No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
مختار صاحب اور سلمیٰ بیگم برسوں سے اسلام آباد کے پوش علاقے میں اپنے آبائی گھر میں مقیم تھے۔
مختار صاحب بزنس مین ہیں اور ان کے تینوں بیٹے ہونہار سلجھے ہوئے شریف اور پڑھے لکھے ہیں اور ان کے ساتھ ہی ان کا بزنس سنبھالتے ہیں۔
ان کے تین بیٹے عامر احمر اور شاہ رخ اور دو بیٹیاں ثانیہ اور نوال ہیں۔
عامر اور احمر کی شادی مختار صاحب کی بہن ساجدہ کی دو بیٹیوں صائمہ اور نائمہ سے ہوئی اور شاہ رخ ابھی تک کنوارا ہے اور اسے ایک چاند کے ٹکڑے کی تلاش ہے۔
عامر اور صائمہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ احمر اور نائمہ کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔
ثانیہ احمر سے چھوٹی اور شاہ رخ سے بڑی ہے۔ ثانیہ کی شادی احمر کے جان پہچان میں ہوئی ہے۔ ثانیہ اور احتشام کے دو بیٹے ہیں۔
نوال گھر بھر کی سب سے چھوٹی اور سب کی لاڈلی ہے۔
عامر اور احمر کے لیے تو وہ ان کی اولاد کی طرح ہے اور بھتیجے بھتیجیوں اور بھانجوں کے لیے ان کی بیسٹ فرینڈ۔
اسامہ اور نوال کا رشتہ ان کے کسی جاننے والے کے ذریعے ہوا تھا۔
شادی کے دو مہینے بعد وہ لوگ اسلام آباد سے کراچی شفٹ کر گئے تھے۔
اسامہ بینک میں ملازمت کرتا تھا۔ جب تک وہ لوگ اسلام آباد میں رہتے رہے تب تک سب کچھ ٹھیک تھا۔
ان کے کراچی شفٹ ہوتے ہی اسامہ اور اس کی فیملی نے اپنے رنگ ڈھنگ دکھانے شروع کر دیے۔
اسامہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ جس کی دو چھوٹی بہنیں ہیں اور وہ دونوں کالج میں پڑھتی ہیں۔
اسامہ کی اصلیت کا ادراک نوال کو تب ہوا جب ایک دن اسامہ نے جاب سے واپس آ کر کہا اسے جاب سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ اس کا کسٹمرز کے ساتھ رویہ اچھا نہیں تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر اسامہ کو غصہ آ جاتا اور وہ گالی گلوج کرنے لگتا۔
اس کا رویہ آہستہ آہستہ اب نوال کے ساتھ بھی خراب سے بدتر ہو رہا تھا۔
نصار ہاشمی اور کلثوم بیگم کی محبت کی شادی ہے۔ نصار ہاشمی اسلام آباد میں ہی رہائش پذیر ہیں۔
ان کے دو بچے زاویان ہاشمی اور زوباریہ ہیں۔
زاویان نے عرشیہ سے محبت کی شادی کی ہے۔ زاویان کی دو بیٹیاں عنایہ اور آئرہ ہیں۔
زوباریہ کی شادی نثار صاحب کے بزنس پارٹنر کے بیٹے کامران سے ہوئی ہے۔ زوباریہ اور کامران کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
کچھ لمحے وہ دروازے کو گھورتی رہی کہ تبھی دروازہ کھول کر ایک کم عمر لڑکی اندر آئی اور عجیب و غریب نظروں سے اس نئی نویلی دلہن کو دیکھا۔ جو کسی بھی زاویے سے دلہن نہیں لگ رہی تھی۔ صرف سرخ رنگ کا پہنا جوڑا اسے دلہن ہونے کا احساس دلا رہا تھا یا شاید وہ جانتی تھی کہ آج گھر میں دلہن آئی ہے تو یقیناً وہ یہی تھی۔
شازیہ نے ناگوار نظروں سے اپنے بازوؤں میں اٹھائے اس لاؤڈ سپیکر کو دیکھا۔
” بیگم صاحبہ زاویان صاحب کہہ رہے ہیں کہ اب سے آپ اسے سنبھالیں گی تو اس کو آپ کو دے دوں۔”
اس لڑکی نے دو سالہ آئرہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ جو اس وقت کسی طور بھی اس کی گود میں آنے کو تیار نہیں تھی اور رونے کا شغف الگ جاری تھا۔
شازیہ آئرہ کو اسے تھما کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی مبادا وہ لڑکی اسے روک کر آئرہ اسے واپس ہی نہ دے دے۔
” اس کے ڈائپرز تو بتا دو بھرا ہوا ہے۔” اس نے پیچھے سے آواز دی۔
” وہ وہاں اس کے ڈائپرز پڑے ہیں وہاں وائپس اور وہاں لوشن۔” شازیہ نے اشارے سے بتایا اور نکل گئی۔
وہ لڑکی اسے بےبسی سے جاتا دیکھتی رہ گئی۔
وہ لڑکی آئرہ کو بازوؤں میں اٹھا کر وارڈروب کی طرف بڑھی۔
وہ ڈائپر ڈھونڈنے رہی تھی۔ جس کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی۔
وہ ڈائپر اٹھاتی پلٹی تو سامنے ایک چھوٹی سی بچی جو تقریباً چار پانچ سال کی تھی۔ یقیناً وہی عنایہ تھی۔
” کیسی ہو عنایہ؟” اس نے مسکراتے ہوئے محبت سے پوچھا۔
وہ ڈائپر لیے بیڈ کی طرف بڑھی۔
” ٹھیک ہوں۔ تم کون ہو؟” عنایہ اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔
” میں نوال ہوں۔”
عنایہ نے یہ سوال اس لیے کیا تھا کہ نکاح کے وقت بچیاں نہیں تھیں۔ صرف کلثوم بیگم زوباریہ اور ان کے کچھ اہم رشتے دار تھے۔
زاویان کی طرف سے نکاح کا فریضہ مسجد میں ہی انجام پایا تھا۔ وہ سادگی سے نکاح کی رسم ادا کرنا چاہتا تھا اور نوال نے بھی شکر کا کلمہ ہی پڑھا تھا کیونکہ وہ بھی زیادہ شور شرابہ نہیں چاہتی تھی۔
نکاح کے بعد بھی زاویان سیدھا آفس کے لیے نکل گیا تھا۔ اس نے مختار ہاؤس آنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی۔
نصار صاحب مرد حضرات کے ساتھ مختار ہاؤس آ گئے تھے۔ وہیں سے وہ کلثوم بیگم اور زوباریہ کے ساتھ نوال کو رخصت کروا کر ہاشمی ہاؤس آئے تھے۔
نوال دوپٹہ ایک طرف رکھتی شیٹ بچھا کر آئرہ کا ڈائپر چینج کر رہی تھی۔ آئرہ اپنا مسئلہ نوال کو سمجھتا دیکھ کر پُرسکون ہو گئی لیکن وہ وقتاً فوقتاً ہچکیاں بھر رہی تھی۔
” شازیہ کہاں ہے؟ تم ڈائپر کیوں بدل رہی ہو؟”
” وہ آئرہ کو مجھے دے کر چلی گئی ہے۔”
” ٹھیک ہے اس کا ڈائپر چینج کر کے چلی جانا۔”
” کہاں؟” نوال ٹھٹکی۔
” کسی بھی روم میں اتنا بڑا گھر ہے۔
یہ ہمارے بابا کا روم ہے اور وہ ہمارا روم ہے۔” عنایہ نے اٹیچ روم کی طرف اشارہ کیا۔ جس کو سلائڈنگ گلاس ڈور کے ذریعے علیحدہ کیا گیا تھا۔
” کیوں میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی؟” نوال نے سنبھلتے ہوئے دوستانہ لہجے میں پوچھا۔
یہ مرحلہ تو آنا تھا کہ انہیں پہلے اپنا آپ متعارف کروانا تھا اور پھر منوانا تھا کیونکہ کسی بھی بچے کے لیے کسی کو بھی اپنی ماں کی جگہ دینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
” بالکل بھی نہیں۔ اٹھو اور اب جاؤ یہاں سے۔” عنایہ نے بدتمیزی سے کہا۔
” یہ یہیں رہے گی عنایہ۔” پیچھے سے آتی آواز پر عنایہ اور نوال نے بیک وقت دروازے پر کھڑے شخص کو دیکھا۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔ ٹریفک کو چیرتا وہ ہاسپٹل پہنچا اور اس لڑکی کو لیے ایمرجنسی میں گیا۔
جہاں مرڈر کیس کی وجہ سے کوئی بھی ڈاکٹر ہاتھ نہیں ڈال رہا تھا۔ اس لڑکی کا خون کافی بہہ چکا تھا۔
اس کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔ نہ وہ اس لڑکی کو جانتا تھا۔ جو کسی کو بلا لیتا پھر کسی خیال کے آتے ہی اس نے اپنے اثر و رسوخ استعمال کیے اور اس لڑکی کا ٹریٹمنٹ شروع کروایا۔
دوسرا شہر ہونے کے باوجود اس کے اثر و رسوخ کام آئے تھے۔
آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔ زاویان وہیں آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑا تھا۔ وہ وہاں سے نہیں گیا تھا۔ حالانکہ اس کی بہت امپورٹنٹ میٹنگ تھی۔ جس کے لیے وہ کال کر کے فلائٹ کے لیٹ ہونے کا جھوٹ بول چکا تھا کیونکہ وہ اس کے آپریشن کے ختم ہونے تک یہیں رکنے کا پلان رکھتا تھا اور کسی اچھی خبر کو سننے کے لیے پر امید تھا لیکن دل میں ایک الگ دھڑکا بھی لگا ہوا تھا کہ اگر یہ لڑکی بھی نہ بچ سکی تو؟؟
وہ عرشیہ کے بعد اسے نہیں کھونا چاہتا تھا۔ وہ رات اسے آج بھی پوری جزئیات سمیت یاد تھی۔
انسپیکٹر امجد کے آنے پر وہ الرٹ ہوا۔
” زاویان ہاشمی؟” انسپیکٹر امجد نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ جو زاویان نے خوش دلی سے تھام لیا۔
” کون ہے یہ لڑکی؟”
” پتا نہیں سڑک پر ملی تھی۔ وہاں کافی رش تھا لیکن کوئی آگے نہیں بڑھا تھا کیونکہ دن دیہاڑے قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔ شاید مارنے والے کو لگا تھا کہ مر چکی ہے یا جب تک ہاسپٹل پہنچے گی تب تک مر چکی ہو گی؟”
” کیا عمر ہو گی؟”
” آئی تھنک بیس بائیس سال۔”
” کنواری ہے یا شادی شدہ؟”
” اندازہ نہیں ہے شاید کنواری ہی ہو۔ انسپیکٹر لڑکی بیہوش تھی اور اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اسی لیے بات نہیں ہو سکی۔” زاویان نے لطیف سا طنز کیا۔
انسپیکٹر امجد کے چہرے کے زاویے بدلے۔ اسے زاویان کا طنز پسند نہیں آیا تھا۔
جاری ہے
