52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16


” اس بارے میں بعد میں بات کریں گے فنش یور پلیٹ فرسٹ۔” زاویان نے رعب سے کہا۔
عنایہ کھانا کھانے لگی۔
” آئرہ آپ کو الگ سے کہنا پڑے گا۔”
” بابا میں تھا رہی ہوں۔” آئرہ نے معصومیت سے کہا۔
” نوال جلدی تھلاؤ آئش کریم تھانے دانا ہے۔” آئرہ نے نوال کو حکمیہ انداز میں کہا۔
کھانا کھا لینے کے بعد نوال ٹیبل سے اٹھنے لگی۔ تبھی زاویان نے اسے روکا۔
” یہ سب نوراں دیکھ لے گی۔ تم چلو بچوں نے آئس کریم کھانی ہے۔ تم بھی ساتھ چلو۔”
” میں آئرہ کا ڈائپر چینج کر لوں۔” نوال آئرہ کو اٹھائے پلٹنے لگی۔
” بابا میں نے کہا نوال نہیں جائے گی۔”
” کیوں نہیں جائے گی؟”
” جاؤ نوال۔”
” بابا میں نے جانا۔”
” پرنسس میں آپ کو لے کر ہی جاؤں گا جلدی سے واپس آؤ۔”
” کیونکہ بابا مجھے نوال اچھی نہیں لگتی۔”
نوال آئرہ کو لے کر جا چکی تھی۔
” آپ نے ہی کہا تھا مما چاہیے مما چاہیے۔ جب لے آیا ہوں تو آپ کو اچھی نہیں لگتی۔”
” کیونکہ مجھے مما چاہیے تھی نوال نہیں۔”
” عنایہ بیٹا آپ کو اور آئرہ کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔”
” مجھے نہیں ہوتی۔”
” آئرہ کو تو ہوتی ہے نا بات ختم۔ اگر نوال کو لے کر نہیں جانا تو پلان کینسل۔”
” بابا آپ بدل گئے ہیں۔”
زاویان نے گہری سانس لی۔
” آئس کریم کھانے جانا ہے تو گاڑی میں آ جاؤ۔” زاویان باہر کی طرف بڑھ گیا۔
نصار صاحب اور کلثوم بیگم ان دونوں کو تاسف سے دیکھتے رہ گئے۔
” نصار ایسا کب تک چلے گا؟ اور کیسے چلے گا؟ یہ بچے کیا نوال کو کبھی ماں کا درجہ دے پائیں گے؟”
” سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وقت سب بدل دے گا۔ جس طرح نوال نے ان کو سنبھالا ہے۔ ان کا خیال رکھتی ہے پیار دیتی ہے۔ ان بچوں کے دلوں میں بھی اس کی جگہ بن جائے گی۔ ہمیں تھوڑا حوصلہ رکھنا ہو گا۔”
” وال دلدی تلو۔ بابا میں آ دئی۔” آئرہ نے سیڑھیوں سے ہی شور مچا دیا۔
” میں اپنی پرنسس کو چھوڑ کر جا ہی نہیں سکتا۔”
آئرہ خوش ہو گئی۔
نوال نے پیسینجر سیٹ کا دروازہ کھولا۔
” یہ میرے بابا ہیں یہاں میں بیٹھوں گی۔”
” نایہ ہم بھی بیتھ داتے ہیں۔”
” جی نہیں بیٹھو تم اپنی وال کے ساتھ۔”
” نایہ ول میلی نہیں۔ میلے بابا ہیں۔”
نوال خاموشی سے بیک سائیڈ کا دروازہ کھول کر بیٹھ چکی تھی۔ ان کی گفتگو میں محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ نوال وہیں ہے اور اسی سے متعلق بات ہو رہی ہے۔
زاویان کو اس پر ڈمی کا گمان ہوتا تھا۔
گاڑی سڑکوں پر رواں دواں تھی۔ موسم اس وقت خوشگوار تھا۔ گرمی کے باوجود اس وقت ہوا چل رہی تھی اور بھلی معلوم ہو رہی تھی۔
گاڑی کی فضا میں نوال اور آئرہ کی باتوں کی آوازیں رقصاں تھیں۔ عنایہ بیچ بیچ میں زاویان سے باتیں کر رہی تھی۔ جس کا زاویان جواب دے رہا تھا۔
” آئرہ آپ آئس کریم کھاتی ہو؟”
” امم تھاتی ہوں۔”
” کون سی آئس کریم کھاتی ہو؟”
” چوتلیت۔”
” اچھا اسی لیے آئرہ اتنی سویٹ ہے۔” نوال نے آئرہ کے گال پر پیار کیا۔
آئرہ کھلکھلا اٹھی۔
” میری بہن ویسے ہی سویٹ ہے۔” عنایہ نے غصے سے کہا۔
نوال نے عنایہ کو کوئی جواب نہ دیا۔
زاویان نے آئس کریم پارلر کے باہر گاڑی روکی۔
” بابا یہ اندر نہیں جائے گی۔”
” کیوں عنایہ بیٹا؟ ایسے نہیں ہوتا۔” گاڑی کی سیٹ بیلٹ کھولتا زاویان رکا۔
” کیوں نہیں ہوتا بابا مجھے یہ اچھی نہیں لگتی۔”
” بیٹا آئرہ کو اس کی ضرورت ہے۔”
” بابا آپ ہیں تو ہمارے ساتھ۔ آپ آئرہ کو دیکھ لیجئے گا۔
” نہیں میں آئرہ کو نہیں دیکھوں گا۔ وہ کپڑے گندے کرتی ہے۔ آپ دیکھ لے نا۔”
” بابا میں کیسے دیکھوں گی؟ میں تو چھوٹی ہوں نا۔”
” آئرہ خود کھائے نا۔” عنایہ نے چڑتے ہوئے کہا۔
” بابا میں تو چھوتی ہوں نا۔”
” یہیں منگوا لیتے ہیں آئس کریم۔” زاویان نے بات ختم کرنی چاہی۔
” بابا اندر جانا ہے۔”
” لیکن عنایہ نوال اندر ساتھ جائے گی۔” زاویان نے جیسے باور کروایا۔
” بابا آپ پہلے تو ایسے نہیں تھے۔”
” پہلے نوال ہماری فیملی کا حصہ بھی تو نہیں تھی۔”
” یہ ہماری فیملی نہیں ہے۔ ہم آئرہ کو چھوڑ جاتے ہیں نا۔”
” نایہ۔۔۔”
” بابا۔۔” آئرہ مچل کر زاویان کی گود میں جانے کو تڑپی۔
” آئرہ نایہ کو مناؤ۔” زاویان نے اس کے گال پر پیار کیا۔
آئرہ کے انداز سے زاویان کو ہنسی آئی۔ جسے اس نے چہرہ موڑ کر بخوبی دبایا۔
” بابا آپ ہنس رہے ہیں؟” عنایہ نے مشکوک ہوتے ہوئے کہا۔
” جی نہیں آپ کی فضول سی ضد کا حل سوچ رہا ہوں۔”
نوال کو لگا جیسے اس نے ہنسی ضبط کی ہو۔ وہ اس خوبرو شخص کی ہنسی دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے بہت دلکش لگتا تھا اور ایک بار پہلے وہ اس کی ہنسی دیکھ چکی تھی۔ نوال کو یہ خواہش دوبارہ سے جاگی لیکن کیوں وہ اس کی ہنسی دوبارہ سے دیکھنے کی خواہاں تھی۔
” وال تم جاؤ دی؟”
نوال نے کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا۔
زاویان نے آئرہ کا سوال اور اس کا جواب جاننے کے تجسس میں پیچھے دیکھا۔
” وہ اس کی خاطر اپنی بیٹی سے بحث کر رہا تھا اور اس محترمہ کے مزاج ہی نہیں مل رہے۔”
” آپ لوگوں کے لیے ایک آفر ہے۔ اگر آپ اندر جا کر آئس کریم کھانا چاہتے ہو تو نوال اندر جائے گی اور میں اس کے بعد آپ لوگوں کو جھولے بھی دلواؤں گا۔ نہیں تو ہم گاڑی میں آئس کریم منگوا کر کھا لیں گے لیکن اس کے بعد جھولے نہیں ملیں گی۔”
” نایہ لے چلتے ہیں۔”
” وال تلو۔”
زاویان نے بھنویں اچکا کر عنایہ کا جواب جاننا چاہا۔
” ٹھیک ہے لیکن یہ مجھے نہیں دیکھے گی اور یہ الگ ٹیبل پر بیٹھے گی۔”
” عنایہ اب آپ بدتمیزی کر رہی ہو۔ وہ پہلی بار آئس کریم کھانے نہیں نکلی۔ نہ ہی آپ پہلی ہو جو آئس کریم کھا رہی ہے اترو اب۔” زاویان نے ناراضگی سے کہا۔
” بابا اب آپ اس کی وجہ سے ہمیں ڈانٹتے بھی ہیں۔” عنایہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” تچی بابا تچی وال۔” آئرہ نے چھوٹی فنگر باری باری ان دونوں کو دکھائی۔
نوال نے وہی فنگر چوم لی۔
” اترو تچی وال وہی کھلائے گی آپ کو۔”
زاویان کو لگا نوال کو شاید آئرہ سے بےپناہ محبت تھی۔ اسی لیے وہ اسے پیار کرنے کا بہانا ڈھونڈتی تھی۔
” اترو نوال۔” زاویان نے آواز دی۔ جانتا تھا محترمہ تب تک نہیں اترے گی۔ جب تک وہ اسے نہیں کہے گا۔
” تلو وال بابا تلے دائیں گے۔”
وہ سب گاڑی سے اتر گئے اور اندر کی طرف بڑھ گئے۔
——————
” ٹو چاکلیٹ آئس کریمز ٹو سکوپس ایچ، ٹو کیریمل کرنچ تھری سکوپس ایچ۔” زاویان نے آرڈر لکھوایا۔
” اوکے سر۔” ویٹر آرڈر لے کر چلا گیا تھا۔
زاویان ان کی طرف متوجہ ہوا۔ عنایہ اور آئرہ ایک دوسرے کے ساتھ لگی ہوئی تھیں۔ نوال ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی اور زاویان اس کا۔ وہ اب بھی سادہ سے حلیے تھی۔ اب صرف یہ تبدیلی تھی کہ اس نے بالوں کو پونی کی صورت میں باندھ لیا تھا۔
زاویان نے نسبتا کونے کا ٹیبل سلیکٹ کیا تھا کیونکہ وہ اپنی اولاد کو جانتا تھا کہ ان کے موڈ اچانک آؤٹ ہو جاتے تھے۔ آج تو ویسے ہی موسم ابر آلود تھا۔
زاویان نوال کو دیکھنے میں مگن تھا۔
ان کی آئس کریمز سرو کر دی گئی تھیں۔
زاویان نے سب کے آگے ان کے کپس رکھے۔
آئرہ نے اپنے کپ پر ہاتھ مارنا چاہا۔ نوال نے بروقت اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
” نو بے بی ہینڈ نہیں لگانا۔ گندے ہو جائیں گے۔ آئرہ کو آئس کریم کھانے کی جلدی ہے۔” نوال نے محبت سے کہتے ہوئے اس کی طرف چمچ بڑھایا۔
” مزے کی ہے؟” نوال نے محبت سے پوچھا۔
آئرہ نے تھمبز اپ کیا۔
نوال مسکرا دی۔
” آئس کریم سے زیادہ تو میرا بےبی۔” نوال نے مسکراتے ہوئے تھمبز اپ کیا۔
آئرہ خوش ہو گئی۔
زاویان آئس کریم کھاتے ہوئے صرف نوال کو دیکھ رہا تھا۔ جس نے آئس کریم کو اب تک ہاتھ بھی نہ لگایا۔
” نوال تم بھی آئس کریم لو میلٹ ہو رہی ہے۔”
نوال نے کوئی جواب نہیں دیا۔
زاویان کو احساس ہوا وہ بہت موڈی تھی۔ کیسے بننی تھی اس کی اس کے بچوں کے ساتھ؟ کیسے سنبھالے گا وہ ان تین بد مزاجوں کو؟” زاویان سوچ میں پڑ گیا۔
آئرہ کے آئس کریم کھا لینے کے بعد نوال نے اپنا کپ اٹھا کر قریب کیا۔
زاویان نے گہری سانس لی کہ بالآخر وہ بھی کھانے لگی تھی۔
” عنایہ بیٹا آئس کریم لو گی؟” نوال نے نرمی سے پوچھا۔
” کہا ہے نا مجھے مت دیکھنا۔ میرے بابا یہاں لائے ہیں ہمیں۔ تم اوؤر نہ ہو۔” عنایہ نے اس کے کپ پر ہاتھ مارا۔
آئس کریم گر کر نوال کے کپڑوں پر اور آئرہ کی ٹانگ پر گر گئی۔
” عنایہ بیہیو۔” زاویان نے سختی سے ٹوکا۔
” نایہ نہیں کرو۔” آئرہ نے منہ بنایا۔
نوال ٹیشو سے اپنے کپڑے صاف کرنے لگی۔
” وال۔۔” آئرہ نے منہ بناتے ہوئے اپنی ٹانگ دیکھی۔ جسے
نوال ٹیشو سے صاف کر رہی تھی۔
” ہو گیا بےبی کلین۔” نوال نے اس کا گال چوما۔
نوال خاموشی سے آئرہ کو کھلانے لگی۔
” نوال تم کھاؤ میں بچوں کو اور منگوا دیتا ہوں۔”
” تمہیں بھی ہمارے بابا آئس کریم کھلا رہے ہیں۔”
نوال نے آئرہ کو کھلاتے ہوئے ایک نظر عنایہ کو دیکھا۔
” عنایہ مس بیہیو کرنا بند کرو۔” زاویان نے خفگی سے کہا۔
” وال یمی۔” آئرہ نے ایک بار پھر تھمبز اپ کیا۔
نوال مسکرا دی۔
” نوال تم بھی اس آئس کریم کی طرح ہو۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ اپنی پہچان کھو دیتی ہے۔ تم کچھ بھی کر لو ان بچوں کے دلوں میں اور ان کے باپ کے دل میں جگہ نہیں بنا پاؤ گی۔ اسی کوشش میں سر پٹختے پٹختے لہو لہان ہو جاؤ گی لیکن حاصل خاک بھی نہ ہو گا۔ انسان اپنی تقدیر سے لڑ نہیں سکتا۔ اگر تمہارے نصیب میں شوہر کی محبت اور بچوں کا سکھ نہیں ہے تو تم کچھ بھی کر لو۔ تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔” نوال نے آنسو صاف کرتے ہوئے دکھ سے سوچا۔
زاویان نے اس کا چہرہ موڑ کر آنکھ کا کونا صاف کرنا دیکھ لیا تھا۔
آئرہ آئس کریم کو خوب انجوائے کر رہی تھی۔
آئس کریم ختم کرتے ہی وہ لوگ باہر آ گئے۔
” بابا جھولے۔” عنایہ نے زاویان کا ہاتھ ہلایا۔
” اتنی بدتمیزی کے بعد کوئی جھولے نہیں ملیں گے۔”
” بابا آپ نے کہا تھا کہ اس نوال کو اندر لے کر جائیں گے تو جھولے لیں گے۔”
” اب کوئی جھولا نہیں۔”
” بابا جھولے نہیں؟”
” نہیں۔”
” تچی وال۔”
” سب سے بڑی احسان فراموش تو تم ہوں آئرہ۔ نوال نے تمہیں آئس کریم کھلائی ہے اور اپنی آئس کریم بھی دی ہے۔” زاویان نے تاسف سے سر ہلایا۔
” دوشتی وال۔”
” جیسے ہی مفاد نظر آیا ویسے ہی دوشتی وال۔ انتہائی مفاد پرست ہو تم لوگ۔” زاویان نے افسوس سے سر جھٹکا۔
” آپ بھی تو مفاد پرست ہیں زاویان ہاشمی بچوں نے ماں کی ضد پکڑی۔ آپ نے کسی کھلونے کی طرح دلا دی اپنی ڈیمانڈز اور اپنے اصولوں پر۔ یہ بھی نہ سوچا آنے والی عورت بھی سینے میں دل رکھتی ہے۔ شوہر سے محبت کی متمنی ہو سکتی ہے، بچوں کا سکھ چاہ سکتی ہے۔ مجھے کیا ملا؟ مجھے تو صرف بچے چاہیے تھے صرف بچے۔ ان کی بے لوث محبت شوہر کی محبت کی تو میں خواہاں تھی بھی نہیں۔ اسامہ کے بعد میں دوبارہ کسی تجربے کی متحمل نہیں تھی۔” نوال سڑک پر نظریں جمائے دل میں زاویان سے مخاطب تھی۔
” وہ بہت مصیبت میں پڑ گیا تھا۔ اس شادی نے اسے کچھ دیا تھا یا نہیں لیکن اس کے موڈی بچوں کو مزید بدتمیز کر دیا تھا۔ وہ نوال کو اس کی حدود بندی بہت پہلے دکھا چکا تھا اور وہ اس پر عمل بھی کر رہی تھی لیکن اس کے بچوں نے ایک دن بھی اسے ماں کے عہدے پر تصور نہیں کیا تھا۔ پہلے اندازہ ہوتا تو وہ کبھی اس چیپٹر کو نہ کھولتا۔ کاش کہ وہ بند ہی رہنے دیتا۔” زاویان نے گاڑی سڑکوں پر دوڑاتے ہوئے سوچا۔
——————-
” چلو آئرہ اب سو جاؤ۔” نوال نے اسے تھپکتے ہوئے کہا۔
” بابا۔” آئرہ زاویان کے سینے پر سر ٹکا گئی۔
زاویان نے موبائل آف کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کی بیٹی اس کا ٹائم چاہ رہی ہے۔
” جی بابا کی جان۔” زاویان نے اس کے بال سنوارے۔
” بابا میں آپ پر شو جاؤں؟”
” ہمم سو جاؤ۔”
” آ دو وال (آ جاؤ نوال)۔”
” میں یہیں ہوں۔” نوال نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر چوما۔
” نہیں وال تم بھی۔” آئرہ نے اس کا ہاتھ کھینچا۔
نوال کشمکش میں پڑ گئی۔
” آپ سو جاؤ میں بھی سو جاؤں گی۔”
” نہیں پہلے آؤ۔” آئرہ نے ضد کی۔
نوال آئرہ کی تسلی کے لیے خاموشی سے لیٹ گئی۔
” تریب آؤ (قریب آؤ)۔”
نوال دونوں کو دیکھ کر رہ گئی۔
زاویان کی موجودگی میں لیٹنے سے وہ ہچکچا رہی تھی اور آئرہ اتنی ہی ضد کر رہی تھی۔
نوال آئرہ کے قریب لیٹ گئی۔
” وال بتہ تارو دادو کہتی ہیں ایشے نہیں کرتے (نوال دوپٹہ اتارو دادو کہتی ہیں ایسے نہیں کرتے)۔”
” آ جاؤ نوال ٹھیک سے لیٹ جاؤ۔” زاویان نے نرمی سے کہا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ نوال اس کی وجہ سے ہچکچا رہی ہے۔
نوال ہچکچاتے ہوئے دوپٹہ اتار کر آئرہ کے برابر لیٹ گئی۔
” بابا آرم تو تھولیں وال تہاں لیتے دی؟ (بابا آرم تو کھولیں نوال کہاں لیٹے گی)؟”
” آئرو بےبی آپ لیٹ جاؤ میں ٹھیک ہوں۔”
” نہیں وال۔” آئرہ نے منہ بنایا۔
” بابا کے آرم میں درد ہو گا۔” نوال نے سمجھانا چاہا۔
” بابا آئرہ آپ کے آرم پر لیتے دی تو آپ تو درد ہو دا؟ (بابا آئرہ آپ کے آرم پر لیٹے گی تو آپ کو درد ہو گا)؟”
” بالکل بھی نہیں۔”
” آئرہ کی وال لیتے دی تو درد ہو دا؟”
” نہیں۔”
” نہیں ہو دا وال آ جاؤ۔
وہ بےبسی سے آئرہ کو دیکھ کر رہ گئی۔
اس نے زاویان کو دیکھا۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” کیا تھا جو کہہ دیتے ہاں ہو گا۔” نوال سوچ کر رہ گئی۔
نوال ہچکچاتے ہوئے لیٹ گئی۔
نوال نے صرف سر ٹکایا تھا۔
زاویان کو لگا وہ ڈری ہوئی ہے لیکن کس بات سے؟ نوال کے لیٹنے کے انداز میں خوف اور ڈر واضح تھا۔ نوال اس کی بانہوں کے حصار میں کپکپا رہی تھی۔ زاویان نے اس کے گرد بازو حمائل کیا اور یہ عمل غیر ارادی تھا۔
” وال ڈرو نہیں بابا نہیں ماریں گے بابا اچھے ہیں۔” آئرہ اس کی حرکات و سکنات بہت غور سے ملاحظہ کر رہی تھی۔
آئرہ کی آواز نے زاویان کو ہوش کی دنیا میں لا پٹخا۔
” تو کیا اسے یہ لگ رہا تھا کہ وہ اسے مارے گا؟ لیکن کیوں مارے گا؟ اس کی بیٹی زیادہ سمجھ دار ہے۔ جو پہچان گئی۔”
نوال کو اس کے حصار میں سکون ملا، تحفظ کا احساس ملا لیکن کیوں؟ اسے اس کے حصار میں لگا جیسے وہ پتا نہیں کتنی لمبی مسافت طے کر کے آئی ہے۔ اسامہ کے ساتھ تو کبھی اسے یہ احساس اور سکون نہیں ملا تھا۔ نوال کے اعصاب آہستہ آہستہ ڈھیلے پڑنے لگے لیکن ہچکچاہٹ فطری تھی۔
نکاح کے بعد وہ پہلی بار اس کے اتنا قریب تھا اور صرف یہی نہیں وہ اس کی بانہوں کے حصار میں تھی۔ جو نوال کا دل دھڑکانے کے لیے کافی تھا
” آئرو اب سو جاؤ۔” نوال نے آئرہ پر ہاتھ رکھ کر خود کو کمپوز کرنا چاہا۔
” بابا آپ بھی ہاتھ رتھیں (بابا آپ بھی ہاتھ رکھیں)۔”
زاویان نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آئرہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
آئرہ نے زاویان کا ہاتھ اٹھا کر نوال کے بازو پر رکھ دیا۔
” سو جاؤ موٹی۔” زاویان نے اس کے گال پر پیار کیا۔
” بابا یہاں بھی۔” آئرہ نے دوسرا گال آگے کیا۔
زاویان نے مسکراتے ہوئے وہاں بھی پیار کیا۔
آئرہ زاویان کے سینے پر سر رکھ گئی پھر نوال کو دیکھتے ہی فوراً سر اٹھایا۔
” بابا وال۔”
” ہاں وال بھی سو جائے۔” زاویان سمجھتے ہوئے بھی انجان بنا۔
” نہیں بابا وال کو بھی پار کریں۔”
” پرنسس سو جاؤ۔”
” نہیں پہلے پار۔”
” آئرہ بےبی سو جاؤ۔”
” وال تچی۔ تچی بابا۔” آئرہ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔
زاویان نے گہری سانس لی۔
زاویان نے نوال کے سر پر بوسہ دیا۔ اس کے بالوں کی بھینی بھینی خوشبو اس کے نتھنوں کو بہت بھلی لگی۔ ایک پرکشش احساس اس کے لبوں کو چھو گیا۔
نوال ہق دق اسے دیکھ رہی تھی۔
” نہیں بابا دال پر۔”
اصل امتحان تو اب تھا۔
زاویان اور نوال کی نظریں ٹکرائیں۔ نوال نے نگاہیں پھیریں۔
” آئرہ۔۔۔” نوال کچھ کہنے لگی جب زاویان نے نوال کے گال پر بوسہ دیا۔
نوال کے لب خاموش ہو گئے۔
نوال کا چہرہ لمحوں میں سرخ پڑ گیا۔
” بابا ادھر بھی۔” آئرہ نے نوال کے دوسرے گال پر اپنی چھوٹی سی انگلی رکھی۔
نوال بلش کر گئی۔
” آئرہ بس ٹھیک ہے سو جاؤ۔” نوال اٹھنے لگی۔
” وال نہیں؟ تچی۔”
” اچھا یار۔” زاویان نے دوسرے گال پر بھی بوسہ دے دیا۔
زاویان کے دیکھتے ہی دیکھتے نوال کا چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا۔ وہ کان کی لوؤں تک سرخ ہو گئی۔
زاویان دلچسپی سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگا۔
زاویان کا دل ایک الگ لے پر دھڑکا۔ دھڑکنوں نے ایک نیا سرگم گانا شروع کیا۔ میٹھے میٹھے سے جذبات سینے میں کروٹ لینے لگے۔ ایک نرم سا احساس اس کے رگ و پے میں سرایت کرنے لگا۔
” لیکن کیوں؟ وہ تو عرشیہ سے محبت کرتا ہے۔” زاویان نے سر اٹھاتے جذبات کو تھپکا۔
نوال کے پیٹ میں تتلیاں اڑنے لگیں۔ دل جیسے سینے کی مظبوط دیواروں کو توڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھا۔ نظریں شرم سے جھک گئیں۔ چہرہ گلابیاں چھلکانے لگا۔
” لیکن یہ احساس کیوں؟ زاویان اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تو نہیں تھا۔ اسامہ کے لمس میں اسے یہ جذبات تو کبھی محسوس نہیں ہوئے۔ زاویان کے لمس میں ایسا کیا تھا؟ محبت تو نہیں تھی پھر؟” وہ کوئی نام نہیں دے سکی۔
” نوال شو جاؤ۔” آئرہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ نوال آئرہ کو تھپک رہی تھی تاکہ وہ سو جائے اور پھر نوال اٹھ جائے لیکن شاید آج آئرہ تہیہ کر بیٹھی تھی نہ سونے کا۔
اور واقعی آئرہ نہیں سوئی تھی۔
نوال آئرہ کو شو کر رہی تھی کہ وہ سو چکی ہے تاکہ آئرہ سو جائے لیکن وہ واقعی اس تحفظ کے سائے میں کب اور کیسے سوئی اسے خود بھی پتا نہ چلا۔
” بابا۔”
” ہمم۔۔” زاویان کی نیند میں ڈوبی آواز آئی۔
” وال شو گئی۔” آئرہ نے گردن اٹھا کر زاویان کو دیکھا۔
زاویان نے نوال کو دیکھا۔ جو بے خبر سو رہی تھی۔
” آپ بھی سو جاؤ۔” زاویان نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا۔
نوال سو گئی تھی۔ زاویان کو بھی نیند آنے لگی تھی اور اس کی بیٹی کا ابھی تک سونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
آئرہ نے زاویان کے دونوں گالوں پر باری باری پیار کیا۔
” آپ بہت اچھے ہیں بابا۔” آئرہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” آپ بھی۔” زاویان نے تھپکتے ہوئے کہا۔
آئرہ بھی آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی۔
——————
” عنایہ بیٹا کل ہم آپ کی نانو کے گھر جائیں گے۔ انہوں نے ہمیں انوائیٹ کیا ہے۔”
” یس یس۔۔” عنایہ ایکسائٹڈ ہوئی۔
وہ لوگ اس وقت لان میں بیٹھے تھے۔ موسم خوش گوار تھا۔ ہوا چل رہی تھی۔ جو گرمی کی شدت اور تھکا دینے والے دن کے بعد بھلی معلوم ہو رہی تھی۔
نوال بچوں کے لیے نگٹس فرائی کر رہی تھی اور زاویان کے لیے چائے بنا رہی تھی۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی آفس سے آیا تھا۔ ڈنر کو ابھی ٹائم تھا۔
عنایہ اور آئرہ لان میں کھیل رہی تھیں۔ جب زاویان کو اچانک یاد آیا تو اس نے عنایہ کو اپنے پاس بلایا۔ تاکہ عنایہ کو بتا کر منا سکے کیونکہ انہیں کل نوال کے گھر جانا تھا۔
” لیکن بابا ہم نوال کو لے کر نہیں جائیں گے۔” عنایہ کو جیسے خیال آیا تو زاویان کو پکا کرنے لگی۔
اصل مرحلہ تو اب ٹھا۔ جانا بھی تھا اور عنایہ کو منانا بھی تھا۔
” عنایہ بیٹا ہم نوال کے بغیر نہیں جا سکتے۔”
” کیوں نہیں جا سکتے؟ وہ کوئی ہمارا پاس ہے؟” عنایہ چڑ گئی۔
” ہاں میری جان وہ ہمارا پاس ہے کیونکہ اگر کل وہ ہمارے پاس نہیں ہو گی تو ہمیں اینٹری نہیں ملے گی۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” کیوں بابا؟ وہ تو ہماری نانو ہیں۔”
” کیونکہ نوال ہماری فیملی کا پارٹ ہے اور کل ہم آپ کی ایک اور نانو ہیں ان کے گھر جا رہے ہیں۔”
” وہ کون سی نانو ہیں؟”
” وہاں نانو ہیں وہاں نانا ہیں ماموں ہیں خالہ ہیں اور بہت سارے نیو فرینڈز ہوں گے۔ آپ کو وہاں بہت مزہ آئے گا۔” زاویان نے انہیں پرجوش کیا۔
” بابا کیا ہم نوال کے بغیر نہیں جا سکتے؟” عنایہ نے بےبسی سے پوچھا۔
” نہیں بیٹا اس کے بغیر ممکن نہیں۔” عنایہ چپ ہو گئی۔
” ایک بات اور آپ دونوں وہاں نوال کو مما کہو گے،۔”
” نہیں بابا وہ ہماری مما نہیں ہے۔”
” لیکن وہاں آپ کو نوال کو مما ہی کہنا پڑے گا۔”
” آپ میری اچھی بیٹی ہو۔ جو ہر بات مانتی ہے بابا کی۔”
” پرنسس نے اگر کل بالکل ویسا کیا۔ جیسا میں نے کہا ہے تو گفٹ ملے گا پکا پرامس۔”
” بابا دفٹ؟ مدے بی دفٹ ملے دا؟ (بابا گفٹ؟ مجھے بھی گفٹ ملے گا؟)”
” بالکل دونوں کو ملے گا۔” زاویان نے دونوں کو پیار کیا۔
” ٹھیک ہے بابا لیکن پھر ہم اپنی والی نانو کے گھر جائیں گے اور نوال کو لے کر نہیں جائیں گے۔”
” ٹھیک ہے۔”
” پرامس؟”
” پکا پرامس پرنسس۔”
” بابا یہ نئی نانو کہاں سے آئیں؟”
” جب نوال ہمارے گھر آئی اور آپ کی مما بنی تو اس کی مما اسی وقت آپ کی نانو بن گئیں۔”
” پر نوال ہماری مما نہیں ہے بابا۔” عنایہ نے چڑتے ہوئے کہا۔
” بابا مما نہیں وال۔” آئرہ نے عنایہ کی تائید کی۔
” لیکن یہ بات آپ کل وہاں نہیں کہو گے۔ نہ مس بیہیو کرو گے۔”
” اوکے بابا۔”
” دیٹس لائک مائے پرنسس۔” زاویان نے ان دونوں کو پیار کیا۔
اسی وقت نوال ٹرے لیے لان میں آ گئی۔
اس نے بچوں کے آگے نگٹس کی پلیٹ اور زاویان کے آگے چائے کا مگ رکھا۔
” آئرو بےبی نگٹس لے لو۔”
آئرہ دوڑ کر نوال کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ نوال نے مسکراتے ہوئے اسے گود میں اٹھا کر پیار کیا اور اس کے ہاتھ میں نگٹس پکڑایا۔
زاویان نے یہ منظر بہت غور سے دیکھا۔
وہ سمجھتا تھا اگر عنایہ پرابلم کری ایٹ نہ کرے تو آئرہ اب تک اسے ایکسیپٹ کر چکی ہوتی۔ نوال اسے اتنی محبت دیتی تھی اور پھر آئرہ ماں کے لمس سے ہی انجان تھی لیکن عنایہ کا نوال کو ایکسیپٹ نہ کرنا آئرہ کو بھی پٹری سے اتر دیتا تھا۔
———————
جاری ہے