کے لیے۔” زاویان نے دھڑا دھڑ آئرہ کے گال پر پیار کیا۔
” ماما آپ لوگ اٹھا دیتے۔ آج تو ان دونوں نے بھی نہیں اٹھایا ورنہ نارملی سنڈے کو اٹھا دیتی ہیں۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” بابا اس نوال نے منع کیا تھا کہتی بابا کو تنگ مت کرو۔ انہیں سونے دو۔ ہمیں تو کھیلنے بھی نہیں دیا کہ ہم شور کرتے ہیں۔” عنایہ نے بات بڑھاتے ہوئے زاویان کو بتایا کہ وہ نوال کو ڈانٹے۔
” نہیں عنایہ بیٹا اس نے آپ دونوں کو کھیلنے سے نہیں روکا۔ صرف بابا کو سونے دینے کا کہا تھا۔ دیکھو بابا کتنے فریش ہیں۔ اب آپ بابا کے ساتھ جتنا چاہو کھیلو۔” کلثوم بیگم نے پیار سے سمجھایا۔
” اور ہم نے اس لیے نہیں اٹھایا کہ ہمیں لگا وہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔” کلثوم بیگم نے مسکراتے ہوئے مزید کہا۔
نوال لاؤنج میں آتی دکھائی دی۔
نوال صوفے پر آ کر بیٹھی۔
کلثوم بیگم اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ نوال ان کی نظروں سے گڑبڑا گئی اور نگاہوں کا زاویہ بدلا تو زاویان بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” ناشتہ لاؤں آپ کے لیے؟” ان دونوں کی نظروں سے گھبرا کر نوال کی زبان سے پھسلا۔
” کہا تھا نا مجھ میں دلچسپی لینے کی کوشش مت کرنا۔” زاویان نے کھردرے انداز میں کہا۔
نوال کی آنکھوں میں آنسوں لمحوں میں آئے اور وہ اسی تیزی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔
” یہ کیا طریقہ ہے زاویان؟ اس بیچاری نے میری موجودگی کا ہی لحاظ کیا ہو گا ورنہ میں نے تو کبھی اسے تم میں دلچسپی لیتے نہیں دیکھا۔” کلثوم بیگم نے ناراضگی سے کہا۔
” جو سوال اسے پوچھنا چاہیے تھا۔ وہ پوچھ نہیں رہی تھی۔” زاویان نے تپ کر سوچا اور سر جھٹک کر رہ گیا۔
نوال کچن میں آ کر رونے لگی۔
” خود ہی تو کہا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو ریپریزینت کرتے ہیں۔ جب خیال کر کے پوچھ لیا تو جھاڑ دیا۔ یہ ایسے ہی کرتے ہیں۔ اب نہیں پوچھوں گی۔” نوال نے روتے ہوئے سوچا۔
” نوراں سب کو کھانے کے لیے بلائیں۔”
نوال نے نوراں کو بھیجا۔ اس بار خود جانے کی غلطی نہیں کی کہ اس شخص کا کوئی بھروسہ نہیں۔ دوبارہ جھڑک ہی نہ دے۔
” بیگم صاحبہ کھانا لگ گیا۔” نوراں نے آ کر کہا۔
کلثوم بیگم زاویان کو اس کے رویے پر نظر ثانی کرنے اور ٹھیک کرنے پر اسرار کر رہی تھیں۔ نوراں کی بات پر سر اثبات میں ہلا گئیں۔
اسی وقت لاؤنج میں نصار صاحب آتے دکھائی دیے۔
” کہاں ہو میاں؟ آج تو کوئی لفٹ ہی نہیں۔ ہم تو دو بار سو کر اٹھ گئے۔” نصار صاحب نے ہشاش بشاش لہجے میں کہا۔
” بس بابا۔” زاویان کھسیا گیا۔
” آپ کو بیٹے کی یاد ہی نہیں آئی۔” زاویان نے شرارت سے شکوہ کیا۔
” ہمیں یاد نہیں آئی یا تم پولے ویت تے تھتے ہوئے تھے۔” نصار صاحب نے آئرہ کے گال کھینچتے ہوئے کہا۔
زاویان بھی ہنس پڑا۔
” میں نے تو تمہاری ماما سے کہہ دیا۔ اب زاویان کو زیادہ تنگ نہیں کرنا ورنہ ہمارا زاویان پورے ویک کی تھکاوٹ لمبی تان کر نکالتا ہے۔ بور ہو گئے تھے یار۔” نصار صاحب نے بیچارگی سے کہا۔
” آپ جب چاہیں مجھے اٹھا لیا کریں۔” زاویان نے تابع داری کا مظاہرہ کیا۔
نصار صاحب نے زاویان کا شانہ تھپکا۔
——————-
لنچ ٹیبل پر نہاری کی اشتہا انگیز خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ کلثوم بیگم نے اسے بتایا تھا کہ زاویان کو نہاری بہت پسند ہے۔ اس نے خاص زاویان کے لیے سنڈے کو نہاری بنائی تھی۔ نہاری کے ساتھ اس نے خاص لوازمات بھی رکھے تھے۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ بچے نہاری نہیں کھاتے۔ اس لیے اس نے بچوں کے لیے پلاؤ بنایا تھا ساتھ کباب رائتہ سلاد بھی موجود تھے۔
زاویان نہاری بہت شوق اور رغبت سے کھا رہا تھا۔ ہاتھ کی بنی روٹی نہاری کا مزہ دوبالا کر رہی تھی۔
آئرہ پلاؤ اور کباب کو انجوائے کر رہی تھی۔
نصار صاحب اور کلثوم بیگم بھی کھانا بہت رغبت سے کھا رہے تھے۔
عنایہ کے دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا۔
” آئرو بےبی رائس یمی ہیں؟” نوال نے اس کے منہ چمچ ڈالتے ہوئے پوچھا۔
” امم یمی یمی۔ وال باب۔” آئرہ نے ہاتھ میں پکڑے کباب کو دکھا کر تھمبز اپ کا اشارہ کیا۔
” میری جان۔” نوال نے آئرہ کو پیار کیا۔
” بابا مرچیں۔” عنایہ نے زاویان کو بلایا۔
” عنایہ بیٹا یوگرٹ لو نوراں شہد لے کر آئیں۔” نوال نے فوراً عنایہ کو دیکھا۔
” پانی پیو بیٹا۔” زاویان نے سنجیدگی سے کہا۔
” بابا پانی سے بھی ٹھیک نہیں ہو رہیں۔” عںایہ نے منہ پر ہاتھ رکھے کہا۔
” میں نے مرچیں تو نہیں ڈالیں۔” نوال نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔
” نایہ میچیں نہیں۔” آئرہ نے بھی حصہ لیا۔
نوراں شہد لے آئی۔
” کلثوم تم بچی کو شہد کھلاؤ۔” نصار صاحب نے محبت سے کہا۔
” میں نے نہیں کھانا۔” عنایہ نے ضدی لہجے میں کہا۔
” عنایہ بیٹا شہد کھاؤ گی تو مرچیں ٹھیک ہو جائیں گی۔” زاویان نے نرمی سے کہا۔
” میں اپنی بیٹی کو کچھ اور بنا دیتی ہوں آپ شہد کھاؤ۔ میں کھلا دوں شہد؟” نوال نے محبت سے پوچھا۔
” وال میچیں؟” آئرہ نے پوچھا۔
” نہیں مرچیں تو گم ہو گئیں۔ بابا نیو مرچیں نہیں لائے۔” نوال نے پچکارا۔
وہ سمجھ گئی تھی عنایہ صرف ایشو بنا رہی ہے۔
” بابا میچیں نہیں؟” آئرہ نے باپ سے تصدیق چاہی۔
” نہیں۔۔” زاویان نے عنایہ کو دیکھتے ہوئے آئرہ کو ٹالا۔
” آپ لوگوں کو لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں؟” عنایہ نے زور سے پلیٹ پیچھے کی۔ کھانے کے ٹیبل پر زوردار ارتعاش پیدا ہوا۔
” مجھے کھانا نہیں کھانا۔” عنایہ وہاں سے چلی گئی۔
زاویان کا موڈ بھی ٹھیک ٹھاک آف ہو چکا تھا۔
” کیا تھا بچوں کے لیے کچھ ایسا بناتی جو وہ بھی کھا لیتے۔”
” زاویان میں نے بچوں کے لیے پلاؤ بنایا تھا۔” نوال نے دبا دبا سا کہا۔
” پھر مرچیں کیا عنایہ نے خود ڈالی ہیں؟” زاویان نے طنز کا تیر چلایا۔
” میں کچھ اور بنا دیتی ہوں آپ اسے لے آئیں۔” نوال نے معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے کہا۔
” بہت شکریہ اس احسان مندی کا۔ اگر اتنا ہی احساس تھا تو پہلے ہی مرچیں نہ ڈالتی۔ پورے ویک کا ایک سکون کا کھانا بھی گھر میں نصیب نہیں ہوتا۔ میں یہ شادی کر کے مصیبت میں پڑ گیا ہوں۔” زاویان نے اپنی پلیٹ زور سے پیچھے کی اور تیزی سے ڈائئنگ ہال سے نکل گیا۔
” وال میچیں۔”
” نہیں بیٹا کوئی میچیں نہیں۔” نصار صاحب نے پچکارا۔
” وال بابا۔۔ نایہ۔۔۔” آئرہ کود کر نوال کی گود سے نکلی اور ڈائننگ ہال سے نکل گئی۔ جاتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا کباب زمین پر پھینک گئی۔
نوال نے آگے بڑھ کر زمین پر گرا کباب اٹھایا اور چوما۔
نوال کی آنکھوں سے آنسوں تیزی سے جاری ہوئے۔ جسے وہ پلکیں جھپک جھپک کر پیچھے دھکیلنے لگی۔
——————-
” عنایہ کیا ہوا بیٹا؟” زاویان عنایہ کے پیچھے آیا۔
” بابا مرچیں بہت ہیں اور مجھے بہت زوروں کی بھوک لگی ہے۔” عنایہ نے روتے ہوئے کہا۔
” میرے بیٹے نے کیا کھانا ہے؟” زاویان نے اسے گود میں بٹھا کر پیار کیا۔
” پیزا۔” عنایہ نے جھٹ کہا۔
” میں ابھی منگوا دیتا ہوں۔” زاویان نے پیار سے کہا۔
” نہیں میں نے جا کر کھانا ہے۔” عنایہ نے ضدی لہجے میں کہا۔
” اوکے۔” زاویان نے سرنڈر کیا۔
” لیکن ہم نوال کو لے کر نہیں جائیں گے۔” عنایہ نے ایک اور ضد کی۔
زاویان نے کچھ لمحے اسے دیکھا۔
” اوکے۔” زاویان نے ہار مانی۔
عنایہ پرجوش سی باہر بھاگی۔
” آئرہ کو بھی لے لو۔” زاویان نے پیچھے سے آواز دی۔
عنایہ دوڑ کر نیچے آئی۔
آئرہ سیڑھیوں کے پاس ہی اسے مل گئی۔
” آئرہ چلو ہم پیزا کھانے جا رہے ہیں۔” عنایہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
” پیدا۔” آئرہ بھی چہکی۔
” وال۔” آئرہ نے نوال کی طرف اشارہ کیا۔
” نہیں اس چڑیل کو نہیں لے کر جانا۔” عنایہ نے منہ بنا کر نوال کا ذکر کیا اور آئرہ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
” آرام سے عنایہ بہن گر جائے گی۔” پیچھے سے آتے زاویان نے ٹوکا۔
اس نے آگے بڑھ کر آئرہ کو گود میں اٹھا لیا اور بغیر ڈائننگ ہال کی طرف دیکھے سیدھا نکل گیا۔ پیچھے نوال کی نظروں نے داخلی دروازے تک اس کا پیچھا کیا۔
——————-
” یہ کیا بنایا ہے؟ تمہیں کھانا بنانا بھی نہیں آتا؟” اسامہ نے گرم سالن کی پلیٹ اٹھا کر نوال کو دے ماری۔ سالن کے چھینٹے نوال کے کپڑوں سے ہوتے ہوئے زمین کو بھی داغدار کر گئے۔
” کیا ہوا ہے؟” نوال نے آہستگی سے پوچھا۔
” مرچیں نہیں ہیں۔ ابلے آلو کھلا رہی ہو۔” اسامہ چلایا۔
” آنٹی کو چکھایا تھا میں نے۔”
” جھوٹ بول رہی ہے۔ میں نے کوئی نہیں چکھا۔” شاہدہ بیگم سرے سے ہی مکر گئیں۔
” میں جھوٹ نہیں بول رہی آنٹی کو چکھایا تھا زارا بھی پاس ہی تھی۔” نوال نے وضاحت دی۔
” نہیں بھابھی کب چکھایا؟ میں وہیں تھی۔ ایسے ہی میں آپ مجھے گھسیٹ رہی ہیں۔”
” میری ماں اور بہن پر جھوٹا الزام لگاتے تجھے شرم نہیں آتی؟” اسامہ نے اسے تھپڑ مارا۔
نوال گال پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
اس کے گھر میں سب اس سے بےپناہ محبت کرتے تھے۔ کبھی کسی نے اسے میلی آنکھ سے نہیں دیکھا تھا۔
” گھور کیا رہی ہے؟ آنکھیں نیچی کر ورنہ یہی آنکھیں نکال کر تیرے باپ کو بھجوا دوں گا۔” اسامہ نے اس کے بالوں کو سختی سے پکڑا۔
نوال کی چیخ نکل گئی۔
شازیہ بیگم اور زارا کے جہرے پر بڑی جاندار مسکراہٹ تھی۔
” جا جا کر کھانے کو کچھ لے کر آ۔” اسامہ نے اسے زمین پر پھینکا۔
” میں آملیٹ لاتی ہوں۔”
” نہیں کھانا مجھے آملیٹ۔ کچھ اور لے کر آ۔”
نوال تیزی سے کچن کی طرف بڑھی۔
پانی کا نل چلا کر اس نے اپنے چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹیں مارے۔
چہرہ دوپٹے سے صاف کرتی دال چاول کی تیاری کرنے لگی پھر کچھ خیال آتے ہی سالن میں نمک چکھا۔ جو بالکل ٹھیک تھا۔
——————-
جاری ہے
