52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24


کلثوم بیگم اور نوال لاؤنج میں بیٹھی ایل ایل ڈی پر کوئی شو دیکھ رہی تھیں۔ جب گھر کے داخلی دروازے سے شاہ رخ آتا دکھائی دیا۔
نوال دوڑ کر شاہ رخ کے ساتھ لگ گئی اور رونے لگی۔
شاہ رخ نوال کو اس طرح روتا دیکھ کر ازحد پریشان ہو گیا۔
شاہ رخ نے اس کے گرد بازو حمائل کیے۔ وہ اس کا سر تسلی آمیز انداز میں تھپکنے لگا۔
” کیا ہوا نوال؟ سب ٹھیک ہے؟”
نوال صرف رو رہی تھی۔ وہ کچھ نہ کہہ سکی۔
” کچھ ہوا ہے؟ بچے ٹھیک ہیں؟”
” پلیز یار کچھ تو بتاؤ مجھے فکر ہو رہی ہے؟” شاہ رخ حد درجہ پریشان ہو گیا۔
” شاہ رخ بیٹا اس کے بچے ٹھیک ہیں۔ وہ گھر پر نہیں ہیں۔ اپنی نانو کی طرف گئے ہیں۔” کلثوم بیگم نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
” اس لیے پریشان ہو؟”
” ہمم۔۔” نوال آنسو صاف کرتی پیچھے ہوئی۔
ایک بار پھر نوال کا ہمم شاہ رخ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا۔
” نوال بیٹا بھائی پہلی بار تمہارے گھر آیا ہے۔ اسے چائے پانی نہیں پوچھو گی؟” کلثوم بیگم نے محبت سے کہا۔
” نوال مجھے اوپر کا پورشن تو دکھاؤ۔” پانی پینے کے بعد شاہ رخ نے کہا۔
” جاؤ بیٹا بھائی کو اوپر لے جاؤ۔” کلثوم بیگم نے محبت سے کہا۔ کلثوم بیگم بچی تو نہیں تھیں۔ سمجھ گئی تھیں کہ بھائی ہے بہن سے تنہائی میں کچھ دیر بعد کرنا چاہتا ہے۔
نوال اسے اوپر لے گئی۔
” اب بتاؤ کیوں رو رہی تھی؟”
” زاویان نے کچھ کہا ہے؟” شاہ رخ نے اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا۔
” کچھ چھوڑا ہی نہیں ہے۔ کوئی بھی ایسی بات نہیں ہے۔ جس کا یہ سڑیل مجھے طعنہ نہ دیتا ہو۔ بار بار مجھے میری پہلی شادی یاد کرواتا رہتا ہے۔”
شاہ رخ چونکہ گیا۔
” آج کیا ہوا ہے؟” شاہ رخ نے جاننا چاہا۔
نوال نے اسے آج عنایہ کے جانے کی ساری بات بتا دی۔
” زاویان نے اتنے آرام سے کہہ دیا کہ وہ میری بیٹی ہوتی تو کیا میں ایسے ہی کرتی؟” نوال نے بہتی انکھوں سے بتایا۔
” یار اس میں کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔” شاہ رخ نے اسے ریلیکس کرنا چاہا۔
نوال نے ناراضگی سے شاہ رخ کو دیکھا۔
” میری بات تو سنو یار یہ باتیں تو سگے باپ سگی ماؤں کو کہہ دیتے ہیں کہ تم کیسی ماں ہو؟ لاپرواہ ہو خیال نہیں کرتی بلاہ بلاہ۔” شاہ رخ نے ایک نقطہ اٹھایا۔
” تمہیں اس لیے زیادہ برا لگا کہ یہ تمہاری دکھتی رگ ہے۔ کسی بھی بات کو اپنی زندگی کا اتنا بڑا مسئلہ نہ بناؤ کہ کوئی بھی چاہے وہ تمہارا شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ وہ تمہاری اس ویک پوائنٹ پر چوٹ کر دے۔” شاہ رخ نے سمجھایا۔
” میں بتا رہی ہوں شاہ رخ اس بار اگر میرا گھر خراب ہوا تو اس عریشہ کی وجہ سے ہو گا۔” نوال نے روتے ہوئے پیشین گوئی کی۔
” اور اس بار اگر ایسا ہوا تو میں عریشہ کو چھوڑوں گی نہیں۔” نوال نے فیصلہ کر لیا تھا۔
” تم سب کچھ خراب ہونے کا انتظار کیوں کر رہی ہو؟ تم عریشہ سے پہلے ہی بات کر لو۔” شاہ رخ نے اس کا حوصلہ بندھایا۔
” نہیں کر سکتی عرشیہ کی فیملی کی اس گھر میں بہت ویلیو ہے۔ اتنی تو نہ میری ہو گی اور نہ تم لوگوں کی۔ وہ عرشیہ اور ان کی فیملی کے خلاف کوئی بات نہیں سنیں گے۔” نوال نے خدشہ بتایا۔
” تو تم زاویان سے بات کرو۔” شاہ رخ نے ایک اور حل نکالا۔
” شاہ رخ پھر وہ کہیں گے میں بچوں کو ان کے ننھیال سے دور کر رہی ہوں۔” نوال چڑ گئی۔
” بالکل بھی نہیں تمہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی ہو گی۔ تم زوباریہ آپی سے بات کر لو انہیں سمجھاؤ کنوینس کرو۔”
” تم زاویان بھائی کو بھی کنوینس کرو گی تو بھی مسئلہ سالو ہو جائے گا۔ یقیناً وہ تمہاری بات سمجھ جائیں گے۔ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ جتنا تم زاویان بھائی کو مشکل سمجھ رہی ہو۔ وہ اتنے مشکل نہیں ہیں۔”
” تم نے عریشہ کو دیکھا ہے؟” شاہ رخ کا دماغ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔
” ہاں۔۔”
” کیسی دکھتی ہے؟” شاہ رخ نے تجسس سے پوچھا۔
” عرشیہ کی بہن ہے۔ عرشیہ جیسی ہی دکھتی ہے۔” نوال نے پکچر کی طرف اشارہ کیا۔
” یعنی خوبصورت ہے۔” شاہ رخ نے پکچر دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔
” شاہ رخ جو تم سوچ رہے ہو۔ وہ ممکن نہیں ہے۔” نوال نے ڈرتے ہوئے کہا۔
” تمہاری خاطر یہ کڑوا گھونٹ پی لوں گا۔” شاہ خ نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
” اتنے کڑوے گھونٹ مت پیو جو میری زندگی کڑوی کر دے۔”
” کیوں بھئی تمہاری زندگی کو میٹھا کرنے کے لیے ہی تو کڑوا گھونٹ پینا ہے۔” شاہ رخ ہنوز شرارت پر آمادہ تھا۔
” تم نے پینا ہی کیوں ہے؟ یہاں پر عریشہ کی بھانجیاں خالا کی وجہ سے چین نہیں لینے دیں گی۔ گھر آؤں گی تو وہ خود موجود ہو گی میرا سکون غارت کرنے کے لیے۔” نوال نے مستقبل کا بھیانک نقشہ کھینچا۔
” عریشہ زاویان کو پسند تو نہیں کرتی؟” شاہ رخ نے سوال اٹھایا۔
” تمہیں لگتا ہے ایسا ہو سکتا ہے؟”
” مے بی۔” شاہ رخ نے سر ہلایا۔
” تو وہ ڈھائی سال سے سوئی ہوئی تھی؟”
” ہو سکتا ہے اس کے پیرنٹس نہ مانے ہوں۔” شاہ رخ نے خیال ظاہر کیا۔
دروازے پر ہوتی دستک نے ان دونوں کو متوجہ کیا۔
” بیگم صاحبہ چائے پی لیں۔”
” ہم نیچے کی آ رہے تھے آنٹی کے پاس۔”
” کوئی بات نہیں بہو رانی بڑی بیگم صاحبہ نے ہی بھجوائی ہے آپ کو کچھ اور چیز چاہیے تو بتا دیجیے۔”
” نہیں تھینک یو۔” نوال مسکرا دی۔
وہ لوگ چائے کی طرف متوجہ ہوئے۔
—————————
” کیا ہوا نوال بیٹا آج کھانا نہیں کھا رہی؟ کھانا بھی نہیں بنایا لیکن اتنا بھی برا نہیں بنا۔ ہماری بیٹی کافی بددل نظر آ رہی ہے۔” نصار صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” انکل آئرہ نہیں ہے تو میرا کچھ کرنے کا دل نہیں کر رہا۔” نوال نے بجھے دل سے کہا۔
” اچھا اب سمجھ آئی آئرہ کی خاطر بنتا تھا۔ ہم بوڑھے تو خوامخواہ ہی خوش ہو رہے تھے۔” نصار صاحب نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
” لیکن ہمیں تو کسی نانو کے گھر نہیں جانا ہوتا۔” نصار صاحب نے شرارت سے کہا۔
سبھی ہنس پڑے۔
” زاویان میں تو ایسے ہی تم سے ایمپریس ہو رہا تھا۔ یہ سب تو آئرو بےبی کی مرہون منت ہے۔”
زاویان بھی ہنس پڑا۔
نوال خفیف ہو گئی۔
” انکل بچوں کی وجہ سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔” نوال نے خفت مٹاتے ہوئے کہا۔
” یہ تو ہے اور اسی رونق کی بدولت ہمارے بھی مزے ہو جاتے ہیں۔” نصار صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” آج تو شاہ رخ بھی آیا تھا۔ روتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی۔ وہ بیچارہ بھی پریشان ہو گیا۔” کلثوم بیگم نے مسکراتے ہوئے پیار سے بتایا۔
نصار صاحب نے فکرمندی سے نوال کو دیکھا۔
” میں گرم سالن لاتی ہوں۔” نوال وہاں سے کھسک گئی۔
” کہہ رہا تھا کہ ساتھ چلو کل آ جانا۔ زاویان جہاں بچوں کو پک کرے گا وہیں تمہیں بھی پک کر لے گا۔ مانی ہی نہیں پھر کہنے لگا میں ڈراپ کر دوں گا پھر بھی نہیں مانی جانے کو۔ میں نے بھی زیادہ اسرار نہیں کیا کہ یہ نہ سوچے کہ پتا نہیں کیوں بھیج رہی ہیں؟” کلثوم بیگم نے ساری بات تفصیل سے بتائی۔
نصار صاحب نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
” پھر کہتا چل کر آئس کریم کھاتے ہیں۔ میں نے کہا چلی جاؤ پر مانی ہی نہیں۔ کافی پریشان ہو گیا تھا بیچارہ بہن کو دیکھ کر۔” کلثوم بیگم نے آج شام کی ساری روداد سنائی۔
” برخوردار تم لے کر جاؤ اور آئس کریم کھلا کر لاؤ۔ ہماری بیٹی اداس ہو گئی ہے۔” نصار صاحب نے محبت سے کہا۔
اندھا کیا مانگے دو آنکھیں زاویان کی حالت اس کے مصداق تھی۔
زاویان نے سر اثبات میں ہلایا۔
نصار صاحب کو زاویان کے جھٹ سر اثبات میں ہلانے پر یہ تبدیلی بہت بھلی معلوم ہوئی۔
——————–
” پونی اتار دو۔” زاویان نے حکم صادر کیا۔
” کیوں؟” نوال نے حیرانی سے پوچھا۔
زاویان نے اسے خشمگیں نظروں سے دیکھا۔
” ہم باہر جا رہے ہیں۔ شاہ رخ کے ساتھ تو تم گئی نہیں۔ میرے ساتھ چل کر تو آئس کریم کھاؤ گی؟” زاویان نے عندیہ دیا۔
نوال نے بال کھول لیے۔
نوال نے اپنے لبوں پر پنک لپ ٹنٹ بھی لگا لیا۔ ذرا سی تیاری سے وہ نکھر گئی تھی۔
” چلو شکر ہے کہ تمہیں اتنا پتا ہے تمہارا شوہر چاہ کیا رہا ہے؟” زاویان نے شکر کا کلمہ پڑھا۔
” چلیں؟” نوال نے اس کی ان سنی کی۔
” چلو۔۔ ایک منت۔ ” آگے بڑھتا زاویان رکا۔
زاویان نے ایک تنقیدی نظر سے اس کا جائزہ لیا۔
” ہمم۔ ٹھیک ہے۔” زاویان نے مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔
” چلو۔۔ اس دن تمہیں کیا ہوا تھا؟” زاویان نے سیڑھیاں اترتے ہوئے پوچھا۔
نوال اسے دیکھ کر رہ گئی۔
وہ دونوں باہر نکل گئے۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ آئس کریم پارلر میں بیٹھے تھے۔
” کون سی آئس کریم لو گی؟ میں اپنی پسند سے ہی منگوا لیتا ہوں؟ تم نے بھی تو میری چوائس ہی پوچھنی ہے۔” زاویان نے کہتے ہوئے آئس کریم کا آرڈر دے دیا۔
” لیکن اگر میں اپنی پسند کی منگوا لوں تو تم کھاتی بھی نہیں ہو یہ کھا لینا۔” زاویان بدمزہ ہوا ساتھ اسرار کر گیا۔
نوال اسے دیکھتی رہ گئی۔
ان کی آئس کریم آ چکی تھی۔
” تم کیریمل کرنچ نہیں کھاتی؟” زاویان نے آئس کریم کا بائٹ لیتے ہوئے کہا۔
” کھاتی ہوں۔” نوال نے سادگی سے کہا۔
” پھر اس دن کیا ہوا تھا؟” زاویان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
نوال خاموش رہی۔
” عنایہ کی وجہ سے نہیں کھائی تھی نا؟” زاویان نے مہر ثبت کی۔
” جب پتا ہے تو پھر کیوں پوچھ رہے ہیں؟” نوال نے آئس کریم میں چمچ چلاتے ہوئے کہا۔
” یار وہ بچے ہیں۔ تم بھی ان کے ساتھ بچی بن گئی۔ مجھے تو لگا تھا میرے دو نہیں تین بچے ہیں۔”
” آپ اس دن ہنسے تھے نا؟” نوال کو جیسے ہی یاد آیا پوچھنے لگی۔
زاویان نے کچھ لمحے اسے دیکھتے ہوئے یاد کرنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی یاد آیا ہنس پڑا۔
” ہاں۔۔ اس دن تم اتنی لاعلم کیوں بن رہی تھی؟ میں اپنی بیٹی۔۔۔ ہماری بیٹی سے تمہارے لیے بحث کر رہا تھا اور تم ایسے بیٹھی تھی۔ جیسے پتا نہیں تمہیں لے کر جاتا ہوں یا نہیں؟ اوپر سے وہ آئرہ۔۔ حد ہے۔” زاویان اس دن کو یاد کرتے ہوئے ہنسنے لگا۔
نوال اسے محویت سے دیکھنے لگی۔ بالآخر نوال نے زاویان کو ہنستے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
” تم تینوں اس وقت بچے بنے ہوئے تھے۔” زاویان نے ہنستے ہوئے تبصرہ کیا۔
” جب میں لایا تھا تو کیسے ممکن ہے کہ لے کر نہ جاتا؟” زاویان نے سوالیہ ابرو اچکائے۔
” آئی ایم سوری میں صبح تھوڑا روڈ ہو گیا۔” زاویان نے شرمندگی سے کہا۔
” تھوڑا نہیں بہت زیادہ۔” نوال نے باور کروایا۔
” اوکے۔۔ بہت زیادہ۔” زاویان نے ہاتھ کھڑے کیے۔
” مجھے تمہارے آنسوؤں سے اندازہ ہو گیا تھا کہ بات بڑی کہہ دی ہے۔”
” میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا. یار ایسے تو میں ہر وقت روتا رہوں کہ میری آئرہ تو میری نہیں رہی لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ دونوں ہم دونوں کے ہی بچے ہیں۔ ماں باپ یہی کچھ کرتے ہیں۔ جو غلطی ہوتی ہے وہ ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیں۔” زاویان اسے تفصیل سے سمجھا رہا تھا۔
” چلو فار فیوچر ایک ڈیل کرتے ہیں تاکہ میری باتیں تمہیں ہرٹ نہ کریں تو اب سے عنایہ میری بیٹی اور آئرہ تمہاری بیٹی ڈن؟” زاویان نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
” ڈن۔۔” نوال نے مسکراتے ہوئے اس کا بڑھا ہوا تھام لیا۔
” لیکن عنایہ کو بھی بھول مت جانا۔” زاویان نے شرارت سے کہا۔
” ذمے داری اس کی تم ہی پوری کرو گی۔ ہوم ورک کروانا کھانا کھلانا سکول کے لیے ریڈی کرنا بلاہ بلاہ۔” زاویان نے فہرست سنائی۔
” اٹس مائی آنر۔” نوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” اسی بات پر ایک اور آئس کریم ہو جائے؟” زاویان نے ہاتھ کے اشارے سے ویٹر کو بلایا۔
کچھ دیر بعد ان کے ہاتھ میں دوسرے کپس آ گئے تھے۔
” شاہ رخ کے سامنے میری بات پر ہی روئی تھی؟” زاویان نے اندازہ لگانا چاہا۔
” نہیں۔۔” نوال شرمندہ سی ہو گئی۔
زاویان کا شک یقین میں بدل گیا۔
اس نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
زاویان دھیرے سے مسکرا دیا۔
وہ دونوں آئس کریم کھانے لگے۔
———————–
جاری ہے