No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
کمرے کا دروازہ کھول کر زاویان اندر آیا۔ کمرے میں نیم تاریکی کا راج تھا۔ وہ دبے پاؤں بیڈ کی طرف آیا۔ جہاں نوال سو رہی تھی۔
وہ بیڈ پر اس کے برابر ہی ڈھیر ہو گیا۔
کچھ لمحوں کے لیے وہ نوال کو محبت پاش نظروں سے دیکھتا رہا۔ وہ سوتے ہوئے بہت معصوم لگ رہی تھی۔ وہ اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
اس کا دوپٹے سے بے نیاز سراپا اس کے سامنے تھا۔ وہ لڑکی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ شفاف رنگت، صراحی دار گردن نازک سراپا وہ ہر لحاظ سے ایک اچھا لائف پارٹنر ڈیزرو کرتی تھی۔ زاویان کو اس دن والی نوال یاد آئی اس کا سڈول سراپا وہی تھا۔ ہاں خوبصورتی لوٹ آئی تھی۔ آنکھوں کے دیپ بجھے رہتے تھے۔ جیسے خواب دیکھنے سے کتراتے تھے یا دیکھنے ہی چھوڑ دیے تھے۔ آنکھوں کے نیچے مدہم حلقے اس کے روتے رہنے اور جاگتے رہنے کی چغلی کھاتے تھے۔
زاویان اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر نوال کی طرف جھکا۔
اس کی بند پپوٹوں پر باری باری اپنے تشنہ لب رکھے۔
وہ کم از کم دو بچوں کا باپ ڈیزرو نہیں کرتی تھی۔
وہ اس سے عمر میں بہت چھوٹی تھی۔ زاویان کو اس پر بے انتہا ترس آتا تھا۔ وہ خود زندگی کی ساری خوشیاں دیکھ چکا تھا۔ عرشیہ کے ساتھ ہر لمحہ جیا تھا اور وہ کچھ بھی نہ دیکھ سکی تھی نہ محسوس کر سکی تھی۔ وہ اس کے ساتھ زیادتی کر گیا تھا۔ اس کی تو ابھی ساری زندگی بھری پڑی تھی۔
زاویان نے اس کے چہرے پر آئے بال پیچھے کیے۔
نوال کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا تو اس نے جھٹ آنکھیں کھولیں۔
زاویان اس پر جھکا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر مسکرایا۔
ان دونوں کی نظریں ملیں۔
وہ اسے اپنی طرف مائل کر رہی تھی۔
نوال کی آنکھیں خمار آلود تھیں۔ اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔
زاویان اس پر جھکا اور اس کی آنکھیں باری باری چوم لیں۔
وہ اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو محبت سے چھو رہا تھا۔ وہ اس کے لبوں پر نرمی سے اور بہت محبت سے
جھکا۔
وہ دونوں اس وقت ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ اتنے قریب کہ ان کے بیچ ہوا کا بھی گزر نہیں تھا۔
وہ ابھی اس میں مزید گم ہونا چاہتا تھا۔
” بابا۔۔” آئرہ نے صدمے سے پکارا۔
اپنے پیچھے آئرہ کی آواز انہیں ہوش کی دنیا میں لائی۔
” سارے رومینس کا ستیا ناس پھیر دیا۔” زاویان نے منہ بناتے ہوئے کہا اور نوال کے پاس سے اٹھ گیا۔
نوال بھی گھبرائے انداز میں اٹھ بیٹھی۔
وال کا چہرہ شرم سے سرخ ہو رہا تھا۔
” بابا کی جان۔” اپنے لہجے میں بےانتہا محبت لیے اس نے آئرہ کے لیے بازو وا کیے۔
نوال ہنس پڑی اس کی ڈپلومیسی پر۔
آئرہ دوڑتی ہوئی زاویان کی بانہوں میں سما گئی۔
” ہنس لو تم میری حالت پر۔” زاویان نے شکوہ کیا۔
” ابھی بچ گئی ہو بعد میں آنا تمہیں میرے پاس ہی ہے۔” زاویان نے جتایا۔
نوال کا دل زور سے دھڑکا۔
اس نے آئرہ کی موجودگی کا احساس دلایا۔
” کچھ بھی نہیں دیکھا اس نے۔” زاویان نے تسلی دی۔
” آج تم نے میرا انتظار بھی نہیں کیا؟” زاویان نے مصنوعی تاسف سے کہا۔
” عنایہ کو سلانے گئی تھی تو آئرہ بھی وہیں سو گئی پھر میں نے بھی سوچا اس کی نیند خراب ہو جائے گی۔”
” واٹ آ پلیزینٹ آئیڈیا یہ ادھر سو سکتی ہے تو پھر ہم اپنی پرائیویسی کیوں خراب کریں؟” زاویان نے خوش ہوتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔
” بہت انتظار کیا آپ کا۔ آج آپ نے بہت دیر کر دی۔” نوال نے اس کی ان سنی کی۔
” کھانا کھائیں گے یا کھا کر آئے ہیں؟”
” نہیں مجھے فلائٹ میں کھانا اچھا نہیں لگتا۔”
نوال نے حیران ہوتے ہوئے دیکھا۔
” کراچی گیا تھا ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں۔”
نوال نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
” میں آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں۔”
نوال نے دوپٹہ کندھوں پر لیا اور پاؤں میں سلیپرز اڑیسے۔
” آؤ آئرہ بابا کو فریش ہونے دو۔”
” بابا پاش۔” آئرہ نے زاویان کے کندھے میں منہ چھپایا۔
” کوئی بات نہیں اسے یہیں رہنے دو تم لے آؤ۔”
نوال چلی گئی۔
آئرہ زاویان کے ساتھ کھیلنے لگی۔
——————-
نوال کی واپسی کچھ دیر بعد ہوئی۔
” آپ فریش نہیں ہوئے؟”
” اوںہوں تمہاری بیٹی کے ارادے نہیں ہے۔ ابھی تو صبح وہ پروٹوکول لے گی۔”
” آئرو بےبی بابا کو فریش ہونے دو۔” نوال نے أئرہ کو اٹھا لیا۔
” تچی وال۔” آئرہ ناراض ہو گئی۔
زاویان فریش ہونے چلا گیا۔
کچھ دیر بعد زاویان تازہ دم سا واش روم سے نکلا۔
نوال نے اسے کھانا سرو کیا۔
پالک گوشت کی اشتہا انگیز خوشبو زاویان کی بھوک چمکا گئی۔
زاویان نے پالک گوشت اپنی پلیٹ میں نکالا۔
زاویان نے بائٹ لیا۔
” کھانا مزے کا ہے۔”
گرم خوشبو دار تازہ روٹی نے کھانے کا مزہ دوبالا کیا۔
” تو ٹھیک سے کھائیں۔” نوال نے اپنے لیے بھی نکالا۔
” بابا آ۔۔ مدے بھی دیں۔”
زاویان نے اس کے منہ میں نوالا ڈالا۔
” میرے بےبی نے کھانا ہے؟” نوال نے محبت سے پوچھا۔
آئرہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
نوال آئرہ کو چھوٹے چھوٹے بائٹس کھلانے لگی۔
” اس نے آج کھانا نہیں کھایا؟” زاویان نے حیرت سے دیکھا۔
” کھایا ہے پھر بھوک لگ گئی ہے۔”
زاویان نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
” کیا کھایا تھا؟”
” نودلز۔”
” یہ نوڈلز نظر آ بھی رہے ہیں۔” زاویان نے انگلی سے اس کے گدگدی کی۔
” مما۔۔”
آئرہ نوال میں سمٹ گئی۔
” تم نے نہیں کھانا؟ وہ تمہیں بتا رہی ہے کہ مجھے کمپنی تمہیں دینی چاہیے۔”
” کھا رہی ہوں۔” نوال بھی ساتھ ساتھ کھانے لگی۔
” خوامخواہ تم تازہ روٹی بنانے کھڑی ہوئی۔”
” بھائی جان جب بھی لیٹ آتے تھے تو صائمہ بھابھی ہمیشہ ان کے لیے تازہ گرم روٹی بناتی تھیں۔ آج سمجھ آتا ہے کیوں بناتی تھیں؟”
” کیوں؟”
” کیونکہ گھر آنے والے کی تھکن اتر جاتی ہے اور اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا کوئی انتظار کر رہا ہے۔”
نوال کی بات نے زاویان کے اندر ایک خوش کن احساس جگایا۔
” چاہے نہ کر رہا ہو اور سو گیا ہو؟” زاویان نے شرارت سے پوچھا۔
” روٹی پکا کر خوش کر دو بس. صائمہ بھابھی بھی ایسے ہی کرتی تھیں؟”
” پتا نہیں لیکن بھائی جان نے کبھی ایسے باتیں نہیں بنائی ہوں گی۔” نوال نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” آپ ٹائم دیکھیں۔ ساڑھے بارہ بج چکے ہیں۔ کوئی کب تک انتظار کرے گا؟” نوال نے اس کے بازو کو ہلاتے ہوئے ٹائم دکھایا۔
زاویان دھیرے سے ہنس دیا۔
” عموماً مجھے اتنی دیر نہیں لگتی۔ آج اس لیے دیر ہو گئی کہ تسلی تھی تم ان کے پاس ہو۔”
” ورنہ جب میں گھر آتا تھا تو میرا ویلکم ان کے باجوں سے ہوتا تھا۔” زاویان نے پانی پیتے ہوئے بتایا۔
” آپ چائے پیئیں گے؟”
” ہاں اگر تم مجھے کمپنی دو گی تو کیونکہ اکیلے چائے تو میں نے فلائٹ میں پی ہی لی تھی۔” زاویان نے لب تھپتھپائے۔
نوال نے سر اثبات میں ہلایا اور برتن سمیٹ کر ساتھ لے گئی۔
نوال جب چائے کی ٹرے لے کر آئی تو زاویان آئرہ کو سلا چکا تھا۔
” کیا سوچ رہے ہیں؟” نوال نے اسے سوچوں میں گم دیکھا تو پوچھ بیٹھی اور چائے کا کپ بڑھایا۔
” بہت کچھ عنقریب تمہیں بھی پتا چل جائے گا۔” زاویان نے دھیمی مسکراہٹ لیے بتایا۔
نوال بھی مسکرا دی اور چائے پینے لگی۔
زاویان اسے اپنی نگاہوں کے حصار میں لیے ہوئے تھا۔
” آپ نے تو واقعی آئرہ کو ادھر سلا دیا۔” نوال اس کی نظروں سے کنفیوژ ہو رہی تھی۔
” جب اٹھے گی تو یہیں آئے گی۔ نہیں راستہ بھولتا تمہاری بیٹی کو۔” زاویان نے بدمزہ ہوتے ہوئے کہا۔
نوال دھیرے سے ہنس دی۔
——————-
زاویان جمعے کی نماز کے بعد جب گھر آیا تو آئرہ بھاگتی ہوئی زاویان کے ساتھ جا لگی۔
” بابا۔۔”
زاویان نے اسے بانہوں میں اٹھا لیا۔
” عنایہ کہاں ہے؟”
” نانو پاش۔”
وہیں نوال آتی دکھائی دی۔
” عنایہ کہاں ہے؟” زاویان نے نوال سے پوچھا۔ وہ سمجھا تھا آئرہ ایسے ہی لگی ہوئی ہے۔ عنایہ کے نظر نہ
آنے سے وہ ٹھٹھکا ضرور تھا۔
” آپ کی عریشہ سے بات ہوئی ہے نا کہ وہ عنایہ کو اپنے گھر لے کر جا رہی ہے۔ ہوئی تھی نا بات؟” نوال نے خدشے کے تحت پوچھا۔
” نہیں کیا میں نے تمہیں ایسا کچھ انفارم کیا تھا؟” زاویان حد سے زیادہ سنجیدہ تھا۔
” ڈرائیور گیا تھا لینے عریشہ اور عنایہ نے کہا کہ ان کی آپ سے بات ہو چکی ہے۔” نوال نے پریشانی سے بتایا۔
” انہوں نے کہا اور تم نے مان لیا؟” زاویان نے درشتی سے پوچھا۔
” تو میں اور کیا کرتی؟” نوال نے بے بسی سے پوچھا۔
” تم مجھ سے رابطہ کرتی۔”
” کی تھی کال آپ نے کاٹ دی۔”
” کاٹنے کا مطلب یہ ہے بھیج دو میری بیٹی کو؟”
” مجھے ڈرائیور کی کال آئی تھی کہ عریشہ اسے کہہ رہی ہے کہ اس کی آپ سے بات ہو چکی ہے اور عنایہ اس کے ساتھ چلی گئی ہے۔ میں نے نہیں بھیجا۔”
” میری عریشہ سے کوئی بات نہیں ہوئی۔”
” پھر یہ آپ عریشہ سے پوچھیں کہ اس نے ایسا کیوں کہا؟”
” کیا تمہاری بیٹی ہوتی تو تم ایسی ہی ذمہ داری کا ثبوت دیتی؟”
” آپ کو مجھے یہ بات بار بار یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ کی بیٹی مجھے یہ بھولنے نہیں دیتی۔” نوال نے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
زاویان کو اس کے آنسو اپنے لہجے کی سختی اور تلخی کا احساس دلا گئے۔
زاویان نے گہری سانس لی۔
” اس کا بیگ بھی پیک کرو اسے بھی وہاں چھوڑ دوں۔” زاویان نے اسے گود سے اتارا۔
” بابا میں نہیں۔ میں وال شات۔” آئرہ نے جانے سے انکار کیا۔
زاویان نے آئرہ کو سخت گھوری سے نوازا۔
آئرہ ڈر کر نوال کی ٹانگوں سے لگ گئی۔
” یہ اپنی بہن کو کہنا تھا۔” زاویان نے چڑتے ہوئے کہا۔
” میں لے کر آئی۔” نوال نے اس کا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
” اتنا بڑا بیگ؟” زاویان نے حیرت سے اس بیگ کو دیکھا۔
” ڈائپرز کی وجہ سے لگ رہا ہے دو ڈریسز آئرہ کے اور دو عنایہ کے۔ باقی اس میں أئرہ کے ڈائپر اور بسکٹس ہیں۔”
” جو خالا جھوٹ بول کر لے کر گئی ہے۔ وہ انہیں بسکٹس کے علاوہ بہت کچھ دے گی۔”
” آئرہ ان بسکٹس کے علاوہ کوئی بسکٹ نہیں کھاتی۔” نوال نے اس کے گوش گزار کیا۔
” آنٹی آپ چاہیں تو چیک کر سکتی ہیں۔”
کلثوم بیگم زاویان کی آواز پر باہر آئی تھیں تو نوال نے فوراً کہا۔
” نہیں بیٹا زاویان کیا کر رہے ہو؟” کلثوم بیگم نے معاملہ فہمی سے کہا۔
زاویان نے عریشہ کا نمبر ڈائل کیا۔
” عریشہ میری تم سے کب بات ہوئی ہے؟”
” زاویان بھائی ہم نے آپ کو سرپرائز دینا تھا۔”
” تمہیں مجھے ایسا سرپرائز نہیں دینا چاہیے تھا کیونکہ یہ میرے لیے شاکڈ تھا۔ آئندہ ایسے مت کرنا۔ مجھے کال کیے بغیر بچوں کو لے کر مت جانا۔ عریشہ حالات کیا جا رہے ہیں؟ ایسے میں عنایہ کا مجھے بتائے بغیر چلے جانا۔ یہ سب میری برداشت سے باہر ہے۔ عنایہ سے بات کرواؤ۔” زاویان نے ناراضگی سے کہا۔
” ہیلو بابا۔۔”
” عنایہ آپ مجھ سے پوچھے اور بتائے بغیر کیسے جا سکتی ہو؟”
” بابا میرا دل کر رہا تھا۔”
” آپ گھر آؤ پھر اس بارے میں بات ہو گی۔”
زاویان نے کال کاٹ دی۔
” کھانا لگاؤ۔” زاویان نے خلاف توقع نرمی سے کہا۔
نوال کھانا لگانے چلی گئی۔
——————
جاری ہے
