Muhabbat Akhri Manzil By Arfa Khan Readelle50207

Muhabbat Akhri Manzil By Arfa Khan Readelle50207 Last updated: 1 September 2025

52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Akhri Manzil

By Arfa Khan

زوباریہ کامران اور اس کے سسرال والوں نے ان کا پرتپاک ویلکم کیا۔ کامران کا ایک چھوٹا بھائی جبران اور ایک چھوٹی بہن جویریہ تھی۔ سبھی نے ڈرائنگ روم میں جگہ سنبھال لی۔ نوال بھی کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی۔ نوال زوباریہ کے بارے میں پوچھتی کچن میں آ گئی۔ زوباریہ کے سسرال والے بہت اچھے تھے۔ بچے بھی زوباریہ کے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ نوال وقتاً فوقتاً انہیں دیکھ رہی تھی۔ زوباریہ کے بےحد منع کرنے کے باوجود نوال زوباریہ کے ساتھ مدد کروانے لگی۔ زوباریہ کی نند جویریہ بھی بہت ملنسار تھی۔ وہ تینوں کچھ ہی دیر میں گھل مل گئی تھیں۔ وہ تینوں کھسنے کی تیاری کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہی تھیں۔ " نوال بھابھی زاویان بھائی کو اپ کے ہاتھ کا کءا پسند ہے؟" " ابھی تک تو جو بنایا ہے۔ سبھی کھا لیتے ہیں۔" نوال نے ڈپلومیسی سے کام لیا۔ " یہ بات۔۔۔ شوہر ہو تو زاویان بھائی اور کامی بھائی جیسا۔ ایک دم رومینٹک۔" جویریہ نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے کہا۔ " بالکل بھی نہیں۔ اپنے لیے ہمیشہ بہترین مانگتے ہیں۔ ضروری نہیں جو دکھتا ہے ہمیشہ وہی سچ ہو۔ نوال نے زوباريہ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔ " اپ کا مطلب ہے تو امی بھائی اچھے شوہر نہیں ہیں؟" جویریہ نے صدمے سے پوچھا۔ نہیں کامی میں بہت اچھے ہیں لیکن ہو سکتا ہے اللہ تعالی تمہیں کامی سے بھی بہترین دینا چاہتے ہیں تو تم کم کیوں مانگو۔ ہمم بھابھی اپ کی بات میں دم تو ہے " تمہارے کبابوں میں بھی دم باقی رہے اس لیے دھیان سے فرائی کرو۔" زوباریہ نے شرارت سے کہا۔ وہ تینوں ہنسنے لگی۔ " تم نے رائتہ بنا لیا؟" زوباریہ نے یاد آنے پر پوچھا۔ " بھول گئی سوری بھابھی۔" چھوڑو یہ میں کرتی ہوں تم رائتہ تیار کرو۔" نوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ کباب فرائی کر رہی تھی جب بچوں کے ساتھ کھیلتی آئرہ کے رونے کی آواز پر وہ باہر کی طرف بھاگی۔ زوباریہ اور جویریہ بھی اس کے پیچھے تھیں۔ " آئرہ میری جان کیا ہوا؟" نوال نے جھک کر اسے اٹھایا اور چپ کروانے لگی۔ آئرہ روتے ہوئے نوال کے سینے میں منہ چھپا گئی۔ " اب کیا فائدہ ہے تمہارے اس جھوٹے پیار کا۔ تمہیں فرصت ملے تو تم اسے دیکھو۔ باتیں جتنی مرضی کروا لو بناؤ سنگھار جتنے مرضی کروا لو۔ مگر آئرہ کو دیکھنے کا نہ کہو۔ تم یہاں اسی کے لیے لائی گئی ہو۔ یہ بات کیوں بھول جاتی ہو؟" زاویان نے آئرہ اس کی ہاتھ سے چھین لی اور اسے چپ کروانے لگا۔ " کیا ہوا ہے؟" زوباریہ نے فوراً پوچھا۔ " مما وہ ہم بھاگ رہے تھے۔ یہ بھی ہمارے ساتھ بھاگ رہی تھی۔ اس کو اس نے دھکا دے دیا۔" احمد نے فخر کی طرف اشارہ کیا۔ " میں نے جان کر دھکا نہیں دیا۔ مما یہ خود گر گئی۔" فخر نے اپنی صفائی دی۔ " چھوٹی بہن ہے پیار سے کھیلتے ہیں۔" زوباریہ نے سمجھایا۔ زاویان آئرہ کو ساتھ لگائے ڈرائنگ روم میں چلا گیا۔ پیچھے نوال وہیں کھڑی آنسو بہاتی رہی۔ نوال کی وہاں سے جانے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے۔ نوال نے آہستگی سے اپنی جیولری اتار دی۔ کوئی فرق نہیں تھا اسامہ اور زاویان میں۔ دونوں کو ہی سپنی بیوی کی عزت رکھنی نہیں آتی تھی۔ اسی لیے وہ اس تجربے کو زندگی میں دوبارہ دہرانا نہیں چاہتی تھی۔ جویریہ نے ہق دق نوال کے ساتھ پیش آنے والا رویہ دیکھا۔ " بھابھی صحیح کہتی ہیں ہمیشہ جو دکھتا ہے وہ پوتا نہیں ہے۔" جویریہ نے خود کلامی کی۔ نوال خاموشی سے اٹھ کر کچن میں آ گئی۔ اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔ اب کی بار نوال بالکل چپ تھی۔ زوباریہ اور جویریہ باتیں کر رہی تھیں۔ نوال نے اپنے بالوں کا جوڑا بنا لیا۔ " کھلے رہنے دو اچھے لگ رہے ہیں۔" زوباریہ نے دوستانہ لہجے میں ٹوکا۔ " گرمی لگ رہی ہے۔" نوال نے بے بسی سے کہا۔ " یار تو تم چھوڑو اسے اندر بیٹھ جاؤ۔" " میں ٹھیک ہوں اٹس اوکے۔" نوال نے مدہم مسکراہٹ لیے کہا۔ " میں نے تمہیں کاموں میں ہی لگا لیا۔" زوباریہ نے ملال سے کہا۔ نوال نے پھیکی مسکراہٹ لیے سر نفی میں ہلایا۔ کچھ دیر میں کھانا بھی لگ چکا تھا۔ " آئرہ بیٹا آؤ کھانا کھائیں۔" نوال نے مسکراتے ہوئے بازو کھولے۔ " رہنے دو میں خود کھلا دوں گا۔ دیکھا میں نے تم کتنی ذمے دار ہو۔" زاویان نے انتہائی روڈلی کہا۔ " زاویان۔۔۔" نصار صاحب نے ٹوکا۔ " زاویان ریلیکس بچوں کے ساتھ بیٹھے گی تو کھا لے گی ایزی ہو جاؤ۔" کامران نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔ " بیٹا بیٹھو کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔" زوباریہ کی ساس نے انتہائی محبت سے کہا۔ نوال بیٹھ گئی۔ اس کے حلق سے ایک نوالا نہیں اترنا تھا۔ کوئی فرق نہیں تھا۔ اسامہ اور زاویان میں وہ ایک بار پھر سے پھنس گئی تھی۔ بےقدرے زاویان کے ہاتھ میں پھنس گئی تھی۔ " نوال بھابھی آپ یہ ٹرائے کریں۔ آپ کھانا تو ڈالیں۔" جویریہ نے لگاوٹ سے کہا۔ نوال نے سر ہلاتے ہوئے پلیٹ میں تھوڑا سا نکال لیا۔ " کھانا ٹھیک سے کھاؤ چھوڑو ساری باتیں تم دونوں۔" زوباریہ نے محبت سے چکن پیس اس کی پلیٹ میں رکھا۔ سب اپنے اپنے تیئں ان دونوں کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ آئرہ زاویان کے سینے سے سر ٹکائے نوال کو دیکھ رہی تھی۔ مرد حضرات اپنا باتوں میں مصروف ہو گئے تھے۔ خواتین اپنا باتوں میں لگ گئی تھیں۔ " آئرہ پھوپھو کے پاس آؤ۔" زوباریہ نے بانہیں پھیلا کر بلایا۔ أئرہ جھٹ اس کی گود میں جانے کو لپکی۔ زاویان نے بھی جانے دیا۔ زوباریہ نے آئرہ کو گود میں لیتے ہی پیار کیا اور نوال کی طرف بڑھایا۔ " چلو بھئی اپنی بیٹی کو کھانا کھلاؤ۔" نوال نے فوراً أئرہ کو تھام لیا اور چھوٹے چھوٹے نوالے کھلانے لگی۔ زاویان نے زوباریہ کو گھورا۔ جسے زوباریہ نے نظر انداز کیا۔ باقی کی محفل خوشگوار ماحول میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔ " ماما زاویان کو سمجھائیں تھوڑا تو ہلکا ہاتھ رکھے۔ میں جہاں پاؤں رکھوں کامی وہاں ہاتھ رکھتا ہے اور زاویان کس طرح سے بات کر رہا تھا۔" " اسے کہیں یہ مت بھولے یہ دوسری شادی آپ کے بیٹے کی بھی مجبوری تھی۔" " یہ تو یہ بچے خوش قسمت ہیں کہ نوال نے انہیں کھلی بانہوں سے ایکسیپٹ کیا ہے ورنہ سوتیلی ماں دل میں اتنی وسعت نہیں رکھتی۔" " میں پھر سے بات کروں گی۔" کلثوم بیگم پورچ کی طرف بڑھ گئیں۔